×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کینیڈا کی سیاست
Dated: 06-Oct-2015
حضرت قائداعظم محمد علی جناح جب انگریز سے آزادی اور قیامِ پاکستان کے لیے برسرپیکار تھے تو ان سے کانگریس کے رہنمائوں اور ملکہ برطانیہ کے نمائندے نے پوچھا کہ آپ جس ملک کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کا سیاسی اور جغرافیائی تصور کیا ہوگا؟ دوراندیش، بردبار اور سیاسی طور پر ناقابل تسخیر قائدنے جواب دیا’ جس طرح امریکہ اور کینیڈا آپس میں اچھے ہمسائیوں کی طرح رہ رہے ہیں۔ میں مستقبل میں بھارت اور پاکستان کو بھی اسی تناظر میں دیکھتا ہوں‘۔ تو قارئین آج ہمارا موضوع وہی کینیڈا ہے جو رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جبکہ اس کی آبادی صرف سوا تین کروڑ ہے جس میں پچاسی سے زائد ممالک سے آئے ہوئے چھبیس فیصد امیگرینٹس ہیں جن میں پاکستانیوں کی تعداد 1.8 فیصد ہے جو تقریباً چھ لاکھ بنتی ہے۔ ڈیڑھ سو سال پہلے ریاست کی صورت اختیار کرنے والے اس ملک کی برآمدات میں ڈائمنڈ، وہیکل انڈسٹری، ایئرکرافٹ، مشینری اور تیل شامل ہیں۔ان برآمدات کی وجہ سے کینیڈا جی ایٹ ممالک میں ایک کلیدی کردار رکھتا ہے۔ یہاں پارلیمانی طرز حکومت ہے۔کینیڈا کو تین ریجن میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ دس صوبوں پر مشتمل ہے جن میں انٹاریو سب سے بڑا صوبہ ہے جس کا دارالحکومت ٹورنٹو ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ صوبہ پاکستان سے بھی بڑا ہے۔ یہاں کا مضبوط بلدیاتی نظام باقی دنیا کے لیے ایک ماڈل نظام کی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت تقریباً تمام یورپی ممالک سمیت دنیا بھر میں کینیڈین لوکل باڈی سسٹم کو فالو کیا جاتا ہے۔ یہاں کے جنرل الیکشن ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں اور اگلا معرکہ 19اکتوبر کو ہونے والا ہے۔ کینیڈا میں تین بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں۔ لبرل، نیوڈیموکریٹک پارٹی اور موجودہ حکمران پارٹی کنزرویٹو شامل ہیں۔ آج کے تازہ ترین سروے کے مطابق این ڈی پی انتیس فیصد، کنزرویٹو انتیس فیصد اور لبرل چونتیس فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ پاکستانی تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود اپنی روایتی غفلت اور سیاسی بے حسی کی وجہ کینیڈا میں ابھی تک اپنا سیاسی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔انٹاریو صوبے میں دو تین صوبائی ایم پی ایز کامیاب کرانے کے علاوہ مرکز اور دوسرے صوبوں میں پاکستانی کمیونٹی عملی کردار ادا نہیں کر سکی جبکہ بھارت سمیت خصوصاً سکھ اور دیگر فعال کمیونیٹیز اپنا بھرپور کردارادا کرتی ہیں اور سرانجام خان کی کینیڈا میں مقیم بیٹی سلمی عطاء اللہ خان یہاں پر سینیٹر بھی منتخب ہو چکی ہیں۔ اب کچھ عرصے سے پاکستانی کمیونٹی کے سیاسی طور پر فعا ل لوگوں نے کمیونٹی میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کی ایک مہم چلا رکھی ہے جو تپتے سیاسی صحرا میں بارش کے پہلے قطرے کی مانند ہے۔ 2011ء میں جب سے کنزرویٹو اقتدار میں آئے ہیں انہوں نے مسلم خصوصاً پاکستانی امیگرینٹس کو بہت ٹف ٹائم دیا ہے اور کچھ ایسے قوانین پاس کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن کی وجہ سے مسلم تارکینِ وطن کا مستقبل کچھ خاص تابناک نظر نہیں آتا۔ پہلے انہوں نے بِل چوبیس کو پاس کروا کے امیگرینٹس کا کافی حد تک ناطقہ بند کیا اگر وہ اس بار جیت گئے تو وہ بِل اکیاون لانے کی کوشش کریں گے، جس کے پاس ہونے کی صورت میں ایک پیدائشی کینیڈین شخص کو بھی اس کے باپ دادا کے ملک ڈیپورٹ کیا جا سکے گا۔ ان دنوں صوبہ مونٹریال میں ایک پاکستانی بیس سالہ نوجوان ’’سعد گائیا‘‘ جو یہیں کینیڈا میں پیدا ہوا مگر اس کے والدین کراچی پاکستان سے ہجرت کرکے کینیڈا آئے تھے۔ نوجوان سعد مقامی ایجنسیوں کے ’’انڈر کور‘‘آفیسرز نے ٹریپ کرکے دہشت گردی میں ملوث قرار دیا ہے اور اب مونٹریال کی ہائی کورٹ نے سعد کو اٹھارہ سال کی سزا اور پاکستان ڈیپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جس پر اس وقت پورے کینیڈا میں ایک بحث چھڑی ہوئی ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کو یہودی نژاد وزیراعظم سٹیفن ہارپر کمانڈ کر رہے ہیں جبکہ جسٹن ٹروڈولبرل کی طرف سے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ ان کے آنجہانی والد مسٹر ٹروڈو کینیڈا کے کامیاب سیاست دان اور متعدد دفعہ وزیراعظم رہ چکے ہیں اور اپنے دورِ حکومت میں ٹروڈو نے کینیڈا کو امیگرینٹس کے لیے جنت بنا دیا تھا اور آج بھی انسانی اور شہری حقوق کے جتنے بھی قوانین کینیڈا میں موجود ہیں وہ ان کے مرہون منت ہیں۔ مگر لبرل پارٹی کی حد سے زیادہ لبرل پالیسیاں بھی مقامی مسلم ووٹر کو زیادہ راغب نہیں کرتیں اوریہ بڑے افسوس کی بات ہے۔ صوبہ انٹاریو کی چیف منسٹر جس حلقہ انتخاب سے منتخب ہو کر آتی ہیں وہ مسلم او رخصوصاً پاکستانی کمیونٹی کا رہائشی علاقہ ہے مگر لبرل پارٹی والے اس حلقے سے اپنے قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو جو کہ چیف منسٹر سمیت ہم جنس پرست ہیں، اپنا امیدوار کھڑا کرتے ہیں اور پاکستانیوں کی اکثریت مذکورہ امیدواروں کو ہی ووٹ ڈالتی ہے۔ لبرل پارٹی کی ایک خباثت یہ بھی ہے کہ اس نے سکولوں میں پہلی جماعت سے سیکس ایجوکیشن دینے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے مسلم خاندانوں اور خصوصاً پاکستانیوں میں تشویش پائی جاتی ہے لیکن بلحاظ مجموعی پاکستانیوں کا زیادہ رجحان لبرل پارٹی کی طرف ہے۔ گذشتہ روز مسی ساگا شہر میں پاکستانی کمیونٹی کے سید تصور شاہ نے ایک سیمینار کا اہتمام کیا۔ راقم اس میں گیسٹ سپیکر کے طور پر مدعو تھا۔ پچیس سے زائد تینوں پارٹیوں کے انتخابی امیدواران نے اس میں خیالات اور پارٹی پالیسیوں کا اظہار کیا۔ میں نے اپنی تقریر میں کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ کینیڈا میں اپنی موجودگی کا احساس صرف ووٹ کے ذریعے ہی دلا سکتے ہیں۔ تینوں پارٹیوں نے مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنے امیدوار بھی پاکستانی اور مسلمان کھڑے کیے ہیں۔ 19اکتوبر کچھ زیادہ دور نہیں پاکستانی اگر چاہیں تو ایک آواز بن کر اپنے حقوق کے تحفظ کی ضمانت بن سکتے ہیں وگرنہ نتائج مسلمانوں کے لیے خطرناک صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ آنجہانی جیک لیٹن جو کہ ایک ہر دل عزیزسیاست دان تھے کی پارٹی این ڈی پی اس دفعہ اقتدار کی اس جنگ میں برابر کی شریک نظر آتی ہے اور ٹام ملکیئر کی قیادت میں الیکشن جیتنے کے لیے پرعزم ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اقتدار کا ہُما کس کے سر پر بیٹھتا ہے۔ 6 اکتوبر2015
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus