×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی و غیر سیاسی ماسٹر مائنڈز
Dated: 21-Nov-2009
18فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان کے 18کروڑ عوام کو یہ خوش فہمی ہو چلی تھی کہ اب اس کی تقدیر کے مالک عوامی نمائندے میثاقِ جمہوریت کے جلو میں ایک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ سفرِ نو کا آغاز کریں گے۔ لیکن مشرف کے سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں چھوڑے ہوئے ماسٹر مائنڈز حکومت وقت کی پالیسیوں کے نفاذ کی راہ میں سدِ راہ بنے ہوئے ہیں۔ خود جنرل پرویز مشرف نہ صرف کمانڈو بلکہ زبردست قسم کے ماسٹر مائنڈ بھی تھے۔ جن کے دم قدم سے گوانتانامو کا عقوبت خانہ آباد ہوا۔ انہوں نے چھوٹے بڑے ہزاروں ماسٹر مائنڈز کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرکے کروڑوں ڈالر وصول کیے۔ وہ جب بھی امریکہ گئے القاعدہ اور طالبان کا نیا ماسٹر مائنڈ ان کے حوالے کر آئے۔ اور ہر بار کہا گیا کہ القاعدہ کی تین نمبر قیادت پکڑی گئی ہے۔ امریکی میڈیا نے اسے ایک لطیفہ بنا دیا کہ کبھی تین نمبر قیادت کے آگے پیچھے بھی تو ہو لیا کریں۔ نائن الیون کے ماسٹر مائنڈز کی کارروائی سے امریکہ اور مغرب میں پھیلتا اسلام جمود کی صورت اختیار کر گیا۔ ایک ماسٹر مائنڈز وہ بھی ہیں جن کی پلاننگ سے سوات، وزیرستان اور پورا بلوچستان جل رہا ہے۔ مناواں، لبرٹی،FIA اورISI اور جی ایچ کیو کی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسلام آباد سلگ اور پشاور شعلے اگل رہا ہے۔ شاباش ہے موجودہ عسکری قیادت کے ماسٹر مائنڈز کی سٹرٹیجی پر جنہوں نے سوات کے الائو پر قابو پایا اور وزیرستان میںکامیابی کے جھنڈے لہرا دیئے۔پھر یہاں آمریت کے پروردہ ماسٹر مائنڈز بھی ہیں جنہوں نے مارشل لاء لگوا کر اور لگا کر قوم کے 62میں سے 32 سال ضائع کر دیئے۔ ان 32سالوں کی بدولت ملک و قوم ہزار سال پیچھے چلے گئے۔ کچھ ماسٹر مائنڈز انتخابات کا بائیکاٹ کرکے پارلیمنٹ سے باہر بیٹھے ہیں۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے یہ رہنما دل خوابیدہ اب دل بیدار کی منزل پر کھڑے واویلا کرکے بھڑاس نکال رہے ہیں اور ماسٹر مائنڈز کی یہ قسم خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی خودکش حملے کا شکار ہوگئی۔ کچھ ایسے ماسٹرمائنڈز بھی ہیں جو ملک اور جیل کے اندر ہوں یا باہر اقتدار افلاک ہمیشہ ان کی دسترس میں ہوتا ہے۔ ان چیدہ و پیچیدہ لوگوں میں شریف برادران، جاویدہاشمی اور خصوصی طور پر چودھری نثار جو کہ آمریت ہو یا جمہوریت آج تک کبھی خود تو جیل کا مزا نہیں چکھا مگر دوسروں کو اندر اور باہر کرانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔مولانا فضل الرحمن اور اسفند یارولی بھی اپنی طرز کے منفرد ماسٹر مائنڈز ہیں۔ماسٹر مائنڈز کا ذکر ہو اور الطاف بھائی کی بات نہ ہو ایسا ناممکن ہے۔ وہ سات سمندر پار بیٹھے پاکستان میں دمکتے ستاروں پر کماند ڈالنے کی فوقیت رکھتے ہیں۔ ان کی لَے اور نَے سے کولیشن پارٹنرز کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کب کس کے ساتھ ہیں؟ الطاف بھائی اب پنجاب آنے کی تیاری کر رہے ہیں اللہ خیر کرے الطاف بھائی کی بھی اور پنجاب کی بھی۔پیپلز پارٹی میں بھی ماسٹر مائنڈز کی کمی نہیں ان کے کئی درجے ہیںایک میں رحمن ملک، فاروق نائیک، بابر اعوان، راجہ پرویز اشرف دوسرے میں مخدوم امین فہیم،نوید قمر اور رضاربانی شامل ہیں۔ تیسرا ماسٹر مائنڈز ٹولہ اعتزازاحسن، صفدر عباسی اور ناہید خان پر مشتمل ہے۔ جب کہ جہانگیر بدر، خالد کھرل، مشتاق اعوان، پر مشتمل سیانوں کا گروہ لب کشائی کے لیے مناسب وقت کا منتظر ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی بڑے دل گردے والے ماسٹر مائنڈ ثابت ہوئے ہیں اور مخبر کے بقول ان کے پاس جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی خودکش جیکٹوں کے ساتھ آپریشن کے لیے ہمہ وقت تیارہیں۔ وزیراعظم نے شاید اپنی حکمت عملی تھوڑی تبدیل کی ہے اب ان کی گاڑی جاتی عمرہ جاتے ہوئے لاہور میں بھی رکنے لگی ہے۔یار لوگ گورنر سلمان تاثیر کو بھی ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہیں جو پنجاب حکومت کے دل میں چبھتا کانٹا ہیں۔ ان کے ذمے وفاق کی نمائندگی ہے جو بھرپور طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔لیکن پنجاب میں موجود کچھ فارغ البال ماسٹر مائنڈز ان کو ایک پل چین نہیں لینے دیتے لیکن حوالات سے گورنر ہائوس کا سفر کرنے والے اس ماسٹر مائنڈ نے بڑے بڑے ماسٹر مائنڈز کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔بات جب حکمت عملی تبدیل کرنے والے ماسٹر مائنڈز کی ہو رہی ہے تو کاروبارحکومت کے چوتھے ستون صحافت کا ذکر نہ کرنا گناہ میں شمار ہوگا۔ہمارے ملک کے اینکرپرسنزبھی اپنی جگہ ماسٹر مائنڈز ہیں جو چینی اور نمک سے لے کر نیوکلیئر پرتک خودکو اتھارٹی سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ تو یہ برملا کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ہم ہی کنگ میکر ہیں اور حکومتیں بنانا اور گرانا ہمارے بائیںہاتھ کا کھیل ہے۔ بات ان کی دل کو لگتی ہے اس لیے کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے یہ کوئی ڈیڑھ درجن دفع حکومت جانے کی تاریخ بتلا چکے ہیں جن سے ان کے علم نجوم اور افلاک کا ماہر ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔یہ اپنے پروگرام میں آئے ہوئے مہمانوں کو خودکش جیکٹیں پہنا کر بٹھا دیتے ہیں اور اب وہ وقت آنے والا ہے کہ وہ مہمانوں کے سامنے چائے کی پیالی کی بجائے اینٹیں اور کلاشنکوف رکھ دیں گے۔ تاکہ ان کا پروگرام کامیاب و کامران ہو سکے۔ ہمارے ملک میں رواں عشرے میں کچھ نئے ماسٹر مائنڈز بھی منظر عام پر آئے ہیں جو کہ عزت و احترام میں پہلے بھی کم نہ تھے ہمارے یہ وکلاء بھائی جو کہ سال کے 365دن یونیفارم پہن کر میدان عمل میں مصروف پیکار ہوتے ہیں۔ وکیلوں کی دو سالہ تحریک کے دوران کافی وکلاء ماسٹر مائنڈز نظر آئے جو اب سکرین سے غائب ہوکر اپنے اصل دھندے کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں۔بیشک کہ علی احمدکرد جیسے جرار وکلاء اب بھی اپنے پیٹی بند بھائیوں کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہیں۔ صدر آصف علی زرداری بھی اپنی ذات میںبہت بڑے ماسٹر مائنڈ ہیں جن کے خاندان نے جمہوریت اور پاکستان کی خاطر قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی ہے وہ اس ماسٹر مائنڈز گھرانے کے داماد ہیں جنہوںنے ایک نئے فلسفے کو جنم دیا اور وہ فلسفہ ہے وطن سے قربانی کااور اس فلسفے پر عمل کرتے ہوئے اس خاندان نے اپنے خون کا آخری قطرہ تک وطنِ عزیز پر نچھاور کر دیا۔ آصف علی زرداری کوہر15دن بعد ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ قائد صحافت جناب مجید نظامی کے دیئے ہوئے خطابات مردِ حُر اور مردِراہوار کی مجسم تصویر بنے ہوئے ہیں اور اس انتظار میں کہ اب کب انہیں مجید نظامی صاحب مردِ بحران کا خطاب دیتے ہیں؟ کہا جا رہا ہے کہ ان کوخطرہ ہے، ان کی صدارت کو خطرہ ہے، پارٹی کو خطرہ ہے، پارٹی کی حکومت کو خطرہ ہے۔یقینا سب کو خطرہ ہے لیکن خطرہ کس سے ہے؟ کسی اور سے نہیں صرف اور صرف اپنے ہی اطراف موجودخودکش بمباروں سے!
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus