×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سانحۂ پیرس۔۔۔اثرات اور مضمرات
Dated: 17-Nov-2015
فرانس کے سابق وزیراعظم لیؤنل جوزفن میرے بہترین دوست ہیں اور جن دنوں سابق صدر آصف علی زرداری پابندِ سلاسل تھے اور میں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش پر آصف علی زرداری کی رہائی کے لیے عالمی کیمپین شروع کر رکھی تھی۔ اسی دوران فرانس کے وزیراعظم کی دعوت پر میں پیپلزپارٹی کے رہنمائوں راجہ پرویز اشرف اور قاسم ضیاء کو اپنے ساتھ پیرس کے پرائم منسٹر ہائوس میں ملاقات کے لیے لے کر گیا۔ گذشتہ روز پیرس میں دہشت گردوں نے بربریت کی ایک نئی مثال رقم کی۔ پیرس کی روشنیاں ہی نہیں گُل ہوئیں پوری دنیا میں ایک خوف ،سکوت اور غم کا سماں ہے۔ پاکستان سمیت عالمی رہنمائوں نے فرانس میں ہونے والی اس بربریت پر غم و غصہ کا اظہار کیا۔ سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے اپنے بیان میں فرانس کے صدر ھولاندے سے یہ درخواست کی کہ اس دہشت گردانہ کارروائی کو اسلام سے منسوب نہ کیا جائے جبکہ کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے اسے تیسری عالمگیر جنگ سے تشبیہ دی۔ میں نے بھی اپنے دوست فرانس کے سابق وزیراعظم مسٹر جوزفن کو فون کرکے اس اندہوناک سانحہ پر اظہارِ تعزیت کیا اور بتایا کہ بیس کروڑ پاکستانی جو پچھلے پندرہ سال سے دہشت گردی کے کرب سے گزر رہے ہیں وہ آپ اور فرانس کے عوام کے جذبات کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ اس مشکل کی گھڑی میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مسٹر لیؤنل جوزفن نے اپنے مخصوص فرانسیسی انداز میں شکریہ ادا کیا اور توقع کی کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان دہشت گردی کے اس سائے تلے دبے ہوئے اپنے امن اور عالمی بھائی چارے کے تشخص کو قائم رکھیں گے ۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ تمام مذاہب ایک دوسرے کا احترام اور برداشت کی پالیسی اپنا کر یقینا زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔پیرس کی مسکراہٹیں،خوشبو، پھول اور قہقہے جنہیں گذشتہ روز خون میں نہلا دیا گیا۔ قارئین! اگر حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو آج دنیا جس آتش فشاں کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اس کے اسباب کا تعین کرنا کچھ مشکل کام نہیں۔ صرف چودہ سال پہلے نو سعودی اور پانچ مصری نوجوان دہشت گردوں نے دنیا کے امن کو اس نہج پر پہنچا دیا کہ جسے پوائنٹ آف نوریٹرن کہا جا سکتا ہے۔ 11ستمبر 2001ء کے دن شاید مجموعی طور پر اڑتیس سو ہلاکتیں ہوئیں جس کے جوا ب میں اس وقت کی امریکی قیادت صدر بش ،رمز فیلڈ، کونڈالیزارائیس اور ان کے مغربی اتحادی سربراہان اور معاشی اقتدار پہ قابض گروپوں نے بقول صدر بش دوبارہ صلیبی جنگوں کا آغاز قرار دے دیا۔ چند مخبوط الحواس ذہنی انتشار کے حامل نوجوانوں کے اس فعل کی سزا مسلمانوں کو یوں دی گئی کہ عراق، افغانستان، شام، لیبیا، تیونس، مصر کے کروڑوں عوام کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ پہلے طالبان پھر القاعدہ اور اب داعش اور آئی آیس آئی ایس کے ناموں سے شدت پسند گروپس تشکیل دیئے گئے او ران کی فنڈنگ کی گئی۔ بچہ بچہ جانتا ہے کہ مذکورہ تینوں گروپس کو انہی مغربی ممالک کی آشیرباد اور تعاون حاصل ہے۔ نائن الیون کو بنیاد بنا کر انہی خطوں میں مضبوط سیاسی قوتوں کو ختم کیا گیا جیسے افغانستان میں ملاعمر، عراق میں صدام حسین، لیبیا میں معمر قذافی جبکہ تیونس کے صدرزین العابدین بن علی کو بھی فارغ کیا گیا اور آج مغربی قوتیں اور امریکی اتحادی اپنے ٹارگٹ کے آخری حصول یعنی شام میں بشار الاسد کے پیچھے پڑے ہیں جبکہ انہی چودہ سالوں کے اندر سعودی عرب، قطر، بحرین، یمن اور متحدہ عرب امارات میں مسلکی تفرقہ بازی اس شدت سے عود کرآئی ہے کہ بھائی بھائی کا گلاکاٹنے کے لیے تیار بیٹھا ہے اور اب تک ان ممالک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد پچانوے لاکھ سے زائد ہے۔ مذکورہ تعداد پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ہونے والی کل تعداد سے بھی زائد ہے۔ پاکستان اپنی ناکام خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے اغیار کی ان لڑائیوں میں اب تک دس ہزر ارب روپے کے انفراسٹرکچر اور معیشت کی تباہی کے علاوہ ایک لاکھ سے زائد سویلین جانوں کا زیاں اور بارہ ہزار سے زائد عسکری جوانوں کی شہادت برداشت کر چکا ہے۔ اگر ہم ان واقعات کے پیچھے عوامل کا تاریخی، سیاسی اور تیکنیکی جائزہ لیں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان رواں صدی کا سب سے بڑا ’’لوزر‘‘ ہے۔ نائن الیون ہو یا سیون سیون کہیں بھی آج تک کسی پاکستانی نوجوان کا ڈائریکٹ ملوث ہونا نہیں پایا گیا مگر پاکستان کے اندر بہت تھوڑے لوگوں کا ایک گروپ اپنی حرکتوں سے ہر دفعہ پاکستان کو پھنسوا دیتا ہے۔ مذکورہ عرب ممالک اور برادر اسلامی ممالک آج تک پاکستان کو معاشی،معاشرتی اور اخلاقی طور پر سپورٹ تو نہ کر سکے مگر ہمیشہ ان کی لگائی ہوئی آگ میں جھلس کر رہ گئے۔ میں نے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک کالم ’’پنڈوں تیرہویں چھتروں آدھ‘‘یعنی (گائوں سے حصہ تیرہواں ملے مگر جوتے کھانے میں آدھے کے حصہ دار) قارئین! سانحۂ پیرس سے ہی جڑے ہوئے پاکستانی تارکین وطن کے مسائل کا ذکر کرتے ہیں۔ نائن الیون سے پہلے امریکہ اور کینیڈا میں لاکھوں پاکستانی اپنے قدم جما چکے تھے اور بیشتر کے بزنس عروج پر تھے۔ سانحۂ نائن الیون کے بعد تقریباً تیس لاکھ پاکستانی، امریکہ اور نارتھ امریکہ میں متاثر ہوئے۔ جس کی وجہ سے وطن میں آنے والے غیر ملکی زرمبادلہ کو بھی بریک لگ گئی۔ بلکہ مذکورہ اوورسیز پاکستانیوں کو اپنا بزنس آدھے پونے داموں بیچ کر ریٹرن ہجرت کرنا پڑی۔ اسی طرح 7جولائی سانحہ لندن کے بعد بھی پاکستان زرمبادلہ آنے کا رجحان کم ہوا اور تارکین وطن کو امیگریشن کے علاوہ دیگر مسائل میں سختیاں جھیلنا پڑیں۔ ایک محتاط سروے کے مطابق جرمن، ہالینڈ ،ناروے، ڈنمارک، سویڈن، اٹلی، سپین، پرتگال، بیلجیم، سوئٹزرلینڈ، یونان اور انگلینڈ سمیت فرانس میں پچاس لاکھ کے قریب پاکستانی تارکین وطن روزگار، تعلیم ا ور کاروبار کے لیے مقیم ہیں۔ اسی طرح کینیڈا ،امریکہ اور سائوتھ امریکہ کے دیگر ممالک میں مجموعی طور پر تیس لاکھ اوورسیز پاکستانی رہ رہے ہیں اور زیادہ تر ان ممالک کا تعلق عیسائی مذہب سے ہے اور سانحۂ پیرس پر پوپ فرانسس کا شدید ردعمل مذکورہ ممالک میں آباد قریباً ایک کروڑ پاکستانی مسلمانوں کا مستقبل تاریک کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سانحہ پیرس کے بعد دو درجن سے زائد عرب ممالک جن کا معاشی اور علمی رجحان فرانس سے قریب تر ہے اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور جاب کے متلاشی افراد کو اب بے شمار مسائل کا سامنا ہوگا۔ حکومت پاکستان دیگر اسلامی ممالک سے مل کر دہشت گردی کے موضوع پر ڈاکٹر طاہر القادری کے تخلیق کیے ہوئے علمی نصاب سے جو کہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے مستند اور موزوں ترین ہے سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے چھ سوصفحات سے زائد پر مشتمل فتویٰ کو یورپین اور عالمی دنیا میں سراہا گیا ہے۔ فرانس یورپ میں وہ واحد ملک ہے جہاں کی کل آبادی کا 26%غیرملکیوں اور خصوصاً مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ پانچ ملین مراکشی ،تین ملین الجزائری ،تیونس ،لیبیا ،لبنان ،مصر، اور سعودی عرب کے لاکھوں مسلمان فرانس میں مستقل رہائش پذیرہیں۔ جن کا مستقبل اب ایک سوالیہ نشان اختیار کر گیا ہے ۔گذشتہ روز انگلینڈ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے عراق جنگ کے متعلق حقائق قبول کرتے ہوئے اعترافات کیے اورایک امریکی صدارتی امیدوار نے آنے والے دنوں میں مسلمانوں کی طرف سے شدید ردعمل کا بھی اظہار کیا۔یہی وجہ ہے کہ پوپ فرانسس نے اس سانحے کو تیسری غیر منظم عالمی جنگ کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔غیر منظم جنگ،منظم جنگ سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوتی ہے۔ 17نومبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus