×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اقبال ڈے۔ ۔۔چھٹی مگر کس کی؟
Dated: 10-Nov-2015
میاں بیوی کو جب بوڑھے باپ کو ساتھ رکھنا دشوار ہو گیا تو انہوں نے اسے اولڈ ہوم میں داخل کروانے کا سوچا۔ بیٹا باپ کو جب چھوڑ کر آ رہا تھا تو بیوی کا راستے میں فون آیا کہ اچھی طرح تسلی کر لیں کہ اولڈ ہوم والے ہر ویک اینڈ پر کہیں بابا کو گھر نہ بھیج دیں۔ بیٹا واپس مڑا اور کیا دیکھتا ہے کہ اس کا باپ اور اولڈ ہوم کا ضعیف انچارج ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہیں۔ بیٹے نے انچارج سے پوچھا کہ آپ اتنی جلدی گھل مل کیسے گئے؟ کیا آپ ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہیں؟ اولڈ ہوم کے انچارج نے جواب دیا آج سے تیس سال پہلے یہ بوڑھا شخص ایک کمسن یتیم بچے کو اپنا بیٹا بنا کر ساتھ لے گیا تھا۔قارئین اس مختصر کہانی کے پیچھے کئی سوالات اور ان کے جوابات چھپے ہوئے ہیں اور جو قومیں اپنے بزرگوں ، اسلاف اور تاریخ کوبھلا دیتی ہیں ان کی ترقی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیںاور دنیا بھی تُف تُف کرتی ہے۔ امریکہ، کینیڈ اور یورپ کا سالانہ کیلنڈر دیکھیں تو اس میں مقامی، قومی اور مذہبی چھٹیوں کی بھرمار نظر آئے گی۔ ویلنٹائن ڈے، مدر ڈے، فادر ڈے، لیبر ڈے، ہالووین،وکٹوریہ ڈے، ایسٹر اور کرسمس سمیت نیو ایئر کے تہواروں کو خالصتاً کمرشل بنیادوں پر استوار کر دیا گیا ہے۔ جب کبھی معیشت سُستی کا شکار ہوتی ہے کسی نہ کسی تہوار کی آمد سے اس معاشی گھوڑے میں جان پڑ جاتی ہے۔ گذشتہ روز حکومت نے ایسا فیصلہ کیا جس کا کوئی جواز ہے اور نہ یہ کسی سمجھ آرہا ہے۔ حکومت نے علامہ اقبال کے یومِ پیدائش پر ہونے والی سرکاری چھٹی منسوخ کر دی۔ حکومت کے اس اعلان کے پیچھے حقیقت کیا ہے یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے مگر کافی دنوں بعد جھورا جہاز آج آفس آیا تو کہنے لگا وڑائچ صاحب کیا آپ کو پتہ ہے کہ حکومت ڈاکٹر علامہ اقبال کو اتنی دیر سے برداشت کر رہی تھی جبکہ گذشتہ دنوں ان کے وفات پانے والے مرحوم بیٹے جسٹس جاوید اقبال اور ان کی اولاد ولید اقبال اور دیگر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر چکے تھے۔ آج ہماری حکومتیں اور حکمران عدمِ برداشت کی ان حدوں کو پہنچ چکے ہیں کہ خود اسی قائداعظم اور علامہ اقبال کو مسلم لیگ کا جانشین تصور کرتے ہیں اور تصورِ پاکستان کے خالق شاعر مشرق کی اولاد کو ان کی سیاسی وابستگی پر یہ سزا دیتے ہیں کہ انہیں تاریخ کے صفحات سے ڈھونڈنا مشکل ہو جائے گا۔ اس حکومت نے بجلی کی بچت کے لئے زرادری دور میں دو چھٹیوں کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اداروں میں ہفتہ اور اتوار کی چھٹی ہوتی ہے ۔مگر حکومت کے لئے اقبال ڈے کی چھٹی دردِ زہ بن گئی۔سارا کاروبار اسی ایک دن ہونا ہے ۔ اقبال نہ ہوتے تو پاکستان بھی نہ بنتا۔پاکستان نہ بنتا توآج چھٹی کی منسوخی کا فیصلہ کرنے والے زیادہ سے زیادہ کسی اینٹوں کے بھٹے پر منشی ہوتے یا لوہے کی بھٹی دہکائے بیٹھے ہوتے۔ میں گذشتہ تین دہائیوں سے یورپ میں رہائش پذیر ہوں۔ میں نے بہت قریب سے دیکھا خاص طور پر امریکہ، اٹلی اور ترکی کے عوام اپنے ملکوں کے پرچم سے جتنی محبت کرتے ہیں۔ امریکہ میں ابراہم لنکن اور جان ایف کینیڈی کی پوجا آج بھی کسی دیوتا کی طرز پر کی جاتی ہے جبکہ اٹلی اپنی ہزاروں سال پرانی رومن تاریخ کی باقیات کو سینوں پر سجائے بیٹھے ہیں اور ترکی میں لبرل انقلاب کے بعد کمال اتا ترک کے فلسفہ اور ویژن کو پہلی ترجیح دی گئی ہے۔ یورپ سمیت ان ملکوں کے بانیان کی حیثیت وہاں کے لوگوں کے لیے کسی دیوتا سے کم نہیں مگر شومئی قسمت قیامِ پاکستان سے قبل حضرت قائداعظم ا ور حضرت علامہ اقبال کو نعوذباللہ کافر قرار دینے والی جماعت کے موجودہ سربراہ گذشتہ روز ایک بیان میں فرما رہے تھے کہ قائداعظم اور علامہ ا قبال آج زندہ ہوتے تو وہ جمعیت کے رکن ضرور ہوتے۔اس جماعت کے اصول ملاحظہ فرمائیں؛خیبر پی کے میں یہ پی ٹی آئی کی اتحادی اور وزارتوں پر براجمان ہے۔ پنجاب میں الیکشن پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر لڑا۔گزشتہ روز یہ مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑی سپیکر ایاز صادق کو ووٹ دے رہی تھی۔ موجودہ حکمرانوں کی نیتوں کا تو پتہ نہیں مگر ان کے بس میں ہو تو وہ 14اگست،23مارچ ،محرم الحرام اور 12ربیع الاول کی چھٹیاں بھی ختم کر دیں۔ قارئین آج میں دکھی دل کے ساتھ یہ سوچ رہا ہوں کہ آج مردِ صحافت، مردِ قلندر جناب مجید نظامی زندہ ہوتے تو نظریہ پاکستان، دو قومی نظریہ اور تصورِ خالق پاکستان کے ساتھ ہونے والی اس نااانصافی کا صدمہ وہ سہہ نہیں پاتے۔میں محترمہ رمیزہ نظامی اور نوائے وقت کی انتظامیہ کو جراتمندانہ ایڈیٹویل لکھنے پر مبارک باد دیتا ہوں جو یوم اقبال کی تعطیل ختم کرنے کی مذمت میں لکھا گیا جس میں حکومت کو یہ شرمناک فیصلہ واپس لینے کو کہا گیا ہے۔ محترم مجید نظامی (مرحوم) اس ملک میں نظریہ پاکستان اور خالق پاکستان سمیت فلسفہ اقبال کے نا صرف سب سے بڑے داعی تھے بلکہ ان کے ہوتے ہوئے کسی میں جرأت تھی کہ وہ مصورِ پاکستان کی ذات سے منسوب کوئی منفی قدم اٹھائے۔ آج سکولوں میں فن فیئر کی چھٹی، دفتروں میں لیبر ڈے کی چھٹی، بینکوں میں بینک ہالی ڈے کی چھٹی، مذہبی اور نیم مسلکی تہواروں کی چھٹی، جمہوریت کی آمد کی خوشی میں چھٹی مگر تصورِ پاکستان کے خالق کو اپنے ذہنوں میں بسائے رکھنے اور ان کی یاد کو دلوں میں سجائے رکھنے اور اس دن کو ایک بوجھ سمجھ کر اس کو منانے کی ممانعت، اے اقبال! تیرے خواب کا یہ حشر بھی ہم نے دیکھنا تھا۔ موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے ہم شاید جمہوریت کی معراج تو پالیں مگر ہم اپنے اسلاف کی اقدار کو یقینا بھول چکے ہوں گے۔ شکریہ نریندرمودی کہ تیری وجہ سے آج پاکستان کے نوعمر اور جوانوں کو یہ پتہ تو چل گیا کہ پاکستان کی اساس جو کہ دو قومی نظریہ پر استوار ہے وہ حقیقی سوچ کی مظہر تھی ۔ آج گائے کا گوشت کھانے جیسے مسائل پر بھارت میں مقیم تیس کروڑ سے زائد مسلمان خوف کا شکار ہیں اور تو اور شاہ رخ خاں جیسے سپر سٹار بھارت چھوڑنے کے لیے پَرتول رہے ہیں جبکہ موجودہ حکمران سیفما کے ایک اجلاس میں یہ کہتے سنائی دیئے کہ سرحدیں ایک لکیر ہی تو ہیں اور ہماری ثقافت اور اقدار تو آپس میں ایک جیسی ہیں۔ آج ایک قریبی دوست اور دانشور کہہ رہے تھے کہ اقبال ڈے کی چھٹی ختم کرنے والوں کی خود اپنی بھی چھٹی ہونے والی ہے۔ یہاں ایاز صادق کے سپیکر منتخب ہونے کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ن لیگ ان کو بلامقابلہ منتخب کرانا چاہتی تھی مگر پی ٹی آئی نے میدان خالی نہ چھوڑا۔ایوان میں پیپلز پارٹی اپوزیشن کا کردار ادا کررہی ہے۔جس نے اپنی پالیسیوں اور کردار سے خود کو حکومت کی بی ٹیم ثابت کیا ہے۔یہ جعلی اپوزیشن حکومتی امید وار کی سپورٹر اور ووٹر بن گئی۔ 10نومبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus