×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دے جا سخیا راہِ خدا!
Dated: 22-Dec-2015
ہنگری سمیت مشرقی یورپ کے ممالک خصوصاً رومانیہ، سلواکیہ اور سرب ریپبلک میں ایسے کئی سکول، اکیڈیمیز اور ادارے موجود ہیں جہاںطلبہ کو بھیک مانگنے ،مکروفریب اور چوری کرنے کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے اور فارغ التحصیل ہونے والے طلبا اور طالبات کو باقاعدے ڈپلومے اور سرٹیفکیٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ مشرقی یورپ میں آباد قبیلہ ’’روما اور چینگن‘‘ خصوصی طور پر اپنے بچوں کو ایسے اداروں میں سیکھنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ امریکہ، کینیڈااور میکسیکو سمیت پورے نارتھ امریکہ میں گداگری کو مافیا کی سرپرستی حاصل ہے۔ خود پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد لوگ گداگری کے پیشے سے وابستہ ہیں جنہیں مقامی زبانوں میں فقیر ،منگتے بھکاری اور چنگڑ کہا جاتا ہے۔ ایک بین الاقوامی تنظیم کے سروے کے مطابق پاکستان میں گداگری کے پیشے سے سالانہ بیس ارب روپے کا کاروبار وابستہ ہے۔ قارئین ان پیشہ ور گداگروں اور جرائم پہ تو کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں مگر پاکستان کے سیاسی گداگر بھی آپ سے پوشیدہ نہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری جن دنوں قید میں تھے موصوف ہاتھ میں لاٹھی پکڑے احتساب عدالت میں اور دوسری عدالتوں میں پیش ہوتے۔ جیل ریکارڈ کے مطابق ساڑھے گیارہ سال قید کے دوران سابق صدر ساڑھے نو سال راولپنڈی اور کراچی کے ہسپتالوں میں مقیم رہے۔ مختلف مواقع پر وہ مظلومیت شو کرنے کے لیے اور عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے زبان کاٹے جانے والے واقعہ اور اسٹریچر پر لیٹ جانے کا ڈرامہ بھی کرتے۔ انکوہاتھ اور بازوئوں کو سُن کرنے کا ناٹک کرتے خود راقم اڈیالہ جیل میں دیکھتا رہا۔ اسی طرح سابق صدر کے معتمد ساتھی ڈاکٹر عاصم حسین جو آج کل زیر عتاب ہیں گذشتہ روز میڈیا کے سامنے اپنی دونوں ٹانگیں ننگی کرکے مچھر کے کاٹنے جیسا زخم دکھا کر عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا کہ وڑائچ صاحب ہمارے سیاستدان جب جیل کے اندر ہوتے ہیں تو وہ درجنوں بیماریوں کا شکار نظر آتے ہیں اور جب یہی سیاستدان ایوانِ صدر اور ایوانِ وزارت پہنچ جاتے ہیں تو یہ کچھ اور ہی نظر آتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے جب 2004ء میں دوبئی سے لاہور آنا تھا تو لاہور میں ان کے استقبال کے لیے تیاریاں جاری تھیں۔ پیپلزپارٹی سندھ سے بھی منظور وسان، قیوم سومرو، نفیس صدیقی، اور سائیں قائم علی شاہ ہمارے پاس آئے ہوئے تھے اور جب تھانہ سرور روڈ اور ایس پی سیکیورٹی نے ہمیں ان دوستوں سمیت قاسم ضیاء، عزیز الرحمن چن، جہانگیر بدر، نوید چودھری اور راقم کو گرفتار کرکے تھانے کی حوالات میں بند کرنا چاہا تو سائیں قائم علی شاہ اور ڈاکٹر قیوم سومرو نے واویلہ کرنا شروع کر دیا کہ انہیں دل کی پرابلم ہے لیکن اب وہی صاحب پچھلے آٹھ سال سے بیمار دل کے ساتھ سندھ کی وزارتِ اعلیٰ سنبھالے ہوئے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق آصف علی زرداری بظاہر تو ایسے شو کر رہے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آخری جنگ کے لیے تیار ہیں یہی وجہ ہے کہ سندھ اور کراچی میں رینجرز کو ٹف ٹائم دیا گیا ہے مگر دوسری طرف آصف علی زرداری کو جب متحدہ عرب امارات کے سربراہ شیخ محمد نے نقل مکانی کا اشارہ دے دیا تو موصوف عمرہ کے بہانے سعودی عرب پہنچے اور خادمین حرمین شریفین سے درخواست کی کہ ان کا پاک فوج کے ساتھ این آر او کروایا جائے۔ شنید ہے کہ سعودی حکومت نے نچلی سطح پر ہی ایسے کسی منصوبے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ہم پاکستان کی اندرونی سیاست میں مداخلت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ تھی کہ عین اس کے چند گھنٹوں بعد آصف علی زرداری کی ہمشیرہ محترمہ فریال تالپور ایم این اے صاحبہ نے قومی اسمبلی کے فلور پر سعودی عرب کے خلاف جو زبان استعمال کی اس سے ذاتی نفرت کی بُو آ رہی تھی۔اُدھر ڈاکٹر عاصم سے کی جانے والی تفتیش آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے۔ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ آصف علی زرداری کے مزاحمتی رویے کے باعث ملک کے سیکیورٹی اداروں اور ایجنسیوں نے انٹرپول سمیت عالمی اداروں سے مدد مانگ لی ہے۔ اطلاع کے مطابق ریڈ وارنٹ حاصل کر لیے گئے ہیں۔ بہت جلد ان بھاگے ہوئے مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں روانہ کر دی جائیں گی جبکہ عزیر بلوچ کو پہلے ہی پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ ایک مصدقہ اطلاع کے مطابق ڈاکٹر عاصم حسین نے پاکستان سے کالا دھن باہر منتقل کرنے کے طریقۂ کار اور راز افشا کر دیئے ہیں۔ متعدد فی میل اور میل ماڈلز سمیت متحدہ عرب امارات کے چند ایسے عرب شہزادوں کے نام بھی بتائے گئے ہیں جو اپنے ذاتی خصوصی طیاروں اور چارٹرڈ فلائٹس سے پاکستان سے رقوم باہر منتقل کرنے کے گھنائونے فعل میں ملوث ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف نے گذشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کے سربراہ کو ان تمام تفصیلات سے ذاتی طور پر آگاہ کیا۔ میری ذاتی اطلاع کے مطابق لبنان اور سعودی عرب کے حکمران خاندان سے کچھ افراد پاکستان سے کرپشن اور لوٹ مار کی رقوم ٹرانسفر کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ پاکستان کے دونوں بڑے سیاسی خاندان یعنی آصف زرداری اور نوازشریف صاحب کا گھرانہ ایک اندازے کے مطابق دونوں مل کر ایک سو ارب ڈالرکے اثاثوں کے مالک ہیں۔ قارئین! تنزانیہ کے سابق صدر نریری نے کہا تھا کہ ’’دنیا کی بھوک ختم کرنے کے لیے ہمارے پاس بہت کچھ ہے مگرنیت اور آنکھ کی بھوک ختم کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔‘‘ پاکستان کے حکمران خاندانوں نے دولت سے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے نہ صرف پاکستان کا خزانہ خالی کیا بلکہ آئی ایم ایف کے در پر کشکول لے جاکر پاکستان کی نسلوں کو مقروض بنا دیا ہے۔ان کا پیٹ بھرتا ہے نہ نیت نہیں بھرتی ہے۔ گداگروں کی مانند صدا بلند کرتے رہتے ہیں’’دے جا سخیا راہِ خدا۔تیرے اللہ ہی بوٹا لاوے گا‘‘۔ عید میلادالنبیؐ کی آمد آمد ہے ۔دنیا میں تین قسم کے ہی انسان ہیں۔ جہادی، فسادی اور میلادی ۔ میری دعاہے کہ روز محشر میرا شمار میلادیوں میں ہو(آمین) 22دسمبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus