×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
گود میں قاتل۔ شہر میں ڈھنڈورا
Dated: 29-Dec-2015
لندن کے ایجوے روڈ پر رحمان ملک کے مکان پر پیپلزپارٹی سنٹرایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کا خصوصی اجلاس شروع ہونے والا تھا تمام اراکین حاضر تھے۔ صدارت کے لیے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بھی پہنچ چکی تھیں اس اجلاس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی سمیت جنرل پرویز مشرف کے ساتھ مذاکرات آج کا ایجنڈا تھا۔ تلاوتِ قرآن پاک کے بعد جب اجلاس کی رسماً کارروائی شروع ہونے ہی والی تھی کہ شہید محترمہ نے کہا کہ برائے مہربانی جو خواتین و حضرات ایف سی اور سی ای سی کے ممبر نہیں ہیں وہ تشریف لے جائیں ،سب لوگ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے اور پھر رحمان ملک اور آصف علی زرداری اپنی سیٹوں پر سے کھڑے ہو گئے۔ ناہید خان بھی اٹھ کر جانے ہی والی تھی کہ محترمہ نے کہا۔ ناہید آپ میری پولیٹیکل سیکرٹری کی حیثیت سے میٹنگ اٹینڈ کرو گی جبکہ رحمان ملک کمرئہ اجلاس چھوڑ کر اوپر والی منزل پر بیڈروم میں چلے گئے۔ میٹنگ ہی کے دوران راقم کو اوپر واش روم کے لیے جاناپڑا تو وہاں میں نے آصف علی زرداری اور رحمان ملک کے درمیان جو گفتگو سنی وہ پاکستانی قوم کی امانت ہے جسے بوقت ضرورت سپریم کورٹ آف پاکستان کے روبرو پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس سے صرف ایک سال پہلے میں شہید محترمہ کے ساتھ نیویارک کے علاقے مین ہیسٹن میں آصف علی زرداری کے ساتھ اس فلیٹ میں موجود تھا جہاں وہ مقیم تھے۔ چند لمحوں بعد محترمہ بے نظیر بھٹو تشریف لائیں دونوں میاں بیوی کے درمیان رسماً بھی علیک سلیک نہ ہوئی۔ محترمہ نے کوئی خاص کام میرے ذمہ لگایا وہ مجھے دیئے جانے والے مشن کے نکات سمجھا رہی تھیں کہ آصف علی زرداری صاحب نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے اپنا نکتہ نظر بیان کرنا چاہا جس پر شہید محترمہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور تقریباًچیختے چلاتے گویا ہوئیں کہ ’’آصف آپ میرے سیاسی کاموں میں مداخلت نہیں کریں گے، اب بہت ہو چکا ،میں نے چھ سال اکیلے بچوں کو سنبھالا اور پرورش کی اب یہ کام آپ کو کرنا ہوگا‘‘ آصف علی زرداری میرے سامنے ہونے والی اس غیر معمولی ’’سبکی‘‘ پر تلملا اٹھے اور بیڈ روم کا دروازہ زور سے بند کرنے کی آواز آئی اور اس دن کے بعد میرے اور آصف علی زرداری کے درمیان فاصلے غیرارادی طور پر بڑھتے گئے۔ میں نے محسوس کیا کہ اکثر مواقع پر وہ مجھے نظرانداز کرتے یا آنکھیں چراتے نظر آئے۔ ایجوے روڈ پر ہونے والے اس غیر معمولی واقعہ کے بعد میں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے اپنے تحفظات اور مشاہدے کا اظہار کیا تو محترمہ نے مجھے تنبیہ کی کہ ان واقعات کا ذکر کسی کے سامنے نہ کروں اور یہ کہ جب ہم پاکستان جائیں گے اور انتخابات جیتنے کے بعد کسی مناسب موقع پر آپ دونوں کے درمیان اگر کوئی غلط فہمی موجود ہے تو اسے رفع دفع کروا دیا جائے گا۔ قارئین! اس کے بعد محترمہ جنرل مشرف سے کم از کم دو دفعہ ملیں پھر 18اکتوبر کو کراچی تشریف لائیں جہاں سانحۂ کارساز رونما ہوا۔ سانحۂ کار ساز کے دن سے لے کر محترمہ کی شہادت تک یہ 72دن انتہائی اہم تھے ،جس میں سے اکثر ایام میں، میں محترمہ کے ساتھ تھا۔ اس دوران اندرونی اور بیرونی ذرائع سے کچھ تکلیف دہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی تھیں جنہیں سن کر محترمہ کے چہرے پر ایک رنگ سا آ کر گزرجاتا۔ اسی دوران 27دسمبر کے روز محترمہ کی المناک شہادت کی خبر آ گئی میں اس وقت گھر سے ایئرپورٹ کے لیے نکلنے ہی والا تھا جہاں سے مجھے سوئٹزرلینڈ میں شہید محترمہ کے کیسز کے سلسلے میں جانا تھا۔ مجھے ایک غیر ملکی نیوز ایجنسی نے فون کرکے محترمہ کے حادثے کی کنفرمیشن چاہی پھر وہ سب کچھ ہوتا چلا گیا یعنی محترمہ کا پوسٹ مارٹم نہ ہونے دیا گیا، محترمہ کی گھریو فلپائینی ملازمہ سے نام نہاد وصیت کا برآمد ہونا اور اس موقع پر جانتے بوجھتے ہوئے بھی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کے اراکین کی مجرمانہ خاموشی اورآصف علی زرداری کو پارٹی کا چیئرمین نامزد کرنا پھر ناہید خان اور ساتھیوں کی غیر متوقع خاموشی اپنے پیچھے بے شمار سوالات چھوڑ گئی ہے۔ 18فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد فوری طور پر سی ای سی اور ایف سی سمیت نومنتخب اراکین قومی اسمبلی کا اجلاس زرداری ہائوس میں بلایا گیا۔ مجھے وہاں پر افتتاحی تقریر کرنے کا موقع ملا تو میں نے وہاں اپنا یہ شہرئہ آفاق فقرہ بولا کہ ’’محترمہ شہید کے خون کے چھینٹے زرداری ہائوس کی دیواروں پر دیکھے جا سکتے ہیں‘‘ ان تاریخی کلمات کے بعد آصف علی زرداری اور ان کی پوری ٹیم نے میرا سیاسی، اخلاقی ، معاشرتی اور معاشی بائیکاٹ شروع کر دیا اور پھر مجھے نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکیوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔ میرے اوپر کم از کم دو قاتلانہ حملے ہوئے۔ میرے بچوں کے سکولوں تک کو دھمکیاں دی گئیں تو بالآخر میں نے بچوں کو جبراً کینیڈا بھیج دیا اور پیپلزپارٹی کے سی ای سی اور ایف سی کے ایک اجلاس جو کہ وزیراعظم ہائوس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا، میں وزیراعظم اور اعلیٰ قیادت کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کیا تو مجھے جواب دیا گیا کہ طالبان کے ساتھ تمہاری مخاصمت جاری ہے، پارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں جبکہ بعد کے واقعات سے ثابت ہوا کہ پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں پیپلزپارٹی ہی کی انتہائی اعلیٰ قیادت کی طرف ے مجھے تختِ مشق بنایا گیا تھا۔ قارئین! شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل کوئی معمہ نہیں اصل بات تو یہ ہے کہ نام نہاد لواحقین اس کیس کو حل ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے وگرنہ قاتل تو ’’گود‘‘ میں موجود ہیں۔ گذشتہ روز سابق صدر آصف علی زرداری کو پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کا صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔یاد رہے اس سے پہلے مرحوم مخدوم امین فہیم اس عہدے پر فائز تھے مگر ملک بھر میں پیپلزپارٹی کی شکست و ریخت اور عوامی دبائو کے باعث آصف علی زرداری نے بلاول بھٹو کو پارٹی کی چیئرمین شپ بحالتِ مجبوری سونپ دی لیکن وہ اس طاق میں رہے کہ وہ یا اس کی بہن فریال تالپور کا کنٹرول کسی نہ کسی صورت میں پاکستان پیپلزپارٹی کے منتخب اراکین پر برقرار رہے۔ یہ نکتہ خوف ،بوکھلاہٹ اور پریشانی کی نشاندہی کرتا ہے۔ 29 دسمبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus