×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
Dated: 05-Jan-2016
بچپن سے ہی اُسے اپنے اطراف ہونے والی ناانصافیوں پہ دُکھ ہوتا تھا۔ اس کی ماں ایک غریب ہاری (کسان) کی بیٹی تھی جبکہ باپ ایک جاگیردار اور صوبے کا حکمران تھا وہ جب اپنی ماں کو اداس دیکھتا تو اس کا عزم اور بھی مضبوط ہو جاتا اور اس نے تہیہ کر لیا کہ اگر اسے موقع ملا تو وہ ان معاشرتی تفریق کو ختم کرنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں لگا دے گا۔ پھر قدرت ’’زلفی‘‘ پر مہربانی ہوتی چلی گئی اچھے سکولز ،کالج اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہو کر پاکستان کی تاریخ کا سب سے جواں عمر وفاقی وزیر بنا۔ فیلڈ مارشل ایوب مرحوم کی نظر اس پر پڑی تو انہوں نے دیکھ لیا کہ اقتدار کی مہر اس کی پیشانی پہ ثبت ہے۔ جی ہاں قارئین میں اسی ذوالفقار علی بھٹو کی بات کر رہا ہوں جس نے پاکستان میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی اور اس دور میں اسے فعال بنایا، پہلے اس وزارت کے دفتر کے باہر فقط ایک بورڈ لٹکا ہوا تھا۔ اپنی ذہین و شاطر سوچ کی وجہ سے جلد ہی وہ ملک کا وزیر خارجہ بن گیا اور اپنے ہم عصروں سمیت بھارتی رہنمائوں کو تگنی کا ناچ نچایا۔ 65ء کی جنگ کے بعد تاشقند معاہدے کے لیے ایوب خان کے ساتھ وزیر خارجہ کی حیثیت سے گیا اور جب دیکھا ایوب خان اپنے ہم منصب بھارتی رہنما سے ’’ڈھیلے مذاکرات‘‘ کر رہے ہیں تو محب وطن بھٹو نے وطن واپس آ کر اقتدار کو ٹھوکر ماری اور عوام کی عدالت میں پہنچ گیا۔ پھر عوام سڑکوں اور اسٹیشنوں پر اس سیاسی مداری کا انتظار کرنے لگی۔ ایوب خان نے بھٹو کے خوف سے منتقلی اقتدار میں فائول پلے کیا اور اقتدار یحییٰ خاں کے سپرد کیا یعنی ایک ڈکٹیٹر سے دوسرے ڈکٹیٹر کو منتقل ہوا۔ 1970ء کے انتخابات میں اس وقت کے مغربی پاکستان میں بھٹو کی نوزائیدہ پیپلزپارٹی نے کلین سویپ کیا۔ اسی دوران مشرقی پاکستان میں شدت پسندوں نے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی حمایت سے مکتی باہنی کے ساتھ مل کر ملک توڑنے کی سازش کی اور بالآخر سیاسی اور معاشرتی ناانصافیوں کا انجام ملک ٹوٹنے کی صورت میں ہوا۔ بھٹو نے اس موقع پر باقی ماندہ پاکستان کو ہمیشہ کے لیے محکوم بننے سے بچایا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کا مقدمہ خوبصورتی اور بہادری سے پیش کیا اور ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالتے ہی جنگ میں ہزاروں مربع کلومیٹر رقبہ جو دشمن کے قبضہ میں چلا گیا تھا وہ واپس لیا۔ قریباً ایک لاکھ پاکستانی افواج جو ہتھیار ڈال کر بھارت کی قید میں تھی اس کی رہائی دلوائی ۔ شملہ معاہدہ میں دنیا کی زیرک ترین قیادت اندرا گاندھی کو ڈپلومیسی میں کلین بولڈ کیا۔ پھر پاکستان کو ایک متفقہ آئین دیا جسے آج بھی 73ء کے آئین کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ بکھری ہوئی مسلم امہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور لاہو رمیں اسلامی سربراہ کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا۔ فیصل، عرفات ، قذافی، جمال عبدالناصر، سہارنو کی موجودگی میں بھٹو کو اسلامی کانفرنس کا چیئرمین چنا گیا۔ بھٹو نے ملک کے لیے ٹیکسلا ہیوی کمپلیکس حاصل کیا۔ روس سے سٹیل مِل حاصل کی۔ فرانس سے ایٹمی ری ایکٹر حاصل کیا۔ ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک عام آدمی کے لیے پاسپورٹ کا حصول ممکن بنایا اور لاکھوں بے روزگار پاکستانیوں کو سعودی عرب،کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکی اور یورپ میں روزگار حاصل ہوا۔ جبکہ اندرون ملک مزدور، تاجر ، طالب علم، کسان کو قومی دھارے میں لے کر آئے۔ عورتوں کو خصوصی حقوق دیئے گئے۔ صوبوں کی خودمختاری کی بات آئین میں منوائی گئی۔غرضیکہ وہ تمام خواب جو بھٹو نے بچپن میں دیکھے تھے شرمندہ تعبیر ہوئے۔ بھٹو نے پہلی دفعہ غریب کے بچوں کو بھی یکساں تعلیمی سہولیات بہم پہنچائی۔ جگہ جگہ ہسپتال قائم ہوئے۔ قیدیوں کے لیے جیلوں کی اصلاحات کیں۔ ملک بھر کے جاگیرداروں سے زمینیں چھین کر غریب کسانوں اور ہاریوں میں تقسیم کیں اور پہلی زرعی اصلاحات نافذ کیں اور زرعی یونیورسٹی بنوائی۔پھر جب ملکی اشرافیہ نے غیرملکی سامراج اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر بھٹو کو پاکستان کے لیے نیوکلیئر پاور بننے کی سزا دی اور اسے اقتدار سے ہٹا کر پابند سلاسل کیا گیا اور دوران قید اور عدالتی کارروائی بھٹو کے ساتھ غیرانسانی سلوک روا رکھا گیا مگر اس نے پھر بھی کیا خوب کہا۔ ’’میری قبر سے فتح اور نصرت کے پھول کھلیں گے۔‘‘ قارئین مگر ایک بات ہے بھٹو کے بدترین نقاد اور دشمن بھی بھٹو پر ایک پیسے کی کرپشن کا الزام نہ لگا سکے۔ ضیا الحق کوشش کے باوجود بھٹو کے خلاف ایک بھی کرپشن کیس فائل نہ کر سکا۔ اسے پھانسی دی گئی تو انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ درجن بھر جیالوں نے خودسوزی کر لی۔ لاکھوں کارکنوں کو کوڑے پڑے، ہزاروں کو قید اور قلعوں میں بند کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ بھٹو مر کر بھی امر ہو گیا اور دنیا آج بھی ’’جئے بھٹو اور زندہ ہے بھٹو‘‘ کے نعرے لگاتی ہے۔ مگر بھٹو کی شہادت کے بعد ساڑھے گیارہ سال کی صعوبتوں کے بعد بھٹو کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو عوام اقتدار میں لائے تو ان کاعزم بھی باپ سے رتی بھر کم نہ تھا۔مگر ان سے ایک غلطی ہوئی ان کی شادی ایک ایسے شخص سے کرا دی گئی جس کے باپ حاکم علی زرداری کو ایک موقع پر بھٹو نے کرپشن کی شکایت پر تھپڑ رسید کیا تھا۔ اسی حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری بعد میں اپنی سطحی حرکتوں کیوجہ اور کرپشن کے الزامات کی وجہ سے دو دفعہ پاکستان پیپلزپارٹی اور محترمہ شہید کی حکومت گرانے کا باعث بنا۔بلکہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کے شیر دل بیٹے مرتضیٰ بھٹو کے قتل میں بھی آصف علی زرداری کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور موصوف اپنی شاطرانہ حکمت عملیوں سے نہ صرف محترمہ بے نظیر بھٹو کے راستے سے ہٹانے میں کامیاب ہوئے بلکہ جس شخص کو محترمہ نے کہہ دیا تھا کہ اب کی بار ہمیں اقتدار ملا تو آپ پاکستان نہیں آئیں گے وہ ہی شخص ملک کے سب سے کلیدی عہدہ پر صدر بن کر براجمان ہوا اور ایک مخصوص ٹولے کو ساتھ ملا کر کھربوں روپے ملک کے خزانے سے لوٹے گئے اور ایوان صدارت میں بیٹھ کر ببانگ دہل وہ شخص دھاڑتا کہ وہ بے نظیر بڑی سیاست دان بنی پھرتی تھی جو دو دفعہ اقتدار سے ہٹائی گئی یا میں کہ جس نے 5سال کا اقتدار کا ہدف پورا کیا۔ ایک سابق سینئر بیوروکریٹ دوست مجھے بتا رہے تھے کہ آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ بے نظیر ایک پاگل عورت تھی اسے طاقت کا استعمال صحیح نہیں آتا تھا مجھے دیکھو آج میں نوازشریف فیملی سے زیادہ پیسے کما کر اس پوزیشن میں آ گیا ہوں کہ ان کا مقابلہ کر سکوں۔ قارئین! لوگ آصف علی زرداری کو بھٹو کا داماد سمجھ کر عزت دیتے رہے مگر اس کے اہداف اور مقاصد کچھ اور تھے ۔ بعد میں عوام نے اسے مسٹر ٹین پرسنٹ بھی کہا مگر وہ سفید دانت نکال کر ہنستا رہا۔ اور آج حالات یہ ہیں کہ پانچ سال اقتدار پورا کرنے کے بعد گذشتہ الیکشن میں بھٹو کی پیپلزپارٹی کو شکست فاش ہی نہیں ہوئی بلکہ وہ عوام کے دلوں سے بھی اتر گئی اور جس پیپلزپارٹی کو ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور مشرف ختم نہ کر سکا وہ پیپلزپارٹی بھٹو کے داماد کے ہاتھوں منطقی انجام کو پہنچی۔ اب لیٹروں کا ٹولہ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے اور جئے بھٹو‘‘ کے نعرہ لگا کر عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔دراصل بھٹو غیر فانی نہیں ایک فانی انسان تھا جسے دشمن مار کر بھی نہ مار سکے مگر وہ اپنوں کے ہاتھوں دردناک انجام کو پہنچا۔ آج بھٹو زندہ بھی ہوتا تو وہ موجودہ حالات دیکھ کر مر جانے کی خواہش کرتا۔ ایک اطلاع کے مطابق زرداری دوبئی اس لیے چلے گئے کہ پاکستان میں جا بجا یہ نعرے لگتے تھے ’’زندہ ہے بی بی زندہ ہے زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ اور ان نعروں سے زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور بہت خوفزدہ ہوتے تھے۔ ایسے حالات میں بھٹو نے جی کر بھی کیا کرنا ہے۔ 5جنوری2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus