×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
قربانی، کھال اور ایثار
Dated: 28-Nov-2009
عدالتوں کی طرف سے میری ضمانت مسترد ہونے کی اطلاع بابر اعوان اڈیالہ جیل لاتے تو میں پریشان ہو جاتا۔ اس موقع پر جیل میں موجود آصف علی زرداری میرا حوصلہ بڑھاتے۔ میں ان کے کیسوں کی پیروی کے جرم کی پاداش میں پابندسلاسل تھا۔ آصف علی زرداری جس جرأت و بہادری سے جیل کاٹ رہے تھے اس سے میرا مورال بھی بلند ہوتا تھا۔ وہ 11سال قید میں رہے۔ ان پر مقدمات کے اندراج کا سلسلہ 1990ء سے شروع ہوا۔ 2004ء تک ان میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ نوازشریف دو مرتبہ وزارت عظمی سے سرفراز ہوئے۔ دونوں ادوار میں زرداری صاحب اندر رہے۔ مشرف دور میں بھی پانچ سال قید کاٹی۔ تمام تر اختیارات، تشدد اور حکومتی جبر کے باوجود ان کے پائے استقلال میں لغزش آئی نہ صیاد کے ستم میں کمی۔ اس دوران 14مقدمات میں ان کی ضمانت اور بریت ہوئی۔ دو سال تک بی ایم ڈبلیو کیس سپریم کورٹ نے سنا ہی نہیں، جب کیس لگا تو اعتزاز احسن نے اس میں بھی ان کی ضمانت منظور کروائی۔ ایسے میں یہ کہنا کہ آصف علی زرداری کو این آر او سے کوئی فائدہ ہوا ہے یہ بات قرینِ قیاس نہیں ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں میں جناب زرداری صاحب کے کیسوں کی پیروی کرتا تھا وہاں بھی عدالتوں نے ان کو باعزت بری کیا۔ اس دوران پاکستان میں جسٹس راشد عزیز اور جسٹس ملک قیوم کو ٹیپ سیکنڈل کیس میں مستعفی ہونا پڑا۔اور یہ عجب ستم ہے کہ جن کیسوں میں سے ججوں کو مستعفی ہونا پڑا وہ کیس آج بھی پاکستان کی عدالتوں میں عدلیہ کے ماتھے پر ایک بدنما کلنک کی طرح موجود ہیں۔ 1999ء میں سوئٹزرلینڈ سے ایک انویسٹی گیشن ادارہ آصف علی زرداری کے خلاف منشیات کیس کی انویسٹی گیشن کے لیے پاکستان آیا۔ انویسٹی گیشن ٹیم نے شب و روز کی تفتیش کے بعد آصف علی زرداری کو بے گناہ قرار دیا لیکن پھر بھی کئی سال بعد تک انویسٹی گیشن ٹیم کا یہ فیصلہ پاکستانی عدلیہ کا منہ چڑچڑا رہا تھا۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جب تک پاکستان رہیں اور جناب آصف علی زرداری صاحب کو کبھی لاہور کبھی اٹک، کبھی راولپنڈی، کبھی کراچی جیلوں میں اور نام نہاد احتساب عدالتوں میں لے جا کر تماشا بنایا جاتا رہا اور ان کی حیثیت چڑیا گھر کے اس شیر کی سی ہو کر رہ گئی جسے عام عوام کے لیے سرکس میں رکھ دیا جاتا ہے۔اور اسی آصف علی زرداری کو پنجاب سے تبدیل کیے گئے ایک ایسے آئی جی پولیس کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو اپنی بربریت کے لیے بہت مشہور تھا اور پھر آصف علی زرداری کی زبان جمور(پلاس)سے کھینچی جاتی ہے اور اسے قتل کرنے کا پورا اہتمام کر لیا جاتا ہے لیکن رازافشاں ہونے کی اطلاع پر اور جیل کے باہر عوام کا لشکر پہنچ جانے کے بعد حکمران اپنا ارادہ بدل لیتے ہیں۔ مسلم لیگ کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ زرداری صاحب کے سوئس اکائونٹس میں 60ملین ڈالر جمع ہیں جبکہ سرے محل کی ملکیت کا اعتراف بھی کیاہے۔ میری مذکورہ رہنما کو پیشکش ہے کہ وہ میری ذمہ داری پر یہ چیلنج قبول کرے اور اگر سوئس اکائونٹس میں زرداری صاحب کی اتنی بڑی رقم موجود ہے تو وہ واپس لا کر پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرا دیں۔ جہاں تک سرِ محل کائونٹی کے مکان کا تعلق ہے تو ان کے قائد کے سنٹرل لندن کے گھر کے صرف ایک باتھ روم کی قیمت سرے محل کائونٹی کے مکان سے کہیں زیادہ ہے۔ این آر او سے استفادہ کرنے والوں کی لسٹ میں جہانگیر بدر کانام بھی شامل ہے۔مستحق اور غریبوں کو ملازمتیں دینا ان کا جرم تھا۔ جینوا میں عدالتِ انصاف میں، میں نے اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل شیخ اکرم نے ان کے کیس کی پیروی کی۔ وہاں پر ہم نے جہانگیر بدر کے ساتھ ہونے والی حکومتی بربریت اور ارشد بٹ قتل کیس کے شواہد پیش کیے تو عالمی عدالتِ انصاف نے حکومت پاکستان سے جہانگیر بدرکے سلسلہ میں تحریر وضاحت طلب کی جب بار بار عالمی عدالتِ انصاف کو جواب نہ دیا گیا تو عالمی عدالت انصاف نے جہانگیر بدر کو بے گناہ قرار دیا۔ آج اس پارٹی کی عوام میں کریڈبیلٹی کیا رہی جس نے چند دن پہلے واویلا مچا کر این آر او کے اسمبلی میں جانے کی مخالفت کی تھی اور پاکستان کے عوام کو یہ چکما دینے کی کوشش کی کہ وہ اور اس کے اراکین پاک صاف اور گنگانہائے ہیں۔این آر او کی لسٹ کے مطابق 8ہزار لوگ اس میں شامل ہیں جن میں سے 7700لوگ صرف سندھ سے تعلق رکھتے ہیں اور زیادہ تر کا تعلق ہماری اسی محبوب پارٹی سے ہے۔اب ہر شخص ڈنڈورا پیٹ رہا ہے کہ اس پر کرپشن نہیں فوجداری کے مقدمات ہیں۔ جرم تو جرم ہوتا ہے چاہے فوجداری ہو یا دیوانی۔ احتساب نہایت ضروری ہے، چیک اینڈ بیلنس سسٹم ختم ہو جائے تو کچھ باقی نہیں رہتا۔ لیکن احتساب بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ چھوٹا، بڑا، امیر غریب، بیوروکریٹ،جج اور جنرل بھی احتساب کے بے رحم چھلنے سے گزرنے چاہئیں۔ سکول ماسٹر اور امام مسجد کے پوتے آج شوگرانڈسٹری اور سافٹ ڈرنک کمپنیوں اور کارخانوں کے مالک کیسے بن گئے؟ عدت سے بھی کم مدت کے لیے وزیراعظم بننے والوں نے اربوں کے قرض کیونکر معاف کرائے۔ احتساب کا دائرہ وسیع کرکے 1977ء تک لے جانا چاہیے۔ اس دور سے لے کر آج تک اسمبلیوں میں پیش کیے گئے بجٹوں کا صرف 18فیصد ترقیاتی و غیرترقیاتی کاموں پر خرچ ہوا۔ باقی کمال مکاری سے ڈیڑھ سو ارب ڈالر آمروں،ابن الوقت سیاستدانوں،بیوروکریٹس،ججوں اور سابق جرنیلوںکی جیب میں چلا گیا۔ اس کا حساب لیا اور دیا جانا چاہیے۔ کڑا احتساب کرنا ہے تو 18کروڑ پاکستانیوں کے نام ECL میں ڈال دیئے جائیں، اور جن کرپٹ افراد کی اولادیں تعلیم کے نام بیرون ممالک عیاشیاں کر رہی ہیں ان کے ریڈوارنٹ نکال کر واپس بلایا جائے۔ اور مملکتِ پاکستان کو غداروں، چوروں اور ڈاکوئوں سے پاک کر دیا جائے اس طرح ہم نیا معاشرہ اور نیا پاکستان تشکیل دینے میںکامیاب ہو سکیں گے۔ دوستوں، بہی خواہوں، کابینہ کے وزیروں مشیروں کی وجہ سے صدر آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی آج دفاعی پوزیشن میں ہے۔ اگر صدرِ مملکت آصف علی زرداری صاحب کہ وہ دوست جن کی وجہ سے پارٹی کے اوپر غیروں کی انگلیاں اٹھ رہی ہیں اپنے آپ کو خود احتسابی کے لیے پیش کر دیں اور عدالتوں میں جا کر اپنے مقدمات کلیئر کرائیں تو یہ صدرمملکت اور پیپلزپارٹی دونوں پر احسان ہوگا۔ عیدالاضحی ہمیں قربانی کا درس دیتی ہے۔ یہ دوست بھی اس موقع پر ایثار کا مظاہرہ کریں۔ دیکھیں آج کون قربانی کے لیے پہل کرتا ہے؟ قربانی تو اب ہر صورت دینا پڑے گی، خود آمادہ ہوتے ہیں تو کم از کم کھال تو محفوظ رہے گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus