×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پانامہ سے خبرنامہ
Dated: 05-Apr-2016
جولین آسانچ ایک آسٹریلین شہری تھا جس نے 2010ء میں وکی لیکس نامی سکینڈل لا کر عالمی طاقتوں سمیت سرمایہ دارانہ نظام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے جرنلسٹ اور کمپیوٹر پروگرامر تھاچونکہ اس نے جو راز افشا کئے، اس سے امریکہ، برطانیہ، یورپ کو اپنے اتحادیوں کے سامنے خفت اٹھانا پڑی تھی۔ خاص طور پر گوانتاناموبے جیل سے متعلق جو اندوہناک واقعات سامنے آئے اس سے امریکہ کی عالمی برادری میں رسوائی ہوئی مگر اس سے پہلے کہ امریکی ادارے اسے پکڑنے میں کامیاب ہوتے اس نے سائوتھ امریکہ کے ہی ایک ملک ایکواڈور میں سیاسی پناہ حاصل کر لی۔ قارئین! گذشتہ روز اسی طرح کا ایک اور عالمی سکینڈل ’’پانامہ پیپرز‘‘ کے نام سے منظر عام پر آیا جس نے پوری عالمی برادری پر سکتہ طاری کر دیا اور اس خبر کے ’’آفٹر شاکس‘‘ ابھی تک محسوس کئے جا رہے ہیں۔ شاید جدید دنیا کی تاریخ میں یہ کرپشن کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ تفصیل اسکی کچھ یوںہے: جرمنی کے مشہور اخبار ایس زیڈ(سودڈوئے سائی تنگ) کی انتظامیہ کے مطابق آج سے ایک سال پہلے اخبار کے ایڈیٹر کو ایک نامعلوم ٹیلی فون کال موصول ہوئی، جس میں کالر نے دعویٰ کیاکہ وہ اسے ساڑھے گیارہ ملین دستاویزات پر مشتمل حقائق بھیج رہا ہے۔ ایس زیڈ اخبار کو تھوڑے دنوں بعد جو دستاویزات ملیں وہ پانامہ کی ایک لاء فرم ’’موساک فونسیکا‘‘ کی ملکیت تھیں اور یہ دستاویزات بھیجنے والا اسی لاء فرم کا ملازم تھا جس نے 1977ء سے لے کر 2015ء تک کی تمام معلومات اخبار کو بھیج دیں۔یہ لاء فرم دنیا کی چوتھی بڑی فرم ہے۔ اس لاء فرم کا بزنس یہ ہے کہ یہ دنیا بھر کے امراء ، کرپٹ سیاست دانوں اور ان حکمرانوں کو جو اپنے ہی ملک سے پیسہ لوٹ کر غیرممالک میں چھپانا چاہتے ہوں ان کے لیے نہ صرف آسانیاں پیدا کرتی ہے بلکہ مکمل تحفظ کے یقین کے ساتھ سروس بھی مہیا کرتی ہے۔ جرمن اخبار ایس زیڈ کو جو دستاویزات بھیجوائی گئیں ان میں 4.8ملین ای میلز،1 ملین پکچر فائلز، 2.5ملین پی ڈی ایف فائلز شامل ہیں۔ جن میں دنیا کے 143مشہور سیاست دان، 12حکمران خاندان جبکہ درجنوں ممبرز ہائوس آف لارڈز، اراکین سینیٹ، ممبرانِ قومی اسمبلی، اراکین کانگریس اور بے شمار وزراء شامل ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق روس کے صدر پوٹن اور ان کے قریبی دوست، عراق کے سابق وزیراعظم عیاد علوی، پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف، مریم صفدر، حسن نواز، حسین نواز،یوکرائن کے موجودہ وزیراعظم پیٹرویوروشئینکو، مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کا بیٹا علی مبارک، آئس لینڈ کے وزیراعظم سگمن دورڈائیوو، چینی وزیراعظم کی بیٹی، ملائیشیا کے وزیراعظم کا بیٹا اور برٹش پرائم منسٹر ڈیوڈکیمرون کا باپ اور پاکستان کی عدلیہ کے ایک اعلیٰ جج اور دو اراکین سینٹ کالادھن چھپانے کے اس مکروہ اور قبیح کاروبار میں شامل ہیں۔ پاکستانی حکمران خاندان کا اس لسٹ میں نمبر دوسرا ہے اور رپورٹ کے مطابق حکمران خانوادے نے 1993ء سے اپنے اثاثے بھاری رقومات اور اربوں روپے کی منی ٹرانسفر پانامہ کی اس فرم کے ذریعے کی۔ دستاویزات کے مطابق صرف ایک ٹرانزیکشن میں 7.9ملین اسٹرلنگ پونڈ ورجن آئی لینڈ میں ہوئی جبکہ 2006ء اور 2007ء میںہائیڈ پارک لندن میں چھ انتہائی قیمتی پراپرٹیز کو شو کرکے ڈوئچے بینک سے کئی سو ملین پائونڈ کا کاروباری قرضہ حاصل کیا گیا۔ اس کے علاوہ سینکڑوں اور ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کے چہرے بے نقاب کرنے کے لیے آئی سی آئی جے کی وبیب سائیٹ پر موجود ہیں ۔ یاد رہے آئی سی آئی جے وہ ادارہ ہے جو دنیا بھر کے انوسٹی گیشن جرنلٹس کی سٹوریاں چھاپنے سے پہلے تصدیق کرتا ہے اور ان کی کریڈیبلٹی کا ذمہ دار ہوتاہے۔ قارئین! اس سے پہلے پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری جنہوں نے اپنے پانچ سالہ دورِ حکومت میں ساٹھ ارب ڈالرز کی کرپشن کی اور سرے محل نامی کیس میں وہ اس محل کی ملکیت سے انکاری رہے مگر این آر او ہو جانے کے بعد ا سکی قیمت وصول کر لی جس طرح موجودہ حکمران خاندان نے سوئٹزرلینڈ اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں چار آف شورزکمپنیاں قائم کر کے ملکی خزانے سے لوٹا ہوا سرمایہ دیار غیر منتقل کیا اسی طرح آصف علی زرداری نے بھی اپنے پہلے اور دوسرے دور حکومت کے دوران سوئٹزرلینڈ میں دو آف شورز کمپنیاں ایس جے ایس اور کوٹیکناکے نام سے قائم کیں اور جس کو پاور پلانٹ منصوبے سمیت دیگر پراجیکٹس سے 72ملین سوئس فرانک کی کِک بیک وصول کرکے سوئس بینکوں میں منتقل کیں۔ قارئین آج سے چند روز قبل میرے گذشتہ کالم میں، میں نے رحمان ملک ،بے نظیر بھٹواور علی جعفری کی کیٹرولائن کمپنی کا راز فاش کیا تھا اور آج ’’پانامہ پیپرز ‘‘میں اسی کے چرچے ہیں۔پیپلزپارٹی اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھے انہی سوئس کیسز کا انچارج مقرر کیا تھا۔ میں نے کئی دفعہ وفاقی اداروں کو بتانے کی کوشش کی کہ آصف علی زرداری کی طرف سے لوٹے ہوئے قومی خزانے کو واپس لانے کے لیے وہ میری خدمات حاصل کریں مگر وہاں تو چور سپاہی سبھی آپس میں ملے ہوئے تھے۔ ایک کے بعد دوسرا این آر او اور میثاقِ جمہوریت ان لٹیروں کے درمیان ہو جاتا تھا۔ آج بھی عالمی لیول پر پاکستانی حکمرانوں کو جو بے نقاب کیا گیا ہے تو یہ سارا مافیا اپنے آپ کو بچانے کے لیے فوج کے ساتھ پھر ایک این آر او کی تلاش میں ہوگا۔ پھر سعودی عرب، لبنان اور متحدہ عرب امارات کی کوئی حکمران فیملی ان خاندانوں کی پشت پناہی کے لیے تیار بیٹھی ہو گی تاکہ وہ ان کی لوٹی ہوئی دولت سے اپنی ذاتی معیشت اور بھی مضبوط کر سکیں۔ ایک ایسا ملک جس کی صرف ستائیس فیصد آبادی کچھ لکھ پڑ سکتی ہے اس ملک کے عوام ملکی خزانے کو لوٹنے والے معصوم چوروں، ڈاکوئوں اور ٹھگوں کو کیسے پہچانیں گے پھر قومی خزانے سے پیسہ لے کر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اپنی معصومیت کے اشتہار چلائے جائیں گے اور ہم معصوم عوام واہ واہ کے نعرے لگاتے نظر آئیں گے۔ 5اپریل2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus