×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
استعفے سے ذرا پہلے__ پانامہ کے آفٹر شاکس
Dated: 12-Apr-2016
1821ء میں فرانس نے کولمبیا کے علاقے پانامہ میں 77 کلومیٹر لمبی سمندری گزرگاہ بنانا شروع کی، سالوں تک اس پر کام ہوتا رہا، سخت زمین اور غیر معتدل موسم کی وجہ سے فرانس کے غلام ، مزدور ہزاروں افراد اس منصوبے کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ اس منصوبے کے دوران پانامہ کے اس علاقے میں علیحدگی پسندوں کی ایک تحریک نے جنم لیا جسے بعد میں امریکی حکومت نے خوب سپورٹ کیا۔ 1903 ء میں امریکہ کے صدر آنجہانی روزویلٹ نے پانامہ کے باغیوں کو دس ملین ڈالرز دے کر اس علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور خود سے ہی اس سمندری گزرگاہ کے منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ اسی دوران آج کے پانامہ نے کولمبیا سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ ایک لاکھ مزدوروں کی شب و روز مشقت سے گیارہ سال میں 1919ء کو یہ پانامہ نہر مکمل ہوئی۔ سائوتھ امریکہ کا یہ ملک ہمیشہ ہی امریکہ کے زیر اثر رہا۔ 1983ء میں جنرل مینوئل نوریگا نے ایک ملٹری انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا۔ اسی دوران جنرل نوریگا کے امریکی صدر بش سینیئر سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ 5جنوری1990ء کو امریکہ نے پانامہ کی حکومت کے خلاف منشیات کا بہانہ بنا کر آپریشن شروع کیا اور روپوش جنرل نوریگا کو گرفتار کرکے امریکہ لایا گیا۔ انسانی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ ایک ملک نے جارحیت کرکے ایک دوسر ے ملک کے سربراہ کو زبردستی اغوا کیا۔ ایک خود ساختہ ٹرائل کے ذریعے جنرل نوریگا کو چالیس سال کی قید سزا سنائی گئی جو بعد میں بہتراور مثبت رویے کی بنیاد پر سترہ سال کر دی گئی۔ اس سے پہلے کہ 2007ء میں جنرل نوریگا کو امریکی قید سے نجات ملتی فرانس نے جنرل نوریگا کی آف شور کمپنیوں کے ذریعے پیرس میں کی گئی انوسٹمنٹ کو بنیاد بنا کر اس کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا اور یوں جنرل نوریگا کو فرانس میں بھی سات سال قید سنائی گئی۔ فرانس میں قید ختم ہونے والی تھی کہ پانامہ میں اس کے سیاسی مخالفین نے پرانا حساب چکتا کرنے کے لیے فرانس سے اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا اور پھر نام نہاد ٹرائل کرکے بیس سال قید کی سزا سنائی۔ جنرل نوریگا آج بھی عالمی سامراجی طاقتوں سے پنگا لینے کے جرم میں پابندِ سلاسل ہے جبکہ اس دوران امریکہ اور پانامہ کے درمیان ایک تجارتی معاہدے کے تحت پانامہ کو یہ اختیار دیا گیا کہ کوئی بھی شخص وہاں جا کر آف شور کمپنی کھولنے جیسے منصوبے شروع کر سکتا ہے جبکہ 2011ء میں سینیٹ کے ممبر اور اس اب ہیلری کلنٹن کے مد مقابل ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط امیدوار برنی سینڈر نے پانامہ امریکہ ڈیل بل کو کرپشن اور ٹیکس چوروں کی فتح قرار دیا تھا۔ برنی سینڈر کے بقول صرف ستائیس بلین ڈالرز کی اکانومی رکھنے والا چھوٹا سا ملک امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اہل نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 1977ء سے 2015ء تک تیس بڑی اور سینکڑوں لافرمز تشکیل پا چکی ہیں جو پوری دنیا کے کرپٹ اقتدارزدہ طبقے، ٹیکس چور تاجروں اور لٹیرے بیوروکریٹس اور فوجی جرنیلوں کو خدمات مہیا کرتی ہیں۔ جسے پانامہ کی حکومتی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ قارئین! گذشتہ ہفتے پانامہ پیپرز کے نام سے جو لیکس ہوئیں اس کی تفصیلات آپ میرے گذشتہ کالم میں پڑھ چکے ہوں گے مگر اس پانامہ سکینڈل کے اب آفٹرشاکس آنا شروع ہو چکے ہیں۔ پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب شدید تر عوامی دبائو کے ردعمل میں آئس لینڈ کے وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا اور گذشتہ روز یوکرائن کے وزیراعظم یاسٹن نیک بھی مستعفی ہو چکے ہیں ۔ روس، ارجنٹائن ،برطانیہ اور مالٹاکے وزرائے اعظم کے خلاف جلوس اور ریلیاں جاری ہیں۔ اگلے چند روز میں نصف درجن سے زائد سربراہان مملکت مستعفی ہو چکے ہوں گے جبکہ پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف الیکٹرانک میڈیا پر آ کر قوم سے خطاب کر چکے ہیں۔ غیر جانبدارانہ تجزیہ نگاروں کے مطابق وہ اپنی تقریر میں قوم کو خاطر خواہ تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔ اس وقت حکومت پاکستان اور ان کی اتحادی سیاسی جماعتیں بمعہ صوبائی ووفاقی وزراء اور مشیران کی فوج ظفر موج کی سر توڑ کوشش ہے کہ وہ اس رواں کرائسز کو کسی طرح پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی طرف موڑنے میں کامیاب ہو جائیں اور یہ کہ پانامہ پیپر لیکس کو عمران خان کا تراشیدہ منصوبہ ثابت کر سکیں۔ پوری دنیا میں ایک سیاسی اور معاشی ہلچل سی مچی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پانامہ پیپر لیکس کے بطن سے مزید کئی سکینڈلز جنم لیں گے اور عین ممکن ہے کہ یہی وجوہات تیسری عالمگیر جنگ کا باعث بنیں۔ کچھ سیاسی دوستوں اور دفاعی قوتوں سے موجودہ حالات پر تبادلہ خیال ہوا تو سبھی اس نکتے پر تقریباً متفق تھے کہ وزیراعظم نوازشریف کے لیے موجودہ سیاسی بحران سے بچ نکلنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف ان کی فیملی اور وہ بیوی (تہمینہ درانی) جو ان کو رموزِ حکمرانی سکھاتی ہیں،کھل کر میاں نوازشریف اور ان کی فیملی کے سامنے کھڑے ہو چکے ہیں۔ میاں نوازشریف اور ان کے ساتھیوں کی یہ حتی الوسع کوشش ہے کہ جس طرح انہوں نے ماضی میں بلوچستان ہائی کورٹ میں جسٹس رفیق تارڑ اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قیوم ملک اور جسٹس راشد عزیز اور جسٹس خواجہ شریف کو استعمال کیا، اسی طرح وہ اس بار بھی کسی سیکنڈ ہینڈ جج کو استعمال کرکے اپنی ڈوبتی ایمپائر کو سہارا دے سکتے ہیں مگر جھوراجہاز کہہ رہا تھا کہ وڑائچ صاحب اس بار ستارے شریف فیملی سے وفا کرتے نظر نہیں آ رہے۔ جنرل راحیل شریف اپنے کورکمانڈرزکے ساتھ تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے مصداق ابھی یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس عالمی اکھاڑ پچھاڑ کا انجام کیا ہوگا مگر ایک بات عیاں ہے کہ ملکی سطح پر فوج کرپشن کے خلاف جہاد کا اعلان کر چکی ہے۔ اس لیے اس سکینڈل کے کسی بھی کردار کو پاک فوج کی حمایت حاصل نہ ہو سکے گی۔ اے این پی اور جمعیت علماء اسلام ہر د و صورتوں میں مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑی ہیں، ان حالات میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو سیاسی ویژن استعمال کرتے ہوئے چھوٹی بڑی سیاسی قوتوں کو ساتھ ملانا ہوگا ۔ایک دوست پوچھ رہا تھا کہ پاکستان کے سیاسی حالات کیسے ہیں میں نے اسے بتایا کہ استعفے سے پہلے والے ہیں ۔ 12اپریل2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus