×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ثقافتی زوال اور انحطاط پذیر معاشرہ
Dated: 19-Apr-2016
زمانے کی بے ثباتی کا شکار ہو کر تین پہیوں والا آٹورکشہ چلانے والا محمد اسلم جو اپنی بیماریوں سے شب و روز لڑتا ہوا اپنے کنبے کی کفالت کی ذمہ داری بھی تنہا کندھوں پہ اٹھائے ہوئے کبھی یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ ایک دن قسمت کی دیوی اس پر یوں مہربان ہو گی کہ اسے نیند سے جگا کر اس کے خوابوں کی تعبیر اس کے سامنے تھالی میں رکھ کر پیش کردے گی۔ قارئین! گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل پر میرا دوست مبشر لقمان اسی رکشہ ڈرائیور محمد اسلم کو دنیا کے ساتھ متعارف کروا رہا تھا۔ میں اس موقع پر مشہور بھارتی گلوکار دلیر مہندی کی انسان دوستی کو فراموش نہیں کر سکتا اور خاص طور پر برصغیر کی لی جنڈ گلوکارہ لتا منگیشکر نے اس گمنام محمد اسلم کے گانے کا ویڈیو کلپ فیس بک پر اپنے ذاتی پیج پر لگایا ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی پاکستان کی کبڈی ٹیم اور پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کو بھارتی سپورٹس فیڈریشن کی طرف سے مالی امداد کی کئی آفرز ہو چکی ہیں جبکہ حصول روزگار کے متلاشی کئی پاکستانی فنکار نہ چاہتے ہوئے بھی بھارتی کمرشل منڈی میں اپنا فن بیچنے پر مجبور ہیں جبکہ انتہا پسند ہندوئوں کی طرف سے اکثر پاکستانی فنکاروں کے کنسرٹ اور شوز خاص طور پر استاد غلام علی اور سٹیج ڈرامہ آرگنائزر عامر نواز کے فنکشنز کو سبوتاژ کیا جاتا رہا ہے مگر ہر قوم میں اچھے بُرے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ دلیر مہندی کی طرف سے محمد اسلم کو مکان کا نذرانہ ایک احسن اقدام ہے مگر میں سوچتا ہوں کہ ہماری سوسائٹی، ہمارے معاشرے میں ثقافتی زبوں حالی کا یہ حال ہے کہ نئی نسل فنونِ لطیفہ کی اقسام سے ہی ناواقف ہے۔ ہمارے خطے کی ثقافت دنیا میں ایک اعلیٰ اور منفرد مقام کے حوالے سے جانی پہچانی جاتی ہے حتیٰ کہ ہمارے صوفیائے کرام نے ترویج اسلام کے لیے اس خطے کی بنیادی ثقافت کو اپنا انداز تبلیغ بنایا۔ خاص طور پر حضرت امیر خسرو کے کلام اور انداز کو قوالی کی صورت شروع کیا گیا پھر بلھے شاہ، سلطان باہو، میاں محمد بخش، خوشحال خاں خٹک، شاہ عبداللطیف بھٹائی جیسے صوفیاکے لازوال کلام نے اس خطے کی ثقافت کو امیر بنا دیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ بچپن میں میری مرحومہ والدہ ہمیں رات سونے سے پہلے خود سیف الملوک پڑھ کر سنایا کرتی تھیں۔ضیاء الحق کے اقتدار سے پہلے پاکستان ثقافتی طور پر بہت توانا تھا۔ شعروادب، گائیکی کو کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔ 70کی دہائی کے آخر تک پاکستان میں فنکاروں کو باقاعدہ تلاش کیا جاتا ، ان کی رہنمائی کی جاتی اور ان کے لیے وظیفے مقرر کیے جاتے تھے۔ میرے ایک دوست پیر عادل راشدی مجھے بتاتے ہیں کہ ان کے والد پیر علی محمد راشدی(مرحوم) جو 1951ء میں پاکستان کے وزیر اطلاعات تھے وہ حیدرآباد میں ریڈیو پاکستان کے سنٹر کے قیام کے لیے وہاں پہنچے تو دیکھا حیدرآباد قلعے کی دیوار کے ساتھ دو نوجوان بیٹھے فٹ پاتھ پر گا رہے تھے۔ پیر صاحب نے ان دونوں نوجوانوں کو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا ان سے کلام سنا اور پھر انہیں ریڈیو پاکستان میں ملازمت دے دی۔ یہ دونوں نوجوان بعد میں استاد سلامت علی اور استاد نزاکت علی کے نام سے خاندانِ چوراسی سے مشہور ہوئے۔ اسی طرح مشہور فنکار استاد منظور علی خان اور بین الاقوامی شہرت یافتہ الغوزہ نواز مصری خان جمالی کو بھی پیر علی محمد راشدی نے دریافت کیا جبکہ ایک دفعہ بیگم ممتاز راشدی (مرحومہ) جی ایم سید(مرحوم) کے گھر گئیں تو انہوں نے بتایا کہ ان کا نوکر اور خدمت گزار گانے کا بہت شوقین ہے بیگم ممتاز راشدی نے نوکر کو بلوا کر اس کا کلام سنا اور پھر اسے ریڈیو پاکستان پر موقع دیا۔ مرحوم جی ایم سید کا یہ نوکر بعد میں الن فقیر کے نام سے عالمی شہرت حاصل کر چکا ہے۔ کچھ سال پہلے الن فقیر نیویارک میں دوستوں کے ساتھ ٹائم اسکوائر پر کھڑا گا رہا تھا تو چند ہی منٹوں میں گوروں کی ایک بھیڑ جمع ہو گئی اور وہ دھمال ڈالنے لگے۔ اسی طرح ممتاز مفتی(مرحوم) کے بیٹے عکسی مفتی جو لوک ورثہ کے ڈائریکٹر تھے انہوں نے طفیل نیازی ،عالم لوہار، سائیں اختر حسین اور استاد فتح علی خان جیسے فنکاروں کو نہ صرف دریافت کیا بلکہ ان کی رہنمائی بھی کی مگر آج نہ صرف ہمارا صوبائی لوک ورثہ بلکہ مرکزی حکومت بھی لوک ورثہ جیسے اہم ڈپارٹمنٹ کو اجڑا ہوا اور مفلوک الحال چھوڑ کر اے سی والے بند کمروں میں بیٹھ کر صرف اپنی تنخواہیں اور مراعات لینے کے چکروں میں ہیں۔ اس وقت ہماری ثقافت کی لگامیں اغیار کے ہاتھوں میں ہیں۔ ثقافتی زبوں حالی اور بے حسی کی انتہا ہے کہ گذشتہ روز حکومت پنجاب نے ایک کالا قانون پاس کروایا جس کے مندرجات میں یہ شامل ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات پر میزبان پابند ہوگا کہ وہ گھروں میں بھی ون ڈش کی پابندی کرے، گھر سے باہر گلی میں لائٹیں لگانے اور چراغاں کرنے پر پابندی ہو گی۔ ولیمے، عقیقے، بچے کی پیدائش اور خوشی کے دیگر مواقع پر گھروں میں تقریبات اور گانے بجانے کی محفل کا اہتمام کرنے پر پابندی ہو گی۔ عربوں نے اسلام کی تعلیمات اپنائیں مگر اپنا کلچرل اپنی ثقافت پر ہمیشہ نازاں رہے۔ شہید بی بی بے نظیر کی جلاوطنی کے دوران ان کے ساتھ چند عرب گھرانوں کی شادی بیاہ کی رسومات میں شریک ہوا۔ وہ لوگ آج بھی ہزاروں سال پرانی اقدار پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔ موسیقی کی محفلیں بھی ہوتی ہیںمگر برصغیر میں ہمیں مختلف طریقے اور برانڈ کا اسلام متعارف کروایا جاتا ہے۔میں نے ترکی کے کلچر کو بڑے قریب سے دیکھا ہے وہاں کی روایات اور ثقافت اپنی ایک علیحدہ پہچان رکھتے ہیںاور وہ کسی بھی طور پر اسلامی تعلیمات سے متصادم نہیں ۔ جن لوگوں نے مولانا رومیؒ کو پڑھا ، وہ ان سے بخوبی آگاہ ہیں۔ قارئین! ہم یہ کہتے تھے کہ موجودہ حکمران خانوادے میں ضیاء الحقی روح کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ وہ کونسی قوم ہے جس سے اس کی ثقافت اور انٹرٹینمنٹ چھین لی جائے تو وہ زندہ رہے گی، یہ ایسے ہی ہے جیسے مریض کے منہ سے آکسیجن ماسک کھینچ دیا جائے۔ جب کسی قوم کو ثقافتی سرگرمیوں سے دور کر دیا جاتا ہے تو اس کے اندر پھر بے قابو لاقانونیت اور جنونیت عود کر آتی ہے۔ آج ہمارا لوک ورثہ تباہ ہو چکا ہے۔ سکواش، ہاکی، کرکٹ اور کبڈی کی ٹیمیں پاکستان آنے کو تیار نہیں جبکہ ہمارے گلوکار، اداکار اور فنکار یا تو محنت مزدوری کرنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں یا وہ اغیار کے ہاتھوں اپنا فن بیچ کر پیٹ کی آگ بجھانے میں مصرف ہیں۔ طاہر سرور میر، مبشر لقمان جیسے چند اینکر ابھی موجود ہیں جو ان حالات میں بھی ثقافت کا چورن بیچنے پر مصر ہیں، جب پوری قوم اور حکمران جمہوریت بچانے کے لیے ریاست کو بھی دائو پر لگانے سے نہیں کتراتے۔ ہمیں ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے اپنی ثقافت کو آئین سے بھی زیادہ مقدم رکھنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں جنہوں نے اپنی ثقافت کو خیر باد کہہ دیا آج ان کا تذکرہ کتابوں میں بھی نہیں ملتا۔ زمانۂ قدیم میں بھی دوست ممالک میں ثقافتی طائفے بھیجے جاتے تھے جس سے ایک قوم کو دوسری دوست قوم کی ثقافت کے متعلق آگاہی ہوتی تھی، جمہوریت، نظام سلطنت اپنی جگہ ضروری مگر زوال پذیر ثقافت اور فنون لطیفہ کو بھلا دینے والے معاشرے زیادہ دیر زندہ نہیں رہتے۔ 19اپریل2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus