×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مہاراج! فلمی اور حقیقی دنیا میں فرق ہوتا ہے
Dated: 04-Oct-2016
ایک میمن کے گھر چور گھس آیا ،آہٹ سے میمن کی آنکھ کھل گئی تو اس نے سرہانے پڑی ہوئی بندوق اٹھالی اور دروازے کی طرف سیدھی کر لی۔ جیسے ہی چور اندر داخل ہوا میمن نے اسے کہا کہ بھاگنانہیں گولی مار دوں گا ۔ چور پھر بھی بھاگنے لگا تو میمن نے ٹریگر پہ رکھی ہوئی انگلی دبا دی، بندوق نہیں چلی ،گولی نہیں نکلی تو چور مسکراتے ہوئے کہنے لگا کہ صاحب گولی تو نہیں چلی ۔ میمن بولا میں نے تو چلا دی آگے نہیں لگی تو یہ اللہ کی مرضی ۔ تو قارئین اسی طرح بھارت نے بھی ایک سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا ۔ اگر وہ پاکستان کی زمین پر نہیں ہوا تو پھر وہ میمن اور چور کے درمیان ہونے والے مکالمے ہی کی طرح ہے ۔ پاکستان بھارت جنگ کے بادل ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرے ہوتے دکھائی دیتے مگر یہ ضروری نہیں کہ جو کچھ دکھائی دیتا ہو حقیقت بھی وہی ہو۔ اس کی ایک مثال اُڑی چھائونی میں حملہ ہے۔ بھارت اس کی تفصیلات بتانے کو تیار نہیں۔ جس طرح بھارت اس حملے کی داستان بیان کرتا ہے اس پر کوئی باشعور یقین کرنے کو تیار نہیں۔ 4حملہ آور حساس ترین علاقے میں داخل کیسے ہوئے اور پھر سخت سیکورٹی حصار کو توڑ کر بھاری اسلحہ سمیت 20فوجیوں کو ہلاک کرنے میں کامیاب کیسے ہو گئے؟ چھائونی کے محفوظ ترین علاقے میں کئی بیرکیں جلا ڈالیں اور اس ایریا میں موجود ہزاروں فوجی جو جہاں بھارت سے پکنگ منانے نہیں آئے تھے ۔ حالت جنگ میں تھے،وہ پانچ گھنٹے تماشہ دیکھتے رہے۔ پھر الزام لگایا گیا کہ یہ لوگ پاکستان سے آئے تھے، وہ حقائق کو عیاں کر دیتا ہے۔ بھارت نے کنٹرول لائن پر آہنی باڑ لگا رکھی ہے جس میں سے پرندہ بھی اس لیے نہیں گزر سکتا کہ اس میں کرنٹ چھوڑا گیا ہے۔ قدم قدم پر مسلح پہریدار کھڑے ہیں۔ رات کو باڑ کے اوپر روشنیاں دن کا سماں پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ پھر دراندازی کیسے ہو سکتی ہے؟ اوڑی حملے اور سرجیکل سٹرائیک کا سکرپٹ رائٹر ایک ہی ہے۔ دونوں داستانیں فلمی سٹوری کی طرح دنیا کے سامنے رکھ دیں۔ مہاراج! حقیقی دنیا اور فلمی دنیا میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ بھارتی فلمی دنیا میں رہتے ہیں۔ انہیں بالی ووڈ پر بڑا فخر ہے۔ بالی ووڈ فلمیں پوری دنیا میں پیش کی جاتی ہیں۔ یہ فلمیں بھی دھوکہ ہیں۔ ان میں بھارت کو بڑا شائننگ دکھایا جاتا ہے۔ فلموں کی عکس بندی امریکہ، یو کے، کینیڈا، بنکاک اور سوئٹزرلینڈ جیسے خوبصورت خطوں میں ہوتی ہے۔ فلم میں دکھایاجاتا ہے کہ یہ انڈیا ہے جب کہ انڈیا کی حالت یہ ہے آدھی سے زیادہ آبادی تعلیم، ٹائلٹ، اور بجلی سے محروم ہے۔ ٹوٹی سڑکیں، شائننگ انڈیا کا منہ چڑاتی ہیں۔ کہاں فلمی اور کہاں حقیقی دنیا؟ پاکستان کے معروف اداکار سلمان راہی فلم میں اکیلا پانچ سو لوگوں کو مار ڈالتا تھا مگرخود اسے دو ڈاکوئوں نے قتل کر دیا تھا۔ حقیقی اور فلمی زندگی میں یہی فرق ہے۔ سرجیکل سڑائیک: اپنی سرحد کے اندر سے ایل او سی کے اوپر سے فائرنگ کر دی۔ایسا دونوں طرف سے ہوتا رہتا ہے۔ اسے سرجیکل سٹرائیک کا نام دے دیا۔ اسی بھارت کی فوج نے نیپال کے اندر کئی میل تک گھس کے مطلوب دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا تھا یہ سرجیکل سٹرائیک تھی۔ بنیافوج کو یہ حوصلہ ایک کمزور ملک کو دیکھ کر ہوا۔ پاکستان نیپال، بھوٹان برما یا مالدیپ نہیں ہے۔ ایسی فنکاریاں کمزور ملکوں میں ہو سکتی ہیں۔ پاکستان بھارت کے مقابلے کی ٹکر کی قوت ہے۔ اسلحہ کی مقدار کا فرق ضرور ہے جو پاکستان کے معیاری اسلحہ اور فوج کی مہارت نے دور کر دیا۔ یہ 1971ء والا دور بھی نہیں ہے۔ پاک فوج اور مشرقی پاکستان میں عوام نہ صرف الگ الگ تھے بلکہ بنگالی پاک فوج کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور بھارت کی سازشوں سے گمراہ ہو کر بھارت کے ساتھ کھڑے تھے۔ آج پوری قوم متحدہ ہے۔ نریندر مودی کے فلمی سٹائل میں پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش بے نقاب ہو چکی ہے۔ اس نوٹنکی سے وہ اپنے عوام کی توجہ اپنے کیے گئے انتخابی وعدوں سے ہٹانا چاہتا تھا۔ فائدہ اپنے دوست کو بھی پہنچانا مقصود ہے، جو پانامہ لیکس کے گرداب سے نکلنے کے لیے بے تاب اور کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ مگر درمیا ن میں فوج بھی موجود ہے۔ وہ قومی مفاد اور کشمیر کاز پر کمپرومائز کرنے پر تیار نہیں۔ مہاراج سرجیکل سٹرائیک کی، حقیقت میں ایسی سٹرائیک کی تو جواب فلمی انداز میں نہیں حقیقت میں ملے گا۔ دنیا پر مودی حکومت کی ڈرامہ بازی واضح ہو گئی ہے۔اسے آج تنہائی کا سامنا ہے۔ آج حالات ڈرامہ بازی،سازش یا چالاکی سے جس نہج پر بھارت نے پہنچا دیئے ہیں کشمیر کاز کی بہترین حمایت میں جا چکے ہیں۔ ان سے فائدہ پاکستان نے اٹھانا ہے مگر سیاسی قیادت کے نہ جانے مقاصد کیا ہیں۔ فوجیں بارڈر پر لگی ہیں جنگ کے آثار نمایاں مگر تجارت ہو رہی ہے۔ طرفین کو شرم ہے نہ حیا، نہ قومی غیرت کا پاس اور احساس ہے۔بھارت تو تجارت کرے کیونکہ اس کے فائدے میں تجارت ہو رہی ہے۔ پاکستان کے لیے خسارے کا باعث ہے۔ نہ صرف یہ خسارے کی تجارت جاری ہے بلکہ کشیدہ ترین حالات میں اس میں 20فیصد اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ کیا حقیقی زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ دو خاندان آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں۔ دس دس افراد کو قتل کر چکے ہوں وہ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شامل ہوتے ہوں، شادی پر مبارک بادیں دیتے ہوں، سلامیاں پیش کرتے ہوئے، تحائف کا تبادلہ کرتے ہوں۔ ایسا صرف فلموں میں ہوتا ہے حقیقی زندگی میں ہرگز نہیں۔ قارئین !میری اطلاع کے مطابق یہ سارا مروڑ ہی سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے اٹھ رہا ہے جس میں بھارت کی زیادہ سے زیادہ دلچسپی یہ ہے کہ یا تویہ منصوبہ شروع ہی نہ ہو سکے اور ہو تو اس میں بھارت کو بھی شامل کرکے اسے تجارتی راہداریوں کی سہولت دی جائے۔ جبکہ اس طرف کے حکمرانوں کی دلچسپی یہ ہے کہ کہیں پاک فوج اس منصوبے کی قیادت نہ سنبھال لے کیونکہ جب تک سینکڑوں ارب ڈالر کا یہ منصوبہ کسی کرپٹ وزیر کی زیر نگرانی رہے گا تو حکمران اس کے ثمرات سے فیض یاب ہوتے رہیں گے۔ 4اکتوبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus