×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی
Dated: 27-Sep-2016
وزیراعظم نوازشریف نے یو این او کی جنرل اسمبلی میں خطاب سے قبل باور کرا دیا تھا کہ وہ اس میں مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کریں گے۔ 8جولائی کو برہان مظفر وانی کی سفاک بھارتی سپاہ کے ہاتھوںشہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں شدید ردعمل پایا جاتا تھا۔ کشمیری اس شہادت پر بھارت کے خلاف پوری قوت سے اٹھ کھڑے ہوئے۔بھارتی فورسز ان کے مظاہرے روکنے کے لیے ہر حربہ اور ہتھکنڈے آزما چکی ہیں مگر وہ اپنی آزادی کے لیے جانیں قربان کیے جا رہے ہیں۔ ان پر بھارتی بربریت و ظلم اثر انداز ہو رہا ہے نہ مسلسل کرفیو کو وہ خاطر میں لا رہے ہیں۔ ان کی اس مختصر عرصہ میں شہادتوں کی تعداد ڈیڑھ سو ہو چکی ہے۔ زندگی بھر کے لیے معذور ہونے والوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ بھارت کشمیر کا بدلہ کراچی، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اپنے رسوائے زمانہ ایجنٹوں کے ذریعے چکانے کی کوشش کر رہاہے۔ پاکستان میں پس پردہ قوتوں کا کس کو علم نہیں ۔ فوج کشمیر کاز کے لیے کمٹڈ ہے۔ مظفر وانی کی شہادت کے بعد حکومت بھی کشمیریوں کے شانہ بشانہ نظر آئی۔ سفارتی ذرائع فعال ہوئے،وزارت خارجہ انگڑائی لے کر جاگی۔ وزیراعظم نوازشریف کی یو این او خطاب سے قبل کشمیریوں کے لیے بھرپور جذبات کا ادراک کرکے بھارت نے اوڑی چھائونی میں حسب روایت اور حسب عادت ڈرامہ رچا کر اس حصے میں 18فوجیوں کی ہلاکت کا الزام بغیر تحقیق و تفتیش کے پاکستان پر لگا دیا۔(یاد رہے اصل تعداد 100سے زیادہ ہے جو بھارت چھپا رہا ہے) پاکستان نے اس کا حتی الوسع بھرپور جواب دیا۔ پاکستانی قوم اور سیاستدان اس پر غضب میں نظر آئے۔ جیسے دشمن کو سامنے دیکھیں گے تو چیر پھاڑ دیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف نے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کی بھرپور نمائندگی کی جس پر بھارت میں سوگ اور غم و غصہ عروج پر تھا۔ مودی جو پاکستان پر برستے رہتے ہیں باقاعدہ چلانے لگے۔ ان کا ہر وزیر ہذیان بک رہا ہے۔ دنیا سے تنہا کرنے کی پاکستان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر فوج اور اسلحہ پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ دنیا کے سامنے پاکستان کو دہشتگرد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بھارتی انتہا پسند پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ پاکستانی فنکاروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بھارتی ریاست مہاراشٹرا کی انتہا پسند جماعت مہاراشٹرا نونرمن سنہا (ایم این ایس) نے پاکستان کے فنکاروں کو 48 گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کی دھمکی دی۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی اداکاروں اور آرٹسٹوں نے واپسی کی راہ نہ لی تو انہیں دھکے دے کر نکال باہر کریں گے۔ اس وقت مختلف پاکستانی فنکار بھارت میں مختلف پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں جن میں فواد خان، علی ظفر، ماورا حسین، عمران عباس، مائرہ خان، گلوکار راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم شامل ہیں۔پاکستانی فنکاروں کو بھارتی انتہاپسندوں کی دھمکیوں کے بعد 3 پاکستانی فنکاروں نے بھارت چھوڑ دیا۔ ’’شام چوراسی میلے‘‘ میں شر کت کیلئے جانیوالے گلوکار اسلم لوہار‘ عباد علی اور گلوکارہ عینی گوہر مقررہ وقت سے پہلے ہی پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں۔ بھارتی مظالم پر ہالی وُڈاداکارہ ایریکا ڈیرکسن بھی تڑپ اٹھیں۔انڈیا میں موجودپاکستانی فنکاروں سے زیادہ حمیت کا مظاہرہ ڈیریکسن نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو کیا محسوس ہو گا جب آپ کی بیٹی کی آنکھوں میں پیلٹ گن سے گولیاں ماری جائیں، اس وقت کیا محسوس کریں گے جب قابض فوجی آپ کی بہن کو ہوس کا نشانہ بنائے۔ اپنے فنکاروں میں تھوڑی سی بھی غیرت ہو تو پاکستان چلے آتے ۔ (یہ فنکار نہیں میراثی ہیں۔ جن میں غیرت کے جراثیم تھے۔ وہ واپس آ گئے۔ انسان میں کچھ غیرت ،کچھ شرم کچھ حیا اور انا ہوتی ہے جو شوق سے بھارت جاکر بے عزت ہونیوالے سیاستدانوں کھلاڑیوں،صحافیوں اور میراثیوں میں نہیں ہے۔ یہ جوتے کھا کے آئیں گے ۔ان کو عزت کے پہلے زینے پر پاکستان نے چڑھایا اور بلندیوں پر پہنچ کر ان کے لیے سرحدیں بے معنی ہو گئیں۔ ٹریڈ ڈوپلمنٹ اتھارٹی کو شرم آنی چاہیے جو جوتے کھانے سے بھی بے مزہ نہیں ہوئے کہتے ہیں عالی شان پاکستان نمائش منسوخ نہیں ہوئی ملتوی ہوئی ہے۔ بھارت کی دھمکیوں کا جواب ہر وزیر بڑے جوش و ولولے سے دے رہا ہے ہم پاکستانی بھی بھارت پر پلٹ کر جھپٹ رہے ہیں مگر اپنے کردار پر غور نہیں کرتے۔ جو حکمران بھارت کو آنکھیں دکھا رہے ہیں ان کے اپنے مفادات بھارت سے وابستہ ہیں۔ ملکی سطح پر بھارت کے لیے منافع اور پاکستان کے خسارے کی تجارت ہو رہی ہے۔ ہر سینما میں بھارتی فلم چل رہی ہیں۔ بھارت میں وہ فلم بھی نہیں چل سکتی جس میں پاکستانی اداکار یا اداکاروں نے کام کیا ہے۔ ہماری شاہ عالمی جیسی بڑی مارکیٹیں بھارتی مصنوعات سے بھری ہوئی ہیں۔ ہال روڈ کو دیکھیں بھارتی سی ڈیز سے پلازے اُبلے پڑ رہے ہیں۔ بڑے شہروں کی کلاتھ مارکیٹیں انڈین کلاتھ اور کلوتھ سے پُر ہیں۔ میڈیکل سٹورز پر مقامی ادویات کم بھارت سے درآمد ہونے والی زیادہ ہیں۔ کیبل کے ذریعے ہندوانہ کلچر گھر گھر پہنچ چکا ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے مگر سبزیاں، پھل، دالیں اور مصالحہ جات بھارت سے منگوائے جاتے ہیں۔ کیا ہمارے قول اور فعل یکساں ہیں؟ قومی غیرت اسی کا نام ہے؟۔ بھارت کی سبزیاں، پھل کھا کر ،اس کی مصنوعات استعمال کرکے، اس سے درآمد شدہ لباس پہن کر ہم اس کا مقابلہ، اس کے دانت کھٹے کرنے، اسے سبق سکھانے کے نعرے خلوص دل سے لگاتے ہیں؟۔ جو کہتے ہیں کیا اس کا مطلب بھی وہی ہوتا ہے؟ یہ سب ڈرامہ بازی اور دھوکہ ہے جو ہمارے حکمران اور عوام خود کو دے رہے ہیں۔ گذشتہ دور کے صدرنے ایک بھارتی اداکارہ کو چارٹرڈ طیارے میں پاکستان بلایا، ایک رات کے مجرے کے لیے دس کروڑ روپے اس پر نچھاور کر دیئے۔ وہ بھی کشمیر کا زپر کمٹمنٹ کے دعوے کرتے تھے آج بھی ایسے ہی دعوے ہو رہے ہیں۔ ایسے میں کشمیر کو آزاد کرانے کی ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ کیا جنگ لڑیں گے؟ جنگ کے لیے جرأت،بہادری اور دلیری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ زنانیوں کا کام نہیں۔ جن کو غیرت و حمیت کے بجائے اپنے کاروبار سے غرض ہو، تعلقات اور دوستی کی خواہش، جو ہندو کو کاروبار کے لیے کھرا قرار دیں، دشمن کی مصنوعات کے لیے اپنی منڈیاں کھول دیں ، وہ عورتوں سے بدتر ہیں، عورتوں میں بھی رضیہ سلطانہ اور چاند بی بی ہوئی ہیں جو دشمن سے مردانہ وار لڑی تھیں۔ اور آج بھی دنیا بھر کے 62ملکوں اور پوری دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان آبادی میں بہادر عورتوں کی کمی نہیں مگر وہ مرد جن میں غیرت کی کمی ہے وہ ان بزدل عورتوں سے بھی کمزور دل ہیں جو چھپکلی دیکھ کر سہم جاتی ہیں۔شاید اسی لیے کہا گیا تھا کہ ’’جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی‘‘ 27ستمبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus