×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بے نظیر بھٹو کا نیکلس ،شہزادے کا خط اورٹرمپ کی کلابازیاں
Dated: 24-Nov-2016
امریکی میڈیا نے انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا کچا چٹھہ کھول کے رکھ دیا۔ عالمی میڈیا میںوہی جو کچھ نشر اور شائع ہوتا رہا جو ٹرمپ کے بارے میں ان کا قومی میڈیا کہہ رہا تھا۔ میڈیا میں دنیا کو باور کرایا جاتا رہا کہ ٹرمپ بدتہذیب، بدتمیز، جھوٹا، نامعقول، غیر شائستہ، دغاباز، مسلمانوں کا دشمن، متعصب، ظالم ا ور خواتین کے پیچھے بھاگنے والا شخص ہے۔ اس کے مقابلے میںہلیری کلنٹن کو مہذب، ڈیسنٹ ، سوبر، انسان اور اسلام دوست شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اس سب کے باوجود ٹرمپ کو امریکیوں نے ووٹ دیئے جن کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے جو اب دم توڑ چکے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ آج امریکہ کے صدر ہیں۔ ان کی پالیسیوں اور شخصیت سے اختلاف تو کیا جاتا اوران کا ’’توا‘‘ لگایا جاتارہا ہے تاہم صدارتی دوڑ میں کامیابی کے بعد وہ ایک ضدی اور ہٹ دھرم ثابت نہیں ہو رہے۔ ان کا کردار ایک مفاہمت پسند کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔امریکا کا صدر منتخب ہوتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات بدلنے لگے ہیں۔ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی یونیورسٹی کے حوالے سے دائر کیس کو ختم کرنے کے عوض اڑھائی کروڑ ڈالر کی مفاہمت کر لی ۔یہ رقم یونیورسٹی کے 6 ہزار متاثرہ طلبا میں تقسیم ہوگی۔اٹارنی جنرل کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اس کے ساتھ ہی تعلیمی قوانین کی خلاف ورزی پر مزید 10 لاکھ ڈالر حکومت کو ادا کریں گے۔مقدمہ ٹرمپ یونیورسٹی کے سابقہ طالبعلموں نے دائر کیا تھا جن کا دعویٰ تھا کہ مخصوص اساتذہ سے ریئل سٹیٹ بزنس کے راز سکھانے کے لیے ان سے 35 ہزار ڈالر وصول کیے تھے لیکن انہیں کچھ بھی نہیں سکھایا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ ان الزامات سے انکار کرتے تھے،انہوں نے ان مقدمات پر کبھی بھی مفاہمت نہ کرنے کا عہد کیا تھا مگر صدر بنتے ہی ان کے اندر کایا پلٹ تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ کل تک لگتا تھا کہ ٹرمپ چار سال پورے نہیں کر سکیں گے۔ آج ان کے اس ایک اقدام نے ان کی شخصیت کے بارے میں ایک مثبت تاثر چھوڑا ہے جو شاید پہلا بھی ہے۔ ان کے دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں شاید ہمارے ملک کے دو بڑے سیاسی خاندانوں کے انبار سے کم ہوں جن میں ٹرمپ حکومت میں آ کر اضافہ کرنے کے خواہش مند نظر نہیں آتے جبکہ دوسری طرف معاملہ اس کے برعکس ہے۔ پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے قائدین پر کرپشن کیسز ہیں، کچھ دبے ہوئے کچھ عیاں ہیں اور چل رہے ہیں جن کے فیصلے کی امید ان کی زندگی میں نظر نہیں آتی او ران کا وطیرہ ہل چل من مزید کا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اقتدار میں آنے کے بعدصدر آصف علی زرداری اپنے اوپر لگنے والے الزامات کلیئر کراتے۔ قومی خزانے کی پائی پائی لوٹا دیتے مگر آج بھی لانچوں میں ڈالر باہر بھجوانے کی صدائے بازگشت گونج رہی ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے جہاں ان کا وزیر شرجیل فرار ہو کر دبئی جا بیٹھا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ انکے گھر سے دو ارب روپے برآمد ہوئے، اپنی پارٹی کے سربراہ کا وہ ’’لانچنگ‘‘ فرنٹ مین تھا۔ اب بھی قومی خزانے کو نقب ہی لگ رہی ہے۔زرداری صاحب نے ڈاکٹر عاصم کوپی پی پی کراچی ڈویژن کا صدر بنایا تو اس پر تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے،ڈاکٹرعاصم بہت سے جرائم کا اعتراف کر چکے ہیں کئی میں انہوں نے زرداری کوبھی اپنے ساتھ شامل کیا ہے۔مجھے ڈاکٹر عاصم کو اس عہدہ پر تعینات کرنے پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی،یہ وہی مائنڈ سیٹ ہے جس کے تحت زرداری نے رینٹل کیسز بنائے جانے پر راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم بنادیا تھا۔ ادھر میاں نوازشریف پر پانامہ لیکس ایسا طاری ہوا کہ زرداری اور ان کے حواریوں کی کرپشن پس منظر میں چلی گئی۔ شریف اور زرداری خاندانوں کے پاس آج جتنی دولت ہے یہ دونوں خاندان اب کچھ بھی نہ کریں تو بھی ان خاندانوں کی ہزار پشتیں آسودگی، عیش و عشرت کی 7سٹار زندگی گزار سکتی ہیں۔ پانامہ لیکس کی لکیر میڈیا میں پیٹی جا رہی ہے۔ عدلیہ نے یقین دلایا کہ چند روز میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا جائے گا مگر ایک ماہ اگلی سماعت کو ہو چکا ہوگا لیکن کیس ابتدائی مراحل میں ہے اور کسی بھی وقت اس کو خارج کیا جا سکتا ہے اور جو امیدیں مدعی لگائے بیٹھے ہیں وہ برآتی نظر نہیں آتیں۔ کیس خارج نہ ہوا توبھی فیصلہ اگلے الیکشن سے پہلے ہوتا نظر نہیں آتا۔ جن پر الزامات ہیں ان کے بیان ہی آپس میں نہیں ملتے اور کہا جا رہا ہے ثبوت لائو۔ جس طرح کی گواہیاں لائی جا رہی ہیں وہی ثبوت بن سکتی ہیں۔ کھرب پتی قطری شہزاد ے نے خط بھیج دیا۔ یہ خط شہزادے شہزادیوں کو بچانے کے لیے بھیجتے ہیں۔جہاں مجھے قطری شہزادے کے خط پر اپنی ایک کارگزاری محترمہ کی نیکلس اور دیگر زیورات کے حوالے سے یاد آگئی ہے۔بینظیر بھٹو کے نیکلس اور دیگر زیورات کا بڑا شہرہ رہا ہے۔سوئٹزر لینڈ کے ایک وفاقی ٹربیول نے چند سال قبل فیصلہ سنایا تھا کہ رشوت ستانی کے الزامات کی تحقیقات کے دوران حکام کی جانب سے ضبط شدہ ایک انتہائی قیمتی جیولری سیٹ سابق صدر آصف علی زرداری یا بے نظیر بھٹو کے قانونی ورثاء کی ملکیت ہے۔جس کی زرداری اینڈ کمپنی نے سختی سے تردیدکی۔زرداری صاحب کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ’بلا شک و شبہ یہ جیولری سیٹ کبھی بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی ملکیت نہیں رہا، لہٰذا یہ آصف علی زرداری یا بے نظیر کے قانونی ورثاء کا نہیں ہو سکتا‘۔اس حوالے سے میں بعض معاملات کا عینی شاہد ہوں۔ان زیوارت کی خریداری محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنیوا سے کی تھی،ادائیگی کک بیک دینے والی کمپنی نے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی،شواہد بھی یہی تھے مگر جب کیس چلا توشہید بے نظیر نے اس کی ملکیت سے انکار کردیاجس کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں تھا۔محترمہ نے مجھ سے رابطہ کیاتو میں نے اپنے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے جنیوا کے جیولر سے ایک لیٹر حاصل کرلیاجس میں کہا گیا تھا کہ یہ زیوارت ان کے بنائے ہوئے ہیںمگر بے نظیر یا بومر فنانس نے نہیں خریدے ،ان کا خریدار کوئی اور شخص ہے۔اس طرح اس کیس میں حکومت محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف اس نیکلس والے کیس کو ثابت نہ کر سکی۔ اس واقعے سے قطری شہزادے کے خط کی حیثیت بھی واضح ہوجانی چاہیے۔ شہزادے کو کیا ضرورت پیش آئی کہ شریف فیملی پر اربوں ڈالر کی نوازش کریں۔ بدلے میں وہ کیا چاہتے ہیں۔ ایران سے ن لیگ حکومت گیس پائپ لائن معاہدے میں امریکہ ایرانی تعلقات میں مثبت پیش رفت کے باوجود پیش قدمی نہیں کر رہی اور قطر سے ایل این جی منگوالی ہے۔ ہمارے حکمران دیگر ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ خاندانی تعلقات استوار کرتے ہیں حالانکہ یہ ملکوں کے درمیان تعلقات ہونے چاہئیں۔ طیب اردگان کا دورہ بھی دو حکمرانوں کے خاندانوں کی دوستی کا اظہار تھا۔ سعودی عرب کے ساتھ ایسا ہی ہے جو وزیراعظم کو ڈیڑھ ارب ڈالر گفٹ عنایت کر دیتے ہیں اور مشکل میں آنے پر خط اور جہاز روانہ کرتے ہیں۔ قطری حکمرانوں نے مریم نواز کو لندن میں شاہانہ فلیٹس کی خریداری کے لیے اربوں ڈالر دے دیئے اگر یہی رقم پاکستان کو دی جاتی تو ہزاروں مریموں کی شادی ہو سکتی تھی جن کے سروں میں چاندی کی تاریں نمایاں ہو رہی ہیں۔ اسی رقم سے ہزاروں حسن اور حسین کو اپنی چھت میسر آ سکتی تھی۔ 24نومبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus