×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
چلو چلو دبئی ، کینیڈا چلو
Dated: 15-Nov-2016
میری امریکن الیکشن سے دس روز قبل مدیر نوائے وقت محترمہ رمیزہ مجید نظامی صاحبہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے دیگر قومی معاملات کے علاوہ امریکہ کے انتخابات پر بات کی اور پوچھا کہ ٹرمپ اور ہلیری میں سے کون جیت سکتا ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں اپنی خواہش بیان کروں یا حقیقت۔ اس پر محترمہ نے کہا کہ آپ دونوں بتا دیں۔ میں نے کہا کہ کروڑوں مسلمانوں اور پاکستانیوں کی طرح میری بھی خواہش ہے کہ ہلیری کلنٹن جیت جائے۔ گو خیر کی زیادہ توقع تو کسی بھی امریکی حکمران سے نہیں رکھی جا سکتی تاہم ہلیری ٹرمپ کے مقابلے میں مسلمانوں اور امریکہ میں مقیم تارکین وطن کے لیے بہتر ہیں مگر ان کے جیتنے کا امکان نہیں۔ ٹرمپ جیت جائیں گے۔ اس کی دیگر وجوہات میں سب سے اہم یہ تھی کہ اس نے مودی کی طرح الیکشن میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا ۔ آج معروضی حالات میں مغرب میں اس پراپیگنڈے کو بڑی پذیرائی ملی ہے کہ مسلمان دہشتگرد ہیں۔ مسلمانوں کی طرف سے پوری طرح اسی تاثر کو زائل نہیں کیا جا سکا۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں یہی ہتھیار استعمال کیا۔ اس نے اپنے الیکشن کو اسلام اور عیسائیت کی جنگ بنا دیا تھا۔ امریکہ میں 70فیصد عیسائی ہیں۔ ان میں سے اکثر نے اوباما کا ساتھ دیا۔ باقی تیس فیصد بھی ضروری نہیں ٹرمپ کی مخالفت میں گئے ہوں۔ نائن الیون کو جہازوں سے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو نشانہ بنانے میں ملوث 19میں سے 15 افراد کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ اسامہ بن لادن کو طالبان حکومت نے پناہ دی۔ اسامہ پر نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔ انکی گرفتاری کیلئے امریکہ اور انکے اتحادیوں نے افغانستان کی عملاً اینٹ سے اینٹ بجا دی اور انسانیت کا جس طرح قتل اور حشر کیا اس پر آسمان نے بھی آنسو بہائے ہونگے۔ سعودی عرب کیلئے اسامہ اسی دن راندہ درگاہ ہو گئے تھے جب وہ امریکہ کی نظر میں مجاہد سے دہشت گرد قرار پائے۔ مگر امریکہ کی کانگریس نے جاسٹا قانون پاس کیا جس کے تحت نائن الیون میں مارے جانیوالے امریکیوں کے لواحقین کو یہ حق دیا گیا کہ وہ سعودی عرب کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب نے بطور ریاست ملزموں کی پشت پناہی کی ہوتی تو یہ قانون درست قرار پاتا۔ سعودی عرب کو تو نائن الیون کے مجرم خود مطلوب ہیں وہ انکے کسی قول و فعل کا ذمہ دار ہی نہیں ہے۔ اسی بنا پر اوباما نے اس قانون کوویٹو کردیا جس پر کانگریس نے طیش میں آکر اپنے صدر کی ویٹو کو ویٹو کردیااور وہ بھی 76 کے مقابلے میں 348 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے۔ کانگریس مین پڑھے لکھے، قانون کو سمجھنے اور عالمی حالات پر نظر رکھنے والے لوگوں کا ادارہ ہے، جو امریکیوں کے نظریات، خیالات اور جذبات کا ترجمان بھی ہے۔ اگر ان لوگوں کے اسلام کے بارے میں تعصب کی یہ حالت ہے کہ ایک ماورائے عقل قانون بنا کر اس پر اپنے صدر کی رائے کو بھی مسترد کر دیا تو عام امریکی مسلمانوں کے بارے میں تعصب اور دشمنی کے کس درجے پر ہوگا! ڈونلڈ ٹرمپ انہی کانگریس مین کی ترجمانی کرتے ہیں دوسرے الفاظ میں کانگریس ٹرمپ کے نظریات سے متفق ہے۔یہی کچھ امریکی الیکشن میں نظر آیا۔ اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ امریکیوں کے اندر اسلام سے کتنا تعصب پایا جاتا ہے اور پھر خواہشیں ہار گئیں۔ حقیقت جیت گئی۔ اب ٹرمپ نے جو کچھ انتخابی مہم میں کہا اس پر عمل پیرا ہونے کا بار بار اعلان کر رہے ہیں۔ وہ جنوری میں صدارت سنبھالیں گے انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ پہلا کام امریکہ میں موجود غیر قانونی تارکین کو ملک بدر کرنے یا جیل میں ڈالنے کا کریں گے۔ امریکہ میں غیر ملکیوں کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔ وہ ٹرمپ کے جیتنے اور تازہ ترین اعلان پر پریشان ہیں۔ کچھ نے تو امریکہ سے رخصت سفر بھی باندھ لیا ہے۔ ان میں سے 3ملین تارکین نے کینیڈا آنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ان کی درخواستیں کینیڈین سفارتخانے کو موصول ہو گئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ میں چلو چلو کینیڈا چلو کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ٹرمپ کو امریکیوں نے منتخب تو کر لیا مگر ان کوپچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملے گا وہ امریکہ کے لیے گوربا چوف ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ان حالات کا ادراک کرتے ہوئے عقل مند امریکی ٹرمپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بہرحال تارکین وطن امریکہ چھوڑ رہے ہیں ان میں سے اکثر کینیڈا جا رہے ہیں کچھ اپنے ممالک بھی آ رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے کینیڈا ایک آئیڈیل ملک ہے جو مشکلات میں گھِرے لوگوں کی دستگیری کرتا ہے۔ اسی لیے کینیڈا چلو چلو کی آوازیں آتی ہیں تاہم ہمارے وطن سے لوگ روزگار کے لیے باامر مجبوری دوسرے ممالک جاتے ہیں مگر دولت مندوں کا رجحان دبئی کی طرف ہوتا ہے۔ جہاں یہ اپنے اثاثے لے جا کر کاروبار میں لگاتے ہیں یا بینکوں میں رکھواتے ہیں۔ انہی کا پیسہ پھر زکوٰۃ کی صورت پاکستان آتا ہے جسے ہم احسانِ عظیم سمجھتے ہیں۔ ہمارے جوتے ہمارے ہی سر۔ آج دیکھ لیں وہاں پیپلزپارٹی کا اجلاس بلایا لیا ہے۔ یہ اخراجات لوٹ مار کے پیسے سے ہوں گے۔ زرداری صاحب جہاں موجود ہیں ۔شرجیل میمن کے گھر سے دو ارب روپے ملے تھے اس نے کتنے ارب ٹرانسفر کیے ہوں گے اس کا اندازہ دبئی میں اس کے شاہانہ اخراجات سے ہو جاتا ہے۔ اسحق ڈار اور دیگر بڑے سیاستدانوں کی اولادیں یہیں پہ سیٹل ہیں۔ پاکستان سے اربوں روپے کے اثاثے اٹھا کر یہ لوگ آوازیں لگاتے نظر آتے ہیں چلو چلو دبئی چلو۔ میں کالم کو وائنڈ اپ کر رہا تھا کہ جہانگیر کے انتقال کی خبر آ گئی۔ میں اور جہانگیر بدر پیپلزپارٹی میں ہم نوالا اور ہم جیلا رہے ہیں، ان سے گہری دوستی تھی۔ میں نے ان پر ایک کتاب ’’گرینڈایجنڈا اور پاکستان‘‘بھی تحریر کی۔ اللہ ان کو غریقِ رحمت کرے۔ ان کے ساتھ یادگار لمحات آئندہ کالم میں شیئر کروں گا۔ مگر ایک بات میں یہاں ضرور کہنا چاہوں گا کہ جہانگیر بدر نے اپنی کتاب کے دیباچہ میں بڑے فخریہ انداز میں تحریر کیا کہ مطلوب وڑائچ میرا شاگردِ خاص ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جہانگیر بدر پاکستان کی سیاست میں غریبوں کی آواز سمجھا جاتا تھا اور مڈل کلاس طبقے کے لوگ اسے اپنا لیڈر ماننے میں فخر محسوس کرتے تھے۔انشاء اللہ ان کی یادوں سے وابستہ باقی باتیں اگلے کسی کالم میں زیرِ تحریر لائوں گا۔ 15نومبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus