×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یوم شہادت پر شہید رانی کی یادیں
Dated: 27-Dec-2009
آج شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری برسی کے موقع پر بے طرح یاد آرہی ہے۔ آج کروڑوں جیالوں کے گھروں میں سوگ دل و دماغ میں صدمہ اور آنکھوں سے اشک رواں ہیں۔ انسان دنیا سے چلاجاتا ہے اس کی یادیں اور باتیں باقی رہ جاتی ہیں۔ شہید محترمہ ایسی شخصیت تھیں جن کا خلاصدیوں میں بھی پُر نہیں ہو سکتا۔ تاہم ان کا فلسفہ اور افکار زندہ ہیں جن سے جیالے مدتوں راہِ عمل متعین کرتے رہیں گے۔محترمہ کی جلاوطنی کے دوران مجھے ان کے کافی قریب رہنے کا موقع ملابلکہ میں ان چند خوش نصیبوں میں اپنے آپ کو تصور کرتا ہوں جن کو آٹھ سالہ جلاوطنی کے دوران ان کی ہمراہی میں زمینی و فضائی مسافت کا اکثر و بیشتر شرف حاصل ہوا۔ میں نے محترمہ کے ساتھ ہزاروں میل کا سفر کیا اس لیے میرے سینے میں محفوظ وہ یادیں اب میرے لیے سرمایہ حیات ہیں میں اپنی باقی کی زندگی کا ہر روز شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی ایک ایک یاد کے سہارے گزار کر حیات کا یہ باقی ماندہ سفر بھی پورا کر ہی لوں گا۔یوں تو میں نے ’’بے نظیر بھٹو:شہید جمہوریت کے آخری 72دن ‘‘کے موضوع پر واقعات کو قلم بلند کرکے تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے اور پبلشر رانا عبدالرحمن بُک ہوم نے اس کی طباعت میں کسر نہیں چھوڑی اور پچھلے ڈیڑھ سال سے یہ کتاب کم از کم پانچ نئے ایڈیشن کے ساتھ شائع ہو چکی ہے اور امثال شہید محترمہ کی یوم شہادت پر اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا گیا ہے۔میں بڑے فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت یہ کتاب پاکستان کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتب میں شمار ہوتی ہے مگر پھر بھی آج میں اپنی چند باتیں اور یادیں قارئین سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ محترمہ کے ساتھ ایک مرتبہ میں ورجینیا سے واشنگٹن ڈی سی جا رہا، محترمہ فرنٹ سیٹ پر تھیں گاڑی میرا بھانجا سمیر چلا رہا تھا۔ دوران سفر میں اور شہیدمحترمہ آپس میں مذہبی گفتگو کر رہے تھے کہ یکایک محترمہ نے کچھ ڈھونڈنا شروع کر دیا اور پوچھا ’’مطلوب میری ٹیلی فون ڈائری نہیں مل رہی۔‘‘ میں نے بھی اِدھر اُدھر تلاش کی۔ گاڑی رکوا کر گھنگال ماری۔ اس دوران بی بی نے کہا ’’مطلوب تمہیں معلوم ہے کہ کوئی چیز گم ہو جائے تو کونسی آیت پڑھتے ہیں۔‘‘ میں پچھلے2گھنٹے سے اپنی گفتگو سے مذہبی سکالر بننے کی کوشش کر رہا تھا محترمہ کے سوال پر خاموش رہا تو محترمہ نے کہا ’’بھابی بدرالنساء سے پوچھو‘‘ میں نے اپنی اہلیہ کو فون کیا (جو ان دنوں بچوں کے ساتھ نیویارک میں تھیں) اور محترمہ سے بات کرا دی بدرالنساء نے بتایا کہ کچھ کھو جائے تو قالو انا للہ واناالیہ راجعون کا ورد کرنا چاہیے۔ محترمہ نے جواباً کہا ہاں مجھے یاد آ گیا بالکل یہی آیت پڑھنی چاہیے۔چند لمحوں میں ہی خدا کا کرنا یہ ہوا کہ جس گھر سے ہم اٹھ کر آئے تھے میزبان کا فون آیا اس نے بتایا کہ محترمہ آپ اپنی ڈائری یہاں بھول گئی ہیں۔ محترمہ کو اسلام سے لگائو اور محبت تھی۔ اس واقعہ سے ان لوگوں کی تشفی ہو جانی چاہیے جو محترمہ کے بارے میں مذہب سے دوری کا گمان رکھتے ہیں۔ محترمہ اپنے علم اور باتوں سے نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کو بھی متاثرکرتی تھیں۔ جلاوطنی کے دوران ہی وہ نیویارک میں ہمارے گھر تشریف لائیں۔ میری 8سالہ بیٹی ماہ نور اور اس کی دوست سعدیہ نے گلدستے پیش کیے۔ گفتگو شروع ہوئی تو ماہ نور نے محترمہ سے پوچھا Are you super girl محترمہ کا جواب تھاYes I am super girl ماہ نور کا دوسرا سوال تھا پھر تو آپ اُڑ بھی سکتی ہوں گی، کیسے اڑتی ہیں؟ محترمہ نے کہا میں اپنے خیالوں کے زور پر پرواز کرتی ہوں۔ بی بی نے Babies کو خوبصورت جواب سے مطمئن کر دیا۔ 23دسمبر2007ء کی سہ پہر مجھے شہید محترمہ نے فون پر بتایا کہ وہ آج لاڑکانہ کے جلسہ کے بعد براستہ رحیم یارخان انتخابی مہم کے لیے پنجاب داخل ہوں گی، آپ اپنے کزن اور پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر جاوید اقبال وڑائچ کو فون کر دیں کہ ہم رات ان کے ہاں قیام کریں گے۔ آپ بھی وہیں آ جائیں۔ میں چند دوستوں کو لے کر رات ڈھلے رحیم یار خان جا پہنچا۔ تین بجے صبح تک بھی محترمہ جاگ رہی تھیں۔جاوید وڑائچ کے فارم ہائوس پر میلے کا سماں تھا۔ اسی دن سہ پہر ایک بجے میونسپل سٹیڈیم میں جلسہ تھا۔ فارم ہائوس سے سٹیڈیم تک انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ محترمہ کے لیے خصوصی سٹیج تیار کیا گیا تھا۔ سب سے آخر میں بی بی نے خطاب کیا۔اس دوران میں محترمہ کو بتائے بغیر چنددوستوں کو لے کر بہاولپور جلسہ کی سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے چلا آیا۔ سٹیج پر کچھ بے ترتیبی تھی جو میں نے درست کرا دی۔ دو گھنٹے کی تاخیر کے بعد محترمہ کی آمد کا غلغلہ اٹھا۔ سٹیڈیم میں سٹیج کی آخری سیڑھی پر میں کھڑا تھا۔ محترمہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر پہنچیں تومجھے دیکھ کر فرمایا کہ تم کہاں غائب ہو گئے تھے میں راستہ بھر تمہارا پوچھتی رہی۔ میں نے جلد آنے کی وجہ بتائی تو وہ ناراضگی سے بولیں کہ کیا تم اس طرح مجھے موت سے بچا لو گے؟ پھر میں کیا پوری قوم ان کو نہ بچا سکی لیکن ایک بات کا قلق ضرور رہے گا۔27دسمبر کو ان کی شہادت کے وقت میں ان کے ساتھ نہیں تھااور یہ خلش شاید زیست کے آخری دنوں تک میرے دل و دماغ کو خلش بن کر موجود رہے۔ آج محترمہ کی شہادت کے دو سال میں اس نتیجے پر پہنچا ہو کہ ہر جیالا اور پیپلز پارٹی کا ہر ایک لیڈر پچھلے دو سالوں سے ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے ہیں اس طرح جس طرح کہ وہی محترمہ کی شہادت کے قصوروار ہوں؟میں نے پچھلے دو سالوں میں کسی جیالے اور دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کے چہرے پر اقتدار کے باوجود حقیقی مسکراہٹ نہیں دیکھی۔پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور جواں سال لیڈر افنان بٹ آج میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے درخواست کی کہ میں شہید محترمہ کی یوم شہادت پر اپنے کالم میں یہ لکھوں کہ ہر وہ شخص جو پاکستان سے پیار کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ آج شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ایصال ثواب کے لیے اپنے اپنے گھروں میں قرآن خوانی کا اہتمام کریں یا پھر ہر شخص اپنے طور پر شہید محترمہ کے لیے آج چاروں قل شریف اور آیت الکرسی و درود شریف اور جتنا ہو سکے قرآن پاک پڑھ کر شہید محترمہ کی نذر کرے کیونکہ شہید محترمہ کو یہ شرف حاصل کہ ان کی شہادت کو پاکستان کے ہر طبقہ ہائے فکر نے بلاتفریق شہید تسلیم کیا۔آج شہید محترمہ کے یوم شہادت پر غموں کا بے کراں سمندر اس لیے بھی تلاطم خیزی کر رہا ہے کہ آج اس میں غم حسینؓ کا غم بھی شامل ہو گیا ہے۔ خدا تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus