×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وزیراعظم صاحب! مجھے ہے حکم اذاں
Dated: 19-Dec-2009
بادشاہت چل کیا ’’گھوک‘‘ رہی تھی۔ رعایا خوش، بادشاہ مطمئن تھا۔ پھر ایک وزیر سے متعلق شکایات آنے لگیں۔ بادشاہ مجبور کہ یہ وزیر ملکہ کا چہیتا تھا۔ شکایات کے انبار لگے تو بادشاہ نے سانپ مارتے ہوئے لاٹھی بچانے کی کوشش کی۔ وزیر سے خزانے کا قلمدان واپس لے کر اسے وزیر زراعت بنا دیا۔ بادشاہ کو خوش فہمی تھی کہ نئے محکمے میں وزیر کے لیے کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔ بادشاہ نے وزیر موصوف کو تاکید کی زمینوں میں چوہوں کی بہتات ہے۔ ان کا خاتمہ ترجیح اوّلین ہونی چاہیے۔ یہیں سے وزیر کو اپنے اوپر نوازشات اور عنایات کے دروازے کھلتے نظر آنے لگے۔ فصلوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کے گھروں سے بھی چوہے باہر نکلانے پر تل گئے۔ اس کے کارندے لوگوں کا سامان گھر نکال کر گلی میںپھینکے لگے۔ جس نے خدمت کر دی اس کی ’’ستیں خیریں‘‘ جو کہتے آئو، نکالو چوہے۔ اس کا سامان بے دردی سے اٹھا کر پھینکتے۔ لوگ پھر بھاگے بھاگے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہو کر وزیر کی کرپشن کے قصے سناتے اور رونا روتے۔ بادشاہ اس وزیر کی کرپشن سے تنگ تھا لیکن ملکہ سے بھی ڈرتا تھا۔ اس نے وزیر کو اسی تنخواہ اور مراعات کے ساتھ اسے وزیر موسمیات بنا دیا اور اس کو سمندر کے کنارے بٹھا کر ڈیوٹی لگا دی کہ وہ سمندر کی لہریں گنا کرے۔ تاکہ طوفان کی آمد کا اندازہ لگایا جا سکے۔چند دن تو وزیر اور اس کے کارندے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ’’نوٹ سازی‘‘ کی ترکیبیں سوچتے رہے۔ پھر ہیراپھیری کی جبلت عود کر آئی۔ جہاز کا سمندر کے اندر بندرگاہ میں یہ کہہ کر داخلہ روک دیتے کہ اس سے سمندر کی لہریں ڈسٹرب ہو سکتی ہیں۔تاہم ایک آدھ جہاز کو مٹھی گرم کرنے پر اجازت دی تو باقی نے بھی یہی طریقہ کار اپنا لیا۔ اب اس وزیر کی کرپشن کے قصے بیرونِ ممالک تک بھی جا پہنچے تو بادشاہ نے اسے طلب کرکے پھر وزارتِ خزانہ اس کے حوالے کرکے ہار مان لی۔چونکہ بادشاہ سلامت کے لیے ملکہ عالیہ کی ناراضگی مول لینا ناممکن تھا۔ دیہات میں آج بھی نکمے اور نالائق آدمی کے لیے کہاوت مشہور ہے ’’جیڑھے ایتھے بھیڑے اولہور وی بھیڑے‘‘(یعنی جو لوگ گائوں میں احمق وہ شہروں میں بھی جا کر بھی نہیں سدھر سکتے)یا پھر اُردو کی یہ کہاوت بھی صادق نظر آتی ہے ’’کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے‘‘۔ ہمارے محترم وزیراعظم نے چند وزراء کے محکمے تبدیل کرکے عوام کو کیا تاثر دینے کی کوشش کی ہے؟ یہ وزیر کرپٹ تھے تو ان کو دوسری جگہ تبدیل کرکے ایسا ’’ری میکس‘‘ کیا گیا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس وزیر نے کہاں اور کیسے کیسے گُل کھلائے ہیں۔ اگر ان کی اہلیت کا سوال تھا تو نئے محکموں میں جا کر ان میں اہلیت اور احساسِ ذمہ داری کیسے عود کر آئے گا؟ جناب وزیراعظم صاحب گذشتہ روز عدالت عالیہ نے این آر او کی حیثیت کا فیصلہ کیا اور متفقہ طور پر اسے خلاف آئین قرار دیا۔ وزیراعظم صاحب کیا وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے قائدین اور کارکنان آٹھ آٹھ سال جیلوں کی صعوبتیں لگاتار برداشت کریں۔ ہمارے چالیس سے زائد کارکنان اور جیالے انہی قابل احترام جج صاحبان کی بحالی کی تحریک کے دوران جام شہادت نوش فرما گئے۔راہ حق اور جمہوریت کے لیے ہماری شہید قائد محترمہ بے نظیر بھٹو نے سڑکوں پر جان دے کر انسانی عظمت کی تاریخ میںایک نیا باب روشن کیا۔جج صاحبان کی بحالی کی تحریک میں اول تا آخر تک میرے اور آپ کے سمیت لاکھوں کارکن راتیں سڑکوں پر بسر کرتے رہے اور میں یہ بھی مانتا ہوں کہ یہ این آر او غیر آئینی تھا مگر یہ مقدمات جو آج پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کے ماتھے پر کلنک کا داغ بنا کر پیش کیے جا رہے ہیں یہ ہم پر کسی اور نے نہیں ہمارے اپنے ہی کولیشن پارٹنر محترم جناب میاں نوازشریف صاحب کے دور میں بنائے گئے تھے اور پھر جب میاں برادران کو پابندسلاسل اور پھر مجبوراً جلاوطن کیا گیا تو دونوں پارٹیوں کے درمیان میرے سمیت جمہوریت پسند مخلص دوستوں نے آگے بڑھ کر میثاق جمہوریت کا راستہ ہموار کیا اور این آر او سے پہلے میاں برادران کو باری باری پاکستان کے ایئرپورٹس سے ڈی پورٹ کیا جاتا رہے مگر جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹونے اپنوں اور غیروں کے الزامات کو اپنے سرلے کر ریکنسیلیشن کا معاہدہ کیا تو اس سے ایم کیو ایم، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، پیپلز پارٹی شیرپائو اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ان لوگوں کو جو پچھلے آٹھ دس سال سے عدالتوں کے دھکے کھارہے تھے اور قیدوبند اور جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے کو ایک دفعہ پھر مفاہمت کے نام پر ریلیف ملا تو تبھی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے پاکستان آنے کے راستے کھلے مگر آج این آر او کو غیرقانونی قرار دیئے جانے کے بعد ہمارے اتحادیوں کے چہروں پر خوشیوں کی ان گنت کرنیں چمک رہی ہیں۔ اور دوسری طرف پیپلز پارٹی کے کارکنان،جیالے اور قیادت یہ سوچ رہی ہے کہ ہم جمہوریت کے راستے میں ایک دفعہ پھر اپنے دوستوںکے ہاتھوں مات کھا گئے ہیںمگر یہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔جناب وزیراعظم صاحب اب ہمیں اپنے دوستوں اور دشمنوں کی پہچان ضرور طے کرنا ہوگا اور ابتدا آپ کو کرنی ہو گی کہ کون ہمارے ساتھ کتنا مخلص ہے کیونکہ رائیونڈ کا راستہ آپ کو ہم سے زیادہ زبانی یاد ہے۔آج صدرمملکت جناب آصف علی زرداری صاحب سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے کل آمر مشرف کے ریفرنڈم اور سترہویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے لوگ ہیں جو کہ ایک میڈیا گروپ کے ساتھ مل کر پیالی میں طوفان کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے ! ہزاروں خواہشیں ایسی ہیں کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ جناب وزیراعظم! میرا اور آپ کا تعلق ایک ہی پارٹی سے ہے ہم اسی کی مرکزی مجلس عاملہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں اقتدار کی غلام گردشوں میں کھو جانے والوں کو راہِ راست دکھانا اپنا فرض اور اس سے چشم پوشی گناہ سمجھتا ہوں۔پہلے بھی اپنے کالموں میں مثبت تنقید کرتا رہا ہوں۔ جس کی وجہ سے آپ کے دل میں یا ویسے ہی آپ کو خیال آ گیا تاہم پارٹی کو ایک مثبت تبدیلی نظر آئی ہے۔ اب آپ رائیونڈیوں کے پاس آتے اور جاتے ہوئے گورنر ہائوس کو رونق بخش رہے ہیں اور پارٹی کارکنوں کے گھروں میں فاتحہ خوانی کے لیے بھی جانے لگے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اقتدار کی چوٹی پر بیٹھے صاحبان کو ’’سب اچھا‘‘ کہنے والوں کی باتیں من بھاتی ہیں۔ سب اچھا کہنے والے واہ جی واہ جی کہتے کہتے سیاسی میراثیت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ یوں یہ بیربل اور ملا دوپیادے اپنے معاملات سدھارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب! صدارت اور وزارت عظمیٰ ہمیں بڑے مصائب،آلام، آزمائشوں،مصیبتوں، قربانیوں اور شہادتوںکے بعد ملی ہے۔ یہ عہدے شہیدوں کی امانت ہیں۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جس نے بھٹوز اور شہیدوں کے ساتھ وفا نہ کی پھر ان کا ذکر کتابوں میں بھی نہیں ملتا۔ اس لیے چاہے میری باتیں کڑوی اور بری لگیں میں حق کا پرچم جھکنے نہیں دوں گا۔ اپنی استطاعت کے مطابق اسے بلند کیے رکھوں گا۔ اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus