×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نئی رشتے داریاں، پرانے تعلق اور آنے والی مشکلات
Dated: 10-Jan-2017
جنرل راحیل شریف کو قوم کمانڈ آف دی کمانڈز کہہ اور سمجھ رہی ہے۔ایسی قدر افزائی قائداعظم کے سوا پاکستان میں کسی حکمران تک کی بھی نہیں ہوئی، جتنی عزت افزائی بطور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ہوتی رہی۔ عوام نے ان کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور ان کی ریٹائرمنٹ کے آخری دن تک نعرے گونجتے رہے’’ ابھی نہ جائو چھوڑ کر‘‘۔ انہوں نے دہشتگردوں اور کراچی کے بھتہ خوروں کو نکیل ڈال کے رکھ دی، سیاست کو کرپشن سے پاک کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان کے ازلی دشمن کو جس طرح للکارا وہ قوم کے دل کی آواز تھی۔ جنرل راحیل انہی خوبیوں کی بدولت قوم کے ہیرو بن گئے مگر ان کے ایک اقدام نے ان کو قوم کی نظروں میں زیرو بنا دیا۔ وہ شہرت کی بلندیوں سے گمنامی کی گہرائی میں اترنے لگے۔ جنرل راحیل شریف سعودی عرب کی سربراہی میں 39مسلم ممالک کی فوج کے کمانڈر بن رہے ہیں یا بن چکے ہیں۔ ہمارا تجزیہ ان کے کمانڈر بننے کی اطلاعات پر ہے۔ گو سعودی عرب کی طرف سے ابھی تک باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف نے ان کو کمانڈر بنائے جانے کی تصدیق کی ہے جس کی جنرل کی طرف سے تردید نہیں آئی۔ جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ سعودی عرب کا دورہ کیا تھا تو اس موقع پر میڈیامیں اطلاعات تھیں کہ ان کو 39ممالک کی فورسز کا کمانڈر بنایا جائے گا۔ وہ اطلاعات اب درست ثابت ہوئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ کمانڈر بننے کی ڈیل موجودہ حکمرانوں نے کرائی یا یہ جنرل راحیل شریف کی کیا ذاتی کاوش تھی۔ ان کوپاک فوج نے ایک ادارے کے طور پر ملٹی فورسز کا کمانڈربنانے کے لیے معاملات طے کیے یا حکومت پاکستان کو ان سے جان چھڑانے میں دلچسپی تھی؟ اور ان کو ریٹائرمنٹ پر راضی کرنے کے لیے ان کی خدمات پرائی فورسز کے لیے مہیا کر دی گئیں؟ یہ بھی ہو سکتا ہے سعودی عرب کو بھی پاکستانیوں کی طرح جنرل راحیل شریف کے اندر جرأت، بہادری ،شجاعت کوٹ کوٹ کر بھری نظر آئی ہو۔مگر یہ سب کچھ قوم و ملت کے لیے ہے، کسی خاص گروپ اور گروہ کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔ جنرل راحیل شریف کو اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا سربراہ بنایاجاتا تو قوم کوفخر ہوتا۔ ان کو او آئی سی کے تحت فوج تشکیل دے کر چیف بنایا جاتا تو ہر پاکستانی کافخر سے سینہ پھول جاتا مگروہ 39مسلم ممالک کی فورسز کے کمانڈر بنائے گئے ہیں جو سعودی عرب کی سربراہی میں سعودی عرب کے مفادات کے لیے کام کرے گی اورلڑے گی۔ یہ فوج تشکیل دینے کی نوبت یمن جنگ کے پس منظر میں آئی۔ شام اور لیبیا میں بھی سعودی عرب کی مداخلت ہو رہی ہے۔ جنرل راحیل شریف کیا پاکستانی فوجیوں کو مسلم ممالک کے ساتھ لڑائیں گے؟ ایران کی پراکسی وار کا بھی سعودی عرب کو سامنا ہے۔ کیا جنرل راحیل شریف ایران سے بھی ٹکر لیں گے؟ جس کی ملازمت کر لی ہے ، کام اسی کے ایجنڈے کے مطابق کرنا ہوگا۔ پھر دیکھ لیں پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ کیسے تحفظات ہوں گے جن سے پاکستان کا فوجی سربراہ برسرپیکار ہوگا۔ معروضی حالات اور قانون کے مطابق حکومت پاکستان کی اجازت یا این او سی کے بغیر جنرل راحیل شریف یہ عہدہ قبول نہیں کر سکتے تھے۔ وزیراعظم نوازشریف یمن کے خلاف لڑنے کے لیے سعودی عرب کی خواہش پر پاک فوج کو سعودی عرب بھجوانے پر رضا مند ہو گئے تھے مگر پارلیمنٹ نے ان کے ہاتھ باندھ دیئے۔ جس سے سعودی عرب پاکستان سے سخت ناراض ہوا۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر دفاع نے سعودی عرب کی چاپلوسی کرتے ہوئے پاکستان کو سخت نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دی تھی۔ اسی غصے میں متحدہ امارات نے مودی کو اپنے ہاں بلا کر اس کی پذیرائی کی۔ یہ صلاح الدین ایوبی کی قوم ہے۔ صلاح الدین ایوبی غیر مسلموں کے نقشِ کہن مٹاتے رہے جبکہ ان کی اولاد اب اپنے ملک میں مندر بنوا رہی ہے۔ سعودی عرب نے بھی مودی کو بلوا کر سب سے بڑا اعزاز دیا۔ یہ سب کچھ پاکستان کو سعودی عرب میں فوج نہ بھجوانے کے باعث کیا گیا۔ کیا مودی نے اپنی فوج بھجوا دی ہے؟ وزیراعظم نوازشریف پارلیمنٹ کے سامنے تو خاموش رہے مگر اب جیسے ہی موقع ملا سعودی عر ب کی ناراضگی ختم کرنے کے لیے جنرل اسے پیش کر دیا۔ جنرل راحیل کے بہترین پروفیشنل ہونے میں کوئی شک نہیں مگر یہ صلاحیتیں صرف پاکستان کے یا مسلم امہ کے استعمال ہوں، ایک مخصوص گروپ اور گروہ کے لیے کیوں؟جس سے مسلم ممالک کے مابین ہم آہنگی اور پاکستان میں مسالک کے مابین یگانگت کو شدید نقصان پہنچے۔اورکہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستانی سیاستدانوں کے ایک مخصوص گروہ نے فوج کی سیاست میں مداخلت روکنے کے لیے ہر نئے آنے والے آرمی چیف کو عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد اسلامی فوج کے سربراہ بننے کا ایک مستقل لالچ دیا ہو؟ جس ملک کی خوشنودی کے لیے جنرل راحیل گئے ہیں یا بھجوائے گئے ہیں وہاں 16لاکھ میں سے 80فیصد پاکستانیوں کو واپس بھجوایا جا رہا ہے۔ ان کے کاروبار،کمپنیاں اور ادارے بند ہو رہے ہیں۔ کئی کی تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں جو حق مانگتا ہے اسے پسِ زندان ڈال دیا جاتا ہے۔ حرف آخریہ کہ پاکستان کو بیوقوف بنایا جاتا رہا ہے۔ جنرل کیانی کے بارے میں کہا گیا نہایت محب وطن اور جمہوریت دوست ہیں۔ ان کے بارے میں پتا چلا کہ بھائیوں کے کاروبار کو تحفظ دیتے رہے۔ اب وہ ملک سے باہر بھی نہیں جا سکتے۔ وہ ملک کے سب سے زیادہ بدنام فوجی سربراہ ثابت ہوئے۔ جنرل راحیل کے بارے میں اب پتا چلا کہ قوم قدم بڑھائو راحیل شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راحیل شریف نے قدم تو بڑھائے مگر ان کے قدم عوام کی طرف نہیں بڑھے بلکہ وہ جدہ والوں سے بغل گیر ہو گئے۔ دراصل راحیل شریف بادیٔ النظر میں اپنے مفادات کے لیے فوج اور عوام دونوں سے ڈرامہ کر رہے تھے اورسعودی عرب کے ساتھ رشتے طے کر رہے تھے۔ سعودی عرب آج کہہ دے کہ جنرل راحیل کی قیادت میں فورسز فلسطین آزاد کرائیں گی تو اہل وطن جنرل راحیل کے ساتھ ہوں گے، مگر آنے والے دنوں میں راحیل شریف کے لیے بے شمار مشکلات آنے والی ہیں۔ کیا پاکستان اسلامی ممالک کی نئی گروہ بندی میں ایک گروہ اور خاص مکتبہ فکر اور فرقے کا حصہ بن کر پاکستان کی حیثیت ایک مہمان اداکار کی سی بنانا چاہتا ہے یا پھر پاکستان ایک آزاد ،خودمختار اور کلیدی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔قارئین یاد رکھیے کہ پاکستان کے لیے اپنے اندرونی مسلکی معاملات اور برادر ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تعلقات پس پشت ڈال دینا ممکن ہوگا؟ 10جنوری2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus