×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی مضحکہ خیزیاں!
Dated: 07-Feb-2017
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ ایک فضائی سفر کے دوران مجھے محترمہ نے بتایا کہ وہ جب پہلی بار وزیراعظم بنی تھیں تو عوامی جمہوریہ چین کی حکومت نے انہیں سرکاری دورے کی دعوت دی وہ اپنے وفد کے اراکین اور صحافیوں کے ساتھ طیارے میں سوار ہوئیں، اسی دوران صحافیوں نے باری باری ان کی نشست پر آ کر دورے سے متعلق گفتگو شروع کر دی مگر صحافیوں کی اس ٹیم میں موجود ایک سینئر صحافی نجم سیٹھی نے سوال و جواب سے دلچسپی کی بجائے انہیں (محترمہ) کو کنوینس کرنا یا یہ کہ امریکہ کے حق میں دلائل دینا شروع کر دیئے۔ جب محترمہ نے اس صحافی کو متعدد بار یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ چین سے ہمارے تعلقات مختلف نوعیت کے ہیں جن کو ہم امریکی خوشنودی کے لیے قربان نہیں کر سکتے۔ جب یہ بات سینئر صحافی کی سمجھ میں نہ آئی تو محترمہ نے کہا سیٹھی صاحب جائیے اپنی نشست پر بیٹھئے ’’آپ خوش قسمت ہیں کہ دورانِ پرواز ہونے کی وجہ سے جہاز کے دروازے اور ونڈوز بند ہیں۔‘‘ قارئین ! گزشتہ کچھ روز سے میں مختلف نجی چینلز پر یہ فوٹیج دیکھ رہا ہوں جس میں نجم سیٹھی صاحب اپنے جونیئر ساتھی اینکر کے ساتھ بائیس کروڑ عوام کو ماموں بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ستمبر اور اکتوبر 1965ء کا عالمی میڈیا ریکارڈ ،نیوز پیپرز،رسائل اور میگزینز نکال لیے جائیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں اور اس پر مہرتصدیق ثبت ہو جاتی ہے کہ 1965ء کی جنگ میں ہماری پاک فوج نے نہ صرف دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیئے بلکہ ایک وسیع و عریض خطے پر ہماری فوجوں نے قبضہ بھی کر لیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس وقت کے بھارتی وزیراعظم لعل بہادر شاستری تاشقند معاہدے کے لیے اپیلیں کر رہے تھے اور اگر تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو کارگل کی آخری جنگ میں بھی پاک فوج نے اپنے اہداف نہ صرف حاصل کر لیے تھے بلکہ بعد کی رپورٹس کے مطابق دشمن اس بلند ترین محاذ پر سات ہزار فوجیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہوا تھا مگر ہماری اس وقت کی قیادت عالمی دبائو کو برداشت نہ کر سکی اور خصوصاً کلنٹن کی دھمکی کے بعد جیتی ہوئی جنگ کو بعد ازاں دستاویزات میں شکست سے تعبیر کیا گیا۔بعدازاں سابق بھارتی آرمی چیف جگیندر سنگھ سے جب میری پہلی ملاقات ہوئی تو اس میں اس نے یہ تسلیم کیا کہ کارگل میں بھارتی فوج کی شکست کے بعد بڑے پیمانے پر تبدیلیاں اور ردوبدل کیا گیا۔بھارت کو ایک سُپر ماڈل ملک کے طور پر پیش کرنے والے ہمارے نام نہاد دانشور یہ بھول جاتے ہیں کہ صرف ایک بھارتی فوجی کی ہلاکت پر رائے دینے پر مشہور بھارتی فلم اداکار ’’اُوم پوری‘‘ کو عبرت ناک ہلاکت سے دوچار کر دیا مگر پاکستان میں بھارت نواز ’’برسنے‘‘ والوں کو کھلی چھٹی ہے۔ قارئین! حالات آج بھی کارگل کی جنگ کے بعد والے عالمی سیاسی دبائو سے مختلف نہیں۔5فروری کو ہر سال یومِ یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے، اسے قاضی حسین احمد(مرحوم) نے 1990ء میں شروع کیا تھا اور اس کے بعد ہر سال پاکستان کی سول و ملٹری قیادت اور عوام کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے مناتے آئے ہیں۔ مگر امسال امریکہ میں آنے والی سیاسی تبدیلی نے پاکستان کے کمزور حکمرانوں کو اس حد تک سیاسی حواس باختگی کا شکار کر دیا ہے کہ حکمرانوں نے 5فروری سے صرف دو دن پہلے عوام اور سینما مالکان کی طرف سے بھارتی فلموں پر نمائش کی پابندی معطل کر دی ہے اور اس طرح وزیراعظم کے خصوصی حکم کے تحت ازلی دشمن بھارت کو پاکستان پر ثقافتی یلغار کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ اسی روز شدید تر بھارتی اور امریکی دبائو کے تحت جماعۃ الدعوہ کے امیر اور کشمیر کاز کے سرخیل حافظ محمد سعید کو نظربند کر دیا گیا جس سے پاکستان سے محبت کرنے والے لوگوں کو تشویش ہوئی۔ شنید ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار اس عمل کے لیے تیار نہ تھے اور انہوں نے استعفیٰ کی بھی دھمکی دی تھی۔ آئی ایس پی آر نے اس سلسلے میں تھوڑی بہت وضاحت کی مگر پاکستان کے عوام جو کشمیر سے عشق کرتے ہیں ان کے لیے حافظ سعید کی گرفتاری کی وجوہات ناکافی اور غیر اطمینان بخش ہیں۔ اس وقت وفاق اور پنجاب میں اتفاق سے کشمیری خاندان اقتدار پر براجمان ہے ،ان کا یہ فرض بنتا ہے کہ حافظ سعید کی گرفتاری پر عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کریں۔ قارئین! امن کے دشمن ایک میڈیا گروپ کے مشہور قلم کار اور اینکر پرسن حافظ سعید کی گرفتاری کے پیچھے چین کو ملوث کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اور اس طرح دانشور نے سی پیک پراجیکٹ اور چین سے غیر ضروری بحث کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔ قارئین! آج آئی آر آئی کی طرف سے ایک مضحکہ خیز سروے رپورٹ جاری کی گئی جو تاریخ کے مطابق اکتوبر میں مکمل ہوئی تھی جس کے مطابق وزیراعظم نوازشریف باسٹھ فیصد، عمران خان بیالیس فیصد اور بلاول بتیس فیصد مقبولیت رکھتے ہیں جبکہ پاناما کیس کو صرف چونتیس فیصد لوگ جانتے ہیں۔ اگر اس رپورٹ کو سچ مان لیا جائے تو پھر حکومت کو ڈر اور خوف کس بات سے ہے ۔ روزانہ درجن بھر وفاقی وزراء سپریم کورٹ کے باہر وضاحتیں کرتے کیوں نظر آتے ہیں؟ ّقارئین! آج کی ایک اہم اورمضحکہ خیز خبریہ بھی ہے کہ آئندہ پی آئی اے کی پروازوں میں دورانِ پرواز فضائی خدمتگار عملہ (ایئر ہوسٹسز) مسافروں کو کرپشن پر لیکچر دیں گے اور کرپشن کے انسداد کے لیے دوران فلائٹ مسافروں کو نغمے بھی سنائے جائیں گے۔ قارئین! گذشتہ ماہ ٹورنٹو کے ایک مقامی شاپنگ مال میں پاکستان ایئر لائن کی ایک ایئر ہوسٹس کو چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا جس سے یہاں کینیڈا کے مقامی میڈیا میں پاکستانیوں کی بڑی جگ ہنسائی اور ندامت ہوئی۔ بعدازاں مقامی پی آئی اے اسٹیشن منیجر اور قونصل جنرل آف پاکستان کی مداخلت سے ایئر ہوسٹس ملزمہ کی ضمانت ہوئی اور اسے پاکستان واپس بھجوا دیا گیا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی پاکستان ایئرلائنز کے درجنوں سٹاف ممبرز لندن،مانچسٹر،جدہ، کویت، دوبئی، فرینکفرٹ اور روم ایمسٹرڈم کی جیلوں میں منشیات لے جانے کے جرم میں پابندِ سلاسل ہیں۔ 7فروری2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus