×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دو گز زمین اور زمینی حقائق
Dated: 31-Jan-2017
15اگست 1947ء کو پنجاب کے پہلے وزیراعلیٰ کے طور پر نواب افتخار حسین ممدوٹ نے حلف اٹھایا تو انہوں نے سب سے پہلا ترقیاتی کام جو کیا وہ یہ تھا کہ ایک ایسی نہر بنائی جائے جو اس نوزائیدہ مملکت کو ہمسایہ دشمن کی جارحیت سے محفوظ رکھ سکے۔ ہیڈ مرالہ کے مقام سے نکلنے والے نہر اَپر چناب میں سے ہیڈ بمبانوالہ کے مقام پر ایک نئی نہر ’’بی آر بی‘ نکالنے کا کام شروع ہوا۔ بی آر بی جس کے معنی بمبانوالہ راوی بیدیاں لنک ہیں۔ لاہور کے قریب دریائے راوی کے نیچے سے انڈر پاس کی صورت میں گزاری گئی ہے اس طرح بی آر بی کو دنیا کی پہلی انڈر پاس نہر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ نواب ممدوٹ نے اپنے دو سالہ اقتدار میں اس نہر کو مکمل کروایا جس سے پاکستان کا دفاع مضبوط ہوا اور 1965ء میں وہ بی آر بی کا دفاعی حصار ہی تھا جس نے دشمن کی کاوشوں کو شرمندۂ تعبیر نہ ہونے دیا۔ قارئین! بمبانوالہ سے یاد آیا یہ ہیڈ بمبانوالہ ڈسکہ اور مترانوالی کے درمیان دونوں اطراف سے پانچ پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور حسنِ اتفاق سے پاکستان میں بھارت کے موجودہ ہائی کمشنر (سفیر) مسٹر گوتم بمبانوالہ کے آبائواجداد کا تعلق بھی اسی قصبہ سے ہے۔ قارئین! گذشتہ کچھ روز سے پاکستان کے ایک نجی میڈیا گروپ جس کی اپنی مرکزی بلڈنگ لاہور میں ناجائز تجاوزات کے زمرے میں آتی ہے اور پوری عمارت ایک گندے نالے کو ہموار کرکے اس پر بنائی گئی ہے اس میڈیا گروپ نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے خلاف ان کی سروس کے دوران ہی سے ایک کیمپین شروع کر رکھی ہے اور جنرل راحیل شریف صاحب کے ریٹائرڈ ہونے کے کچھ دن ہی بعد ملک کے وزیر دفاع کے ذریعے ایک ایسی اسٹیٹمنٹ دلوائی گئی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنرل راحیل شریف خدانخواستہ ایک خودغرض انسان ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے نوازشریف حکومت کو سپورٹ کیا اور بعدازریٹائرمنٹ موجودہ حکمرانوں کی سفارش پر سعودی عرب میں سعودی اتحادی بلاک کے سربراہ بننے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ یقینا میرے سمیت کئی اہل قلم، دانشور اور اینکر پرسنز نے اس پر ری ایکٹ کیا۔ مگر راقم نے اپنے ایک کالم میں یہ صاف لکھا کہ میرا آج کا یہ ردعمل وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کی مرہونِ منت ہے جبکہ بعدازاں صحافتی تحقیقات سے مجھ پر یہ آشکار ہوا کہ جنرل راحیل شریف صاحب نے ایسے کسی کنٹریکٹ پر دستخط نہیں کیے اور ان کی رضامندی کئی سخت شرائط بشمول ایران کو بھی اس بلاک میں شامل کیا جائے اس میں شامل ہیں مگر اس نجی میڈیا گروپ نے اس پر ہی اکتفا نہ کیا اور چند روز پہلے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا کہ جنرل راحیل شریف کو سینکڑوں ایکڑز اراضی لاہور کے نواح میں الاٹ کر دی گئی ہے۔ اس خبر پر قلم آزمائی کرنے سے پہلے اپنی صحافتی ذمہ داری پوری کرنا مناسب سمجھا اور میرے علم میں یہ بات آئی کہ فوج کے قانون کے مطابق فوج اپنے ریٹائرڈ ہونے والے افسران خصوصاً جنرلز اور ہر چیف آف آرمی سٹاف کو ریٹائرمنٹ کے بعد ایک قطعۂ اراضی بطور انعام اور ہدیۂ پیش کرتی چلی آ رہی ہے اور جنرل راحیل سے پہلے چھ آرمی چیف بھی اس میں شامل ہیں۔ جنرل راحیل شریف کو دو مربع زمین ان کے عہدے کے لحاظ سے اور دو مربع زمین ان کو مختلف ادوار میں ملنے والے فوجی و قومی میڈلز سے منسلک ہے۔ جنرل صاحب کو یہ زمین اسی بی آر بی نہر کے ساتھ الاٹ کی گئی ۔ اس طرح جنرل راحیل شریف کے ریٹائرمنٹ کے بعد کے مفادات بھارتی غم و غصہ، فائرنگ اور توپوں کا ہدف ہوں گے۔ اس طرح میرے نزدیک جنرل راحیل شریف پاکستان اور بھارت کے درمیان سینڈوچ کی سی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ قارئین! یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ زمانۂ قدیم سے لے کر امراء اور بادشاہوں نے اپنے ادوار میں ہمیشہ اپنے جرنیلوں اور سپہ سالاروں کو نہ صرف مالِ غنیمت بلکہ جاگیروں اور جائیدادوں سے نوازا ۔خود تاریخِ اسلامی میں عظیم سپہ سالاروں کی سرگذشتیں پڑھیں تو ہمیں ایسے بہت سے ثبوت اور مواد ملتا ہے۔ یہ بات بھی قرین حقیقت ہے کہ ہمارے غدار اپنے وطن سے غداری کرکے گوروں سے انعام میں جاگیریں حاصل کریں۔ ہمارے نواب ، دولتانے، وٹو، مزاری، لغاری، لاشاری، ممدوٹ، دریشک، سادات اور مخدوم اپنی مٹی سے غداری کرکے اپنے غیر ملکی آقائوں سے جاگیریں الاٹ کروائیں ،خود موجودہ حکمران خاندان جو قیام پاکستان سے قبل انڈیا سے ہجرت کرکے لاہور آئے تھے کہ پاس دس مرلہ زمین بھی نہ تھی اور آج ان کے پاس رائے ونڈ جاتی امراء اور لاہور کے اطراف ہزاروں ایکڑز زرعی و کمرشل اراضی کہاں سے آئی کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہمارے سیاست دان جب صدر اور وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوتے ہیں تو وہ ڈرامہ بازی کرتے ہوئے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کہتے ہیں کہ ہم تو خدمت کے لیے آئے ہیں اور سرکار کی طرف سے مقررہ تنخواہ بھی سرکاری خزانے سے نہیں لیں گے مگر چند سال بعد جب کوئی سر پھرا آفیسر ان کے خلاف فائلیں نکالتا ہے تو لاہور ہی نہیں لندن، پیرس، جنیوا، نیویارک، ٹورنٹو، دوبئی، قطر، سعودی عرب، پانامہ اور دنیا بھر میں ان کی لگژری جائیدادوں کے ثبوت ایسے برآمد ہونا شروع ہوتے ہیں جیسے بارش میں کھمبیاں نکل آتی ہیں اور دوسری طرف ایک فوجی سپاہی اور آفیسر جو پندرہ بیس ہزار ابتدائی طور پر تنخواہ لیتا ہے کیا کوئی اتنے پیسوں کے لیے گولیوں اور گولوں کے آگے سینہ تان کے کھڑا ہوتا ہے؟ ہم سوتے ہیں تو ہمارے فوجی راتوں کو جاگتے ہیں۔ زلزلہ، آفات اور دشمن کے قہر کے آگے وہ سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ وہ حسینہ واجد سے ایوارڈ نہیں لیتے اور اگر بعداز ریٹائرمنٹ انہیں ایک قطعہ اراضی محض اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ انسٹھ سال کی عمر میں اب کریں بھی تو کیا کریں؟ ہمارا ایک فوجی جوان اوسطاً اٹھارہ سال کی عمر میں فوج میں بھرتی ہو کر اڑتیس سال کی عمر میں ریٹائرڈ ہو جاتا ہے ۔ اس طرح ایک فوجی آفیسر پچاس سال کی عمر میں ریٹائرڈ ہو جاتا ہے اور یہ وہ دور ہوتا ہے جب ان کے بچے ابھی سکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم ہوتے ہیں جبکہ سیاست دانوں پر مال بنانے، زمینیں بنانے اور پیسہ بنانے میں عمر کی بھی کوئی قدغن نہیں ہے مجھے بہادر شاہ ظفر کا تاریخی شعر اس موقع پر یاد آ گیا ہے۔ کتنا ہے بدنصیب ظفر، دفن کے لیے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں میں یہ کالم لکھ چکا تو یہ افسوس ناک خبر آئی ہے کہ کینیڈا کے شہر کیوبک سٹی میں پُرامن دہشت گردنے مسجد پر فائرنگ کرکے آدھ درجن نمازیوں کو شہید اور درجن بھر کو زخمی کر دیا۔اسی طرح کل امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں ایک مسجد اور اسلامک سنٹر کو مکمل طور پر جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔ یہ نشانیاں ہیں آنے والے دنوں میں کہ پاکستانیوں اور مسلمان تارکین وطن کا حال کیا ہوگا؟اللہ مسلمانوں کو ٹرمپ کے جمپ سے محفوظ رکھے۔ 31جنوری 2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus