×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا ’’بھٹو ‘‘پی پی پی کی سیاسی انشورنس ہے؟
Dated: 04-Apr-2017
مردِ صحافت، محافظِ نظریۂ پاکستان جناب مجید نظامی صاحب (مرحوم) جب بھی مجھے پکارتے یا میرا تعارف کرواتے تو مجھے اصلی جیالا کہہ کر مخاطب کرتے، یقینا میں ان کروڑوں لوگوں میں سے ایک ادنیٰ سا سیاسی کارکن ہوں جو بھٹو کے سیاسی ویژن، افکار اور ازم سے بچپن ہی سے متاثر رہا۔ یہی وجہ ہے کہ جب میں نے باقاعدہ لکھنا شروع کیا تو میری سب سے پہلی تصنیف ’’صدیوں کا بیٹا‘‘ ذوالفقار علی بھٹو شہید پر ایک مستند تحریر ہے اور اس سیاسی عشق سے وابستگی کی بنیاد پر ان کی لاڈلی بیٹی بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ بھی میرا سیاسی تعلق کبھی نہ ٹوٹنے والا تھا اور میں نے محترمہ کی شہادت تک خود سے ہی کیے ہوئے اس عہد کو نبھایا۔ قارئین! ذوالفقار علی بھٹو نے ایک جاگیردار گھرانے میں آنکھ کھولی، ان کا باپ اس وقت کے سندھ کے وزیراعظم تھے جبکہ ان کی والدہ محترمہ ایک ’’ہاری‘‘ یعنی کسان گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور انہوں نے ایک جاگیردار گھرانے کی بہو ہو کر جن سماجی مصائب کو سہا اس سے ذوالفقار علی بھٹو مکمل آگاہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کم عمری میں ہی انہوں نے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کر دی اور فیلڈ مارشل ایوب خاں کی کابینہ کے سب سے کم عمر وزیر مقرر ہوئے مگر سیاست کو خدمت اور عوامی جذبے کا نام دینے والے بھٹو یہاں بھی معاشرے کی ناانصافیوں سے ٹکرائے اور معاہدہ تاشقند سے واپسی کے موقع پر ایوب آمریت کے خلاف طبلِ جنگ بجا دیا۔یوں تو پاکستان میں اس وقت بھی نام نہاد مسلم لیگ کا تسلسل جاری تھا جبکہ اس مسلم لیگ کا دعویٰ کرنے والے ایوب خاں نے ریفرنڈم میں محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ جو سلوک کیا وہ آج بھی ہماری سیاسی تحریک کے منہ پر طمانچہ ہے۔ یہاں وہ وقت تھا جب پاکستان کو ایک سیاسی جماعت کی شدت سے ضرورت تھی۔ مجید نظامی (مرحوم) نے ایک دفعہ مجھے بتایا تھا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے سیاسی جماعت تشکیل دینے کا خواب دیکھا تو سب سے پہلے بحیثیتِ دوست نظامی صاحب سے بالمشافہ ملے۔ نوائے وقت کے پرانے دفتر کے قریب ایک ریسٹورنٹ میں بھٹو اور نظامی صاحب کی باقاعدہ ملاقات ہوئی اور پھر نظامی صاحب کی آشیر باد سے مال روڈ پر وائی ایم سی اے ہال میں سیمینار منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر مبشر حسن، مجید نظامی صاحب کی سفارش پر بھٹو سے ملے اور پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اسی دوران 29، 30نومبر اور یکم دسمبر 1967ء کو پیپلزپارٹی کی باقاعدہ بنیاد رکھ دی گئی۔ قارئین! بھٹو کی اصلاحات ، ویژن، افکار ،ازم ،کامیابیوں اور ناکامیوں پر سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور جہانگیر بدر (مرحوم) وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ذوالفقار علی بھٹو پر ڈاکٹریٹ پی ایچ ڈی مکمل کی۔ قارئین! بھٹو نے قوم کو کچھ دیا یا نہ دیا یہ ایک علیحدہ بحث ہے مگر بھٹو شہید نے قوم کو سب سے بڑا تحفہ جو دیا وہ شعور ہے اور اس شعور کے زور پر قوم نے نیوکلیئر بم تک بنا لیا اور آج ہم ایک زندہ قوم کے نام پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ قارئین! دنیا کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو شاید چند ہی ایسی پارٹیاں ہیں جن کی سیاسی عمر میں سو سال سے تجاوز کر چکی ہیں مثلاً ڈیموکریٹک پارٹی آف امریکہ (1828)، ری پبلکن پارٹی امریکہ(1854)، انڈین نیشنل کانگریس پارٹی(1885)، کنزرویٹو پارٹی برطانیہ،(1834)، لیبر پارٹی برطانیہ (1900) ، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی جرمنی(1863)، لبرل پارٹی کینیڈا(1867)،سپین سوشلسٹ ورکرز پارٹی(1879)، باسق نیشنل پارٹی سپین(1895) جبکہ دنیا بھر کی سیاسی تاریخ میں ہزاروں سیاسی پارٹیاں بنتی ٹوٹتی اور ختم ہوتی رہیں جیسا کہ سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی، اسی طرح چین کی سوشلسٹ پارٹی بھی ابھی یہ ہدف حاصل نہیں کر پائی اور انڈین کانگریس پارٹی بھی سیاسی انحطاط کا شکار ہے۔ ہمارے برصغیر اور سائوتھ ایشیا میں کانگریس کے علاوہ کوئی بھی ایسی سیاسی پارٹی نہیں جو اپنی عمر کے پچاس سال پورے کر سکی ہو۔ البتہ پیپلزپارٹی کی سیاسی بنیادوں میں ذوالفقار علی بھٹو شہید ، میر مرتضیٰ بھٹو شہید، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور سینکڑوں سیاسی کارکنان کی شہادتوں نے یہ بنیاد کافی مضبوط بنا دی تھی اور لگتا تھا کہ پیپلزپارٹی صدیوں تک قائم و دائم رہے گی۔شاید اسی لیے پی پی پی کی موجودہ قیادت نے یہ اخذ کر لیا کہ بھٹو کا نام ان کی سیاسی انشورنس ہے، مگر ’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘ یہ پیپلزپارٹی اور عوام کی بدنصیبی سمجھیے کہ بیگم نصرت بھٹو(مرحومہ) کو ورغلا کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شادی ایک ایسے شخص سے کر دی گئی جس کی سوچ کریمنل تھی جس کا ہدف روپیہ پیسہ تھا، جس کی سیاست منافقت سے وابستہ تھی، جو اپنے ہی دوستوں کو دغا دینے اور بے وفائی کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا اور جس شخص نے ایک خاص پلان کے تحت پہلے تو بھٹو خاندان کے اندر شب خون مارا اور میر مرتضیٰ بھٹو کو راستے سے ہٹوایا اور پھر تنہا رہ جانے والی مظلوم بے نظیر بھٹو کو شہادت کے رتبے پر فائز کیا اور آج وہ شخص بھٹو خاندان کی جاگیروں ،مال و متاع کا قانونی وارث بن بیٹھا ہے اور زرپرستانہ طبیعت کی وجہ سے اندرونِ و بیرونِ ملک دولت کے پہاڑ کھڑے کر چکا ہے مگر صد افسوس اس شخص کی ان سیاسی تباہ کاریوں سے ذوالفقار علی بھٹو شہید نے جو پودا لگایا تھا جسے مرتضیٰ بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو شہید نے اپنے خونِ جگر سے سینچا تھا ،وہ پودا ، وہ درخت اپنی جڑوں سے لے کر آخری پتے تک گَل سڑ چکا ہے۔ قارئین! پیپلزپارٹی بائیس کروڑ عوام کے لیے عطیۂ خداوندی تھی جو آصف علی زرداری کی کبھی نہ ختم ہونے والی ہوس کا شکار ہو گئی۔ میں کل آصف زرداری کے روحانی پیر اعجاز کاٹی وی پر دہائیاں دینا ،دیکھ رہا تھا جو چیخ چیخ کر آصف زرداری کی بے ثباتی پر نوحہ کناں تھا۔ قارئین! جس وقت آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے اس وقت راقم پیپلزپارٹی کے جیالوں ملک آفتاب، سجاد گجر، سلیم جنجوعہ و دیگر کے ہمراہ ٹورنٹو کے ریسٹورنٹ میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کی 37ویں برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہوں گے۔ 4اپریل2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus