×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
لْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالہ خاکی ۔۔۔ یہ تیرے پراسرار بندے
Dated: 11-Apr-2017
کچھ دنوں سے میں پاک فوج پر لگنے والے الزامات کے بارے میں غوروخوض کر رہا تھا لیکن چاہتے ہوئے بھی میں ان الزامات کے جوابات دینے سے اس لیے قاصر تھا کہ خود مجھ پر ’’ہیپوکریسی‘‘ غالب تھی۔ میں ان نام نہاد لبرلزکالم نگاروں، دانشوروں، روشن خیالوں اور موم بتی مافیاکے حملوں سے آج قارئین کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ دراصل ہر بار جب بھی پاک افواج کو ملعون کیا جاتا تھا یہ سوچ کر میں چپ رہا اگر میں پاک فوج کے حق میں عوام الناس کو حقیقت حال بتائوں گا تو یہ نام نہاد روشن خیال انسانی حقوق کی تنظیمیں کہیں مجھ پر بھی رقیق حملے شروع نہ کر دیں۔ میں اپنے اوپر لگنے والے متوقع الزامات سے شاید خوفزدہ تھا۔ مثلاً یہ کہ راقم ایجنسیوں اور قومی سلامتی کے اداروں کے پے رول پہ ہے اور آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے۔ مگر قارئین مجھے یہ حقیقت قبول کرنے میں ذرا بھر بھی ملال نہیں کہ میں پاکستان سے جس قدر محبت کرتا ہوں۔ قومی سلامتی کے اداروں کی جس قدر، عزت کرتا ہوں چونکہ میں سمجھتا ہوں جب ہم سب ہوتے ہیں تو ہمارے یہ جیالے بارش، طوفان اور آندھی میں جاگ کر ہماری سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ کسی بھی آنے والی قدرتی آفت کی صورت میں یہ پاک فوج کے جوان ہی ہیں جو اس مشکل گھڑی میں قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ دشمن سرحد کے اندر ہوں یا باہر یہ فوجی جوان اپنا خون جگر دے کر مٹی کا تقدس بحال رکھتے ہیں۔ میں نے تقریباً تین دہائیوں تک عالمی سطح کے ادارے میں خدمات سرانجام دی ہیں۔ دنیا بھر میں کہیں بھی یہ نہیں کہا جاتا کہ ہمارے ملک کی فوج اور خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھنا باعث ندامت ہے۔ امریکہ جسے عالمی جمہوریت کا چیمپئن مانا جاتا ہے کے کئی صدور، عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے سی آئی اے اور ڈی ای اے میں اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہوتے ہیں۔ آج بھی امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے عوام ان خفیہ ایجنسیوں سے تعلق پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس الٹی گنگا بہتی ہے۔ اگر کوئی صحافی، دانشور، صاحب علم، طالب علم، فنکار ، ڈاکٹر اور سائنسدان اپنے وطن کی خفیہ ایجنسیوں اور قومی سلامتی کے اداروں سے محبت کا اظہار کر بیٹھے تو اسے نام نہاد موم بتی مافیا کی طرف سے لعن و طعن کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آئین قارئین ایک مختصر سا احاطہ کرتے ہیں کہ ہم پاک فوج کو دیتے کیا ہیں؟ ایک اٹھارہ سے بیس سال کی عمر میں پاک فوج جوائن کرنے والا سپاہی اٹھار ہ سال ملازمت کے بعد ریٹائرڈ ہو جاتا ہے اور آج بھی تنخواہیں دگنی ہو جانے کے باوجود ایک سپاہی اور لانس نائیک کا مشاہرہ دیگر شعبہ جات سے انتہائی کم ہے۔ایک فوجی صرف بیس ہزار روپیہ ماہانہ پر گولی کھانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے جبکہ وہ اپنی جوانی کے انتہائی اہم ترین ایام فوج میں گزار کر صرف چھتیس سال کی عمر میں ریٹائر ہو جاتا ہے۔ پھر کہیں نئی مزدوری ڈھونڈنے کے چکر میں دنیا سے رخصتی کا وقت آ جاتا ہے۔ جبکہ ایک کیپٹن بائیس سال سروس کے بعد میجر، چوبیس سال لیفٹیننٹ کرنل ،چھبیس سال فل کرنل اور بریگیڈیئر ،ستائیس اور انتیس سال سروس کے بعد یعنی پینتالیس اور چھیالیس سال کی عمر میں ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ان کی ملازمت کے دوران ان کی تنخواہوں سے ایک رقم مختص، منہا کرکے ایک تین کمرے کا فلیٹ یا گھر دیا جاتا ہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل اور چیف آف آرمی سٹاف کو چند مربع غیر آباد زمین دے کر ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اور پوری پاک افواج کو یہ انسانی حقوق کے مافیا ’’مقدس گائے‘‘ جیسے نشتر برساتا ہے۔ جب کہ ایک سپاہی چھتیس سال کی عمر میں اور ایک آفیسر پینتالیس سال کی عمر میں ریٹائر ہو تب ان کے بچے ہائی سکول میں پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ پاک افواج کے افسران کی یہ تضحیک ہے کہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے اور سفید پوشی کو برقرار رکھنے اور بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے انہیں میاں منشا، ملک ریاض اور ایسے بے شمار امراء کے دفاتر کے چکر کاٹنا پڑتے ہیں۔ جبکہ گذشتہ روز کے ایک سابق لیفٹیننٹ کرنل حبیب طاہر کو ملازمت کا جھانسہ دے کر کھٹمنڈو نیپال میں اغوا کر لیا گیا ہے۔ 1965ء کی جنگ میں چونڈہ کے محاذ پر دنیا کی تاریخ کے ٹینکوں کے سب سے بڑے حملے میں ہمارے جوان اپنے سینوں سے بم باندھ کر ان کے نیچے لیٹ گئے تھے اور کارگل ، سیاچین کے محاذوں پر جہاں سخت سردی سے کان ناک اور انگلیاں جڑ جاتی ہیں وہاں پر وطن عزیز کے تقدس کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ان پراسرار بندوں کو عزت نہ دینا اور الٹا تضحیک کا نشانہ بنانا، احسان فراموشی نہیں تو اور کیا ہے۔گیاری سانحہ کو کون فراموش کرسکتا ہے جہاں پاک فوج کے 139 سپوت برف میں دب کر شہید ہوگئے تھے۔ اگر ایوب، یحییٰ، ضیاء الحق اور مشرف نے مارشل لاء جیسے غیر پسندیدہ عمل کیے تو سکندر مرزا ایک بیوروکریٹ اور ذوالفقار علی بھٹو ایک سیاستدان تھا ،انہوں نے بھی مارشل لاء لگائے۔ اگر بھٹو 93ہزار جنگی قیدی دشمن سے چھڑوا کر لایا تو یہ بھی حقیقت ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کا محرک فوج نہیں سیاستدان تھے۔ قارئین مجھے فخر ہے کہ میں پاکستانی ہوں، پاک فوج سے پیار کرتا ہوں۔ وہ فوج جو ملک کے اندر اور سرحدوں پر دہشت گردوں اور دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہے۔گذشتہ روز جنرل ریٹائرڈ عمر کے بیٹے اسد عمر کے بھائی اور نئے نئے نامزد ہونے والے گورنر سندھ زبیر عمر نے جو کچھ جنرل راحیل شریف کے بارے میں فرمایا ہے اس پر ان کے ہی اپنے بھائی بریگیڈیئر خالد عمر نے کہا ہے کہ جب سے پاکستان ملٹری اکیڈمی ایبٹ آباد نے زبیر عمر کا کیس مسترد کیا ہے اور انہیں پاک فوج میں جگہ نہیں ملی تو وہ اس وقت سے ہی پاک فوج کے خلاف دل میں بغض رکھتے ہیں۔ قارئین !ہٹلر نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر کسی قوم کو شکست دینی ہو تو اس قوم کے اندر اس ملک کی فوج کے خلاف نفرت پھیلا دو اور یہی وجہ ہے کہ آج دشمنانِ پاکستان دراصل دشمنانِ پاک افواج ہیں۔ 11اپریل 2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus