×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
Dated: 20-Jun-2017
فائنل میچ سے صرف چند دن پہلے جب پاکستان فائنل کے لیے کوائیفائی کر چکا تھا تو عین اس وقت سابق کپتان اور معروف کرکٹر عامر سہیل نے اپنے دل میں اٹھنے والے اُبال کو باہر پھینک کر پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اور دوسرے کھلاڑیوں پر تہمتیں لگا کر اپنی دنیا اور عاقبت خراب کر لی۔بجائے اس کے عامر سہیل خوش ہوتے انہیں نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنا سارا غصہ قومی کرکٹ ٹیم پر نکالا۔ بہرحال فائنل میچ جیت کر قومی ٹیم نے اپنے نقادوں کے منہ بند کر دیئے ہیں۔ قارئین! گذشتہ روزپاکستان نے اپنے دائمی حریف بھارت کو ایک عبرتناک شکست سے دوچار کیا ہے۔ 1992ء کے ورلڈ کپ کرکٹ کے بعد یہ شاید پہلا موقع تھا کہ پاکستان کوئی عالمی اعزازاس طنطنے اور طمطراق کیساتھ جیت کر پاکستان لا سکا ہے۔ دراصل سیاست کی طرح ہمارے کھیل بھی سیاسی اقرباء پروریوں کا شکار ہو چکے ہیں اور جیسا کہ کہتے ہیں ؎ ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجامِ گلستان کیا ہوگا۔ خاص طور پر موجودہ حکمران خانوادے نے ملکی تنظیمی ڈھانچے میں سرکاری اداروں پر جو بابے بٹھا رکھے ہیں مثلاً وزارتِ خارجہ میں سرتاج عزیز، طارق فاطمی اور کرکٹ میں شہر یار خان اور نجم سیٹھی جیسے لوگ اداروں کو مضبوط نہیں کرتے بلکہ وہ ان کی رگوں سے بچا کھچا خون اور ہڈیوں سے باقی ماندہ ماس نوچتے ہیں ۔ یہ کیا ستم ظریفی ہے کہ جس شخص نے بلوچ خرکاروں کے ساتھ مل کر مملکت پاکستان اور افواجِ پاکستان کے خلاف بندوق اٹھائی ہو (1960ء کے بعد کی تصویری البم میں اس کا ریکارڈ موجود ہے)جسے 1960ء میں ہمارے ازلی دشمن بھارت نے پاکستان ایک خاص سازش اور پروگرام کے تحت شفٹ کیا گیا ہواور جو حیدر آباد ٹربیونل میں ماخوذ رہا ہو اسے پاکستان کے اعلیٰ منصبوں پر بٹھادیا جائے۔ تو پھرملک کا اللہ ہی حافظ ہے مگر ہم اس وقت یہ باتیں کرکے موجودہ جیت کا مزہ کِرکِرا نہیں کرنا چاہتے زندہ باد پاکستانی ٹیم۔ پاکستان پیپلزپارٹی جن دنوں معرضِ وجود میں آئی،اس وقت اسے عوامی پذیرائی جس قدر ملی اس کے پیچھے پی پی پی کا وہ یونیک ویژن اور منشور تھا اور اس وقت کے مطابق جبکہ ابھی پاکستان کو بنے ہوئے صرف بیس سال ہوئے تھے اور چھ کروڑ عوام لُٹے پُٹے مفلوق الحالی سے گزر رہے تھے۔ یہ 1967ء کی بات کہ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے قوم کو ایک انقلابی سوچ اور نعرہ دیا اور سلوگن تھا ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ اس نعرے کے پیچھے چھپی ہوئی ترغیبات سے قطعہ نظر اس کے محرکات بڑے پرکشش اور خوش آئند تھے اور جب ہم نے زمانۂ طالب علمی میں قدم رکھا تو بھٹو کی سوچ ذہنوں میں پروان چڑھ رہی تھی۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ انقلابی سوچ والا قائد اور اس کا انقلابی ویژن اس نوزائیدہ مملکت پاکستان کے لیے بہت ضروری ہوگا اس لیے کروڑوں عوام کے ساتھ مجھے بھی اس میں کشش نظر آئی اور ہم نو عمری میں اس کے اسیر بن چکے تھے۔ وہ قارئین جو ان دنوں بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور اخبار وغیرہ سے شغف رکھتے تھے وہ جانتے ہیں کہ بھٹو کے اس ویژن نے غریب عوام کو اپنی طرف متوجہ کیااور ان دنوں ذوالفقار علی بھٹو کے رفقاء میں نوے فیصد سے زائد انقلابی سوچ رکھنے والے لوگ شامل تھے۔ ڈاکٹر مبشر حسن، ڈاکٹر غلام حسین، جے اے رحیم، شیخ محمد رشید، ملک معراج خالد، انقلابی سوچ کے سرخیل تھے۔ بعدازاں شہید بھٹو کے تقریباً پانچ سالہ دور اقتدار کے بعد بھٹو صاحب کی زندگی میں ہی پی پی پی کافی حد تک اپنی سوچ اور راہیں تبدیل کر چکی تھی اور سوشلزم کا ویژن بس ایک نعرہ سا رہ گیا تھا۔ یہی وہ دور تھا جب میرِ صحافت مجید نظامی (مرحوم) اور ذوالفقار علی بھٹو شہید میں دوستی کی راہیں جدا ہوئیں۔ قارئین! بعدازاں محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک لمبی جدوجہد اور ساڑھے گیارہ سالہ سیاسی مشقت کے بعد اقتدار حاصل کیا تو پی پی پی اپنے مدار سے ہٹ چکی تھی مگر بھٹو کی بیٹی ہونے کے ناطے قوم انہیں دخترِ عوام سمجھتے تھے۔ خود راقم کا ان کے ساتھ تعلق انہی بنیادوں پر قائم ہوا۔ میں بی بی شہید کے دور یعنی 1986ء سے 2007ء تک کوڈکٹیٹرشپ کے خلاف جدوجہد اور جمہوریت کی بحالی کا دور گردانتا ہوں لیکن 27دسمبر 2007ء کے بعد ملکی سیاست میں ایک نئی سیاست اور سوچ کا آغاز ہوا اور وہ لوگ جن کے خلاف ہم نے سینہ سپر ہو کر جدوجہد کی تھی اور وہ لوگ جو ہر دور کے ڈکٹیٹر اور سول ڈکٹیٹر کے ساتھی، ہمنوا، ہم نوالہ اور ہم پیالہ رہ چکے تھے۔ 2008ء میں اقتدار میں آنے کے بعد پی پی پی میں ایسے لوگوں کا جمِ غفیر ہونا شروع ہو گیا تھا۔ آپ پرانی البم یا اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں جو لوگ 2007ء یا 2008ء میں پی پی پی میں شامل ہوئے تھے وہ کبھی بھی جدوجہد کے ادوار کا حصہ نہیں رہے تھے ۔ ان نامعلوم سیاسی وارداتیوں نے ہمیشہ اقتدار کی چوکھٹ پر سرخمِ تسلیم کیا جن کے پارٹی میں آنے سے حقیقی جیالے اور انقلابی سوچ رکھنے والے جیالوں کو مایوسی ہوئی، جس میں راقم بھی شامل ہے۔ 2011ء میں جب عمران خان نے اکتوبر میں لاہور مینارِ پاکستان پر جلسہ کیا تو لاکھوں کروڑوں لوگوں کے لیے ایک دفعہ پھر امید کی کرن پھوٹنے لگی اور 1967ء کی طرح 2011ء میں بھی ایک نئے پاکستان کا نعرہ اور تبدیلی کا ویژن دیا گیا اس دوران 2013ء کے عام انتخابات کو این آر او کے ذریعے یرغمال بنا لیا گیا اور نتائج آنے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کو مایوسی ہوئی اور تحریکِ انصاف کے قائدین کو ادراک ہوا کہ بہت سے پیسے اور وسائل کے بغیر پاکستان کی انتخابی سیاست میں قدم جمانا نہ صرف ناممکن کی حد تک مشکل ہے اور پھر اسی سوچ کے تابع تحریکِ انصاف میں امراء کے داخلے شروع ہوئے اس دوران پی پی پی کے وہ لوگ پچھلے پانچ سالہ دور میں اقتدار کے مزے اڑا چکے تھے اور 2013ء کے الیکشن میں شکست و ریخت کا مزہ چکھ چکے تھے انہوں نے اقتدار کے لالچ میں اس نوزائیدہ پارٹی یعنی تحریکِ انصاف کی طرف نگاہیں جما لیں اور پی پی پی کے دور میں وفاقی اور صوبائی سطحوں پر اقتدار کے مزے لوٹنے والے آج تحریکِ انصاف کے رنگوں والی چادریں اور مفلر گلے میں ڈال کر اس کے ہراول دستے میں شامل ہو چکے ہیں او رمیرے جیسے وہ کارکنان جو سمجھتے تھے کہ تحریکِ انصاف ملک میں تبدیلی لے کر آئے گی ان کو پھر مایوسی ہوئی اور قارئین! یہ عجب داستان ہے کہ جن لوگوں کے خلاف ایک سیاسی کارکن جمہوری جدوجہد کرتا ہے اس پارٹی کے اقتدار کے بالکل قریب آنے کے بعد ماضی کے حریف، حلیف بن جاتے ہیں۔ شاید جھورا جہاز ٹھیک ہی کہہ رہا تھا کہ وڑائچ صاحب آپ جس سیاسی سوچ اور فکر اور ویژن کو پاکستان میں دیکھنا چاہتے ہیں وہ ایک دیوانے کا خواب ہے مگر میں یقیناً یہ خود سوچتا ہوں کہ سیاست آگے بڑھنے ،بہنے اور چلنے کا نام ہے مگر ہم اپنی سوچوں کو لوٹا ازم کا شکار کیسے ہونے دیں ۔ سیاسی پارٹیاں آج کل پرانے برتنوں کو قلعی کرا کر اور چمکا کر نئے انداز سے پیش کرتی ہیں یا یوں کہیے کہ نئی بوتل میں پرانی شراب انڈیل دی جاتی ہے جیسا کہ آج کل تحریک انصاف نے سیاسی لانڈری کھول رکھی ہے جس میں نت نئے واشنگ پائوڈر لگا کر پرانی سیاسی شکلوں کے پرانے بدنما سیاسی داغ صاف کیے جاتے ہیں۔ قارئین!یہ شاید قانونِ فطرت ہے مگر میری سوچ اس سے مطابقت نہیں رکھتی میں جدوجہد پر یقین رکھتا ہوں اور پچھلے تیس سال سے اپنی سوچ کو لالچ اور طمع کے زیر اثر نہ کر سکااور بقول اسداللہ خاں غالب پی جس قدر شبِ مہتاب میں شراب اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے 20جون2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus