×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہماری سیاست اور احتساب
Dated: 01-Aug-2017
قارئین میکاولی نیکولس برنارڈو اٹلی کے شہر فلورینس میں 13مئی 1469ء کو پیدا ہوا۔ اس وقت فلورینس خود ایک ری پبلک تھی۔ میکاولی کو تاریخ ہمیشہ فادر آف ماڈرن پولیٹکل سائنس کے نام سے یاد کرتی رہے گی۔ صرف اٹھاون سال زندہ رہنے کے بعد 21جون 1527ء کے دن وہ اپنے پیچھے ایسی تاریخ رقم کر گیا کہ جسے دنیا بُرے نام سے ہی سہی ہمیشہ یاد رکھے گی۔ میکاولی کے فلسفۂ حیات کے مطابق اقتدار ہمیشہ لاشوں پر سے گزر کر حاصل کیا جاتا ہے اور جھوٹ اتنا بولو کہ سچ لگنے لگے۔ اپنی مشہور زمانہ تصنیف ’’دی پرنس‘‘ میں وہ اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار پر براجمان رہنے کے رموز و اسرار بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ اقتدار کے حصول کے لیے آپ قتل و غارت اور لاشوں کے ڈھیر لا سکتے ہیں اور حصول اقتدار کے لیے لوگوں کو بے وقوف بنانا اور ساتھیوں سے فراڈ کرنا اور اپنے مقاصد کے لیے دوستوں سے غداری کرنا آپ کے لیے جائز ہوتا ہے۔ اپنے انہی نظریات کی وجہ سے آج اِیول(گناہ) کی دنیا میں اسے ہمیشہ ایک پرنس کی حیثیت حاصل رہے گی۔ قارئین!پاکستان کی سیاست میں تو یہی مشق پچھلے ستر سال سے دہرائی جا رہی ہے ۔دنیا کے کسی بھی ملک کی عوام اور اقوامِ عالم میں کوئی بھی قوم اتنی دقیانوسی سوچوں کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتی اور ہمیں من حیث القوم یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم بائیس کروڑ نفوس کا مجموعہ ہیں۔ ہماری کوئی ذاتی اور اجتماعی سوچ نہیں، ہمیں لوٹنے والے ہم سے چھیننے والے اور ہمارے قاتل تو متحد ہیں مگر ہم ایک منتشر گروہ سے زیادہ کچھ نہیں۔اگر ہم واقعی ایک قوم ہوتے، ہماری کوئی سوچ ہوتی، کوئی اجتماعی زاویہ نظر ہوتا ، کوئی ویژن ہوتا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ پچھلے ستر سال سے ہمیں لوٹنے والے ہر بار ایک نئے روپ میں ہمیں لوٹ کر غیر ممالک میں اپنے بینکوں کی تجوریاں بھرتے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں دو سو ارب ڈالرز اور اسی طرح امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، پاناما، یورپ اور متحدہ عرب امارات میں کم از کم ایک ٹریلین (کھرب) ڈالرز پاکستانیوں کے اکائونٹس میں پڑے ہیں اگر صرف یہی دولت پاکستان واپس لائی جا سکے تو اس ایک ٹریلین ڈالرز کی رقم سے پورا پاکستان آئندہ پچاس سال تک بغیر کوئی کام کیے سروائیو کر سکتا ہے۔ قارئین! مگر ایسا ہوگا کیوں؟ کیونکہ جن کے مفادات لٹے ہیں، جن کا رزق چھینا گیا ہے، جن کا مستقبل کب کا دائو پر لگ چکا ہے، جن کے خواب چُرا لیے گئے ہیں وہ عوام تو گھوڑے بیچ کر سو رہے ہے ،کوئی شخص اپنے گھر سے نکل کر احتجاج کے لیے تیار نہیں، کوئی اپنا حق مانگنے کی جسارت نہیں کرتا، ہر شخص دوسرے کی طرف دیکھ رہا ہے کہ مجھے کچھ نہ کرنا پڑے اور کوئی دوسرا میری جگہ آ کر قربانی دے۔ قارئین اب سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے پانامہ کیس کا فیصلہ جاری کیا۔ پانامہ بنچ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تھا۔ کیس کا فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے سنایا جسے بعدازاں جسٹس کھوسہ نے ری پروڈیوس کیا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وزیراعظم کو عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیتے ہوئے دیگر کے خلاف نیب میں ریفرنسز دائر کرنے کی ہدایت کی گئی۔ بنچ نے قرار دیا ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے کپیٹل ایف زیڈ ای ، جبل علی متحدہ عرب امارات سے غیر موصول شدہ قابل وصول اثاثے اپنے 2013ء کے انتخابات میں جمع کرائے جانے والے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کئے ہیں، اس طرح مدعا علیہ نے روپا ایکٹ کی سکیشن 12(2f)کی خلاف ورزی کی، عوامی نمائندہ ایکٹ 1976ء کی بھی خلاف ورزی کی گئی اور الیکشن کمشن میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے غلط معلومات ظاہر کیں۔ اس طرح میاں نواز شریف روپا ایکٹ کی سیکشن 99f، اور آئین کے آرٹیکل 62,(1f)، کے تحت صادق اور امین نہیں رہے اس طرح انہیں ممبر پارلیمنٹ کے طور پر نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں الیکشن کمشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر میاں نوازشریف کی بحیثیت رکن پارلیمنٹ نااہل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کریں۔الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے نوٹیفیکشن جاری کردیا تاہم نواز شریف نے اس نوٹیفیکشن سے قبل استعفیٰ دیدیا تھا۔ فاضل بنچ نے یہ ہدایت بھی کی کہ صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت جمہوری عمل کے تسلسل کے لئے تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔اس پر بھی عمل ہوا جس کے تناظر میں گزشتہ روز کاغذات نامزدگی جمع کردیئے گئے۔ بنچ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے یہ درخواست کی کہ فاضل عدالت سے کسی جج صاحب کو نامزدکریں جو موجودہ فیصلے پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کریں اور نیب اور احتساب عدالت میں کارروائی کی نگرانی بھی کریں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہنوز تبصرے جاری ہیں تاہم احتساب کا آغاز ہوگیا ہے جو ملک کے سب سے زیادہ طاقتوراور بااختیار شخص سے شروع ہوا ہے اب امیدکی جانی چاہیے کہ کوئی بھی بڑا احتساب سے نہیں بچ سکے گا۔عمران خان اس فیصلے کریڈٹ لیتے ہیں جو واقعی ان کا کریڈٹ ہے انہوں نے اپنی تقریر میں گزشتہ روز کہا کہ احتساب کے حوالے سے اب زرداری کی باری ہے۔عمران خان کہ چاہیئے کہ وہ زرداری اور دیگر ایسے لوگوں کے پیچھے بھی اسی طرح پڑیں جس طرح نواز شریف کے پیچھے پڑے تھے تاکہ میکاولی رویے رجحان اور اقدامات کا خاتمہ ہوسکے اور کوئی عوام کو بیوقوف نہ بنا سکے۔ جہاں مجھے ماضی کے کچھ واقعات یا آرہے ہیں۔ اسامہ بن لادن کا پکڑا جانا بہت ضروری تھا، پھر سی آئی اے اور بلیک واٹر تنظیم نے ایک سازش تیار کی جس کے ذریعے سینکڑوں کی تعداد میں امریکن سپیشل ایجنٹس کو پاکستان میں داخل کرنا مقصود تھا اور اس مقصد کے لیے واشنگٹن اور دوبئی کے پاکستانی سفارت خانوں کا انتخاب کیا گیا۔ مسٹر حسین حقانی نے سابق صدر زرداری کی خواہش اور حکم پر واشنگٹن ایمبیسی سے سینکڑوں ویزے جاری کیے جبکہ دوبئی میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل مسٹر امجد علی شیرمہمند جوآجکل کمبوڈیا میں پاکستان کے سفیر تعینات ہیں، نے ویزے جاری کرنے سے انکار کیا تو زرداری کے منہ بولے بھائی مظفر ٹپی نے دبائو ڈال کر لاتعداد ویزوں کا اجراء کرایا،امجد علی نے اس کا بعدازاں ایک انکوائری میں اعتراف بھی کیا۔ یہ وہی حسین حقانی ہیں جن کو پاکستان کے اداروں اور اعلیٰ عدلیہ نے دورانِ ملازمت اسلام آباد طلب کیا اور ان کے خلاف میمو اسکینڈل کیس کے نام سے سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ میمو سکینڈل میں مسٹر منصور اعجاز نے پاکستانی اداروں کی مدد کی تھی۔ بعدازاں آئی ایس آئی کے اس وقت کے چیف جنرل شجاع پاشا نے حسین حقانی سے استعفیٰ لکھوا لیا تھا۔ یاد رہے کہ اس میمو گیٹ سکینڈل میں جناب نوازشریف کا لاکوٹ پہن کر زرداری حکومت کے خلاف کورٹ میں پیش ہو گئے تھے۔گزشتہ دنوں نہوں نے دبنگ اعلان کیا کہ بطورِ سفیر تعیناتی کے دوران انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری او روزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کے شدید دبائو پر امریکیوں کو غیر قانونی ویزے جاری کیے تھے۔ جس کے نتیجے میں اسامہ بن لادن کا قصہ تمام ہوا اور اس کو ایشو بنا کر صدر اوبامہ دوسری ٹرم کے لیے بھی منتخب ہو گئے۔اس سب معاملے کی فوج کو بھنک بھی نہیں پڑنے دی گئی۔یہ جرائم نواز شریف کے اقامے سے کم نہیں ہیں ان کی باز پرس بھی ہونی چاہیئے اور عمران اپنا کردار ادا کریں۔ یکم اگست2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus