×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
چلتے ہو تو چین کو چلیئے
Dated: 29-Aug-2017
ایک حدیث شریف ہے کہ ’’علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے‘‘ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو امریکی صدر ٹرمپ کے ایک ترجمان نے پاکستانیوں کے چینی زبان سیکھنے پر شدید تنقید کی ہے اور اسے امریکہ مخالف عنصر قرار دیا ہے ۔ جہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی بندہ حصول علم کے لیے چین جائے گا تو کیا وہ وہاں اپنی مادری زبان میں علم سیکھے گا؟ ایک معمولی سی کلرک کی جاب کے لیے ہمیں انگلش زبان سیکھنی پڑتی ہے اور جس ملک کے ساتھ ہم سینکڑوں ارب ڈالرز کی ٹریڈ اور کاروبار کرنے جا رہے ہیں اور سی پیک منصوبے کے تحت ہم ایک نئی صدی اور ایک نئے ایراکا آغاز کرنے جا رہے ہیں تو ہماری نوجوان نسل اور ہنرمندوں کو چینی زبان بولنا اور سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ ایک دور تھا کہ مغل حکمران ہندوستان میں آئے اور برصغیر میں فارسی زبان کو اس وقت قومی زبان قرار دیا گیا۔ آزادی کے بعد ہمیں فارسی زبان کی بظاہر چنداں ضرورت نہ تھی اور صرف شعر وشاعری کی حد تک اس کی ضرورت محسوس کی جاتی تھی مگر ہمارے سکول اور کالج کے ادوار تک فارسی کو ہم پر جبراً مسلط کیا گیا جبکہ عملی زندگی میں اس کی کہیں بھی ضرورت نہ پڑتی تھی اور شاید اسی کشمکش کے دوران جب پاکستان کا قومی ترانہ تخلیق ہوا تو حضرت حفیظ جالندھری(مرحوم) کے فارسی میں لکھے ہوئے ترانے کو قومی ترانہ کے طور پر قبول کر لیا گیا اور شاید پاکستان دنیا کے دو سو سولہ ممالک میں سے واحد مملکت ہے جس کا قومی ترانہ اس کی قومی زبان میں نہیں ہے۔ قارئین! ایک ادنیٰ سیاسی طالب علم ہونے کے ناطے مجھے صدر ٹرمپ اور بوکھلائی ہوئی انتظامیہ کی پریشانی واضح نظر آتی ہے کہ افغانستان میں جاری ایک بے مقصد جنگ جس میں اب تک دس لاکھ افغانیوں کو تورا بورا کے مشاہدات اور تجربات کی نذرکر دیا گیا۔ لائن کے اِس طرف یا اُس طرف کی دھمکی دے کر جنرل مشرف اور اس وقت کی ہماری حکومت کو انڈرپریشر کیا، جس کے بعد پچھلے سولہ سالوں میں ہم نے ایک لاکھ سویلین، دس ہزار عسکری جوانوں اور افسروں کی جانوں کی قربانی د ے کر امریکی مفادات کی خاطر اپنا سرنگوں کیا۔ مجھے ہی نہیں آپ کو بھی یاد ہوگا کہ اس دور میں رپورٹرز، صحافی، کالمسٹ اور اینکر حضرات زرد لفافے کے بل بوتے پر چیخ چیخ کر کہتے تھے کہ جب تک امریکی جنگ کو ہم اپنی جنگ نہیں مانیں گے تب تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے اور آج ڈیڑھ سو ارب ڈالرز کے معاشی نقصان اور اپنے پاک وطن کا سو ارب ڈالرز کا انفراسٹرکچر تباہ کروانے کے بعد ہمیں بالآخر یہ سمجھ آئی ہے کہ پچھلے سولہ سالوں میں ٹوٹل سولہ ارب ڈالرز کی مجموعی امریکی امداد نہ صرف اونٹ کے منہ میں زیرہ تھا بلکہ ہماری انا اور ناموس کے منہ پر زبردست طمانچہ بھی تھا ۔ہم نے 1979ء سے علاقائی سیاسی تبدیلیوں سے کچھ نہ سیکھا اور پچھلے سینتیس سال سے نہ صرف پچاس لاکھ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین جو بوقتِ ہجرت اپنے ساتھ مویشی، حیوانات اور ٹرک، ٹریلر اور کنٹینر لے کر اسلامی بھائی چارے کی بنیاد پر ہماری سرزمین کے اندر گھس آئے ہم سے عقل مند تو ایران کی اسلامی قیادت نکلی جنہوں نے ایران میںگھس آنے والے افغان مہاجرین کو شہروں سے بہت دور باڑ لگا کر نیم مقید کر دیا اور آج ایران میں افغانی شرپسندی کا ایک واقع بھی رونما نہیں ہوا جبکہ ہم نے اپنے برادر ہمسایہ افغانی بھائیوں کو خیبر تا خراچی اور چمن سے تفتان اور لاہور تک آزادانہ دندنانے کی کھلی چھٹی دے دی۔افغان مہاجرین جو اپنے ساتھ ہیروئن کی بڑی کھیپ لے کر آئے تھے اس نے ہماری آئندہ جوان ہونے والی نسلوں کا ستیاناس کرکے رکھ دیا اور ہمارے کلچر میں جہاں عید ،شبِ برات پر دو مخالفین کے درمیان چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی تھیں مہاجرین کی آمد کے بعد گلی، محلے، گائوں اور شہروں میں کلاشنکوف کا رواج عام ہو گیا۔ روسی فوج کی شکست کے بعد امریکہ کی افغانستان میں دلچسپی کم ہوئی تو ڈیونڈرلائن کے دونوں اطراف روس سے جنگ کے بعد بے روز گار ہونے والے مجاہدین نے خود کو طالبان کہلوانا شروع کر دیا جن کو کہ پاکستان کے ایک خاص مکتبۂ فکر کے علماء حضرات مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع اللہ اور ان کے مدرسوں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوان طلبہ کی حمایت حاصل ہو گئی اور تھوڑے ہی عرصے میں یہ لوگ ملکی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجانے لگے اور ہمارے پیارے وطن کی فضا بارود کے دھوئیں سے زہر آلود ہو گئی۔ قارئین! اس سارے عرصے میں بھارت کہیں نظر نہ آیا عالمی افق پر اس کا گمنام امیج ایک سوالیہ نشان تھا مگر جیسے ہی امریکہ نے نیٹو افواج کے ساتھ مل کر افغانستان میں طالبان کا قلع قمع کرنے کا منصوبہ بنایا تو بھارت چپکے سے افغانستان میں اپنے جاسوس اتارنے میں کامیاب ہو گیا اور آج پاک افغان سرحدی علاقوں میںاقوام متحدہ کی نمائندہ تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ کے مطابق 65 قونصلیٹ کام کر رہے ہیں۔ یعنی لاکھوں پاکستانیوں کی شہادت، سینکڑوں ارب کے نقصانات کے باوجود پاکستان آج دہشت گردوں کا ساتھی کہلوا رہا ہے جبکہ بھارت انگلی سے خون نکالے بغیر افغانستان کا سب سے بڑا حمایتی اور شہیدِ امن ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی نریندرمودی کے ساتھ ایسوسی ایشن کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں مگر صدر ٹرمپ کے حالیہ اقدامات اور افغانستان میں نیٹو فوج کے سربراہ جنرل نکلسن کے حالیہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب نے اپنے ہم منصب امریکی آرمی چیف اور امریکی سفیر اسلام آباد کو یہ واضح اور دو ٹوک جواب دیا ہے کہ ہمیں امریکی اسلحہ اور امریکی امداد کی اب اور مستقبل میں کوئی ضرورت نہیں ہے ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ہمارے اقدامات اور پروگرامز ضربِ عضب، ردالفساد اور خیبر فور کو تسلیم کیا جائے اور اسی دوران روس کے صدر پیوٹن کی طرف سے پاکستان کی عسکری قیادت کو یہ آفر دی گئی ہے کہ وہ بھارت کی جگہ پاکستان سے دفاعی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں جس کی صورت میں امریکہ، بھارت اور اسرائیل کو جرأت بھی نہ ہو گی کہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔ قارئین!امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کے بعد حکومت اسی شش و پنج میں تھی کہ وہ کیا کرے اور کیا جواب دے کہ چین کی بہادر وزارتِ خارجہ نے ایک عالمی بریفنگ کے ذریعے بھارت اور امریکہ کو خبردار کر دیا کہ پاکستان کے چپہ چپہ کی حفاظت چین کی ذمہ داری ہے اور پاکستان کی طرف نگاہ بد سے دیکھنے والے اپنے انجام کو ملحوظ رکھیں۔ اب یہ اکیس کروڑ پاکستانیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ان معروضی اندرونی اور سرحدی حالات کے تناظر میں وہ قومی یک جہتی کا مظاہرہ کریں ۔ آج قومی اسمبلی کا اجلاس ہونے جا رہا ہے میاں نوازشریف کے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد یہ اجلاس بظاہر ہنگامہ خیز ہوگا مگر ہمیں اپنے مشترکہ مفادات کی طرف دیکھنا ہوگا۔ قارئین! ابن انشا نے اپنے مشہور سفرنامہ ’’چلتے ہو تو چین کو چلیے‘‘میں جس طرح چین کی تصویر کشی کی ہے اس کے بعد چین نہ دیکھنا ایک عذرِ نعمت ہے۔ بُک ہوم لاہور کے پبلشرز رانا عبدالرحمن اور ایم سرور نے ’’چین : پُرامن تعمیر و ترقی کی نئی شاہراہیں‘‘کے نام سے کتاب شائع کی ہے اور چین کے کافی سفر کیے ہیں اور اپنی متعدد کتب میں چینی کلچر کو متعارف کرایا ہے۔ چین سے ہماری دوستی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ 1949ء میں جب چین آزاد ہوا تو اقوامِ متحدہ کی رکنیت سے لے کر دیگر معاملات میں خصوصاً شہید ذوالفقار علی بھٹو اور چواین لائی کی دوستی دونوں ممالک کے عوام کے درمیان اٹوٹ رشتے میں بندھ چکی ہے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ چین سے ہماری دوستی شہد سے میٹھی، ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری ہے۔ پاک چین دوستی پائندہ باد۔ 29اگست2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus