×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
رنگون، برما اور دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
Dated: 07-Sep-2017
مغلیہ خاندان کے ساتویں اور آخری فرمانروا اور آخری تاجدار ہند بہادر شاہ ظفر24اکتوبر1775ء کو دلی میں پیدا ہوئے اور 7نومبر 1862ء کو 87سال کی عمر میں جہانِ فانی سے کوچ کیا۔ بہادر شاہ ظفر نے جب عنانِ اقتدار سنبھالا تو پورا ہند اس وقت برٹش انڈیا کمپنی کی سازشوں کا شکار ہو چکا تھا۔ بہادر شاہ ظفر نے 1837سے 1857تک ہندوستان پر حکومت کی مسلسل سازشوں اور فوج میں بددلی کے باعث 20ستمبر1857ء کو بہادر شاہ ظفر نے میجر ولیم ہڈسن کے سامنے ہتھیار پھینک دیئے۔ اس وقت بہادر شاہ ظفر کے دو بیٹوں نے نا تجربہ کاری کے باوجود فوج کی کمان سنبھالی ہوئی تھی۔ بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری کے بعد ان دونوں مغل شہزادوں کا سر کاٹ کر ایک کھانے کے ٹرے میں رکھ کر تاجدارِ ہند کو پیش کیے گئے پھر چالاک اور مکار انگریز فوج نے مغلوںکو چُن چُن کر ختم کیا اور بہادر شاہ ظفر کو ان کی بیگم زینت محل کے ساتھ رنگون(برما) بھیج دیا تاکہ انہیں عوام سے دور رکھ کر اقتدار پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ اپنی موت کے قریب جلاوطنی میں بہادر شاہ ظفر جو فطرتاً درویش صفت اور صوفی شاعر تھے نے یہ شعر کہے تھے: کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں قارئین! آج اسی برما جس کا نیا نام میانمار ہے، میں مسلمانوں پر زمین ا ور عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ میانمار کی کل آبادی پانچ کروڑ اڑتالیس لاکھ ہے جبکہ اس میں بسنے والے مسلمانوں کی شرح دس فیصد ،عیسائی چھ اعشاریہ دو فیصد، ہندو ایک فیصد، جبکہ یہودی آدھا فیصد ہیں۔ برما کے ایک صوبے راکھین میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اس صوبے میں مسلمانوں کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے اسی وجہ سے اس علاقے کے مسلمانوںکو ’’روہنگیا‘‘ کہتے ہیں۔ برما کی فی کس سالانہ آمدنی بارہ سو پچھتر امریکی ڈالرز ہے۔ اس کی پانچ سرحدیں بنگلہ دیش، کمپوچیا، لائوس، تھائی لینڈ اور ویت نام سے ملتی ہیں جبکہ بیاسی فیصد کے قریب لوگوں کا سرکاری مذہب بدھ مت ہے اور بدھ مت کے فلسفۂ حیات کے مطابق کیڑوں مکوڑوں کو مارنا بھی ظلم ہے۔ خصوصاً تبت جیسا ملک دلائی لاما کا آبائی ملک ہے جبر کے باوجود وہاں کی واحد اکثریت بدھ مت مذہب کو ماننے والی ہے اور وہ لوگ پرامن رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ عالمی برادری میں چین وہ واحد ملک ہے جو میانمار کو لاجیسٹک اور اکنامک سپورٹ دیتا ہے۔ ایک طرح سے میانمار کو چین کی کالونی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ برما کی موجودہ غیر سرکاری لیڈر ’’آن سین سوکی‘‘ نیشنل لیگ فارڈیموکریسی پارٹی کی سربراہ بھی ہیں جنہوں نے نومبر2015ء میں ہونے والے عام انتخابات میں فتح حاصل کی وہ پارلیمنٹ کی 45 میں سے43نشستیں جینے میں کامیاب ہو گئیں۔ آن سین سوکی کا باپ جنرل آن سین تھے جنہیں میانمار کی آزادی کا ہیرو مانا جاتا ہے۔ مادام آسن سین سو1960ء میں دہلی میں ایمبیسڈر رہ چکی ہیں۔1964ء میں اس نے آکسفورڈ سے فلسفہ کی تعلیم حاصل کی اور اس دوران وہ اپنے ملک میں فوجی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف برسرِ پیکار رہیں۔ وہاں سے 1988ء میں رنگون آئیں تو انہیں گھر میں نظربند کر دیا گیا جہاں بارہ سال بعد اسے یک شرطی معاہدے کے تحت لندن جانے کی اجازت ملی اور ایک سال بعد اسے دوبارہ نظربند کر دیا گیا۔ قارئین! آن سین سوکی کو 1991ء میں امن کا عالمی نوبل انعام دیا گیا ان دنوں وہ قید میں تھی۔ میانمارکے موجودہ نسلی، مذہبی، اور نسل کشی کے فسادات کو دیکھتے ہوئے مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آن سین سوکی جو کہ گوتم بدھ اور مہاتما گاندھی کی پیروکار ہے اور اس وقت حکمران جماعت کی قائد اور رہبر بھی ہے جس نے بیس سال سے زائد کا عرصہ جیلوں میں رہ کر عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ،وہ زیرِ حراست تھی کہ اسکے غیر ملکی شوہر وفات پا گئے تو اس کی آخری رسومات میں شرکت سے اسے روک دیا گیا اور بیس سال کے دوران اس کے دو بیٹوں کو صرف دو بار مختصر ملاقات کی اجازت دی گئی۔ ایک دفعہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہماری آن سین سوکی سے لندن میں ملاقات ہوئی اور شہید محترمہ اس کے خیالات اور افکار سے شدید متاثر ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں ان کی شہادت کے بعد محترمہ آصفہ بھٹو نے آن سین سوکی کو جمہوریت اور امن کا ایوارڈ بھی پیش کیا مگر جب میں سوشل میڈیا اور عالمی پرنٹ وا لیکٹرانک میڈیا پر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی لرزہ خیز ویڈیوز دیکھتا ہوں ، داستانیں پڑھتا ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ یہ سب کچھ اس نرم مزاج عورت کے زیر سایہ ہو رہا ہے جسے دنیا نے امن کے عالمی ایوارڈ سے نوازا۔ یقینا اس میں میانمار کے موجودہ صدر یتن چیائو کو بری الذمہ قرار نہیں دیا سکتا۔ اس میں ایک تکنیکی پہلو یہ بھی ہے کہ شروعات میں بنگلہ دیش کے حکمرانوں نے روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش ہجرت کو جبراً روکا جس کے نتیجے میں ہزاروں روہنگیا مسلمان اس پُرخطر سرحد کو عبور کرتے ہوئے شہید ہو گئے جبکہ بنگلہ دیش اپنی روایات کے مطابق پہلے بھی بنگلہ دیش میں محصور بہاری بنگالیوں اور کراچی میں موجود لاکھوں بہاری بنگالیوں کو انسانی حقوق کے تحت واپس لینے سے انکار کر چکا ہے۔ قارئین! میڈیا پر روہنگیا مسلمانوں کے قتال کی لرزہ خیز خبریں نشر ہونے کے بعد ترکی کے صدر طیب اردگان نے مسلم سربراہان مملکت کو دلیری سے آئینہ دکھایا ہے۔ گذشتہ روز اپنے ہم منصب ایرانی صدر کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے او آئی سی کو بھی خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کی ہے۔ دراصل مسلم ممالک بشمول شام، لیبیا، عراق اور افغانستان اندرونی اور مسلکی خانہ جنگیوں کی وجہ سے تقریبا تباہ ہو چکے ہیں۔ ان چار ممالک اور یمن میں پچھلے دس سال کے دوران چالیس لاکھ سے زائد مسلمان القاعدہ، داعش، طالبان اور بوکوحرام کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اور امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے ہاتھوں بربریت کا شکار ہو چکے ہیں اور ایسے حالات میں برما میں چند ہزار مسلمانوں کی شہادتیں عالم عرب اور عالم اسلام کو خوابِ غفلت سے جاگنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔قارئین ایک دردِ دل رکھنے والا پاکستانی یہ سوچتا ہے کہ ان حالات میں پاکستانی فوج کچھ کرے تو میری مؤدبانہ درخواست ہے کہ اگر روہنگیا کے مسلمانوں کے خلاف بربریت کی تصویریں اور ویڈیوز حقیقت پر مبنی ہیں تو اسلام کے ٹھیکے دار بن کر سینکڑوں سالوں سے حجازِ مقدس پر قابض ٹولہ جو ہر سال حج اور عمرے کی مد میں کھربوں ڈالرز کی کمائی ذاتی عیاشیوں پر صرف کر رہا ہے۔ اس ٹولے کو جھنجوڑنے اور خواب غفلت سے جگانے کی ضرورت ہے۔ پاک افواج کو ملک کے اندر تکفیری مزاحمت کا سامنا ہے لہٰذا ہر جگہ پاک فوج کو گھسیٹنا دانشمندانہ سوچ نہیں لیکن اگر او آئی سی، ترکی، ایران، بنگلہ دیش، سعودی عرب، انڈونیشیا اور پاکستان باہم ملک کر کوئی مشترکہ اقدام اٹھاتے ہیں تو بے شک جنرل قمر باجوہ اس اقدام کی قیادت کریں وگرنہ پاک فوج جو پہلے ہی کشمیر، افغانستان، ایران اور بھارت کے ساتھ بارڈر پر اور ملک کے اندر آپریشن ردالفساد، کراچی کلیرنس آپریشن اور خیبرفور آپریشن میں مصروف ہے اس کو کسی اضافی آزمائش میں ڈالنا تباہ کن اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یقینا ہمیں دنیا کے کسی کونے میں بھی کسی مسلمان کے ایک قطرہ خون کی قیمت کا اندازہ ہے اور اسی وجہ سے ہم 2001میں امریکہ کے ساتھ کھڑے ہو کر جنگ کو کھینچ کر اپنی سرحدوں کے اندر لے آئے تھے جس کی قیمت ہم آج تک ادا کر رہے ہیں۔ اگر مسلمان ممالک متحد ہو جائیں اور اپنے اپنے سفیروں کو میانمار سے واپس بلوا لیں ، دنیا کے چونسٹھ اسلامی ملک میانمار کا سوشل بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیں تو برما میں موجود پچاس لاکھ سے زائد مسلمانوں کی جانیں، عزت اور مال محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ 7ستمبر2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus