×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سندھ کلچرل ڈے اور تہذیبوں کا ملاپ
Dated: 12-Sep-2017
گذشتہ روز ٹورنٹو میں سندھی ایسوسی ایشن فار نارتھ امریکہ (صنعا)کے زیراہتمام کینیڈا کا ایک سو پچاس سالہ جشن آزادی منایا گیا۔ اس تقریب کا ایک بنیادی مقصد یہ بھی تھا کہ کینیڈا کے طول و ارض میں مقیم سندھیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیاجائے اور غیر سندھی، دوستوں اور احباب کو سندھی تہذیب سے روشناس کرایا جائے۔ اس لیے اس تقریب کو سیمینار اور سندھی کلچرڈے کا نام دیا گیا۔میرے لیے اس تقریب میں شرکت کی دعوت باعثِ افتخار تھی اور ایک ایسا موقع بھی کہ جہاں سے مجھے سندھ ساگر اور اس کے باسیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ تین ہزار قبل مسیحی تاریخ کے مطابق سندھ ایک سمندر کا نام تھا۔ بعد میں اسے انڈس ویلی سولائزیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آریا کلچر کی سات ہزار سالہ پرانی تاریخ میں بھی موہنجوداڑو اور ہڑپہ کا دریافت ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ سندھ کی جزوی تاریخ آٹھ ہزار سال تک پیچھے لے جاتی ہے۔ جس کا تذکرہ سرمواتی مرولر نے اپنی تصنیف ’’انڈس ویلی سولائزیشن اینڈ بیانڈ‘‘ میں کیا ہے جبکہ اسی دور سے تاریخی سندھ کھیل مالا کھیرو کی بھی روایات ملتی ہیں جبکہ نویں صدی میں محمد بن قاسم جب سندھ کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئے تو سندھ دھرتی پر ان کا پہلا معرکہ راجہ داہر سے ہوا۔ زیادہ تر لوگ سندھ دھرتی کو دریائے سندھ کے حوالے سے جانتے ہیں جبکہ تاریخ ہمیں کم از کم دو مزید دریائوں دریائے خاقرا اور دریائے سرسوتی کی سندھ سے گجرات تک موجودگی کی تاریخ بتاتی ہے۔ اسلام کی سندھ آمد کے بعد یہاں پر اولیاء اکرام اور شعراء کی خدمات اور کارناموں کی داستانیں بھی ملتی ہیں۔ سچل سرمست، لعل شہباز قلندر، سیہون شریف والے ، پیر جھنڈے والے، عبداللہ شاہ غازی، شاہ عبداللطیف بھٹائی کی دینی اور ادبی خدمات کو جھٹلانا ممکن نہیں۔ اسی طرح سندھی ادب کے ایک تخلیقی کردار عمر ماروی کی داستانیں بھی زبان زدِ عام ہیں۔ سندھی ادبی تاریخ کے مطابق ست سورمینوں یعنی سندھ کی سات ملکائوں کے قصے بھی بہت مشہور ہیں جیسے سسی پنوں، سوہنی مہینوال، شاہ جوری سالو، نوری جام تماچی،لینن چانسر، مومل رانو اور سورناتھ رائے دیاچ شامل ہیں جبکہ قدیم سندھی خاندانوں میں پگاڑہ، علی محمد راشدی، کھوڑو خاندان ،بھٹو، تالپور اور لاڑکانہ کے چانڈیو خاندان شامل ہیں۔ قارئین! ریسرچ کرنے کے بعد زرداری خاندان کے متعلق دلچسے شواہد ملے ہیں۔ زرداری قبائل لوئیر سندھ سے مکران تک اور حیدرآباد سے بدین تک پائے جاتے ہیں چونکہ یہ قبیلہ مال برداری کا کام سرانجام دیتا تھا اور اس وقت کے حکمرانوں اور راجائوں کے خزانوں کو اگر کسی دوسری جگہ منتقل کرنا مقصود ہوتا تو یہ قبیلہ اپنے خچروں پر لاد کر لے جاتا تھا۔ اسی لیے اسے زرداری یعنی مال لے جانے والا پکارا جانا لگا۔ قدیم سندھی تاریخ کے مطابق زرداری قبائل سندھ کے ’’جت‘‘ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیگر قدیم قبائل میں گبول، پیرزادے اور سندھی میمن بھی شامل ہیں۔ ٹورنٹو میں منعقدہ سندھی کلچر ڈے پر جام منیر، مبشر ملک، راج بانسری، رضوان لاثانی، میڈم سعدیہ میمن، فیصل صدیقی، شاہد بحرانی،نجمہ کلہوڑہ، رب نواز گھائو، سلیم اللہ قاضی اور حاجن کھوڑہ کی دن رات محنت اور آرگنائزنگ کی وجہ سے یہ بھرپور تقریب منائی گئی جبکہ سیمینار میں ڈپٹی قونصل جنرل ٹورنٹو قونصلیٹ واجد ہاشمی، پیر عادل راشدی اور راقم نے سندھی کلچر کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کیے۔ قارئین! میں چونکہ پہلے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بعدازاں شہید بی بی بے نظیر بھٹو کے مزارات پر ان کی برسی کے مواقع پر حاضری دیتا رہا ہوں۔ اس لیے مجھے بائی روڈ سندھ دیکھنے اور سندھی عوام کو پرکھنے کے مواقع ملتے رہے۔ خود میری ذاتی اور سیاسی دوستیاں بھی عبداللہ شاہ، مخدوم امین فہیم، سائیں قائم علی شاہ، پیر مظہرالحق، نفیس صدیقی، قیوم سومرو سمیت متعدد لوگوں سے تھیں اور جب میں سندھ جاتا تو ان کی میزبانی ملتی یا یہ صاحبان لاہور آتے تو مجھے میزبانی کا شرف بخشتے تھے۔ اس طرح سندھ کے میٹھے، معصوم اور شاعرانہ کلچر کو مجھے قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ تاریخ کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ تہذیبوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرکے خطے کے عوام کو دوست بناناناممکن نہیں۔ دراصل پاکستان مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کی ملاقات کا نام ہے اور مختلف قومیتیں مل کر ایک قوم کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جسے پاکستانیت کا نام دیا گیا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں نے اس صدی کے اوائل میں ’’مشرق اور مغرب کا ملاپ‘‘ نامی کتاب لکھی جس کو میں نے نئی دنیا کے قیا م کی خواہش کا نام دیا۔ میری یہ کتاب بعدازاں ایف سی کالج لاہور شعبہ انٹرفیتھ ریلجن اینڈ کلچر میں بھی پڑھائی گئی۔ بُک ہوم لاہور کے توسط سے شائع کی گئی اس کتاب میں تہذیب ،ثقافت اور تاریخ کے طالب علموں کے لیے مشہور تاریخ دانوں مثلاً جون ڈی راک فیلر کا ایشیا شناسی میں شہریوں کی ذمہ داری، جون شرمن کوپر کا حکومتوں کا تعامل، علی ساسترومی جویو کا مشرق اور مغرب کے تعامل پر ایک ایشیائی رائے، کورآدبا کا مشرق و مغرب میں ثقافتی تعامل، کینتھ ڈبلیو مورگن کا مشرق و مغرب میں فلسفے اور مذہب کا تعاومل، ایس رادھا کرشنا کا مشرق و مغرب کی ثقافت،جون کینتھ گیل بریٹ کا ہندوستان میں حریف اقتصادی نظریات۔ یعنی اس ایک تصنیف کے اندر دنیا کے نامور تاریخی مفکروں کے مقالہ جات قلم بند کئے گئے ہیں۔ قارئین! وہ سچل سرمست کی شاعری ہو یا شاہ عبداللطیف بھٹائی کے افکار، وہ خوشحال خاں خٹک کے اشعار ہوں یا بلھے شاہ کی معاشرتی ،تہذیبی، ثقافتی شاعری ہو یا فیض احمد فیض کی سوچ یا حضرت علامہ اقبال کا فلسفہ ہو۔یہ سب لوگ اپنے ادوار کے شاعر یا نثر نگار ہی نہیں تھے بلکہ یہ لوگ اولیاء اللہ بھی تھے، جس طرح یورپی دنیا نے آج تک شیکسپیئر کی ڈرامہ نگاری کے ذریعے مغربی تہذیب کی جو ثقافت پیش کی ہے وہ اتنی صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی یورپین معاشرے کی عکاس ہے۔ اسی طرح شاہ عبداللطیف بھٹائی، بلھے شاہ اور میاں محمد بخش کا کلام آنے والے ہزاروں سالوں تک ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے رابطے قومیت، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتا رہے گا۔ دراصل ہمارے عاقبت نااندیش حکمرانوں کی ذاتی خواہشات ، لالچ اور ہوسِ اقتدار نے تہذیبوں کے درمیان خلیج پُر کرنے کی بجائے اس میں فاصلے پیدا کیے تاکہ مختلف صوبوں کی قومیتوں کو باہمی دست و گریباں کرکے حکمران اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کلچرل ڈے کو قومی سطح پر منانے کی بجائے زرداری دورِ حکومت میں صوبائی سطح پر منایا گیا اور اس ثقافتی دن کو منانے کے دوران اربوں روپے ذاتی جیبوں میں بھر لیے۔ میری بحیثیت ایک سیاسی طالب علم قومی زعماء سے اپیل ہے کہ سندھی، پختون، بلوچ، کشمیری، گلگت بلتستانی، ہزارہ اور پنجابی کلچرل ڈے قومی اور سرکاری سطح پر منعقد کیے جائیں ۔ کسی بھی قومیت کا جب ڈے منایا جائے تو باقی صوبوں کے ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں اراکین کو مدعو کیا جائے۔ مثال آپ کے سامنے ہے کہ امریکہ نے کس طرح مختلف تہذیبوں کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا ہے جبکہ سوئٹزرلینڈ میں چار قومیتیں ، چار زبانوں، کلچر اور تہذیب کے ساتھ زندہ ہیں۔ اسی طرح کینیڈا میں اس وقت پچاسی مختلف تہذیبیں یک جا ہو کر ملکی ترقی کے لیے کوشاں ہیں جبکہ ہمارے ہمسایہ بھارت کے ہاں دو درجن سے زائد صوبے مل جل کر رہتے ہیں۔ جب تہذیبوں سے دوری اختیار کی جاتی ہے، جب قومیتوںکے راستے بند کیے جاتے ہیں تو مسلکوں کو تہذیبوں کو کچلنے کا موقع ملتا ہے۔ 12ستمبر2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus