×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ڈائمینشیا سیاست
Dated: 24-Oct-2017
خدا کرے ’’ڈائمینشیا ‘‘ کا علاج دریافت ہو جائے اور پاکستان کے ایسے سب سیاست دان، بیوروکریٹس، ججز، سفارت کار، تاجر جنہوںنے قومی خزانہ لوٹ کر اپنا سرمایہ غیر ملکی بینکوں میں رکھا ہوا ہے ان کی یادداشت واپس آ جائے اور وہ سینکڑوں ارب ڈالرز جو یورپ اور امریکہ کے بینکوں میں پڑے ہیں اس کو خود بخود ہی وطن واپس لے آئیں۔ تمام احباب شاید ایسا اس لیے نہیں کر پا رہے کہ وہ اپنے کائونٹس نمبر اور ان کے پاس ورڈز بھول چکے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے صرف ایک بینک، یو بی ایس میں پاکستان سے چرائے گئے ستانوے ارب ڈالرز پڑے ہیں جبکہ دیگر چھوٹے بڑے سوئیس بینکوں میں موجود پاکستانی قوم کا لوٹا ہوا سرمایہ ڈیڑھ سو ارب ڈالرز سے زیادہ ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے علاوہ لختن سٹائن، موناکو، برطانیہ، بیلیجم، فرانس ،کینیڈا اور امریکہ سمیت عرب ریاستوں میں پاکستان سے چرایا ہوا کالا دھن سینکڑوں ارب ڈالرز پر مشتمل ہے۔ قارئین! یہ سب میں نہیں کہہ رہا بلکہ وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ ایک سرکلر رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ پچھلے دنوں ایک اطلاع ملی کہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو خدانخواستہ ڈائمینشیا کا مرض لاحق ہو چکا ہے۔ میرے سمیت ہر پاکستانی کو رنج و دکھ ہوا کیونکہ ان کا خاندان پچھلے ڈیڑھ سال سے نصیبوں کے زیر عتاب ہے مگر اس خبر میں فکر والی یہ بات تھی کہ اگر میاں نوازشریف صاحب کی یادداشت واپس نہیں آئی تو غیر ملکی بینکوں میں پڑے ہوئے ان کے اثاثے نہ تو ان کے خاندان کے کام آئیں گے اور نہ ملک و قوم کے۔ قارئین! میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ زندہ رہنے کے لیے انسان کو جتنی روزی، روٹی چاہیے ہوتی ہے اس کا انتظام میرا پاک پروردگار ہر ذی روح کے لیے کر دیتاہے۔ میں نے اکثر اوقات مشاہدہ کیا ہے کہ جوں جوں انسان کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے اس کے کھانے اور ہضم کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ آپ نے بھی اپنے اردگرد اور اطراف میں دیکھا ہوگا کہ امیر آدمی شاپنگ سینٹرز کی بجائے ڈاکٹروں کے کلینک اور ہسپتالوں کے چکر زیادہ لگاتے ہیں۔ اسی طرح سابق صدر آصف علی زرداری اپنے کمائو باپ کی اکلوتی اولادِ نرینہ ہیں اور اتفاق سے ان کا بھی ایک ہی جانشیں ہے۔ آج سے چھ سال پہلے جس دن سابق صدر آصف علی زرداری کو برین ہیمبرج کا اٹیک ہوا تھا تو ٹھیک اسی روز میںبھی اس تلخ اور خوفناک تجربہ سے گزرا۔ خوش قسمتی سے میرے ساتھ ہزاروں جیالوں، دوستوں، احباب اور میری فیملی کی دعائیں تھیں اور آج میں نے یہ مشن بنا لیا ہے کہ مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الااللہ مگر جس نے قدرت کی طرف سے اس واضح اشارے کو نہ سمجھا وہ اقتدار کے پانچ سال پورے کرکے بھی ہرگزرتے راہگیر سے این آر اومانگ رہا ہے ۔ آج کل تو پاکستان میں یہ رواج جڑ پکڑ چکا ہے کہ اعلیٰ سوسائٹی میں بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کی اولادیں بڑے فخر سے بتاتی ہیں کہ ہمارے پاپا کی دو سو ارب کی پلی بارگیننگ ہو چکی ہے اور ایسے گھرانوں کے کنوارے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے رشتوں کی لائن لگ جاتی ہے جبکہ دوسری طرف رائیونڈ کی ایک سڑک پر ہسپتال کے باہر ایک غریب عورت اپنے بچے کو جنم دیتی ہے۔ ایک ملک میں ایک سابق خاتون اول لندن کے ایک کلینک میں تین دن داخل ہوتی ہے تو اس کے علاج کا خرچہ قومی خزانے سے چودہ کروڑ روپے ادا کیا جاتا ہے ۔ قارئین! آج کا دوسرا ایشو یہ ہے کہ پاکستان میں عدالتوں کا احترام ملحوظِ خاطر رکھنا تو درکنار بلکہ الٹا عدالتوں کو اکھاڑا بنا دیا جاتا ہے۔ پچھلے دو ماہ سے جو کھیل احتساب عدالت اسلام آباد میں کھیلا جا رہا ہے اس کی نظیر عالمی عدلیہ کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ معزز جج صاحب کو اس قدر ہراساں کیا جاتاہے کہ وہ کیس کی کارروائی روک کر اپنے چیمبر میں پناہ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ عدلیہ کی اس قدر پامالی پہ ہر ذی ہوش شہری پریشان ہے ۔ عدالتوں کے احاطہ جات کو سیاسی کارکن پریس کانفرنسز اورپبلک شو کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ایک وقت ہوا کرتا تھا کہ ایک سنگل کالمی خبرپر وزراء کو استعفے دینے پڑ جاتے تھے اور متعلقہ محکموں کے ذمہ داران کی گوشمالی اور باز پرس کی جاتی تھی اور آج 2017ء میں جب پاکستان کے سو سے زیادہ ٹی وی چینلز اور دو سو کے قریب ڈیلی اخبارات عدالتوں کے اندر اور باہر مارکٹائی اور لاقانونیت کی کوریج کرتے ہیں تو حکامِ بالا کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ ہم اس ماحول اور اس طرزِ زندگی کے عادی ہو چکے ہیں، اب یہ بدبو ہمیں بدبو نہیں لگتی۔ کرسٹینا لیمب ایک برطانوی صحافی خاتون ہیں ،انہوں نے پاکستان کے حالات پر ایک کتاب لکھی جس کا ٹائٹل تھا ’’اللہ میاں کا انتظار‘‘ اور قارئین! میں بھی یہ محسوس کرتا ہوں کہ ہم ایک سانحے کے گزر جانے کے بعد ایک اور سانحے کا انتظار کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے نظریں چرا کر اللہ تعالیٰ کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ قارئین! ملک کی ابتر معاشی صورتِ حال اور سیاسی دھینگا مشتی نے پاکستان کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کو کسی کام کا نہیں چھوڑا۔ جب ملک کے چیف آف آرمی سٹاف اس دگر گوں صورتِ حال پر ایک اکنامک سیمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں تو اس ملک کو ٹھیکے داروں کو یہ بھی گوارا نہیں ہوتا یعنی وہ تشدد کرتے ہیں اور چیختے بھی نہیں دیتے۔عالمی تناظر میں میری ذاتی رائے کے مطابق فوج اس گھرانے کا ایک اہم فرد ہے اور ادارے کو چلانے کے لیے فوجی قیادت کو نہ صرف تنخواہیں درکار ہوتی ہیں بلکہ حرب و ضرب کے لیے وسائل بھی درکار ہوتے ہیں۔ اگر فوج کے پاس جدید ٹینک ،لڑاکا طیارے اور دفاعی سامان نہیں ہوگا تو پھر فوج کیا خالی جذبوں سے لڑے گی؟ وطن عزیز اس وقت جس اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور لاء اینڈ آرڈرکا ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے جبکہ ہمارے تین اطراف سرحدوں پر دشمن اور دوست نما دشمن ہماری ہر کمزوری سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ یہ پاک فوج ہی کی مرہونِ منت ہے کہ پاک فوج اس نیوکلیئر طاقت پاکستان کا بھرم رکھے ہوئے ہے وگرنہ اس وقت دنیا کی پانچ انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں اور اس قدر سنگین حالات میں بھی پاکستان کے بڑے سیاست دانوں اور سیاسی قیادت کو عقل اور سمجھ نہیں آ رہی اور وہ اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ رہے نام اللہ کا غیر فانی اقتدار تو انسان کو نہیں بخشا گیا۔ مسلم لیگ ن بجا طور پر ابھی تک پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے لیکن مجھے کیوں نکالا اور قیادت کے مسئلے پر شریف خاندان کے اندر جو دراڑیں پڑ چکی ہیں وہ اب کوئی بریکنگ نیوز نہیں ہے۔ ویسے تو دونوں بھائی تقریباً ایک جتنے اقتدار سے لطف اندوز ہوئے اور دونوں ہی کے ایک جتنے اثاثہ جات بھی بن چکے ہیں۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ 2013ء کے الیکشن میں جس پارٹی نے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے وہ پارٹی قیادت کے بحران کا شکار ہو گی۔ یقینا مسلم لیگ ن کا ہر ووٹر پارٹی قیادت سنبھالنے کا اہل بھی ہے اور حقدار بھی کیونکہ جو ووٹ دے کر لیڈر بنا سکتا ہے وہ خود لیڈر کیوں نہیں بن سکتا۔ قارئین! پاکستان کو اس وقت بحرانوں سے نمٹنے کے لیے قائداعظم محمد علی جناح اور بھٹو جیسے دلیر لیڈر کی ضرورت ہے۔ 24اکتوبر2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus