×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مغلیہ حکمرانی اور مغل ثانی
Dated: 17-Oct-2017
گذشتہ کچھ دنوں سے پاکستان کے سیاسی ماحول میں ایک تلاطم کی سی کیفیت ہے اور یوں لگتا ہے کہ یہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ ایک طرف سابق وزیراعظم میاں نوازشریف صاحب کا کیمپ اور دوسری طرف عدلیہ اس بات پر مصر کہ اب کی بار کسی بھی قیمت پر عدلیہ کا نام داغدار نہیں ہوگا جبکہ پاک فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت ان معاملات میں کلیدی کردار ادا کرنے سے نہ صرف انکاری ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ سیاست دانوں کی اپنی غلطیوں اور لڑائی کے نتائج فوج کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ زبردستی کا امپائر بن کر اس میں کود پڑے اور اس دفعہ فوج پاکستان کے جغرافیائی حالات، اندرونی خلفشار، معاشی مسائل اور سیاسی افراتفری کو دیکھتے ہوئے بھی صرف اس وجہ سے غیر جانبدار رہنے پر مجبور ہے کہ ماضی میں فوج کے ردعمل کو ہمیشہ طالع آزمائی کا نام دیا گیا۔ بین الاقوامی محاذ پر پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی حتیٰ کہ ساڑھے چار سال تک وزارتِ خارجہ کا عہدہ خالی رہا جس کی وجہ سے متعدد واقعات میں پاکستانی خارجہ پالیسی کو خفت اٹھانا پڑی۔ حالات اس حد تک دگرگوں تھے کہ پچاسی پچاسی سال کے دو بوڑھے افراد سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کو مشیر خارجہ کی ذمہ داری سونپی گئی حالانکہ اس عمرمیں بندے کو تسبیح اور مصلے کی فکر ہوتی ہے اور پھر ان دو مشیروں کی آپس میں لڑائی اور مِس انڈرسٹینڈنگ عالمی دنیا میں ہمارے لیے جگ ہنسائی کی وجہ بنی۔ یہی حال دیگر وزارتوں کا بھی تھا اور نان سیریس فیصلے کرکے نان سیریس لوگوں کو ایسے حساس عہدوں پر لگایا گیا کہ جسے عقل تسلیم نہیں کرتی۔ جیسے خواجہ آصف کو وزیر بجلی و پانی اور ساتھ ہی وزیر دفاع لگا دیا گیا حالانکہ موصوف اپنے والد محترم خواجہ صفدر مرحوم کے زمانے میں جب وہ چیئرمین مجلس شوریٰ تھے خواجہ آصف صاحب یو اے ای میں ایک بینک میں ملازمت کرتے تھے اور یہی ان کی زیادہ سے زیادہ کوالیفکیشن تھی اس کا نقصان یہ ہوا کہ نندی پور پراجیکٹ سمیت وزارتِ بجلی و پانی کے بہاولپور قائداعظم سولر پلانٹ ،نیلم جہلم پراجیکٹ اور سبھی منصوبے فیل ہوئے جبکہ خواجہ صاحب کی وزارت کی باگ ڈور سنبھالتے ہی ایک صنعتی ٹائیکون کو ساڑھے چار سو ارب کی گشتی قرضتوں کی ادائیگی بھی اپنے پیچھے کئی سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے اور وزارت دفاع میں خواجہ صاحب جو اپنے پچھلے پارلیمانی ادوار میں پاک فوج پر تنقید اور طنز کے نشتر برسا کر شہرت حاصل کر چکے تھے۔ اس لیے اپنی فوج سمیت دیگر ممالک کے وزرائے دفاع خواجہ آصف صاحب کو سیریس نہیں لیتے تھے اور باقی رہتی سہتی کسر اسی محکمے کے چھوٹے وزیر عابد شیر علی سے ان کی چھیڑ چھاڑ اور اٹھکیلیوں نے نکال دی ۔ اس کے علاوہ وزارتِ خزانہ ایک ایسے شخص کو دے دی گئی جس کے ذاتی اثاثہ جات نوّے لاکھ سے نوّے کروڑ ہو گئے جبکہ گذشتہ ساڑھے چار سال کے دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پینتیس ارب ڈالرز کا قرضہ لے کر پاکستان کی آنے والی نسلوں کو بھی قرضے کی دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ قارئین! مغلیہ خاندان نے برصغیر پر ساڑھے تین سو سال کے قریب حکومت کی۔ بابر سے بہادر شاہ ظفر تک سبھی مغلیہ شہنشاہوں نے رعایا سے رزق اور روٹی نہیں چھینی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ مغلیہ دورِ حکومت میں ٹیکس اور لگان کی شرح پورے جنوبی ایشیا میں سب سے کم تھی۔ مغلِ اعظم شہنشاہ اکبر کی ذہانت اور تدبر تھا کہ صرف چند ہزار مسلمانوں کے ساتھ پورے برصغیر کو اپنے زیرِ تسلط کر لیا اور برصغیر کی اکثریتی قوم ہندوئوں کو اپنے زیر فرمان کیا۔ اسی طرح شاہجہاں کی تعمیرات اور جہانگیر کا عدل اور اورنگ زیب عالمگیر کا صوفیانہ مزاج جس میں وہ اپنا رزق حلال کرنے کے لیے ٹوپیاں سیتے تھے اور قرآنِ پاک کی خطاطی بھی کرتے تھے اور کمزور ترین مغلیہ حکمران بہادر شاہ ظفر کی تلوار جب کمزور ہوئی تو اس نے قلم کو تلوار بنا کر مسلمانوں کی رہنمائی کی۔ مغلیہ دور کے عظیم اثاثے تاج محل، قطب مینار، بادشاہی مسجد اور لال قلعے ان کی دھرتی سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں جبکہ دورِ حاضر کے حکمران جن کو لوگ مغلیہ ثانی کہتے ہیں اور جو اپنی عادات و اطوار اور مزاج کے لحاظ سے خود کو مغل شہنشاہوں کا تسلسل سمجھتے ہیں حالانکہ سچ یہ ہے کہ ان میں کوئی ایک بھی عادت،مزاج اور اطوار مغل شہنشاہوں جیسا نہیں ہے ۔ اس وقت پاکستان کی مجموعی آبادی پونے بائیس کروڑ کے قریب ہے جبکہ ان حکمرانوں کی نوازشیں صرف لاہور شہر تک محدود ہیں اور وہ بھی اس لیے کہ یہ لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔ اس لیے موجودہ حکمرانوں کو مغلیہ سلطنت کے عظیم شہنشاہوں سے تشبیہ دینا ان مرحومین مغلوںکی توہین ہے۔قارئین ! آپ مجھے کسی ایک مغل شہنشاہ کا نام بتائیں جس نے برصغیر سے دولت لوٹ کر ترکمانستان یا قازقستان پہنچائی ہو جبکہ کہا جاتا ہے کہ موجودہ حکمران خانوادے نے اپنی پینتیس سالہ سیاست اور تیس سالہ اقتدار کے دور میں کم از کم پانچ ہزار کروڑ سے زائد کا سرمایہ ملک سے باہر منتقل کیا۔ قارئین! گذشتہ دنوں خواجہ آصف جو اس وقت وزارتِ خارجہ کی مسند پر فائز ہیں نے وزارتِ خارجہ سے بریفنگ لیے بغیر اور پاک فوج کو پیشگی اطلاع دیئے بغیر خارجہ پالیسی پر بیان دے کر نہ صرف خود خفت اٹھائی بلکہ پاکستان کو بھی رسوا کرنے کا موجب بنے۔ اسی طرح وزیر داخلہ احسن اقبال صاحب نے امریکہ یاترا کے موقع پر پاک فوج اور اس کے ادارے آئی ایس پی آر کے خلاف بیانات دے کر بیچ چوراہے یہ ہنڈیا پھوڑ دی ورنہ اس سے پہلے شاید کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ پاک فوج اور موجودہ حکمران ایک ہی پیج پر اکٹھے ہیں۔ میرے خیال میں اور ایک عام پاکستانی کی نظر میں یہ کھیل اب ختم ہونے کو ہے طبلِ جنگ تو کافی دن پہلے بج چکا ہے حالانکہ آئی ایس پی آر کے میجر جنرل آصف غفور صاحب کہہ چکے ہیں کہ نہ ہی مارشل لاء لگے اور نہ ہی کسی ٹیکنوکریٹ گورنمنٹ بننے کا امکان ہے مگر ہمیں فوج کی نیت پر کوئی شک نہیں اور اس تاثر ڈھیل کی وجہ سے نوازشریف اور ان کے حواری عدالتوں میں ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں۔ لاانفورسمنٹ اہلکاروں کو تھپڑ رسید کیے جا رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے تقریباً تین درجن اراکین کو سیکیورٹی رسک قرار دیا جا چکا ہے۔ احتساب عدالت کے جج کو سرعام دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور پھر ختم نبوتؐ جیسے حساس معاملے کو ایشو بنا کر ذاتی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور پھر ان کے داماد صاحب جن کا مریم بی بی سے پچھلے چند سالوں سے کوئی رابطہ اور تعلق نہیں تھا اور اس کے ذریعے پارلیمنٹ کے فلور پر چیف آف آرمی سٹاف کی ذات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔کیا یہ سب وجوہات کافی نہیں کہ پاکستان کی عدلیہ اور پاک فوج ملکی سلامتی اور استحکام کی خاطر آگے بڑھیں وگرنہ لاڈ ہی لاڈ میں یہ سیاسی شریر بچہ بگڑ جائے گا۔ قارئین! پاکستان کی طرح وطن سے دور اوورسیز پاکستانیوں میں بھی موجودہ ملکی حالت پر تشویش پائی جاتی ہے اور ٹورنٹو کینیڈا میں اوورسیز پاکستانیوں کی تنظیم نے ’’لمحہ فکریہ‘‘ کے نام سے ایک نشست کا اہتمام مقامی ریسٹورنٹ میں کیا اور مجھے اس میں چیف گیسٹ کے طور پر مدعو کیا گیا۔ تقریب سے شہید چوہدری ،چوہدری محمد اقبال، محمد احمد چوہدری اور سلمان چیمہ نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے وطن میں ابھرتے ہوئے مسائل خصوصاً پاکستان کے معاشی حالات پر اپنے تحفظات کا ظہار کیا اور ملکی سلامتی کے اداروں، عدلیہ اور عوام سے اپیل کی کہ وہ سرحدوں سے باہر اور سرحدوں کے اندر ملِّی تحفظ کو یقینی بنائیں۔ شرکاء نے راقم سے مطالبہ کیا کہ ان کے جذبات کو پاکستان کے موقر روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے ذریعے پاکستانی عوام تک پہنچائیں۔ 17اکتوبر2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus