×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا بلاول کو بھٹوز کا فکر و فلسفہ منتقل ہو سکے گا؟
Dated: 13-Feb-2010
قائدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو جب تختہ دار پر چڑھایا گیا تو اس سے پہلے انہوں نے اپنی بڑی بیٹی بینظیر بھٹو کی سیاسی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ جب وہ 90ہزار فوجیوں کی رہائی کے لیے شملہ گئے تو 16سالہ بینظیر ہر وقت باپ کے ساتھ موجود رہی اور عالمی معیار کی لیڈرشپ کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور بات کرنے کا گُر سیکھا۔ 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پاکستانی قوم کو اپنے اصولوں کے باعث ایک بڑے لیڈر سے محروم کیا تو انہوں نے ایک جرنیل کے ہاتھوں مرنا تو گوارہ کیا لیکن تاریخ میں وہ ایک فاتح کی حیثیت سے جانا جاتا رہے گا۔ انہوں نے اپنے سیاسی وارثوں کے لیے ایک ایسی وراثت چھوڑی کہ جس پر وہ بجا طور پر فخر محسوس کر سکتے تھے۔ اوائل جوانی میں جب شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو ٹوٹی پھوٹی اور زخموں سے چور پیپلزپارٹی کی قیادت اپنی والدہ کے ساتھ مل کر سنبھالنا پڑی تو اس وقت تک پارٹی کے بے شمار لوگ آمر کے ساتھ مل چکے تھے۔ مگر بھٹو کے دیئے ہوئے فلسفے اور لگن کی وجہ سے محترمہ بینظیر بھٹو اپریل 86ء میں وطن واپس آئیں تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہواسمندر ان کے استقبال کے لیے لاہور کی سڑکوں پر موجزن تھا۔ 1988ء میں جب محترمہ نے اقتدار سنبھالا تو اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کا جرات کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے پارٹی کی تنظیم سازی کی اور عورتوں کے حقوق کی جو جنگ لڑی اس کی پاداش میں ان کو اقتدار سے محروم کر دیا گیا۔ قائدعوام کی رفاقت میں بینظیر بھٹو نے جو تربیت حاصل کی وہ اس سے پیچھے نہ ہٹیں، انہوں نے اس ملک کے کروڑوں عوام کے مستقبل کو نظر میں رکھ کر ہمت نہ ہاری اور 1993ء میں دوسری مرتبہ اقتدار میں آ کر اپنے اور اپنے والد کے نامکمل مشن کی تکمیل کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو نیوکلیئر بم کا تحفہ دیا تھا۔ بینظیر بھٹو نے نیوکلیئر میزائلوں کا تحفہ دے کر قائدعوام کی وارث اور جانشیں ہونے کا صحیح حق ادا کر دیا اور پھر جب محلاتی سازشوں اور پاکستان کے استحکام کی دشمن قوتوں نے انہیں ایک مرتبہ پھر اقتدار سے علیحدہ کیا تو دو سال تک لاہور کراچی اور اسلام آباد کی عدالتوں کے روزانہ چکر لگوا کر انہیں تھکا دینے کی سعی لاحاصل کی گئی۔ لیکن آہنی اعصاب کی مالک بینظیر نے اس قوم کو کہیں بھی شہبہ نہ ہونے دیا اور اس قوم اور جمہوریت کی جنگ لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ داخلی اور خارجی محاذوں پر لڑتی رہی۔ اس کے شوہر سینیٹر آصف علی زرداری کو آٹھ سال تک پابندِ سلاسل رکھا گیااور خود جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئیں اور پھر ایک سازش کے تحت انہیں 2007ء میںوطن واپس بلوا کر شہید کر دیا گیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفہ بلوا کر شہید کیا گیا تھا۔یہ عالم اسلام اورپاکستان کے کروڑوں عوام کے لیے ایک دوسرے کربلا کی مانند تھا۔ لیکن شہادت کا جام نوش کرتے ہوئے شہید محترمہ بینظیر بھٹونے اپنے سیاسی وارثوں کے لیے اپنے باپ ذوالفقار علی بھٹوکی طرح سیاسی فلسفہ چھوڑا۔ جس پر جناب صدرِ مملکت آصف علی زرداری صاحب نے پاکستان کھپے کی مہر لگا کر اس فلسفے کو امر کر دیا۔ لیکن آج دوسال گزرنے کے بعد بینظیر بھٹو شہید کے حقیقی سیاسی وارث جو کہ اس کے جیالے اور کارکن ہیں۔ وہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ اس وقت کہاں کھڑے ہیں؟ پارٹی کے پارلیمانی اور تنظیمی اجلاسوں میں کارکن یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ امپورٹڈ لیڈر پارٹی کے اندر کیسے گھس آئی ہے۔ کیا یہی بناوٹی لوگ پارٹی کی لیڈرشپ ہیں؟ کیا یہ لوگ خدانخواستہ مستقبل میں کسی مصیبت کی صورت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے بھی ہوں گے؟ یا سیاسی موسم دیکھ کر نئے رنگ میں رنگے جائیں گے۔ کارکن یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ لوگ تب کہاں تھے جب قاسم ضیاء کی گاڑی کو پولیس کا لفٹر اٹھا رہا تھا، جب ساجدہ میر کو تپتی سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا تھا، جب سینیٹر آصف علی زرداری کو ضمانت کے بعد دبئی سے لاہور آنا تھا تو میرے غریب خانے پر ہر روز پارٹی کی اعلیٰ قیادت بمع اے آر ڈی کی قیادت کے اور آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی بغیر کسی خوف اور دبائو کے ہر روز میٹنگز کیا کرتے تھے اور پھر 15اپریل کی شب اندرونی مخبری کی بنیاد پر میرے سمیت جہانگیر بدر، قائم علی شاہ، منظور وسان، قاسم ضیاء، نوید چودھری،جوزی بٹ،میاں مصباح الرحمن،ڈاکٹر قیوم سومرو،عزیز الرحمان چن اور ڈاکٹر نوید اکرم (مرحوم)کو گرفتار کیا گیا تو آج صدرِ مملکت کے گرد حصار بنائے کھڑے اعلیٰ عہدوں پر فائز یہ لوگ تب کہاں تھے؟کارکنوں کی اس سوچ کو جھٹلانا ناممکن ہے اور میں یہ بات آج بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ ایسا کوئی وقت آیا تو صوبائی و وفاقی وزیروں، مشیروں اور پارٹی کے کلیدی عہدوں پر براجمان یہ لوگ اپنا ’’قبلہ‘‘ تبدیل کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کریں گے۔کیوں کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت پر مٹھائیاں تقسیم کیں، ڈھول کی دھاپ پر بھنگڑے ڈالے، ہر آمر کے دور میں اس کے کاسہ لیس اور حاشیہ بردار بنے رہے۔ شہید محترمہ اور آصف علی زرداری کے بارے میں مغلیضات بکتے تھے۔ آج جیالے ہم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر پارٹی کے کلیدی عہدوں اور اقتدار میں جگہ پانے کے لیے آصف زرداری اور بھٹو خاندان کو گلیاں نکالنا معیار ہے توپھر وہ بھی کسی ایسی اکیڈمی میں داخلہ لے لیتے ہیں جہاں یہ سب کچھ سکھایا جاتا ہے۔ جیالے پریشان ہیں کہ قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے فکر اور ازم کا فلسفہ سیاسی وراثت میں چھوڑا۔شہید بینظیر بھٹو نے جمہوریت بہترین انتقام کا لازوال نظریہ سیاسی وراثت میں چھوڑا تو موجودہ قیادت اپنے آنے والے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری کو کون سا فلسفہ، نظریہ اور کاز منتقل کر رہی ہے۔ قربانیاں دینے والے جیالوں کے ذہنوں کے اندر یہ سوال بڑی تیزی سے اٹھ رہا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں کیا ان کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ غریبوں کی بات کرنے والی پیپلز پارٹی ہر دفعہ اقتدار ملنے کے موقع پر اقرباپروری اور لابیوں کا شکار ہو کر سینٹ کی سیٹیں کلیدی عہدے اور صوبائی و قومی اسمبلیوں کی خصوصی نشستیں اور محکموںکی چیئرمینیاں پھر انہی مخدوموں، نوابوں، لغاریوں،مزاریوں اور وٹوئوں کے لیے مختص کر دیتی ہے اور کارکن اس انتظار میں ایک دفعہ پھر مصائب جھیلنے کے لیے طفل تسلیوں پر گزارا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور پیپلز پارٹی کے حقیقی کارکنان اور جانثاران مصیبت کے وقت میں ’’یاجوج ماجوج‘‘ کی طرح آمریت کی دیوار کو چاٹتے رہتے ہیں لیکن ان کی سالوں کی محنت پر ہر دفعہ کچھ خفیہ اور اندرونی و بیرونی پیارے ہاتھ دکھا جاتے ہیں۔آج ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور عوام شعور کی بلندیوں تک پہنچ چکے ہیںانفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں اب ایک عام آدمی اور جیالے کو شاید بے وقوف بنانا اتنا آسان نہیں رہا کیونکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اس دنیا کو گلوبل ویلج کی صورت دے دی ہے اور پھر عوام کے اندر بڑھتا ہوا شعور کہیں جیالوں کو پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت سے متنفر نہ کردے اور یہ چوری کھانے والے ’’مجنوں‘‘ نہ توبلاول کے شہید نانا کے ساتھ رہے تھے نہ بلاول کی شہید ماں کے ساتھ اور نہ ہی بلاول بھٹوکے باپ کے ساتھ رہیں گے اور نہ ہی بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ وفا نبھائیں گے کیونکہ یہ لوگ تو ان جونکوں کی مانند ہیں جو عوام کا احتصال اور ان کا خون چوسنا اور ان کی لاشوں پر پائوں رکھ کر اقتدار تک پہنچنا اپنا استحقاق سمجھتے ہیںاورمصیبت میں ساتھ چھوڑ دینا جن کی فطرت میں شامل ہے۔ ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus