×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وزیراعظم اورصدر کا قوم سے متوقع خطاب
Dated: 18-Feb-2010
میرے عزیز ہموطنو۔ السلام علیکم! آج اٹھارہ فروری کا دن ہے اور گذشتہ قومی انتخابات کو دوسال گزر چکے ہیں۔ الیکشن میں پاکستان کے اٹھارہ کڑور عوام نے ہمیں حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا تھا۔ یہ مینڈیٹ ایسے ہی نہ جھولی میں ڈال دیا گیا تھا بلکہ اس کے پیچھے پاکستان پیپلز پارٹی کی لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم ہیں۔96ء میں جب اقتدار پیپلز پارٹی سے چھینا گیا اور ایک دفعہ پھر کارکنان کی ابتلا اور آزمائش کا دور شروع ہوا۔ خود میرے سمیت سینکڑوں کارکنان کو جھوٹے اور سیاسی رقابت کی بنیاد پر بنائے گئے مقدموں میں پھنسا دیا گیا مجھے جو کہ اس وقت سپیکر قومی اسمبلی تھا اور مجھے عوام کو نوکریاں دینے کے سنگین جرم کی پاداش میں پابندِ سلاسل کر دیاگیا۔ مجھے یادہے جب احتساب عدالت راوپنڈی کی عدالت میں جج صاحب کے سامنے بیٹھا تھا۔ فیصلے کا وقت آیا تو ہم فیصلہ سننے کے لیے کھڑے ہوئے تو آج کے صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے میرا دایاں اور میرا بایاں ہاتھ پارٹی کے ایک دوسرے جیالے مطلوب وڑائچ نے پکڑ کر بلند کر رکھا تھا اور یہ میرے ساتھ میری پارٹی اور عوام کی طرف سے اظہارِ یکجہتی کا خوبصورت منظر تھا میں نے اپنے حصے کی اور کارکنان نے ناکردہ گناہوں کی سزا بڑی جرات سے کاٹی جبکہ سینٹر آصف علی زرداری نے مسلسل آٹھ سال اذیت اور مصائب سے بھری جیل بہادری اور جرأت مندی سے کاٹی۔ یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز کی صحافت پر چمکتے چاند جناب مجید نظامی صاحب نے جناب آصف علی زرداری کو مردِ حُر اور مرد راہوار کا خطاب دیا۔ ہمیں پھنسانے والے بھی زیادہ عرصہ قدرت کے مکافاتِ عمل سے بچ نہ سکے تو انہی کے اپنے تراشے ہوئے آمر نے 12اکتوبر 99ء کو ان کے اقتدار کی بساط لپیٹ دی جبکہ اس سے پہلے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جنہیں صبح کراچی،دوپہر راولپنڈی،شام کو لاہور کی احتساب عدالتوں کے چکر لگوائے جاتے تھے اور انہیں مجبوراًجلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ لیکن ہمیں اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سینٹر آصف علی زرداری کو پوری دنیا میں بدنام اور رسواء کرنے والے بھول گئے کہ ایسا کرنے سے انہوں نے پاکستان کے مستقبل کو دائو پر لگا دیا ہے اور آئندہ دیارِ غیر میں ایشیاء اور یورپ کی قوتیں حکومت پاکستان پر نہیں بلکہ پاکستانیوںپر اعتبار کرنا چھوڑ دیں گی۔ پھر ہمارے انہی دوستوں کو جب جلاوطنی اختیار کرنا پڑی اور قیدوبند کی صعوبتوں میں مبتلا ہوئے تو ہمیں لگا کہ انہیں احساس ہو گیا ہے کہ جب اپنے اوپر ابتلائیں امڈ آئے تو دوسرے کے درد کا احساس ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوابزادہ نصراللہ مرحوم کی کاوشوں سے اے آر ڈی کی بنیاد رکھی گئی اور پھر نوابزادہ مرحوم کی کاوشوں اور سیاسی راہنمائوں کی لگن سے میثاقِ جمہوریت کی بنیاد رکھی گئی اور وہ تمام معاملات جن کی وجہ سے سیاسی قوتیں ایسے میں برسرپیکار رہتی تھیں ان پر ایک لمبے عرصے کے غوروفکر کے بعد اس ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے دستخط کر دیئے۔ اس دوران شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس بات کا ادراک کر لیا تھا کہ ملک کے نہتے عوام ان بندوقوں والی قوتوں سے جنگ سے نہیں مذاکرات سے جیت سکتے ہیں شاید محترمہ شہید کے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ اس دوران جناب شہباز شریف صاحب کو لاہور اور میاں نوازشریف صاحب کو اسلام آباد کے ایئرپورٹس سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا اور پورے ملک میں کوئی پتا بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا تھا چونکہ آمر کو صرف میثاقِ جمہوریت سے نہیں ہٹایا جا سکتا بلکہ آمرانہ قوتوں کے ساتھ بھی ایک میثاق کی ضرورت تھی اسی لیے این آر او کا معاہدہ کیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن آمد کے بعد میاں برادران وطن واپس تشریف لاسکے اور پھر محترمہ کی کاوشوں اور مذاکرات کے نتیجے میں آمر نے وردی اتاری بلکہ انتخابات کا اعلان کیا اور پھر اسی الیکشن مہم کے دوران انہیں شہید کر دیا گیا۔ اس موقع پر آصف علی زرداری نے ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگا کر نہ صرف ٹوٹنے کے قریب پاکستان کو بچا لیا بلکہ پاکستان کے وفاق کو سہارا دیا۔ اس دوران مسلم لیگ ن کے قائدین نے دو دفعہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا مگر آصف علی زرداری نے اپنے ان نئے دوستوں کو انتخابات پر آمادہ کیا۔ اور خود پوری پیپلز پارٹی شہید محترمہ کے 40روزہ سوگ میں مصروف ہو گئی جبکہ مسلم لیگ ن نے انتخابی سرگرمیاں جاری رکھیں اور وہ مسلم لیگ ن جو الیکشن سے پہلے 25سیٹیں جیتنے کا دعوی کر رہے تھے الیکشن نتائج خود ان کے لیے حیران کن تھے اور انہوں نے تین گنا زیادہ سیٹیں حاصل کیں۔ اس طرح اس ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں نے اپنے کولیشن پارٹنر کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا اعلان کیا اور مجھے فخر ہے کہ مجھے پہلا بلامقابلہ وزیراعظم منتخب ہونے کا موقع ملا، اعزاز ملا۔ حکومت بننے کے ابھی ابتدائی مراحل تھے کہ ہمارے کولیشن پارٹنر ہمیں داغ مفارقت دے گئے اور پیپلز پارٹی نے زخموں سے چور اور معاشی طور پر منہدم ہونے کے قریب پاکستان جہاں نہ بجلی تھی نہ آٹا، گندم نہ دھان، نہ زرعی ادویات، نہ کھاد، نہ چینی جہاں ہمارے منتخب ہونے کے ایک ماہ بعد اس ملک کی دشمن قوتوں نے زرمبادلہ اورڈالر باہر بھجوا کر ڈالر 63سے 83روپے تک راتوں رات پہنچا دیا۔ بجلی کے بحران اور کاروباری کساد بازاری کی وجہ سے ڈانوڈول معیشت اور اوپر سے جمہوریت دشمن قوتیں پھر متحرک ہو گئی۔ جبکہ ہم نے وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داری ملتے ہی سب سے پہلے مقید ججوں کو رہا کیا اور پھر ملک کو ایک دفعہ پھر بچانے کے لیے 16مارچ کو اعلان کیاکہ 21 مارچ سے تمام معزول ججز کو ری سٹور کیاجاتاہے۔ ایک طرف ملک میں لاقانونیت کا بڑھتا ہوا عفریت، دوسری طرف عالمی کساد بازاری کی وجہ سے آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتیں اور تیسری طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ، جس میں پاکستان اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور پاک فوج کے شانہ بشانہ جمہوری حکومت خطرات سے بے پرواہ آگے بڑھتی چلی گئی۔ جہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے لازوال قربانیاں رقم کیں اسی دوران انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نقل مقانی ہوئی اور کوئی نہ سمجھتا تھا کہ یہ لوگ واپس گھروں کو جا پائیں گے مگر آپ نے دیکھا کہ یہ کام بھی بخوبی احسن انجام پایا۔ ہماری جمہوری حکومت نے گندم کے بحران پر قابو پایا اور آج ملک بھر میں اتنے گودام موجود نہیں کہ گندم ذخیرہ کی جا سکے۔ چاول اور چینی کی مناسب قیمتیں مقرر کیں اور آج کھادزرعی ادویات سمیت الحمد اللہ ہر چیز مارکیٹ میں موجود ہے۔ بجلی جو کہ سابقہ ادوار میں ایک میگاواٹ بھی نہ پیدا کی گئی تھی اب رینٹل پاور اور نئے ڈیموں کی تعمیر کے آغاز سے انشاء اللہ آئندہ برسوں میں پاکستان توانائی کے حصول میں اتنا خودکفیل ہو جائے گا کہ ہمسایہ ممالک کو بجلی برآمد کر سکے گا۔ ہم نے صوبوں کے درمیان پہلی دفعہ اتفاق رائے سے این ایف سی ایوارڈجاری کیا۔ بلوچستان کے لیے پیکیج جاری کیا، سرحد میں دہشت گردی سے تقریباً چھٹکارا پایا جا چکا ہے۔ ہم نے فرینڈز آف پاکستان کا فورم تیار کیا۔ آج پاکستان ماضی کی طرح عالمی برادری میں تنہا نہیں ہے۔ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ عزت مندانہ معاہدے کیے۔ لیکن ہمارے دوست جو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بیٹھے ہیںاورکچھ طالع آزما قسم کے دوست اور ان سے مل کر ایک میڈیا گروپ جو امن کی آشا کے نام پر دشمن کی بھاشا بھول رہا ہے اس وطن عزیز کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ رہے اور آئے دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اور اس کی قیادت کے سیاسی استحصال کی کوششوں میں مصروف ہیں جس سے پاکستان کی سالمیت ایک دفعہ پھر دائو پر لگ گئی ہے اس لیے ملک کے وسیع تر قومی مفاد میں ہم نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو کہ یقینا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے مگر اب ہم پاکستان کی قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنا نہیں چاہتے اس لیے میں آج وفاقی کابینہ کو توڑنے کا اعلان کرتا ہوں تاکہ ملک اور قوم کو مڈٹرم الیکشن کے بوجھ سے بچایا جا سکے اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے بہتر طور پر حکومت چلا سکتے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ آیئے بسم اللہ کریں یہ وزارتِ عظمیٰ اور کابینہ کی کرسیاں حاضر ہیں ہم آئندہ الیکشن میں اپنے آپ کو عوام کی عدالت میں پیش کرکے یقینا سرخرو ہوں گے۔’’پاکستان پائندہ باد‘‘ صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری کا قوم سے خطاب میرے عزیز ہموطنو! آج اٹھارہ فروری کو انتخابات کے دو سال ہو گئے ہیں ہمارے منتخب وزیراعظم نے وسیع تر قومی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اور استحکام پاکستان کے دشمنوں کو شکست فاش دینے کے لیے عوام کے میجارٹی مینڈیٹ کے باجود آج وفاقی کابینہ توڑ کر استعفے دے دیئے ہیں۔ دراصل ہمارے منتخب وزیراعظم نے ایسا کرکے ان قوتوں کو حیران کر دیاہے جو خدانخواستہ پاکستان کو شکست و ریخت سے ہمکنار کرنا چاہتے اور وہ پاکستان جو اس وقت بین الاوامی محاذوں اور اندرونی محاذوں پر مشکلات کا شکار ہے۔ اس کو اس بحران در بحران سے نکالنے کے لیے ایک دفعہ پھر ایثار اور قربانی کا درس دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ماضی میں قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کی ہے اور ہر عشرے میں اپنے ایک لیڈر کے خون سے اس وطن کو جلابخشی ہے۔ جب 70کے عشرے میں قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ جب 80ء کی دہائی میں میر شاہنواز بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ جب 90کی دہائی میں میر مرتضیٰ بھٹو کو شہید کر دیا گیا اور جب 2000ء کی دہائی میں اس ملک کے وفاق، اس ملک کے چاروں صوبوں کے درمیان زنجیر کو توڑ کر محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا تاکہ اس وطن عزیز کو خدانخواستہ توڑا جا سکے تو ہم نے ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگا کر اس وطن میں لگی آگ پر اپنے خون اور آنسوئوں سے قابو پایا۔ مگر جمہوریت کے دشمن یہ سب کب برداشت کرتے ہیں کہ اس ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں میثاقِ جمہوریت پر عمل کرکے ان ملک دشمنوں اسٹیبلشمنٹ قوتوں کو منطقی انجام تک پہنچا سکیں۔ اس لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اور لیڈرشپ کے خلاف ایک دفعہ پھر ایک نہ ختم ہونے والی سازش بُو دی گئی ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان کا اپنی کابینہ توڑ کر اپنے عہدوں سے استعفے دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اب ان قوتوں کو کامیاب نہ ہونے دے گی میں وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے استعفے قومی مفاد میں منظورکرتا ہوں اور اس ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کو دعوت دیتا ہوں کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ متبادل قیادت کے طور پر وہ اپنا فرض ہم سے بہتر ادا کر سکتے ہیں تو حکومت بنانے کی ہماری دعوت قبول کریں اور ہم پنجاب میں بھی دونوں جماعتوں کے درمیان جاری رسہ کشی کو ختم کرنے کے لیے اپنے وفاقی نمائندے گورنر پنجاب کو بھی واپس بلانے کا اعلان کرتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی آئندہ الیکشن میں اپنے عوام کے سامنے جوابدہ ہو گی کیونکہ عوام ہی اصل منصف اور اصل جج ہیں اور ہمیں اپنے عوام کے فیصلے پر اعتماد ہے۔ ’’پاکستان پائندہ باد، عوام زندہ باد۔‘‘ اور پھر میری آنکھ کھل گئی میں سوچ رہا ہوں کہ یہ خواب نہیں حقیقت ہے جو اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام نے آج کی شب میرے ساتھ دیکھا ہے اور میں دعا مانگ رہا ہوں کہ یا رب اگر میری پارٹی کی لیڈرشپ اس خواب پر عمل کر لے تو وہ ہمیشہ کے لیے پاکستان کے عوام کے دلوں میں اپنا گھر بنا لے گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus