×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شاید اب ہمیں راستہ چھوڑ ہی دینا چاہیے
Dated: 06-Mar-2010
اس کا تعلق گجرات کے ایک مہذب گھرانے سے ہے اور اس کے اندر شروع سے ہی لیڈرشپ خوبیاں موجود تھیں وہ اپنے سکول وکالج کے زمانے سے سٹوڈنٹ پالیٹکس اور شہید قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کی دیوانی ہے اس کا باپ ایک اعلیٰ سرکاری ملازم تھاجو اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہا تھا۔ وہ بھی بھٹو کا چاہنے والا تھااور پھر ایک دن بھٹو کو ملنے کی تڑپ لیے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔وقت کا پہیہ آگے چلتا گیا بھٹو کی دیوانگی پھر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی چاہت میں تبدیل ہو گئی۔ جب میں 2002ء میں پاکستان شفٹ ہو ا اور الیکشن کے بعد مجھے گجرات جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے بھٹوز کی اس جیالی کی داستانیں سنیں۔وہ باپ کے مرنے کے بعد تعلیم جاری نہ رکھ سکی تو گھر والوں نے اس کی شادی کروا دی۔ اور وہاں سے وہ ایک دن اس وجہ سے طلاق لے کر گھر آ گئی کہ اس کے شوہر نے بھٹوز کے متعلق مغلظات کہے تھے اوربھٹو کی جیالی اس پر کمپرومائز نہ کر سکی۔ہر آمرانہ دور میں گجرات کی اس جیالی نے پیپلز پارٹی کا پرچم تھامے رکھا مجھے اس بات پر بھی حیرت ہے کہ جب میری اس سے ملاقات ہوئی تو اس کے پاس کوئی بھی پارٹی عہدہ تک نہ تھا مگر پیپلز پارٹی کو جب بھی اس کی ضرورت پڑتی وہ سینکڑوں ساتھیوں کے ساتھ گجرات سے لاہور تک موجود ہوتی۔پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جناب جہانگیر بدر صاحب اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ ایک چھوٹی سی پارٹی کال پر نہ صرف ایونٹ میں شرکت کرتی بلکہ ساتھی کارکنوں کے چھوٹے موٹے معاشی مسائل کا بھی انتظام کرتی اور اس طرح اخراجات کرتے کرتے ایک دن وہ نوبت آن پہنچی کہ اسے اپنے باپ کا چھوڑا ہوا آبائی مکان بھی بیچنا پڑا۔اس دوران اس کی والدہ بھی اسے داغِ مفارقت دے چکی تھی۔گجرات شہر سے پیپلز پارٹی کے دیرینہ ساتھی اور سابق ضلعی صدر میاں مشتاق پگاں والا مرحوم اور ان کی فیملی اس جیالی کے کارناموں کی وجہ سے اس کی بڑی عزت کرتے ہیں۔ گذشتہ بلدیاتی الیکشن میں اسے گجرات کی تحصیل کونسل کا ممبر بنایا گیا اور وہ پیپلز پارٹی کی ایک عہدیدار کی حیثیت سے اپنے کام سے انصاف اور وفاداری نبھاتی رہی۔گذشتہ الیکشن 2007ء میں پارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر صاحب اسے صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ دینے کے لیے بھی تیار تھے مگر اس نے کمال انا پسندی سے جواب دیا چونکہ وہ گریجوایٹ نہیں اس لیے جھوٹی سند بنوا کر اپنے ضمیر کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتی حالانکہ بے شمار لوگوں نے اس نظریہ کو اپنے پائوں تلے روندا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے جانثاروں میں جیالی کے نام سے پہچانی جانے والی گجرات میں اپنا مکان بیچ کر چند سال تک پارٹی کو چلاتی رہی اور پھر اسے لاہور اپنے ننھیال کے ہاں شفٹ ہونا پڑا مگر گجرات پیپلز پارٹی کی ایک چھوٹی سی کال پر وہ فوراً گجرات پہنچ جایا کرتی تھی۔الیکشن 2008ء کے بعد کچھ مصروفیات کی وجہ سے اس سے ملاقات نہ ہو سکی۔چند روز پہلے اچانک مجھے وہ لاہور کی ایک مارکیٹ میں نظر آئی میں پہلی نظر میں اس کو پہچان نہ سکا کیونکہ وہ بیماری سے لڑتے لڑتے کافی کمزور ہو چکی تھی، میں نے پہچان کر پوچھا ’’فرحانہ‘‘کیا حال ہے کیا کر رہی ہو ؟وہ یکمشت پھٹ پڑی اور اپنے جذبات قابو میں نہ رکھتے ہوئے بولی کدھر ہے تمہاری لیڈرشپ ؟اٹالین اور فرنچ سوٹنگ کے ساتھ وزیراعظم سے زیادہ کوئی ماڈل لگنے والا کدھر ہے؟ کدھر ہے تمہارا صدر جو جیالوں کو دلاسا دینے کے لیے ان تک نہیں پہنچتا جبکہ وہ جس شخص کا داماد ہے اس نے سولی پر چڑھنا قبول کر لیا مگر عوام سے دوری اسے قبول نہیں تھی۔بلکہ اسی طرح اس کی بیٹی نے بھی شہادت کا تاج اپنے سر پر رکھ لیا مگر عوام سے دوری اسے بھی قبول نہ تھی وہ موت سے اٹھکیلیاں اور آنکھ مچولیاں کرتی ہوئی اپنے عوام پر نثار ہو گئی۔اسے جان دینے کی کیا ضرورت تھی کہ جب اس ملک میں کارکنوں کی یہی حالت رہنی تھی کیا ضرورت تھی مجھے بھی قربانیاں دینے کی میں پچھلے دو سال سے کسی غریب کارکن کو ایک نوکری دینا تو درکنار انہیں ان کے معاشی قتل عام سے نہیں بچا پائی اور اقتدار کے نشے میں بیٹھے تم لوگ یہ بھول گئے ہو کہ تمہیں پھر انہی عوام میں واپس جانا ہے کیا تم نے یہ تہیہ کر لیا ہے کہ اب کی بار عوام کے سامنے گردن جھکا کر جائو گے ؟یا پھر سرخرو ہو کر۔ فرحانہ بولتی چلی گئی وہ کہہ رہی تھی آج ہمارے منتخب لیڈربھی ہمیں پہچاننے سے انکاری ہیںاور وہ کہ جن کے لیے ہم نعرے لگاتے لگاتے بے ہوش ہو جاتے تھے آج جب ہم ہوش میں آئے ہیں تو پتا چلا کہ سیاست میں دل کا کوئی کام نہیں،وہ کہنے لگی ہم جیالے تو جئے بھٹو کا نعرہ مستانہ لگا کر شمع جمہوریت پر نثار ہوتے جاتے ہیں لیکن میں اپنی ساتھی ان غریب عورتوں،بیکار طالبعلموں کو اب منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی جنہیں یقین تھا کہ پیپلز پارٹی کو اقتدار ملتے ہی ان کے بھی دن پھریں گے۔ فرحانہ بولی مگر آج وہ سب لیڈر مجھے تمہاری طرح جھوٹے نظر آتے ہیں کیونکہ تم لوگ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فارم تک ان دکھی لوگوں تک نہ پہنچا سکے۔وہ کہنے لگی آج پیپلز پارٹی کے صاحبِ اقتدار لوگ ان غریب ساتھیوں کو پہچاننے سے انکار کرتے ہیں جن کے کاندھے پر چڑھ کر وہ اقتدار کی بلندیوں پر پہنچے لیکن اب کارکنوں کو سمجھ آ گئی ہے اب وہ اپنے کاندھے ان اقتدار کے حرص زادوں کے پائوں کے نیچے سے نکال لیں گے۔ وزیراعظم کو فرصت نہیں اور صدر صاحب سیکورٹی کی وجہ سے ایوان صدر سے کم نکل پاتے ہیںاس لیے ہر شہر میں ایک ایوان صدر بنا دیا جائے جہاں پر اس ملک کے غریب کارکنان،جیالے اور لٹے پُٹے ساتھی امان پا سکیں۔وہ یہ لفظ کہہ کر آگے بڑھ گئی کہ کہہ دو اپنے وزیراعظم سے اور اپنے صدر صاحب سے کہ ’’کیا اب ہم رکشوں اور تانگوںمیں بچے جنم دینا شروع کر دیں‘‘کہ شاید ہمارے بادشاہوں کی نظرکرم ہم پر بھی پڑ جائے۔ میں اس کے چہرے پر کرب اور نفرت کی ملی جلی کیفیت صاف دیکھ رہا تھا میں اس کے الفاظ سن کرایک لمحے کے لیے سُن ہو کر رہ گیا اور پھر ایک آواز آئی ’’بائو جی کن سوچوں میں گم ہو راستہ چھوڑو‘‘اور میں سوچ رہا ہوں کہ شاید اب ہمیں راستہ چھوڑ ہی دینا چاہیے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus