×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اب عوام بھی اپنا فرض ادا کریں
Dated: 02-May-2010
انگلینڈ کے بادشاہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو سب خوش ہوئے توپیں داغی گئیں، مٹھائیاں تقسیم، کھانے بانٹے گئے۔ کچھ عرصہ گزرا تو پتہ چلا کہ بیٹا گونگا ہے دنیا کے بہترین ڈاکٹروں سے علاج کرایا گیا مگر افاقہ نہ ہوا اسی طرح بیس سال گزر گئے۔ بادشاہ ملکہ اور رعایا سب پریشان تھے کہ اچانک ایک ڈنر پر نوکر نے شہزادے کو الٹے ہاتھ سے کھانا دے دیا تو شہزادہ جھٹ سے بول پڑا ’’تمہیں کسی نے تمیز نہیں سکھائی‘‘سب بہت حیران ہوئے، بادشاہ اور ملکہ کے علاوہ وزیراور امراء بھی خوش اور حیران ہوئے۔ بادشاہ نے پوچھا بیٹا تم اتنے سال چپ کیوں رہے؟ شہزادہ بولا جب سب ٹھیک چل رہا تھا تو مجھے بولنے کی کیا ضرورت تھی۔ بالکل اسی طرح اب جبکہ 18ویں ترمیم پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر پاس ہو گئی ہے صدر کے تمام اختیارات وزیراعظم کو منتقل ہو چکے ہیں۔ عدلیہ بھی معترض نہیں، فوج کو پہلے ہی کوئی تحفظات نہیں تھے۔ نئے فارمولے کے تحت ریاست کے چوتھے ستون اور میڈیا کی بھی تشفی ہو گئی ہو گی۔ بظاہر تو سب ٹھیک ہے کی آواز آنی چاہیے ہر طرف دودھ اور شہد کی بہتی نہریں نظر آنی چاہئیں۔ پاکستان اسلامی فلاحی جمہوری ریاست کے طور پر باقی ملکوں کے لیے ایک رول ماڈل ہونا چاہیے تھا مگر حالات ایسے نہیں ہیں۔ حکومت ایک بحران سے نکلتی ہے تو دوسرا اس کی راہ میں آنکھیں بچھائے ہوتا ہے۔ عوام ابھی تک بجلی، پانی، گیس، تیل، چینی، آٹا، کھاد، زرعی ادویات،سیمنٹ اور دیگر ضروریات سے اتنا ہی دور ہیں جتنا صحرا میں سراب۔ میں مارچ اور اپریل میں دنیا کے تقریباً21ممالک کا دورہ کرکے لوٹا ہوں اس سے پہلے بھی ایک عمر یورپ میں گزری ہے جب میں اپنے پیارے وطن کی وہاں کے کسی بھی ادارے یا نظام سے مماثلت ڈھونڈتا ہوں تو مجھے لگتا ہے وہاں اس دنیا میں کوئی اور ہماری اس دنیا میں کوئی اور فلم چل رہی ہے۔ ابھی حالیہ آئس لینڈ فلکان کے پھٹنے سے یورپ میں جو تباہی ہوئی، س کے نتیجے میں کھربوں ڈالر کے نقصانات کئی اداروں اور کمپنیوں کو اٹھانے پڑے۔ یورپ میں درآمد ہونے والی سبزیاں، پھل، پھول اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء جو دنیا بھر سے پہنچتی ہیں وہ نہ پہنچ سکیں۔ میں بائی روڈ اور بائی ٹرین یورپ کا سفر کر رہا تھا اس دوران میں جائزہ لے رہا تھا وہ خواہ جرمن ہوں، فرنچ ہوں، اطالوی یا برطانوی۔ ان کے چہروں پر مستقبل کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں تھی وقتی طور پر وہ اس سانحے سے پریشان ضرور تھے مگر وہ اپنے نظام سے مطمئن تھے۔ میں نے دیکھا کہ اس دس روزہ بحران کے دوران کسی چیز کی قیمت ایک سینٹ بھی نہ بڑھی۔اگر خدانخواستہ یہی حالات پاکستان میں ہوتے تو لوٹ مار کا دور دورہ ہوتا، ہر چیز کی قیمت کو آگ لگ چکی ہوتی ہر طرف ایک طوفان بدتمیزی برپا ہو چکا ہوتا۔ابھی رمضان المبارک بہت دور ہے مگر یار لوگوں نے ابھی سے ذخیرہ اندوزی کا آغاز کر دیا ہے۔ ایسے میں میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ قوم کو اب انگلینڈ کے بادشاہ کے بیٹے کی طرح بولنا ہوگا آخر یہ ملک کب تک سیکنڈلز کی بنا پر چلایا جاتا رہے گا۔ حقیقت سے نظریں چرانے والے امن کی آشا کا راگ الاپنے والے اس ملک کو اس سمت کیوں نہیں جانے دے رہے، اس نظریئے سے اسے کیوں دور کر رہے ہیں جس نظریئے کا درس ہمیں حضرت قائداعظم محمد علی جناح، شاعر مشرق علامہ محمد اقبال، قائدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور نظریہ پاکستان کے محافظ جناب مجید نظامی صاحب نے دیا ہے۔ میں کبھی کبھی جب یہ سوچتا ہوں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ جینئس عمر کے اس حصے میں جبکہ ان کے تین بائی پاس ہو چکے ہیں ایک جیالے اور متوالے کی طرح نظریہ پاکستان کا پرچم تھام کر کبھی ٹینک پر بیٹھ کر انڈیا جانے کی بات کرتے ہیں اور کبھی دشمن کی نظروں میں نظریں ملا کر سینہ سپر ہو جاتے ہیں اور کبھی ان کے دل میں یہ خواہش بے پایاں ہو کر مچلتی ہے کہ انہیں بم سے باندھ کر دشمن پر گرا دیا جائے۔ پھر میری خواہش ہوتی ہے کہ اے رب جلیل یا تو مجھے بے نظیر بھٹو جیسی شہادت نصیب فرما دے یا مجید نظامی جیسا حوصلہ اور استقامت عطا فرما دے۔ وطن عزیز کے اٹھارہ کروڑ عوام نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارہ کی ہے کہ اس ملک میں اتنے موسم نہیں بدلے جتنے آمر آئے اور گئے لیکن عوام کی اکثریت خاموش تماشائی بنی رہی اس ملک کو جاگیردار، سرمایہ دار، وڈیرے اور لٹیرے شرافت اور سیاست کا نقاب پہن کر جب اور جیسے چاہا لوٹتے رہے۔ اس پر ملک کے اہل دانش و علم طبقے نے بھی آواز بلند نہ کی۔ ارض پاک دو لخت ہوا تو ہم نے اس کے 90ہزار جنگی قیدی چھڑانے والے لیجنڈ کو سرِدار لٹکا دیا۔ ہم نے اس ملک کے عوام کے حقوق کی خاطر لڑنے والی لیڈر کو سڑک پر خون میں نہلا دیااور جب یہ قوم بجلی کی لوڈشیڈنگ اور دیگر بحرانوں میں گھری ہوئی ہو اور بیچ منجدھار اسے کوئی امید کی کرن بھی نظر نہ آ رہی ہو تو یہ قوم مِیرا کے سیکنڈل، آصف اور وینا ملک کے جھگڑے، شعیب و ثانیہ مرزا کی شادی کی تقریبات کو لائیو دیکھنے اور بھنگڑے ڈالے تو بیرونِ ممالک کون ہے جو یہ بات تسلیم کرنے کو تیار ہوگا کہ ان لوگوں کے گھر میں بجلی، آٹا، چاول اور چینی نہیں ہے۔ اب اس قوم کو اپنے فرائض اور ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا ہر شخص جو جس پیشے اور شعبے سے بھی وابستہ ہے آج سے تعمیروطن کا عہد کرے اور استحکام پاکستان کے لیے ابھی سے اپنا فرض ادا کرنا شروع کر دے تو یقینا یورپ نے جو منزل صدیوں بعد حاصل کی وہ ہم چند سال میں حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن اگر جس طرح امریکہ اور یورپین ممالک ہم سے ڈومور کا مطالبہ کرتے ہیں اسی طرح عوام بھی خودکچھ کرنے کی بجائے حکومت سے ڈومور کا مطالبہ کرتے رہے تو پھر وہ وقت دور نہیں جب زندہ قوموں میں ہمارا ماضی ڈھونڈنا تک مشکل ہو جائے گا۔ میں محب وطن پاکستانیوں کے چہرے پر اکثر ایک کرب کا احساس دیکھتا ہوںتو پھر میرا دل پاکستان میں رہ کر اپنے اٹھارہ کروڑ بہنوں،بھائیوں اور بزرگوں کے ساتھ گزارنے کو دل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ کی لگژری زندگی کو چھوڑ کر پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جیوں تو اس طرح جس طرح میرے اس ملک کے باقی اٹھارہ کروڑ عوام جی رہے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus