×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کاش ایسا نہ ہو!
Dated: 11-Jun-2010
بہت جڑی والا دن تھا کہ باہر ہر طرف سراسیمگی پھیلی ہوئی تھی،ماحول پر عجیب سناٹا طاری تھا۔ ٹی وی چینلز کی گاڑیاں شاہراہ دستور پر کھڑی ہیں اگلی گھڑی میں ملکی و غیر ملکی صحافیوں کا جم غفیر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے سرگرم ہے۔ رپورٹر مائیک ہاتھوں میں لیے سیاسی و سماجی رہنمائوں سے متوقع فیصلے کے بارے میں تاثرات و خیالات معلوم کرکے لائیو چلا رہے ہیں۔ وکلاء کالے کوٹوں اور ٹائیوں میں اِدھر سے اُدھر جا اور آ رہے ہیں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ سیاسی کارکنوں کے چہرے پر ایک انجانے خوف کا سایہ ہے۔ اندر کمرے میں بڑی بے چینی سے ججوں کی آمد کا انتظار ہو رہا ہے۔ کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ ان میں وکلاء کے علاوہ معروف صحافی، وزرا اور سیاسی پارٹیوں کے زعما اور اکابرین شامل ہیں۔ اس دوران جج صاحبان اپنے چیمبر سے نکل کر اپنی اپنی کرسی پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ ان کے کرسیوں پر تشریف فرما ہوتے ہی احتراماً اور قانوناً کھڑے ہوئے حاضرین بھی اپنی نشستوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ فریقین کے وکلاء ترکش میں لیے ہوئے تیروں کے ساتھ دلائل کے لیے تیار ہیں۔ آج ملکی تاریخ کے اہم فیصلوں میں سے ایک اور اہم فیصلہ ہونے والا ہے۔ دونوں طرف کے وکلا کو آخری دلائل دینے کے لیے مختصر وقت دیا گیا ہے۔ وکیل صفائی نے عدالت کے تمام تر احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے دلائل کا آغاز کیا۔ وہ عدالت کو دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ 12اکتوبر1999ء کو جب ایک فوجی آمر نے اقتدار پر قبضہ کیا تو اس کے بعد کے حالات کی روشنی میں ملک کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے کارکنان اور لیڈرشپ کو کس طرح انتقامی کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جب آمر کا جبر حد سے بڑھ گیا تو سیاسی قیادتیں ملک سے باہر چلی گئیں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت تو باقاعدہ مشرف سے شریفانہ ڈیل کے بعد جلاوطن ہوئی تھی۔ محترمہ حالات سے تنگ آ کر باہر گئی تھیں۔ نوابزادہ نصراللہ خاں نے اپنے بڑھاپے کے باوجود یورپ اور مڈل ایسٹ کے دورے کیے(جب وکیل صاحب یہ بات کر رہے تھے تو مجھے بھی یاد آیا کہ میں ان دوروں میں نوابزادہ صاحب کے ساتھ تھا) نوابزادہ صاحب کا مشن تھا کہ وہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ایک پلیٹ فارم پر لے آئیں تاکہ دونوں مل کر قوم و ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کریں۔ نوابزادہ نصراللہ نے جو کام 2003ء میں شروع کیا تھا وہ ان کی رحلت کے بعد تین سال میں ایک میچور فلسفہ بن گیا۔ جب میثاق جمہوریت پر دستخط ہو رہے تھے تو وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری باب تھا۔ دراصل میثاق جمہوریت پر دستخط آمریت کی عمارت کی بنیاد سے پہلی اینٹ کھینچنے کے مترادف تھے پھر ایک ایک کرکے اینٹیں گرتی گئیں۔ 18فروری 2008ء کو عمارت زمین بوس ہو گئی اس روز عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی پہلے، مسلم لیگ ن دوسرے نمبر پر تھی اور آمریت کی اس عمارت کے کھنڈرات کا نام و نشان 18اگست 2008ء کو مشرف کے صدارت سے استعفیٰ سے مٹ گیا۔ 18 کروڑ عوام گواہ ہیں کہ این آر او سے قبل مسلم لیگ ن کے قائدین میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف نے مختلف اوقات میں پاکستان آنے کی کوشش کی لیکن فوجی آمریت اور اس کی پروردہ حکومت نے ان کو ایئرپورٹ سے تذلیل اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہوئے ڈی پورٹ کر دیا۔ ان حالات کا محترمہ بے نظیر بھٹو شہیدنے تجزیہ کیا کہ عوام مسلح آمریت سے نہیں لڑ سکتے تو انہوں نے والد کی تربیت کے زیر اثرت معاملات طاقت کے بجائے مصالحت اور مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کی جس کی کوکھ سے این آر او نے جنم لیا جس کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی تمام تر قیادت پر وطن واپس آنے کے راستے کھل گئے۔ وکیل صفائی کے دلائل حاضرین بڑے انہماک سے سن رہے تھے۔ آخر میں وکیل صفائی نے کہا کہ اگر محترمہ نے ذاتی مفاد کی خاطر کوئی ڈیل کی ہوتی تو محترمہ کو 18اکتوبر2007ء اور پھر 27دسمبر2007ء کے سانحات کا سامنا نہ کرنا پڑتا آخر الذکر میں تو محترمہ کی جان بھی چلی گئی۔ 5نومبر96ء کے بعد قائم کیے گئے تمام مقدمات کو آمریت صرف اس لیے طوالت دے رہی تھی کہ ملک کی بڑی سیاسی کھیپ کو سیاست سے دور رکھا جا سکے۔ این آر اور فیصلے کے تحت آمر کو وردی اتارنے پر مجبور کیا گیا۔ آمریت کا نشانہ بننے والے ججوں کو ریلیف ملا اور آج پنجاب میں مسلم لیگ ن اور مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں بھی این آراو کی برکت سے قائم ہیں۔ مائی لارڈ میری میرے موکلین اور 18کروڑ عوام کی درخواست ہے کہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں این آر او کے خلاف فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اگر این آر او کے تحت فیصلے کیے جاتے رہے تو عدلیہ کا کیا فائدہ، سسٹم کیسے چلے گا۔ اگر غلط فیصلوں کو نظریہ ضرورت بنا لیا گیا تو مستقبل میں آئین ختم کرکے ایک ’’نظریہ ضرورت آئین‘‘ تشکیل دینے کی ضرورت پڑ جائے گی۔ میری درخواست ہے کہ جذبات کے بجائے حقائق کے مطابق اس کیس کا فیصلہ وہی برقرار رہنے دیا جائے کیونکہ ہم نے کہیں نہ کہیں سے ایک نیا سلسلہ تو شروع کرنا ہے۔ دلائل کے اختتام پر جج صاحبان تھوڑی دیر کے لیے چیمبر میں چلے گئے۔ ان کی واپسی گو چند منٹ بعد ہو گئی لیکن حاضرین کے لیے یہ صدیوں سے طویل ایک قیامت کا عرصہ تھا۔ ججوں کی واپسی پر حاضرین کے دلوں کی دھڑکنیں بے قابو ہوئی جاتی تھیں۔ لیکن ان پر قابو پانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ فل کورٹ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ سنایا اور کہا اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا چنانچہ پہلے فیصلے کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ کمرہ عدالت میں پہلے ہی خاموشی تھی اب باقاعدہ موت کی سی خاموشی طاری ہو گئی۔ جج صاحبان اٹھ کر چلے گئے تو کمرہ عدالت سے بھی لوگ کھسر پھسر کرتے باہر آنے لگے۔ اس فیصلے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح لمحوں میں پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیل گئی۔ نظر آتا تھا کہ پاکستان ایک بار پھر وسط 2007ء میں چلا گیا ہے 18ویں ترمیم سمیت پارلیمنٹ کی بالادستی بھی ہوا میں تحلیل ہو گئی جب این آر او ہی نہ رہا تو اس کے باعث حوض وجود میں آنے والی پارلیمنٹ، حکومتوں، کابینائوں اور عدلیہ کا بھی کیا وجود رہ جاتا ہے ملک ایک بار پھر تاریکی میں دھنستا محسوس ہو رہا تھا۔ عدالت کے باہر شاہرہ دستور پر عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر فیصلے کو پاکستان کے خلاف ڈرامہ قرار دیتے ہوئے نامنظور نامنظور کے نعرے لگا رہا تھا۔ اس فیصلے کے تناظر میں صدر،وزیراعظم اور کابینہ نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر خبر آئی کہ تمام کے تمام سینئروں اور ارکانِ قومی اسمبلی نے بھی عدالت کے فیصلے کے احترام اورصدر وزیراعظم کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیئے۔ سڑک پر عجیب سماں تھا علی احمد کرد، جسٹس طارق محمود، اعتزاز احسن اور کاظم خان جیسے سینئر وکلا پولیس کے ڈنڈے کھانے کے بعد سڑکوں پر لیٹے تھے۔ جاوید ہاشمی،سعد رفیق، حنیف عباسی، بابراعوان،قمرالزمان کائرہ اور میاں رضا ربانی فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ جبکہ سیکورٹی فورسز کے جوان گورنر سلمان تاثیر اور رانا ثناء اللہ کو ایک ہی وین میں ڈال کر لے جا رہا تھے۔ میرا دل ملک کے مستقبل کو مخدوش دیکھ کر خون کے آنسو رو رہا تھا میں چلانا چاہتا تھا مگر حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی کہ ایک دم ایک نقاب پوش کمانڈر میری طرف بڑھا میں نے بھاگنا چاہا لیکن پائوں جامد ہو گئے اس کی لاٹھی کی کاری ضرب میرے سر پرپڑی تو میں چیخ اٹھا جو آوازیں میرے حلق سے نہیں نکل رہی تھیں لاٹھی کی ضرب اتنی زور سے پڑی کہ ہڑبڑا کر میری آنکھ کھل گئی۔میں نے اپنے آپ کو بستر پر پسینے میں شرابور پایا۔ اوہ خدایا یہ تو خواب تھا خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ حقیقت نہیں تھی۔ میں اس خواب کے بعد سے سوچ رہا ہوں کہ جمہوریت کے لیے کارکنوں کی قربانیاں، کوڑے اور پھانسیاں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور ان کے والد محترم ذوالفقار علی بھٹو شہید کی جدوجہد، نوازشریف کی پورے خاندان سمیت جلاوطنی اور خود میری،میری اہلیہ اور بچوں کی جلاوطنی کیا یہ سب غارت چلی جائے گی اور حالیہ میری اہلیہ اور میرے بچوں کی کم سنی میں جلاوطنی سے یہ لگتا کہ جلاوطنی ہی میری خاندانی وراثت تو نہیں بن گئی جو نسل در نسل ہمیں منتقل ہو گی۔ اور ہم ایک بار پھر آمریت کے شکنجے میں کسے جائیں گے۔ اور ہمارا مقدر کیا صرف ظلم سہنا ہی ہے؟اور اس ملک کے پیشہ ور حکمران طبقے کے لیے اپنی زندگیوں کو عذاب بنانا اور ان کے لیے ماریں کھانا ہے۔کیا ایک بار پھر میں اور میری قوم اپنے کرتوتوں کی وجہ سے جگ ہنسائی کا موجب بن گئے۔اب تو میں جلاوطنی پر بھی نہیں جا سکتا کہ مہذب قومیں میری سٹوری سن کر مجھ پر قہقہے لگانا شروع کر دیں گے۔ کیا ایک بار پھر اس خطے کی رجعت پسند اور جنونی قوتوں کو یہ بہانہ نہیں مل جائے گا کہ جس نظام کے لیے تم عشروں سے قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہو وہ اس خطے کے لیے ناقابل عمل ہے۔ کیا ہم اپنے سے دس گنا بڑے ہمسایہ دشمن اور ان کے دوستوں اسرائیل اور امریکی سامراج کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ایک ناکام ریاست ہیں۔ عراق، افغانستان اور پاکستان میں ان کی جارحیت کو ایک جواز مل جائے گا۔ کیا ہم حضرت علامہ اقبال اور حضرت قائداعظم محمد علی جناح اور نظریہ پاکستان کے محافظ جناب مجید نظامی کی ان کاوشوں اور خوابوں پر پانی پھیرنا چاہتے ہیں جس کے لیے ان عظیم زعما نے اپنی زندگیاں قربان اور موقوف کر دی ہیں۔ کیا جناب مجید نظامی اب نوابزادہ نصر اللہ کی طرح متحارب سیاسی قوتوں کو ایک پاکستان بچائو میثاق پر اکٹھا نہیں کر سکتے؟ میں یہ سوچ رہا تھا معاً مجھے خیال آیا کہ میری یہ سوچ تو میرے خواب پر ایک تبصرہ ہے۔ جب حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے جس میں قابل ترین اور اہل ترین جج تشریف فرما ہیں جو ہم سب سے زیادہ آئین اور قانون جانتے ہیں وہ پاکستانی ہیں او ران میں سے کئی تو قیام پاکستان کے دوران سکھوں اور ہندوئوں کے مسلمانوں پر مظالم کا چشم دید گواہوں کی اولاد بھی ہیں۔ ان کی طرف سے یقینا فیصلہ پاکستان جمہوریت اور عوام کے حق میں ہی آ سکتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus