×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پنجابیوں کی ٹارگٹ کلِنگ
Dated: 18-Jun-2010
حضرت بابا بلھے شاہ ؒ اور بابا فرید الدین گنج شکرؒ نے جس دھرتی پر جنم لیا اس دھرتی نے جہاں علم و فضل کے حوالے سے بڑے نام کے لوگوں کو جنم دیا وہیں پر دُلا بھٹی اور نظام لوہار اور رنجیت سنگھ جیسے سورمے بھی پیدا کیے۔ ناموسِ رسالت پر کٹ مرنے والے غازی علم الدین شہید کا تعلق بھی اسی دھرتی سے ہے۔ مغلوں کے دور سے بھی پہلے سے لے کر تقسیم ہند تک غیر ملکی طالع آزمائوں نے نہ صرف اس دھرتی کو اپنی تجربہ گاہ بنایا بلکہ تاراج بھی کیا مگر پنجابی اپنی روایتی مہمان نوازی اور اسلام سے دلی عقیدت رکھنے کی وجہ سے اپنے آپ کو مصائب میں بھی مبتلا کیے رہے۔ پنجاب کبھی کابل سے دلی تک پھیلا ہوا تھا جو اہل پنجاب کی مروت کی وجہ سے چند سومیلوں تک سکڑ گیا ہے۔ آج بھی کچھ موقع پرست سیاستدان اسے مزید محدود کرنے کے خبط میں مبتلا ہیں اور چھری کانٹے لے کر اسے للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک حکمران آتا ہے وہ اس کے دریائوں کو خشک کرنے کا سودا کر جاتا ہے۔ دوسرا اس کی زمینیں بیچ ڈالتا ہے۔ جب سندھ کے صحرائوں کو جہاں پانی کی بوند اور مٹھی بھر سبزہ بھی دستیا ب نہیں لاکھوں پنجابی کسانوں کو جو دھرتی کا سینہ چیر کر اناج اگانے کا فن جانتے ہیں ان صحرائوں کو نہ صرف آباد کیا بلکہ ان کو شاداب بھی کیا۔ پنجابی کسانوں کے حضرت بابا بلھے شاہ سے جو عقیدت تھی اس کا اظہار انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمت کی دھرتی اور اس کے باسیوں سے بھی کیا۔ آج بھی اندرونِ سندھ نسل در نسل مقیم لوگوں کو آباد کار کہا جاتا ہے۔ جب وفاق کی علامت کے طور پر سندھ اور بلوچ رجمنٹیں بنائی گئیں تو سندھی اور بلوچیوں کی عدم دلچسپی کی بنا پر ان میں پنجابیوں اور پٹھانوں کو بھرتی کیا گیا۔ اس وقت لاکھوں پنجابی دھرتی ماں کی حفاظت کے لیے اپنے خون سے تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ کہاوت ہے کہ سندھی اور بلوچی دو دن بھی گھر سے باہر نہیں رہ سکتے۔ اس لیے ہر مشقتی کام تو پنجابی کرے اور ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر کام سندھی اور بلوچی سردار کریں یہ کہاں کا انصاف ہے؟قیام پاکستان کے بعد کوئٹہ سے تربت اور تفتان تک کا علاقہ غیرآباد اور بنجر پڑا تھا۔ بلوچ سرداروں کا ہدف بھی سوئی گیس کے کنویں، کوئلہ، ماربل اور معدنیات کی کانیں تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی بلوچستان جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے 98فیصد رقبے کو زرعی نہیں بنایا جا سکا۔ اس وقت پنجاب میں درجن بھر فوجی چھائونیاں موجود ہیں جن میں سے اکثر بڑے شہروں کے وسط میں واقع ہیں لیکن اگر سندھ اور بلوچستان یا سرحد میں فوجی چھائونی بنانے کی بات کی جائے تو ان لوگوں کی غیرت جاگ اٹھتی ہے جبکہ لاکھوں پنجابی ہنرمندوں،ڈاکٹرز، انجینئرز،اساتذہ ماہرین زراعت اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے بلوچستان کی ترقی میں نمایاں اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بلوچستان اور سندھ کی دھرتی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے ان کی ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے۔ کیا سندھی اور بلوچی ثقافت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ جن لوگوں نے ان کی ترقی اور خوشحالی کی خاطر اپنا خون پسینہ ایک کر دیا ان کا خون بہا دیا جائے؟ وہ پنجابی جو بلوچستان اور سندھ میں نسل در نسل مقیم ہیں اپنی رشتہ داریاں بھی مقامی لوگوں کے ساتھ کر رہے ہیں حتیٰ کہ اپنی مادری زبان پنجابی کو بھی کب سے بھلا چکے ہیں ان کو پنجابی ہونے کا طعنہ دیتے ہوئے ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ جب سوئی کے مقام پر گیس دریافت ہوئی تو علاقے کے سب سے بڑے سردار نواب اکبر بگٹی شہید کو ان کی زندگی میں اربوں روپے رائلٹی ملتی رہی۔ ہزار اختلافات کے باوجود ان کے خاندان کو آج بھی گیس رائلٹی مل رہی ہے۔ سندھ کے وڈیرے اور مخدوم، بلوچستان کے مزاری مینگل مری سردار کیا یہ بتانا پسند کریں گے کہ وہ خود کراچی، لاہور،اسلام آباد،لندن،دبئی اور نیویارک میں اربوں ڈالر کی کوٹھیوں،بنگلوں اور جائیداد کے مالک ہیں جبکہ ان کے اپنے آبائی علاقے دیہات اور گوٹھ کے رہائشی زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ ان کی نظرالتفات علاقے کی ترقی، پسماندگی اور اپنی نسل کی بیروزگاری کی طرف کیوں نہیں اٹھتی۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں کیوں فراہم نہیں کرتے۔ ’’گدھے سے گر کر غصہ کمہار پر‘‘کے مصداق ان کو پرخاش اور خداوسطے کا بیر تو پنجابیوں سے ہے اپنے علاقوں اور عوام کو کیوں پسماندگی کی دلدل میں دھکیلے ہوئے ہیں۔ آج اوسطاً درجن بھر لاشیں کبھی کراچی اندرون سندھ اور کبھی تربت پشین اور کوئٹہ سے پنجابی اساتذہ،ڈاکٹرز،انجینئرز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی پنجاب آ رہی ہیں ان کے قاتل وہ ہیں جو اقتدار میں ہوں تو سب ٹھیک۔اقتدار سے باہر آ کر سکولوں میں قومی ترانہ بجانے پر بھی پابندی لگا دیتے ہیں۔بگٹی، مینگل،مری اور پلیجو صاحبان نے تو پنجاب کی مخالفت میں اردو بولنے پر بھی خودساختہ پابندی عائد کر لی تھی یہ نہ صرف نفرت کی انتہا ہے بلکہ منافقت کی ایک تاریک مثال بھی ہے۔ خود کو پنجاب کا استحصالی قرار دینے والے یہ لوگ اور ان کی اولادیں ایچی سن، پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج اور ایف سی کالج جیسے اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کے ذاتی مفادات پر مبنی کاروبار بھی لاہور،کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں ہیں۔ یہ مفاد کی خاطر وقت آنے پر اپنے محسنوں اور دوستوں سے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ تقریباً ہر دور میں وزیراعظم کا تعلق ان ہی دو صوبوں سے رہا ہے جبکہ سابق صدر فاروق لغاری اور موجودہ صدر جناب آصف علی زرداری صاحب بھی بلوچ نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ جتنی آبادی رکھنے والا صوبہ بلوچستان اور اس کے کھربوں پتی سردار پاکستان کی معیشت اور سٹاکس ایکسچینج پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ عموماً اخبارات میں جب یہ خبر چھپتی ہے کہ کالج سے نکلتے ہوئے پنجابی پروفیسر یا ہسپتال سے نکلتے ہوئے ڈاکٹر کو قتل کر دیا گیا تو مفادات کی نیند سویا ہوا سیاست سے لاتعلق پنجابی بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ دنیا کی جغرافیائی تاریخ جس تیزی سے بدلتی رہی ہے اسی کے تسلسل میں تقسیم ہند بھی ممکن ہوئی۔ ملکوں کے جغرافیے بدلنا نہ خلاف فطرت ہے نہ خلافِ اسلام۔ اگر دوسرے صوبے اور ہمارے بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ پنجاب ان کا استحصال کر رہا ہے تو انہیں پورا حق ہے کہ وہ ہم سے قطع تعلق کر لیں جیسا کہ پاکستان بننے کے ربع صدی سے قبل سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوا اب ہم اور کتنے سانحات برداشت کریں گے؟ اب ہمارے پنجاب کو جاگنا ہوگا اورہمیں اپنے دشمنوں اور دوستوں کی تمیز کرنے کے لیے عقل کی عینک لگانا ہوگی۔ ہمارے دوست نہ صرف ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ہاتھوں بلکہ عالم اسلام کے ابدی دشمن اسرائیل کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ آج علیحدگی کی تحریک کے مٹھی بھر عناصر جدید ترین اسلحہ ہاتھوں میں لیے معصوم انسانوں کو قتل کرکے دندناتے پھر رہے ہیں۔ جس دن ایک لاش کے بدلے تین تین لاشیں واپس بھجوائی گئیں تو شاید اسی دن پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ رک جائے گا۔ میں جناب مجید نظامی صاحب کے چاروں صوبوں میں یکجہتی و یگانگت کے نظریے اور فلسفے سے متفق ہوں۔ اس اتحاد اور یگانگت کے لیے پنجاب کی طرح دیگر صوبوں کو بھی ادراک کرتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے یقینا نظامی صاحب نے نظریہ پاکستان کے تحفظ کا جو بیڑا اٹھا رکھا ہے وہ صرف پنجاب تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ دوسرے صوبوں کو بھی یہی درس دیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus