×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مکتوب سوئٹزرلینڈ۔کچھ دن جنت میں
Dated: 09-Jul-2010
زمانہ قدیم میں جب یورپ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا تو قدیم یورپین دریا رائن جو آج بھی یورپ کے مختلف ممالک کے درمیان سے بہتا ہوا ہالینڈ کی سرحد کو چھوتا ہوا سمندر میں گرتا ہے اور بلاشبہ یہ ایک خوبصورت دریا ہے جس کے کنارے پکے بنا دیئے گئے ہیں۔ اس وقت سوئٹزرلینڈ اور جرمن کے بادشاہ جب بھی پیٹریاٹ کو محب وطن ہونے کی سزا دیتے تھے تو اس شخص کا سر تن سے جدا کرکے دریائے رائن میں پھینک دیا کرتے تھے اور پھر دیکھتے تھے کہ اگر دریا میں سر اور تن بہتے بہتے کسی مقام پر اکٹھے ہو جاتے تھے یعنی سر تن سے مل جاتا تھا تو بادشاہ اس شخص کو لیجنڈ کا خطاب دیتے تھے۔ اس طرح لفظ لیجنڈ (Legend)ایجاد ہوا جو بعد میں دوسری زبانوں میں بھی منتقل ہو گیا۔ ہمارے ہاں پالیٹکس میں بھی لیجنڈ کا مطلب کچھ یوں ہی نکالا جاتا ہے ہم نے قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا، محترمہ بے نظیر بھٹو کو چوراہے پر شہید کیا،لیاقت علی خان کو سرعام گولی ماری اور پھر پوری قوم اور امیر وقت پکار اٹھے ’’تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد‘‘ لیجنڈ کے خالق نظریہ کے مالک ملک سوئٹزرلینڈ کی تاریخ یوں ہے کہ جب پاپائے روم اور عیسائیوں نے بنک قائم کرنے کی مخالفت کی تو یورپ میں سوئٹزرلینڈ نے 3سو سال قبل پہلے بنک کی بنیاد رکھ کر دنیا کو بنک کے لفظ سے آشنا کیا اور آج دنیا کی سب سے بڑی بنکنگ انڈسٹری کے طور پر سوئٹزرلینڈ کو جانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں جب یورپ تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا،لاکھوں انسان جنگ کی نذر ہوئے، ہزاروں بلڈنگز تباہ ہوئیں تو سوئٹزرلینڈ جو یورپ کے درمیان ہے اس کے ایک طرف جرمنی،دوسری طرف فرانس،تیسری طرف آسٹریااور چوتھی طرف اٹلی جیسے طاقتور ممالک ہیں جنگ کے باوجود محفوظ رہا کہ سبھی جنگ لڑنے والے ممالک کا سرمایا یہاں محفوظ تھا۔ آج سوئٹزرلینڈ دنیا کے چند ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں پہلی لائن میں کھڑا ہے۔معیشت کے لحاظ سے اس مضبوط ترین ملک کی ترقی میں بنکنگ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ آج بھی دنیا بھر کے سرمایہ دار طبقے کے لیے سوئٹزرلینڈ ایک محفوظ جنت ہے اور یہی وجہ تھی کہ 10 ستمبر 2002ء تک سوئٹزرلینڈ جس کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کا ہیڈکوارٹر ہے۔ اقوام متحدہ کا خود ممبر نہ بنا۔ بعدازاں 2002ء کو اقوام متحدہ کی ممبرشپ لینے والا آخری ملک ہے۔ سوئٹزرلینڈ کی موجودہ آبادی 77لاکھ ہے جو کہ لاہور سے بھی کم ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں اٹالین، فرنچ،جرمن کے علاوہ رومانوی زبان بھی بولی جاتی ہے جبکہ جرمن فرنچ اور اٹالین قومی زبان کا درجہ رکھتی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ 26خودمختار صوبوں پر مشتمل ہے جن میں ایک صوبہ اٹالین،7صوبے فرنچ جب کہ 18صوبے جرمن زبان بولنے والوں پر مشتمل ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں کیتھولک عیسائیوں کی آبادی 41.8فیصد، پروٹسٹنٹ عیسائیوں کی آبادی35.5فیصد اور توڈوکس عیسائیوں کی آبادی4.3فیصد جبکہ مسلمان 5فیصد ہیں۔ باقی مختلف مذاہب ملا کر تقریباً 11 پرسنٹ بنتے ہیں اس طرح سوئٹزرلینڈ میں تقریباً20فیصد غیرملکی قیام پذیر ہیں جبکہ ڈپلومیٹک سٹی جنیوا میں سب سے زیادہ 35.5فیصد غیرملکی رہتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں مرد و عورت دونوں کو کام کرنا پڑتا ہے اس کے باوجود بیروزگاری کی شرح صرف 4فیصد ہے۔ قانونی طور پر ہفتے میں 44.5گھنٹے کام کی اجازت ہے ہفتہ اتوار یا پھر دو چھٹیاں لازمی ہیں۔ کاروبارصبح 8بجے سے شام چھ اور ساڑھے چھ بجے تک اجازت ہے۔ ہفتہ کے روز دفاتر بند مگر کاروبار 4بجے شام تک اجازت ہے۔ اتوار کو تعطیل لازمی قرار دی گئی ہے۔ عورتوں کی مردوں کے برابر تنخواہ کا قانون 1996ء کو بنا جبکہ عورتوں کو ووٹ کا حق 1981ء میں ملا۔سوئٹزرلینڈ کا پہلا ماڈرن قانون جسے"Confedration Helvetia" کہتے ہیں 1848ء کو معرض وجود میں آیا جبکہ پہلا باقاعدہ سکّہ1879ء کو بنایا گیا۔ سوئٹزرلینڈ کا کل رقبہ 41285مربع کلومیٹر جبکہ کارآمد رقبہ30753مربع کلومیٹر ہے باقی رقبہ پر جھیلیں اور پہاڑ ہیں۔ مشرق سے مغرب تک سوئٹزرلینڈ کی لمبائی 220کلومیٹر جبکہ شمال سے جنوب تک 348کلومیٹر ہے۔ آبادی کا تناسب ایک مربع کلومیٹر پر 193نفوس ہے۔ ہر سوئس شہری جو مرد ہیں کے لیے لازمی فوجی ٹریننگ ہے ہر مرد کو 30سال کی عمر تک لازمی 45ہفتے فوج میں ٹریننگ حاصل کرنا پڑتی ہے۔ خواتین ملٹری ٹریننگ سے مستثنیٰ ہیں مگر وہ چاہیں تو ٹریننگ حاصل کر سکتی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کی فوج ساٹھ ہزار افراد پر مشتمل ہے اور جس گھر میں جتنے مرد افراد رہتے ہیں اتنی ہی انتہائی جدید رائفل آرمی اٹیک نمبر90اس گھر میں موجود ہوں گی۔ ٹریننگ کے لیے ہر شخص اپنی رائفل گھر سے لے کر جاتا ہے۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو دنیا کی سب سے بڑی فوج سوئٹزرلینڈ کے پاس ہے۔ جبکہ عام طور پر سوئٹزرلینڈ کو فوج سے پاک ملک سمجھا جاتا ہے۔ یورپ کی سب سے بڑی جھیل نیون برگ جھیل سوئٹزرلینڈ میں ہے جبکہ زیورخر،گینفرجھیلیں بھی بڑی جھیلیں ہیں۔ نیون برگ جھیل کا رقبہ217.9مربع کلومیٹر ہے اسی طرح یورپ کی سب سے بڑی سرنگ جو اٹلی اور سوئٹزرلینڈکو ملاتی ہے کی لمبائی بھی 17کلومیٹر ہے۔ یورپ کا سب سے اونچا پہاڑ مونٹ بلینک اور یونگ فرائو۔ جن کی بلندی ساڑھے چار ہزار میٹر ہے بھی سوئٹزرلینڈ میں ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کا موسم مئی سے اگست تک گرم زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33گریڈ اور نومبر سے مارچ تک موسم سرما میں کم از کم درجہ حرارت منفی 20تک پہنچ جاتا ہے۔ اپریل سے نومبر تک پورا ملک دلہن کی طرح پھولوں سے لدا ہوتا ہے اور میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ ایک فٹ جگہ کہیں ویرانے میں بھی ایسی نہ ہو گی جہاں پھول نہ اگائے گئے ہوں گے۔ کسانوں کو خالی زمین پر پھول اگانے کے پیسے حکومت خود دیتی ہے تاکہ پورا ملک جنت نظیر بن سکے۔ اسی لیے ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی تقریباً پوری فلم انڈسٹری اپنی فلموں کی شوٹنگز کے لیے سوئٹزرلینڈ کا رخ کرتے ہیں اور نئے شادی شدہ جوڑے بھی اپنے دن یادگار بنانے کے لیے سوئٹزرلینڈ کا رخ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سیاحت اس ملک کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے جس سے لاکھوں افراد وابستہ ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کا کیپٹل بیرن ہے جو ڈھائی لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ کمرشل سٹی زیورخ جو کہ 5لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ ڈپلومیٹک سٹی جنیوااڑھائی لاکھ جبکہ انڈسٹریل سٹی باسیل 2لاکھ افراد پر مشتمل ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کی کرنسی کو ’’سوئس،فرانک‘‘ کہتے ہیں ہیں۔ ایک سوئس فرانک کے 81پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ مردوں کی متناسب عمر اوسطاً80سال جبکہ عورتوں کی اوسطاً عمر 85سال ہے۔ مرد و خواتین اور ہر شہری کے لیے میڈیکل انشورنس لازمی ہے۔ دواساز ادارے مضبوط اور ’’سی باگائیگی‘‘ اور ’’فائزر‘‘ بڑے دواساز ادارے بھی اسی ملک سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ایکسپورٹ میں یہی دواساز ادارے اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔دیگر ایکسپورٹ گڈ میں جدید اسلحہ، جنریٹر، ہیوی مشینری،فائن مشینری،جیولری گھڑیاں،مِلک پروڈکٹس،چاکلیٹ جبکہ مشہور زمانہ ’’ نیسلے‘‘کا تعلق بھی سوئٹزرلینڈ سے ہے۔ مستقبل کے ایک مہذب معاشرہ کی تشکیل کے لیے سوئس حکومت نے جیل اصلاحات بھی کی ہیں یہاں معمولی جرائم پر جرمانہ یا پہلی سزا پر جیل نہیں جانا پڑتا اور پہلی سزا کے تین سال بعد پہلی سزا ختم ہو جاتی ہے جبکہ اگر اس دوران کوئی مجرم دوسرا جرم سرزد کر دے تو پہلی اور دوسری سزائیں ملا کر بھگتنی پڑتی ہیں۔ اگر کسی کو لمبی سزا ہو جائے اور مجرم شادی شدہ ہو تو ایک خاص عرصے کے بعد اسے ویک اینڈ یعنی جمعہ شام سے لے کر اتوار شام تک گھر جانے کی اجازت ہوتی ہے بلکہ اب تو سزا یافتہ مجرموں کے لیے ’’کنٹرول کڑا‘‘ متعارف کروایا گیا ہے جسے پہننے سے مجرم کے لیے جو علاقہ مقرر کیا جاتا ہے وہ اس سے باہر جانے لگے تو ’’کڑا‘‘ آٹومیٹک ٹائٹ ہونا شروع ہو جاتا ہے اس سزا کے متعارف کروانے سے حکومت کے جیلوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات بہت حد تک کم ہوئے ہیں اور متعلقہ اشخاص کو اپنی سوشل زندگی اور جاب بھی ڈسٹرب نہیں ہوتا۔ سوئٹزرلینڈ کی سیاسی فضا کچھ اسی طرح ہے کہ ملک میں 5بڑی سیاسی جماعتیں ہیں۔سوئس عوامی پارٹی(SVP)،سوشلسٹ پارٹی(SP)،ایف ڈی پی،کرسچین عوامی پارٹی(CVP) اورگرین پارٹی۔قومی اسمبلی کے ممبران کی تعداد200ہے جبکہ سینیٹ کے ممبران کی تعداد46ہے۔ جو بائیس صوبوں سے ہر ایک سے دو دو جبکہ چار چھوٹے صوبوں سے دو۔ سوئٹزرلینڈر میں 7 Bunds Rat مل کر حکومت کرتے ہیں جن کا انتخاب 200ممبران قومی اسمبلی کرتے ہیں۔ اس وقت سوشلسٹ پارٹی کے 2،سوئس عوامی پارٹی کے2، جبکہ ایف ڈی پی اور کرسچین پارٹی کے ایک ایک نمائندہ مرکزی سات وزراء میں موجود ہے۔ صدرمملکت ان سات وفاقی وزراء میں سے چنا جاتا ہے اور صدر کی مدت عہدہ 1سال ہوتی ہے اس طرح پانچ سال کی مدت کے دوران تقریباً ہر پارٹی ایک ایک دفعہ مزہ صدارت چکھتی ہے۔ مرکز کے پاس 7محکمے ہیں جن میں فنانس، ملٹری، انوائرمنٹ ٹریفک، ایگری کلچرل، خارجہ، داخلہ اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ جو کہ ہر 7وفاقی وزراء میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ایک چھوٹے گائوں سے لے کر میونسپلٹی تحصیل،ضلع،صوبہ غرضیکہ ہر شہر ایک خودمختار ریاست کی سی خصوصیات اور حقوق کا حامل ہے اور اپنے اخراجات بڑی حد تک خود برداشت کرتا ہے۔ہر گائوں قصبہ اور شہر چھوٹے بڑے ترقیاتی کاموں کے لیے تقریباً ہر ہفتہ ریفرنڈم کرواتے ہیں اس طرح مسلسل عمل سے یہ انتخابی عمل شفاف سے شفاف تر ہو گیا ہے۔ پاکستان میں بھی پچھلے دو سال سے جعلی بی اے کی ڈگریوں کے پکڑے جانے کی وجہ سے ہونے والے ضمنی انتخابات کی وجہ سے کم از کم عوام کو انتخابی عمل میسر آ رہا ہے جس سے عوام انتخاب کے عمل کے عادی ہو رہے ہیں جو یقینا جمہوریت کی مضبوطی کا باعث بنیں گے۔ سوئٹزرلینڈ میں پاکستانیوں کی تعداد2000کے قریب ہے چونکہ سوئٹزرلینڈ کی فی کس آمدنی سالانہ 40ہزار سوئس فرانک یعنی 32لاکھ پاکستانی روپے ہے۔ اس لحاظ سے سوئٹزرلینڈ فی کس سالانہ آمدنی کی وجہ سے ہمیشہ دنیا میں پہلے یا دوسرے نمبر پر رہا ہے۔ اس لیے یہاں مستقل رہائش رکھنے والے پاکستانی تارکین وطن یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں پرآسائش اور بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ کیپٹل سٹی برن میں پاکستانی سفارتخانہ جبکہ جنیوا میں کونصلیٹ اور پاکستان مشن کے دفاتر ہیں جن کا کام صرف پاکستان سے آنے والے وزراء،ممبران اسمبلی اور مختلف سرکاری وفود کو صرف پروٹوکول مہیا کرنا ہے وگرنہ یہ سفارت خانے اور کونصلیٹ چاہیں تو سوئس حکومت کے ساتھ اشتراک و معاہدات کرکے پاکستانی مصنوعات کے لیے راہیں کھول سکتے ہیں۔ سوئس عوام بنیادی طور پر بے ضرر اور معصوم ہیں انہیں دوسرے ممالک کی طرح ’’ھینکی پھینکی‘‘ نہیں آتی۔ ہاں البتہ پچھلے دنوں مساجد کے مینار پر متنازعہ پالیٹکس سے جس کو سوئس عوامی پارٹی SVP کی سپورٹ تھی سوئس حکومت کو بین الاقوامی برادری میں ہزیمت اٹھانا پڑی اور سوئس عوام اور حکومت کے لبرل امیج کو بُری طرح دھچکا لگا۔ یقینا 29نومبر2009ء کا دن سوئس لبرل ازم کے ماتھے پر بدنما داغ کی طرح موجود ہے جس کی ابھی تک پارلیمنٹ اور سینیٹ سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ 57.5فیصد نے مینار نہ بنانے کے حق میں جبکہ 42.5فیصد نے مینار بنانے کے حق میں ووٹ ڈالے۔ اس سیاسی ایشو کے پیچھے بہت سے عوامل اور زمینی حقائق کارفرما ہیں اور دنیا بھر کی یہودی لابیاں اپنا کام دکھا گئیں وگرنہ سوئٹزرلینڈ میں پچھلے 15سال میں اسلام قبول کرنے والے سوئس شہریوں کی تعداد2لاکھ سے زائد ہے اور مذہبی لحاظ سے ہر قسم کی عبادت کی اجازت ہے۔ حتیٰ کہ عید کے دن جب سینکڑوں مسلمان نماز عیدن کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تو بڑے بڑے شہروں، قصبوں میں ان ڈور ہالز مسلمانوں کو عبادت کے لیے فری دیئے جاتے ہیں۔ موجودہ چیئرمین سینیٹ جناب فاروق ایچ نائیک اور وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین جب میرے پاس آئے تھے اور میںان کو چرچز کے وزٹ پر لے گیا تو یہ حیران رہ گئے کہ ہر چرچ میں ایک کارنر نماز کے لیے بھی موجود ہے جہاں جائے نماز پڑی ہوتی ہے تاکہ آپ دوران وزٹ اپنی نماز ادا کر سکیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus