×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پاکستان کے موجودہ حالات، عالمی تناظر میں
Dated: 06-Aug-2010
سانحہ نائن الیون کے بعد جس طرح پاکستان کی کمزور قیادت نے ردعمل ظاہر کیا اور پھر جب رات کے اندھیرے میں واشنگٹن سے موصول ہونے والی کال پر پاکستان کے اس وقت کے آمرنے بستر پر سوتے ہوئے اپنے آقائوں کو سلیوٹ کیا اور یہ تک نہ سوچا کہ اتحادی دھمکیاں نہیں دیتے کہ ہم تمہیں پتھر کے زمانہ میں پہنچا دیں گے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ اس وقت بدترین جمہوریت ہوتی کوئی کمزور جمہوری سربراہ بھی ہوتا تو وہ ضرور سامراجی دھمکیوں کے جواب میں میگا فون ہاتھ میں پکڑ کر کم از کم راجہ بازار پہنچ جاتا اور اپنی عوام سے مشورہ کر لیتا کہ جیو گے مرو گے میرے ساتھ یا نہیں؟ امریکی صدر بش کے اس حکم کے بعد یقینا ہمارے حکمرانوں کے پاس کچھ زیادہ چوائس نہیں تھی اور پھر ہمیں لائن کی اسی طرح کھڑے ہونا پڑا جدھر وہ خود کھڑے تھے۔ اس بات کو 9سال ہونے کو ہیں اس دوران بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزرگیا مگر اب تو پل ہی نہ رہے اس ملک کو اتحادی لائن کی طرف کھڑا ہونے کی سزا یہ ملی کہ پورے ملک کا انفراسٹرکچر محفوظ نہیں،سول و ملٹری ٹارگٹ محفوظ نہیں، اس ملک کی سالمیت محفوظ نہیں، ہزاروں سکولز، ڈاک خانے، ہسپتال بموں سے اڑا دیئے گئے۔ہزار فوجیوں سمیت 15ہزار سے زائد لوگ دہشت گردی کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں چلے گئے۔ لاکھوں زخمی عمربھر کا روگ لے کر بیساکھیوں کے سہارے وہیل چیئر پر حرف و یاس کی تصویربنے بیٹھے ہیں حتیٰ کہ اس وطن عزیز کے سب سے مضبوط دفاعی حصار جی ایچ کیو کو یرغمال بنا کر پوری دنیا کو ہمارا تماشا دکھایا گیا۔ ازل سے امریکی جس پاکستانی مضبوط ادارے کے لیے خوفزدہ ہیں اس آئی ایس آئی کے دفاتر کو سرعام ٹارگٹ کیا گیا درجنوں افراد ہمارے جو کہ ہمارے اثاثہ ہیں کو ہم سے بارود کے زور پر چھین لیا گیا ملکی و غیر ملکی سرمایہ دار پاکستان کا رخ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے تین سالوں میں زرمبادلہ کے ذخائر میں نہ صرف کمی ہوئی بلکہ دنیا بھر سے ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کو چھوڑ کربنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کا رخ کر رہی ہیں اور شومئی قسمت آج بنگلہ دیش کا ٹکہ جو کبھی پاکستانی روپے کے بیس آتے تھے آج وہ ہماری کرنسی سے سبقت لے گیا ہے۔ ڈالر، پونڈ اور یورو کے مقابلے میں تو روپیہ کہیں سینڈ ہی نہیں کرتااور ہم اس شخص کی طرح جو جس شاخ پر بیٹھا ہو اسی کو کاٹنے کے درپے ہو ہر قسم کے انجام سے بے خبر پاکستان کے اٹھارہ کروڑعوام کی نسوں میں بارود بھر کر آنے والی نسل کو سوڈان اور صومالیہ جیسا ایک ملک بنا دینا چاہتے ہیں اور وہ بھی نصیب دشمناں اگر پاکستان مکمل تباہی سے بچایا لیا گیا تو؟ سابقہ آمر نے ملک کو آٹھ سال کے لیے صرف 10بلین ڈالر میں بیچ دیا تھا اور وہ بھی پوری طرح تو کیا 20پرسنٹ بھی وطن عزیز کی فلاح اور تعمیر پر استعمال نہ ہوئے بقیہ رقوم آمر اور اس کے ٹولے کے غیرملکی بینک اکائونٹ کے راستے دوبارہ مغربی ممالک کو واپس پہنچ گئی جبکہ اس وقت تک ملک کا جو سٹرکچر تباہ ہوا ہے صرف اس کی مالیت45ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ ملک کی کریڈ بیلٹی اور اعتماد کو جو نقصان پہنچا ملک کی اساس کو جو گہرے زخم آئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ گذشتہ ہفتے میں یورپ کے چھ ہفتوں کے دورے کے بعد واپس وطن لوٹا ہوں۔ اپنے سفر کے دوران میری چند دوست یورپین ممبران پارلیمنٹ سے ملاقاتیں ہوئیں اس کے علاوہ یورپ کے چند مشہور صحافی اور تجزیہ نگاروں سے بھی گفتگو ہوئی یورپ کے دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ جس طرح آنے والے دنوں میںپاکستان کے حالات کی تصویر کشی کرتا ے وہ بڑا بھیانک ہے۔ امریکہ کے افغانستان سے افواج نکالنے کی اصلی وجوہات تو کئی ہیں مگر ایک بنیادی وجہ نیٹو اتحادیوں کا اب امریکہ کے اس ایڈوانچر کے لیے اپنا سرمایہ اور افواج مزید وہاں پر نہ بھیجنے کا اعلان ہے۔ جرمن چانسلر مادام مارکل کو داخلی طور پر اس ایشو پر ہزیمت اٹھانا پڑ رہی ہے اور ضمنی بلدیاتی الیکشن میں ان کی پارٹی اپنی ساکھ گنوا بیٹھی ہے اسی طرح اٹلی کے وزیراعظم برلہ سکونی داخلی مشکلات کی وجہ سے اور کرپشن کے الزامات کی وجہ سے ان کی گورنمنٹ اس وقت انتشار کا شکار ہے۔ فرانس کی اپنی مجبوریاں ہیں وہاں پر چرچ اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ معاشی طور پر بھی فرانس کو پرابلمز ہیںیہی وجہ ہے کہ فرانس کے صدر سرکوزی عوام کی توجہ موجودہ مسائل سے ہٹا کر برقعے اور نقاب کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ سپین اور یونان دیوالیہ ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اٹلی کے 80فیصد بنکوں نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان معروضی حالات میں جب کساد بازاری اور اسٹاک ایکسچینج آخری ہچکیوں پر ہیں جرمن نے یورپ کے نئے اور پرانے ممالک کو کھربوں یورو کی امداد دے کر ایک دفعہ پھر پائوں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے مگر جرمن اور یورپین پارلیمنٹ کے اراکین اور عوام جانتے ہیں کہ ریت سے بنائی جانے والی اس دیوار کو اب کسی دھکے کی ضرورت نہیں یہ اپنے ہی وزن سے چاروں شانے چت گرنے والی ہے۔ ان حالات میں یورپ اور نیٹو افواج عراق اور افغانستان میں مزید کسی ایڈوانچر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے امریکہ نے اتحادیوں سے واضح اشارہ ملنے کے بعد اچانک افغانستان سے 2011ء میں فوجیں نکالنے کا ٹائم ٹیبل دیا ہے جرمن زبان کے موقر میگزین ورلڈ ویک کے مسٹر URS Grigerنے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2011ء میں امریکن افواج کے انخلا کی خبر2010ء میں جاری کرنا دراصل شکست کا برملا اعتراف ہے جس کی وجہ سے آئندہ چار سالوں میں امریکہ نے وہاں اپنے مقامی اتحادیوں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے یہی وجہ ہے کہ اس اعلان کے فوری بعد کٹ پتلی کرزئی حکومت نے طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی ہے جس کے نتیجے میںطالبان مزید مضبوط ہوں گے کیوں کہ امریکہ نے واپسی کا اعلان کرکے اپنے ہی اتحادیوں کو کچھ دیرکے لیے غوروفکر کا بند دروازہ کھول دیا ہے۔ سوئس نیشنل ٹیلی ویژن کے سنیئر تجزیہ نگار مسٹر Zum Steinنے مجھے بتایا کہ امریکہ دراصل افغانستان سے فوجیں نکال کر واشنگٹن یا نیویارک واپس نہیں لے جائے گا بلکہ ان چار سالوں میں ایک نیا میدان جنگ تیار کرے گا اور یہ بات روز و روشن کی طرح عیاں ہے کہ ڈیڑھ لاکھ امریکن فوج کا اگلا مورچہ بلوچستان اور خیبرپختواہ ہوں گے۔ امریکن و مغربی اتحادیوں کے چار سالہ پروگرام کے دوران اس خالی جگہ کو بھارتی افواج سے پُر کریں گے جن کا پیپر ورک مکمل ہے اور آئندہ چار سالوں میں ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوج افغانستان میں موجود ہوں گی۔ اس طرح پاکستان کی عسکری قیادت اور انٹیی جنس ایجنسیاں جو کہ یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ نیٹو انخلا کے بعد وہ کابل پر دوبارہ قابض ہو سکیں گے؟ تو یہ خواب خرگوش ہے بھارت جسے اب کشمیر کے ساتھ ملحقہ سرحدوں سے کوئی بڑا خطرہ اس لیے نہیں ہے کہ پاکستان کی افواج کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی وزیرستان وانا میں مصروف ہے اور بیک وقت آدھ درجن محاذوں پر نبرد آزما ہونا تیکنیکی طور پر پاکستان کی افواج کے بس کی بات نہیں ہو گی اس طرح نیٹو کے اس متوقع انخلا کے بعد پاکستان پوری طرح علاقائی جنگ میں گِھر جائے گا۔ فرانس کے مشہور اخبار لی فگارو کی سینئر رپورٹر اور تجزیہ نگار مس پائولین (Pauline)نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دراصل یورپ میں سخت مندی کے دن ہیں اقتصادی طور پر یورپ مرد بیمار بن کر رہ گیا ہے مضبوط یور تیزی سے گہرائی کا سفر شروع کر چکا ہے جس کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے جو کہ خود بھی پچھلے دو سالوں میں بین الاقوامی معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔2009ء میں امریکہ کے 340بنکوں نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا جبکہ اس سال پہلے سات ماہ میں 210امریکی بنک دیوالیہ ہو چکے ہیں بڑی بری ملٹی نیشنل کمپنیاں اور انشورنس و کاروباری ادارے دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ امریکہ اس جنگ کو اپنے اوپر بوجھ سمجھ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ تھینک ٹینک نے جنگ کا رخ موڑ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران وہ ایک نیا محاذ کھول کر اوبامہ انتظامیہ کو 2013ء میں ہونے والے الیکشن میں جتوانا چاہتے ہیں جن کی کارکردگی گولف کھیلنے اور ایوارڈ تقریبات تک محدود ہو چکی ہے۔ میرے استفسار پر مس پائولین نے بتایا کہ جنگ کا یہ نیا محاذ یقینا بلوچستان اور بلوچستان کا ایرانی سرحد سے ملحقہ علاقہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپین یونین اور امریکن نے ایران پر نیوکلیئر ایشو کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ اور ایک دفعہ پھر ایران یورپین پابندیوں کے اعلانات کا سامنا کر رہا ہے۔مسٹر پیٹرگرھارڈPeter Gerhard جو کہ مشہور یورپین دفاعی تجزیہ نگار ہیں نے مجھے فون کرکے پوچھا کہ تمہیں کچھ پتہ ہے آج پاکستان کے وزیراعظم نے بذات خود ٹیلی ویژن پر آ کر قوم سے خصوصی خطاب کے دوران اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت کے موجودہ سربراہ جناب چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل کیانی کی 3سال کی مدت ملازمت میں توسیع دے دی گئی ہے۔ میں نے بتایا میں ابھی سویا ہوا اٹھا ہوں۔ انٹرنیٹ پر اخبار پڑھ کر میں تجھے کال بیک کرتا ہوں تھوڑی دیر بعد جب میں نے پیٹر گرھارڈکو فون کیا تو اس نے میرے سوال کے جواب میں بتایا یورپین تجزیہ نگاروں کی رائے میں یہ توسیع کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ ایسا ہونا طے تھا کہ ہیلری کلنٹن اور ہالبروک کا پاکستان آنا افغانستان کی سرزمین پر پہلی دفعہ علاقائی کانفرنس کا انعقاد اسی سلسلہ کی کڑیاں تھیں کیونکہ امریکہ انخلا کا اعلان کرنے والا تھا اور اپنے نئے جنگی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہیں خطے کی سیاسی قیادتوں کے علاوہ پاکستان کی عسکری قیادت کی خوشنودی بھی ضروری تھی امریکہ اپنی افواج کے انخلا کے موقع پر ویت نام جیسی صورت حال کا سامنا کرنے سے خوفزدہ ہیں یہی وجہ ہے کہ انخلا کے پروگرام کے دوران پاکستان میں مضبوط عسکری قیادت کا ساتھ ہونا کم سے کم امریکن نقصان کے لیے ضروری ہے۔ پیٹر نے مجھے بتایا کہ یہ ساری صورتحال اتنی تیزی سے تبدیل ہوئی ہے کہ یورپ اور امریکہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ جنرل پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع جو کہ چھ ماہ سے ایک سال تک کی متوقع تھی کو تین سالوں پر محیط کر دیا گیا لیکن اس سے خطے میں امریکن سوچ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ امریکن ایک دفعہ پھر اداروں کی بجائے فرد کو فوقیت دی گئی ہے۔ لیکن امریکن تھینک ٹینک نے ہمیشہ امریکن انٹریسٹ کو دیکھا ہے یہی وجہ ہے کہ فوج پر جنرل پرویز کیانی کی صورت میں ایک مضبوط گرفت رکھنے والے اس چیف آف دی آرمی سٹاف پر بھروسہ اوراعتبار دراصل امریکہ کی مجبوری تھی اور دوسری طرف پاکستان کی نوزائیدہ جمہوریت کو بھی جنرل پرویز کیانی سے شاید کوئی خطرہ نہیں ہے وگرنہ پہلے کے حالات کو مدِ نظررکھا جاتا تو ہمیشہ اسی جرنیل نے جمہوریت کا بسترا گول کیا جسے مدت ملازمت میں یا توسیع دی گئی یا بے شمار جرنیلوں سُپر فیڈ کرکے اوپر لایا گیا آج برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا بیان چاہے وہ برٹش گڈ بیچنے کی وجہ سے ہے یا امریکن مونگ پھلی؟ پاکستان کے ان معروضی حالات عالمی تجزیہ نگاروں کی نظر میں پاکستان کے اوپر بڑھتے ہوئے مغربی دبائو کا نتیجہ ہے آج پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کو امریکہ بھارت برطانوی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ اور سازشوں کا سامنا ہے اور اگر ان حالات میں پاکستان کی سیاسی قیادت مدبرانہ سوچ رکھتی ہے تو یقینا وہ ایسے فیصلے کرے گی جن کے نتائج پاکستان کے لیے مثبت ہوں وگرنہ خدشات کا مگرمچھ منہ کھولے بیٹھا ہے۔ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا اور ان کے وفد نے برطانیہ کا مجوزہ دورہ منسو خ کرکے امریکہ اور برطانیہ سمیت نیٹو ممالک کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستانی اپنی عزت نفس پر کسی قسم کا سودا نہیں کر سکتے۔جہاں تک سیاسی قیادت کاتعلق ہے تو دنیا ایک گلوبل ویلج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس لیے ڈپلومیٹک دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں مگر پاکستان کی عسکری قیادت کی طرف سے دیا جانے والا یہ پیغام امریکہ اور اتحادیوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus