×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پیپلز پارٹی کے اندر مفاہمت۔ وراثت کا تحفظ
Dated: 30-Jul-2010
27 اکتوبر2007ء کو جب محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی کے کروڑوں جیالوں اور پیپلز پارٹی کے خیر خواہوں سمیت 18کروڑ پاکستانیوں کے لبوں پر ایک سوال آیا کہ ’’اب کیا ہوگا؟‘‘ یقینا یہ وہ سوال تھا جس کا کم از کم 27 اکتوبر کو تو کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔ نہ صرف پیپلز پارٹی کے ورکرز اور پاکستانی بلکہ عالم اسلام سے اس کا مقدر چھین لیا گیا تھا۔ پھر28اکتوبر کو محترمہ کی تدفین کے بعد جب سینیٹر آصف علی زرداری صاحب نے ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگایا تو کروڑوں پاکستانیوں کے دل کو ٹھنڈک پہنچی اور ایک انجانے بھیانک خوف سے پوری قوم باہر نکلی کہ کوئی تو ہے جو اس ٹوٹی ہوئی زنجیر کو جوڑنے کا فن جانتا ہے۔29اکتوبر کو رسم قل کے بعد جب پیپلز پارٹی کی فیڈرل کونسل اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس نوڈیرو میں ہوا تو محترمہ شہید کی وصیت کے مطابق جناب آصف علی زرداری صاحب کو پارٹی کا شریک چیئرپرسن منتخب کر لیا گیا اور شہید محترمہ کے صاحبزادے جناب بلاول زرداری صاحب کو چیئرمین چن لیا گیا۔ اس اقدا م سے نہ صرف بکھرتے ہوئے پاکستان بلکہ مایوسیوں کی دلدل میں پھنسے کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کو تسکین ہوئی۔ اس اعلان سے پاکستان کے چاروں صوبوں میں لگی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور جلتا ہوا پاکستان پھر ایک خواب ایک نئی صبح کی امید میں مشکل منزل کی جانب رواں دواں ہو گیا۔ اس دوران آمر مشرف نے 7جنوری کو ہونے والے الیکشن منسوخ کرکے الیکشن کی نئی تاریخ 18فروری رکھ دی۔ آمر کا یہ اقدام یقینا دوسری سیاسی پارٹیوں کے لیے تو ایک موقع تھا پھر سے اپنی قوت مجتمع کرکے الیکشن کے نتائج بدلنے کا مگر پیپلز پارٹی نے اس نئے الیکشن ٹائم ٹیبل کو چہلم کے سوگ سے زیادہ اہمیت نہ دی۔ 18فروری کے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے ملک کے چاروں صوبوں میں کامیابی حاصل کی اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ بلامقابلہ سپیکر شپ اور وزیراعظم کو منتخب کروایا۔ لیکن پاکستان کی رنجیدہ عوام اس سے کچھ زیادہ دیکھنے کے موڈ میں تھے جس کو بھانپ کرجناب آصف علی زرداری صاحب نے آمر کو مکمل رخصت کرنے کا پروگرام ترتیب دیا اور بالآخر 18اگست کو آمر مشرف کو رخصت سفرباندھنے پر مجبور کر دیا۔ اس وقت تک تو پیپلز پارٹی کے جیالے ہر پارٹی اقدام پر لبیک کہتے ہوئے کندھے سے کندھا ملا کر پارٹی لیڈرشپ کے ساتھ کھڑے تھے۔ آصف علی زرداری صاحب کے صدر مملکت منتخب ہونے کے بعد جب پارٹی کارکنوں نے دیکھا کہ اب ان کی طرف بھی توجہ دی جائے اورگذشتہ بارہ سالہ دور کے زخموں پر مرہم رکھی جائے تو پیپلز پارٹی کی قیادت اس وقت تک کئی نئے دوست بنا چکی تھی۔ اقتدار کے ایوانوں میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جن کے چہرے جبر اور مار کھانے والے جیالوں کے لیے اجنبی تھے، پارٹی کی فسٹ اینڈ سیکنڈ لائن قیادت کو دُکھ اس بات کا تھا کہ نوازشریف اور مشرف کے ادوار میں جن لوگوں نے صعوبتوں کا سامنا کیا آج ان کا سامنا کرنے والا کوئی نہیں تھا خود ہم نے کارکنان کو کبھی لوڈشیڈنگ کے نام پر، کبھی آٹے،گندم، کھاد، چینی کے بحران پر کارکنان کو تسلیاں دیں کہ ابھی حکومت اپنے پائوں پر نہیں کھڑی ہوئی اس لیے کارکنان تسلی رکھیں حالات ٹھیک ہوتے ہی کارکنوں کو ان کا حق گھر کی دہلیز تک پہنچایا جائے گا۔ مگر ہماری یہ تسلیاں طفلِ تسلیاں ثابت ہوئیں۔ آج اقتدار میں آئے پیپلزپارٹی کو تیس ماہ ہونے کو ہیں، کارکنان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ لوگوں کی زبانِ زدعام پر یہ فقرے ہیں کہ موجودہ کابینہ میں کم از کم درجن بھر ایسے وزراء موجود ہیں جنہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت پر مٹھائیاں تقسیم کیں تھیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق صدر رانا آفتاب الیکشن ہارنے کے بعد استعفیٰ دے کر چلتے بنے۔ کم از کم پچھلے چند ماہ سے پنجاب پیپلز پارٹی جو کہ پہلے ہی حالات کا شکار ہے اور آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مترادف،اقتدار میں ہے بھی مگر نہیں بھی ہے۔ ایک سینئر وزیر اور چند وزراء سمیت درجن بھر لوگ ہوٹرلگی گاڑیوں میں خوش ہیں مگر پیپلز پارٹی پنجاب ایک یتیم مسکین سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ اس وقت پیپلز پارٹی پنجاب میں تنظیم سازی نامکمل ہونے کی وجہ سے ایک شوپیس سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی جبکہ پیپلز پارٹی کو پنجاب کے اندر سخت ترین حریف کا سامنا ہے ان حالات میں پیپلز پارٹی ضمنی الیکشنوں میں بھی صوبائی سطح پر خاطرخواہ کامیابیاں حاصل نہیں کر سکی۔ بس جہاں کہیں الیکشن ہوتا ہے چند وفاقی وزراء وہاں پہنچ جاتے ہیں، چند دن ڈیرے ڈالتے ہیں، ضیافتیں اڑاتے ہیں، سوئی گیس کے پائپ اور بجلی کے کھمبے پھینک کر واپس چلے آتے ہیں۔ کارکنوں سے بغلگیر ہونا تو دور کی بات ان سے ہاتھ ملا کر ٹشو سے فوراًہاتھ پونچھ لیے ہیں۔ پیپلزپارٹی پنجاب کے 36اضلاع میں تنظیم سازی نامکمل ہے جس کی وجہ پچھلے ادوار میں ذاتی پسند اور لابیوں کی وجہ سے من پسند ضلعی صدور کا تقرر ہے۔ پیپلزپارٹی پاکستان بھر اور پنجاب میں دو یقینی حصوں میں بٹی ہوئی ہے ایک پارلیمنٹرین لابی ہے،دوسری تنظیمی لابی۔ دونوں کے درمیان پایا جانے والا فرق رفتہ رفتہ ایک خلیج کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، قصور، ساہیوال،ملتان سمیت جہاں کہیں سے وفاقی یا صوبائی وزراء منتخب ہوئے ہیں وہ اپنے اپنے حلقوں میں مگن ہیں اور اکثر وزراء کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ’’بھائی اپنے حلقے کی فکر کرو آئندہ منتخب ہوئے تو وزیر سفیر بنیں گے ہار گئے تو پھر آئوٹ‘‘ یہ حال وزراء کا ہے جو بے یقینی کا شکار ہیں اور ساری نوکریاں اور فنڈز اپنے اپنے حلقوں میں لگا رہے ہیں۔ جبکہ ممبران فیڈرل کونسل، سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی،سینئر ممبران اور پارٹی کے بانی جیالے عضوئے بیکار کی طرح بکھرے پڑے ہیں جنہیں ہر عمل سے دور رکھا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے سے نظریں بھی نہیں ملا پاتے۔ بس اپنی اپنی عزت بچانے کے لیے پہلے جھوٹی تسلیوں کا سہارا دیتے تھے اب سیدھا سیدھا جواب دے کر عام لوگوں اور کارکنان سے ملنے سے کتراتے ہیں کیونکہ کارکنوں کی تیکھی اور چبھتی باتوں کے ان کے پاس جواب نہیں۔ مجھے یہاں ایک ایسا ہی واقعہ یاد آیا۔2008ء کے الیکشن کے بعد ایک دوست سے ٹیلی فون پر بات ہوئی جو ان دنوں تو صوبائی سیکرٹری ہیں وہ جناب شہباز شریف کے پہلے دور حکومت میں ان کے ساتھ سیکرٹری تھے اور قریب ترین تصور کیے جاتے تھے پھر وزیراعلیٰ پرویز الٰہی بنے تو ان کے ساتھ تھے۔اسٹیبلشمنٹ کی یہ مجبوریاں ہوتی ہیں۔2008ء کے الیکشن کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت نے انہیں کھڈے لائن لگا دیا تھا،مجھ سے پوچھنے لگے مطلوب سنائو کیا حال ہے؟ میں نے روایتی طریقے سے بتایا کہ جناب اللہ کا شکر ہے مزے کر رہے ہیں۔ پارٹی اقتدار میں ہے اور بس اللہ کا شکر ہے وہ میری بات پر برجستہ بولے ہاں میں بھی دوستوں سے یہی کہتا ہوں اس دوست کا یہ برجستہ جواب سن کر میں پانی پانی ہو گیا۔ مگر میں سمجھتا ہوں آج یہ حالات پورے ملک کے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے اندر مفاہمت کی ضرورت ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو حیات تھیں تو کچھ لوگ ان کے بہت قریب تھے جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر ان لوگوں کے لیے اوپن جیلسی موجود تھی۔ خود میرے متعلق مشہور تھا پتا نہیں کیوں؟ کہ مطلوب وڑائچ آصف زرداری کا بندہ ہے آج جب محترمہ نہیں ہیں، آصف زرداری مسند اقتدار اور پارٹی کے چیئرپرسن کی کرسی پر بیٹھے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ مطلوب وڑائچ محترمہ کا خاص بندہ تھا مگر مجھے تو بس یہ پتا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔اوورسیز پارٹی کی حالت بھی کافی عرصے سے دگرگوں ہے۔ سعودی عرب،متحدہ عرب امارات، جاپان، سوئٹزرلینڈ، انگلینڈ اور یورپ بھر میں کئی کئی متوازی تنظیمیں چل رہی ہیں اور ہر ایک ملک میں کم از کم چار صدور کو تو میں جانتا ہوں۔ پاکستان جو تھرڈ ورلڈ کا ملک ہے اس میں سیاسی پارٹیوں کو مشکلات کے دن دیکھنا اکثر نصیب ہوتا ہے مگر جس پارٹی کی اوورسیز تنظیم مستحکم ہو اس کی لیڈرشپ کو ان چیزوں کا احساس نہیں ہونے پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ محترمہ شہید نے 9سالہ جلاوطنی بڑی شان سے گزاری۔ وہ جہاں بھی جاتیں ان کا استقبال ایک وزیراعظم کے طور پر ہوتا۔ اس وقت انگلینڈ اور یورپ بھر میں نظریاتی کارکنوں کی کمی نہ تھی۔ چودھری ریاض،خواجہ شفیق، محسن باری، اکرم قائم خاکوانی، حبیب جان پھر سعودیہ میں اکرم اسد،دوبئی میں میاں منیر راشد چغتائی،فرانس میں فیاض چودھری اور امریکہ میں ڈاکٹر حسن چودھری،سرور خالد اعوان، اعجاز فرخ، شفقت تنویر،میاں بشارت، مسعود ذکریا،شوکت بھٹہ، کینیڈا میں جاوید گجر، عمران چوہدری یہ وہ لوگ تھے جو پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی تھے آج یہ لوگ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔ ڈسپلن کا فقدان ہے،دوسال بعد الیکشن کی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گئیں ملک اور ملک سے باہر اگر تنظیموں کا یہی حال رہا تو نتائج 1997ء کے الیکشن سے کچھ بہتر نظر نہیں آتے۔میری صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری صاحب،وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی صاحب اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری صاحب سے التماس ہے کہ جب ہم غیروں سے ہاتھ ملاسکتے ہیں ق لیگ اور ن لیگ کے افراد کو پارٹی میں جگہ دے سکتے ہیں تو پھر ان اپنوں سے ہاتھ ملانے میں کیا حرج ہے جنہوں نے سخت دنوں میں پارٹی کا ساتھ دیا وہ تو آزمائے ہوئے ہیں یہ نئے دوست تو ابھی اعتماد کی کسوٹی پر پرکھے بھی نہیں گئے۔ صدر صاحب اس وقت پوری قوم کی نظریں پیپلز پارٹی کی طرف اٹھ رہی ہیں کہ یہی وہ پارٹی ہے جو وفاق کی علامت ہے اور پارٹی کارکنان کی نظریں قیادت کی طرف اٹھ رہی ہیں کہ اب نہیں تو پھر کب؟ ہمیں مفاہمت کے بیج اپنے آنگن میں بونا ہوں گے، روٹھوں کو منانا ہوگا اس کے لیے بغیر لابی کے ایسے دوستوں کو تلاش کرنا ہوگا جو کہ حقیقتاً بھٹو ز کے فلسفہ سیاست پر یقین رکھتے ہوں اس کے لیے بڑے ناموں کی ضرورت نہیں بس بڑے کردار والے ساتھی ڈھونڈ کر ایک کمیٹی بنا دی جائے اور تمام روٹھوں کو منایا جائے۔ یاد رہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کسی ایک ساتھی کو بھی پارٹی سے نہیں نکالا تھا اور ممبران فیڈرل کونسل سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے کسی ممبر کو کبھی معطل نہیں کیا تھا۔ اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الاللہ شہید محترمہ اپنے ساتھیوں سے لمبا عرصہ ناراض نہیں رہتی تھی، احساس ہونے پر خود منا لیتی تھیںبلکہ میرے ساتھ تو روزانہ ایک دفعہ ضرور میری کسی حرکت پر سرزنش کرتی تھیں پھر منا بھی لیتی تھیں۔ ہمیں بس اب آگے بھی ان کے فلسفہ کی تکمیل کے لیے پاکستان کو 21ویں صدی میں پہنچانے کے لیے ان کے Reconcilationکے فلسفہ کو جاری رکھنا ہے کیونکہ منزل ابھی دور ہے۔ ہمیں پرانے ساتھیوں کو، دیرینہ دوستوں کو، بس یہ احساس دلانا ہے کہ وہ عضوئے معطل نہیں ہیں بلکہ ہراول دستہ ہیں جمہوریت کا۔ صدر صاحب الیکشن 2008ء کے بعد پارٹی کے پہلے ایگزیکٹو اجلاس میں آپ نے میری تقریر کے جواب میں کہا تھا کہ آپ اور بلاول بھٹو محترمہ کے حقیقی وارث ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں یقینا آپ محترم بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو صاحبہ ہی محترمہ کے اصل وارثان ہیں مگر ہم جیسے دوست ساتھی اور یہ پارٹی محترمہ کی وراثت ہیں اب یہ وارثان کا فرض ہے کہ وہ وراثت کا تحفظ کریں اور ہمیں یہ فخر ہے کہ ہم محترمہ کی حقیقی وراثت ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus