×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کچھ مجید نظامی کے مردِ راہوار کے بارے میں
Dated: 17-Jul-2008
جمہوریت کے علمبردار اورعظیم صحافی جناب مجید نظامی کے دو خطابات مردِ حُراور مردِ راہوار سے سرفراز ہونے والے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی پارٹی کو حکومت ملی تو مسائل کا انبار اور ڈوبتی معیشت کا ٹائی ٹانک بھی ورثے میں ملا۔ پہلی آزمائش اور مرحلہ حکومت سازی تھی اس کتھا کو سلجھانے میں انہوں نے واقعتا ایک سلجھے جہاندیدہ اور منجھے ہوئے سیاستدان کا کردار ادا کرکے خود کو مردِ راہوار کے خطاب کا جائز حقدار ثابت کر دیا۔ شہید چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو کی حکمتِ عملی کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے مسلم لیگ ن سے اتحاد کیا اور ق لیگ کی خواہش اور کوشش کے باوجود اسے اتحادی حکومت کا حصہ بنانے سے دو ٹوک انکار کر دیا۔ صدر مشرف کی کاسہ لیس پارٹی کو جوتے کی نوک پر رکھا۔ اس کا کچھ تو ردعمل ہوناتھا۔ حیران کن طور پر یہ ردعمل سازشوں کی صورت اختیار کر گیا۔ سید یوسف رضا گیلانی وزارت عظمیٰ کی حلف برداری کے بعد لاہور آ رہے تھے کہ جسٹس خلیل الرحمن کے سرکاری گھر میں ’’بھوت پھیری‘‘کر دی گئی۔ تالے توڑ کر سامان سڑک پر پھینکا گیا تو اس کی پہلی دھمک وزیراعظم کی سماعت سے ٹکرائی تو انہوں نے فوری کاروائی کرتے ہوئے سامان واپس گھر میں رکھنے کا حکم دیا اور پارٹی قائد کی ہدایت پر جج صاحب سے باقاعدہ معذرت کی گئی۔ ضمنی انتخابات کے التوا کا الیکشن کمیشن سے اعلان کرا دیا گیا یہ اقدام بھی پارٹی قیادت نے واپس کرایا۔ آئی ایس آئی اور آئی بی کو وزارت ِ داخلہ کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ اس روز سینیٹر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ملک میں موجود نہیں تھے لیکن سازشی عناصر اپنی سیاکاری میں مصروف تھے ان کو جیسے ہی موقع ملتا ہے حکومت کو ناکام ثابت کرنے اورمعاملات پر ڈھیلی گرفت کے تاثر کے اظہار کے لیے کچ نہ کچھ کر گزرتے ہیں۔ نہ جانے کونسے ہاتھ ہیں جو بحرانوں کے اس موسم میں شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری کے لیے مزید مشکلات پیدا کرکے کوئی بہت بڑا قومی فریضہ سرانجام دینا چاہتے ہیں۔ آئی بی کے مالی انتظامی اور آپریشنل اختیارات پہلے ہی وزیراعظم کے زیر سایہ ہیں۔ آئی ایس آئی بھی وزیراعظم کو جوابدیدہ ہے اور وزارت دفاع کا حصہ ہے۔ لہٰذا ان دونوں اداروں کو خصوصی طور پر وزارت داخلہ کے زیر سایہ کرنے کا مقصد ان قوتوں کا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک طرف جناب سینیٹر آصف علی زرداری کو اندرونی خلفشار کا شکار کیا جائے اور دوسری طرف بیرونی محاذ پر ناکام ثابت کیا جا سکے۔ اور ایک تیسرا محاذ جو ہر وقت کھلا رہتا ہے پیپلز پارٹی چاہے اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں وہ محاذ آئی ایس آئی کے ساتھ پیپلز پارٹی کو لڑا کر اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل چاہتا ہے۔ ماضی کی غلط فہمیوں کے نتیجے میں اسی گروپ کی سازشوں سے بھٹو خاندان کا قبرستان گڑھی خدابخش میں وسیع تر ہوتا چلا گیا۔اور بھٹو خاندان قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کرکے اپنے پیچھے پاکستان کھپے کا نعرہ چھوڑ گیا۔تاریخ گواہ ہے کہ آئی ایس آئی کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے اور آئی ایس آئی کو ایک شجرہ ممنوعہ قرار دینے والوں کے پیٹ میں آج اسی کی ہمدردی کے مروڑ اٹھ رہے ہیں۔اور یہی وجہ ہے اس واقعہ کے چند دن بعد پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ایک سونامی کی سی کیفیت ہے اور ان کی توپوں کا رخ پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کی طرف ہے۔ مگر یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ آئی ایس آئی پاکستان کا پرائوڈ ہے اگر انڈیا کو ’’را‘‘،اسرائیل کو ’’موساد‘‘، امریکہ کو ’’سی آئی اے‘‘ روس کو ’’کے جی بی‘‘ اور انگلینڈ کو ’’ایم فائیو‘‘رکھنے کی اجازت ہے تو پھر پاکستان کی آئی ایس آئی پر اعتراض کیوں؟دراصل ان لوگوں کو پاکستان کی سالمیت کی محافظ آئی ایس آئی سے دلی بیر ہے اور پاکستان کے مضبوط دفاع سے خطرہ لاحق ہے۔ میں سینیٹر آصف علی زرداری کی اہلیت،صلاحیت اور ہر معاملے پر ان کی کڑی نظر سے پوری طرح واقف ہوں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے معاملات جہاں چھوڑے تھے شریک چیئرمین نے وہیں سے سنبھال لیے وہ ایک ایک بحران پر قابو پاتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ ان سازشی عناصر سے بھی نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں لیکن وہ کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھانا چاہتے جس سے انتقامی کاروائی کا تاثر ابھرے۔ سینیٹر آصف علی زرداری کو سیاسی سمجھ بوجھ کا حامل ہر شخص ملک سے لوٹا کریسی اور مخالف جماعتوں میں فارورڈ بلاک بنانے کے خاتمے کا کریڈٹ ضرور دے گا۔ وہ ہر کام حوصلے جرأت اور منصوبہ بندی سے کرنے کے عادی ہیں ان کی طبیعت میں ایسا ٹھہرائو ہے کہ کسی بھی معاملے میں اور کسی بھی صورت میں طیش میں نہیں آتے۔ان کی ثابت قدمی کا میں چشم دید گواہ اور مداح ہوں میں ان کے ساتھ اڈیالہ جیل میں قید تھا لوئرکورٹ نے میری ضمانت خارج کی تو اطلاع ملنے پر میں پریشان ہوا مگر سینیٹر جناب آصف علی زرداری میری کیفیت بھانپ کر میرے پاس آئے مجھے حوصلہ دیا سمجھایا بجھایا اور کہا کہ ہو سکتا ہے ہمیں انصاف کے لیے سپریم کورٹ تک جانا پڑے انہوں نے مجھے اس طرح موٹیویٹ کیا کہ اس سیاسی قید پر مجھے فخر ہونے لگا اور پھر میں کبھی سنجیدگی سے درخواست ضمانت نہیں دی۔میں ان سے چند سال چھوٹا ہوں۔ جیل میں وہ اپنے بچوں کی طرح میری تربیت کرتے رہے اور میرے لیے جیل کی کوٹھڑی کو مکمل اکیڈمی بنا دیا۔آج ان کو اپنی اہلیت، صلاحیت اور سیاسی سوجھ بوجھ آزمانے کا موقع ملے ہے۔ پیپلز پارٹی کو بحرانوں میں گھرا زخموں سے چُور چُور پاکستان ملا ہے۔ اور اسے عالمی سطح پر وہ خوشگوار عالمی حالات نہیں مل سکے۔ملک کے اندرونی اور بیرونی بحرانوں کے اس موسم میں میں پُرامید ہوں کہ جناب مجید نظامی صاحب کے مردِ حُر اور مردِ راہوار جناب سینیٹر آصف علی زرداری اس ملک کو انشاء اللہ اپنے تدبر اور شہید چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو کی خواہشوں کے بالکل عین مطابق بھنور سے نکال کر کنارے تک نہ صرف لے جائیں گے بلکہ پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک پُروقار ملک بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus