×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سانحہ کارگل کی بازگشت۔ تحقیقات ناگزیر
Dated: 13-Jul-2008
چند روز قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین جناب سینیٹر آصف علی زرداری صاحب سے ایک بیان منسوب کیا گیا جس میں کہا گیا کہ انہوں نے سانحہ کارگل کا ذمہ دار اُس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو قرار دیا ہے، سب سے پہلے اس خبر کے ذرائع کی بات کرتے ہیں کہ وہ کتنا معتبر ہے۔ یہ خبر ایک بھارتی خبررساں ایجنسی نے ایک بھارتی ٹی وی ’’آج تک‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو کے حوالے سے جاری کی۔ بھارت کی خبررساں ایجنسیوں کی بدنیتی سے ہر کوئی واقف ہے۔ شریک چیئرمین آصف علی زرداری صاحب کا ایسا بیان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان دوری کا سبب بنتا۔ جس سے مرکز میں اور پنجاب میں حکومتیں یقینی طور پر غیرمستحکم ہوتیں۔ اور یہی بعض عالمی اداروں کی کوشش اور خواہش بھی ہے۔ پاکستان میں موجود کچھ حلقے بھی ایسی سوچ رکھتے ہیں۔ مذکورہ خبر کے حوالے سے ذکر نجی ٹی وی سے انٹرویو کا کیا گیا ہے۔ اگر واقعتاً شریک چیئرمین نے ایسی بات کی تھی تو اس کی ’’آج تک‘‘ سے ریکارڈنگ لے کر آج ہر پاکستانی چینل پر اس کا بھرپور طریقے سے واویلا ہونا تھا۔ لیکن آج تک ہمیں ایسی کوئی کلپ نظر نہیں آتی۔ بھارتی خبررساں ایجنسی کا جھوٹ ثابت کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین، سینیٹر جناب آصف علی زرداری صاحب انتخابی مہم سے آج تک وسیع تر مفاہمت کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ہر جماعت کو ساتھ لے کر چلنا ان کی خواہش اور کوشش ہے جس میں وہ پوری طرح کامیاب رہے ہیں۔ معزول ججوں کی بحالی کے معاملے میں مسلم لیگ ن وزارتیں چھوڑنے کے باوجود پیپلز پارٹی کے شانہ بشانہ ہے۔ ایسے میں وہ اپنے بڑے حکومتی پارٹنر میاں محمد نوازشریف کے بارے میںایسی بات کیوں کریں گے جس سے ایک نیا تنازع کھڑا ہو جائے۔ زرداری ہائوس کے ترجمان نے وضاحت کر دی ہے۔ میڈیا میں چلنے والے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا مقصد اتحادی رہنمائوں کے درمیان شک کا بیج بو کر ملک میں جاری سیاسی عمل کو سبوثاژ کرنا ہے۔ خود سینیٹر جناب آصف علی زرداری صاحب نے اس کی وضاحتی تردید کرکے ایسی تمام قوتوں کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ رسید کیا ہے لیکن ایجنسیوں کے ضمیر کہاں ہوتے ہیںکہ جو وہ کوئی خلش محسوس کریں۔عوام ایسی قوتوں سے آشنا ہیں جو مذموم مقاصد کے لیے اس قسم کے کام کرتی ہیں۔ کارگل ایک کھلا باب ہے جس کے ذمہ داروں کے بارے میں سب آگاہ ہیں۔ سینیٹر جناب آصف علی زرداری صاحب میاں نوازشریف کو اپنا بڑا بھائی کہہ چکے ہیں اور ان کی بے حد عزت کرتے ہیں۔ اس وضاحت سے یہاں سازشیوں کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی وہیں یہ وضاحت دونوں پارٹیوں کے درمیان مزید قربت کا باعث بنے گی۔ سانحہ کارگل ملکی تاریخ کا شرمناک اور مایوس کن باب ہے۔ اس میں 2700 سے زائد فوجی جوانوں کی جانیں چلی گئیں۔ زخمی ہونے والے ہزاروں جوان اس کے علاوہ ہیں۔ سانحہ کارگل کے شہدا کی تعداد1965 ء اور1971ء کی جنگوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے فوجیوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ جن مقاصد کے لیے اس قدر شہادتیں ہوئیں کیا وہ مقاصد حاصل کر لیے گئے؟ اگر حاصل کر لیے جاتے تو قیادت سرخرو ہو جاتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد ہمارے لیے یہ ایک اور کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوا۔ پوری دنیا میں رسوائی ہوئی۔اور پاکستانی فوج کا مورال اوربھی ڈائون ہو گیا اور اس کے علاوہ پاکستانی قوم کو بحیثیت قوم ایسا جھٹکا لگا جو کسی طرح بھی 71ء کے جھٹکے سے کم نہیں تھا۔یہ سانحہ 1998ء کے وسط میں وقوع پذیر ہوا، آج تک اس کے ذمہ دار کا تعین نہیںہو سکا۔ پرویز مشرف شروع سے کہے چلے آ رہے ہیں کہ ساری کارروائی اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف کو اعتماد میں لے کر کی گئی نواز شریف کا موقف ہے جب فوج وہاں پھنس گئی تو جان چھڑانے کے لیے ان کو بتایا گیا۔ آپریشن کیوں کیا گیا؟ کیسے کیا گیااور کس کے کہنے پر کیا گیا؟ اس بارے میں ان کو کوئی علم نہیں۔ وہ کون سی قوتیں تھیں جو اس آپریشن کے چھپے ہوئے مقاصد کے لیے کام کر رہی تھیں۔ دراصل کارگل کی جنگ کے بعد پاکستان کے پاس کشمیر آپریشن کو بند کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ رہ گیا۔ 2700 فوجیوں کی شہادت کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ سینیٹر جناب آصف علی زرداری صاحب سے غلط بیان منسوب کردیا گیا کہ نوازشریف اور مشرف دونوں سانحہ کارگل کے ذمہ دار ہیں۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ جب تک ذمہ دار کا تعین نہ ہو جائے کوئی کچھ بھی کہہ سکتا ہے اور کسی کو بھی ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔اس لیے ہمیں دودھ اور پانی کو الگ کرنا ہوگا تاکہ آئندہ کوئی طالع آزما ملک کی سالمیت سے کھیلنے کی جرأت نہ کر سکے۔ بھارت نے سانحہ کارگل پر دو کمیشن بنائے۔ دونوں کی رپورٹیں آ گئیں۔ نوازشریف بار بار کمیشن بنانے کا مطالبہ کر چکے ہیں جبکہ پرویز مشرف اس مطالبے کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے۔ آدھی تحقیقات تو یہیں مکمل ہو جاتی ہے۔ فرض کر لیں اس ایڈونچر کی منظوری وزیراعظم سے لی گئی تھی۔ تو اس آپریشن کی کامیابی کی ذمہ دار فوج تھی۔ پھر آپریشن ناکام کیوں ہوا؟ ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔ جس میں شامل سجیلے جوان اپنی جان تو دے دیتے مگر وطن کی آن پر کبھی آنچ نہ آنے دیتے۔یہ ہماری بہادر فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر سوالیہ نشان ہے؟ چند جنونی جرنیل اپنی انا کی تسکین کے لیے ہزاروں جانوں اور خاندان کی قسمت سے کھیل گئے۔ جرنیل اگر بار بار قوم کو فتح کرنے کے بجائے اپنے پیشہ ورانہ فرائض پر توجہ مرکوز رکھتے تو پاکستان سے مشرقی حصہ الگ ہوتا نہ سانحہ کارگل وقوع پذیر ہوتا۔ اس سانحہ کی ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کا سلسلہ اس وقت جاری رہے گا جب تک اس کی تحقیقات کرکے اصل ذمہ دار کی نشاندہی نہیں کر دی جاتی۔ صدر مشرف اس سانحہ میں خود کو بری الزمہ قرار دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کارگل کے اوپر ایک غیرجانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس شرمناک واقعے کے محرکات تلاش کرکے عوام کے سامنے پیش کرے تاکہ قوم کو ان حقائق کا پتا چل سکے جس کی وجہ سے ہماری عزت رسوا ہوئی۔ہمارے طالع آزما آمر ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ہر وہ واقع جس کے منفی اثرات نکلیں اس کو سیاستدانوں کی گود میں ڈال دیا جائے۔ اس سلسلے میںدونوں اتحادی جماعتوں کے مرکزی رہنمائوں سے درخواست کرتا ہوں کہ جمہوریت کے خاردار راستے میں انہیں بے شمار مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔اور جمہوریت کی اس گاڑی کو جگہ جگہ پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی جائے گی اور اسٹیبشلمنٹ اور اس کے پروردہ نام نہاد مواقع پرست سیاستدان یہ کوشش کرتے رہیں گے کہ کسی طریقے سے جمہوریت کا یہ پودا اپنی جڑیں نہ پکڑ سکے۔وہ ساری سازشیں اتحاد کا مظاہرہ کرکے ناکام بنا دیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus