×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
داخلی انتشار کا شکار پاکستان
Dated: 19-Aug-2010
قوموں کی زندگی میں حادثات واقعات کا رونماہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ کروڑوں عوام کو کسی ایک ایجنڈے اور کسی ایک پوائنٹ پر اکٹھے کرلینا بہت مشکل ہے۔ جب ہم تاریخ کے باب کھولتے ہیں تو ہمیں ادراک ہوتا ہے کہ اکثر اقوام اپنے اعمال کے ہاتھوں صفہ ہستی سے مٹ گئی جبکہ بہت کم قومیں حوادث زمانہ کا شکار ہو کر دنیا کے نقشے سے غائب ہوئیں۔ ہم جب قوم نوح و قوم لوط کا احوال سنتے ہیں تو اس سے آج کے احوال سے تقابلی جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح جب ہم حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر دیگر پیغمبران خدا کی جدوجہد اور بنی نوع انسانیت کے لیے کردار دیکھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ قوموں کو صراط مستقیم پر لے کر چلنا ایک بہت مشکل عمل ہے اور ان قوموں نے اپنے رہبروں اور انبیائؑ تک کو پھانسیوں پر لٹکایا خود آنحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ کے بازار سے گزرتے تھے تو ایک عورت روز ان کے جسم مبارک پر کوڑا پھینکتی تھی مگر آپ چونکہ رحمت اللعالمین تھے اپنے خلوص اور پیار سے دل جیتناجانتے تھے لہٰذا اس کے لیے بھی دعا فرمائی۔ طائف کے شہر میں جہاں حضور کے دندان مبارک شہید کیے گئے رب ذوالجلال کو جلال آیا اور اس نے طائف کو تباہ کرنا چاہا مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ اس زمین پر منبع محبت و پیار تھے طائف شہر کے حق میں دعا کی۔ آج طائف سعودی عرب کا بھوربن ہے اور وہاں آپ کی دعائوں سے رحمتیں برستیں ہیں۔ پاکستان بنے 63سال گزر گئے ہیں انگریزوں کے ڈیڑھ سو سالہ تسلط کے بعد آزادی کا سورج جب طلوع ہوا تو خطے میں موجود عالم اسلام کے چہرے پر ایک طمانیت تھی اسلام کے نام پر دو قومی نظریے کے استحکام کے لیے بننے والے اس ملک کو جلد ہی نظر تب لگ گئی جب حضرت قائداعظم قیام پاکستان کے چندماہ بعد رحلت فرما گئے۔ شہید ملت لیاقت علی کی شہادت کا سانحہ اس نوزائیدہ قوم کے لیے دوسرا بڑا دھچکا تھا اور ابھی اس قوم کا قومی ترانہ بھی نہ بن پایا تھا کہ اس ملک پر پہلا مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔ ایک نئی جنم لینے والی مملکت اپنے عوام سے ناآشنا کر دی گئی عوام اور مملکت کے درمیان خلیج حائل کر دی گئی یوں اس قوم کی اصل بدنصیبی کا آغاز ہوا اور ایک دفعہ تو ایسا موقع آیا کہ ہمسایہ دشمن ملک کی وزیراعظم نے یہاں تک کہہ دیا کہ میں اتنی ساڑھیاں نہیں بدلتی جتنی پاکستان قیادتیں بدلتا ہے۔ سکندر مرزا پاکستان کے پہلے مارشل لاء کا خالق تھا جو بعدازاں مکافات عمل کے شکار ہوا اور لندن میں ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر گیا۔ اسی طرح ایوب، یحییٰ خان، ضیاء الحق کا انجام بھی روزروشن کی طرح اس قوم کی نظروں کے سامنے ہے اور میرا یقین ہے کہ سابق آمر مشرف جو اس وقت دربدر پھر رہا ہے موت کے خوف سے پریشان ہے اس کا انجام بھی دیگر آمروں سے یقینا مختلف نہ ہوگا اس ملک عظیم کو جس کو اسلام کے نام پر بنایا گیا اور رمضان المبارک کی ستائیسویں کو جس کا وجود تشکیل پذیر ہوا اس کے ساتھ جس کسی نے بھی غداری کی قدرت نے اپنے انتقام سے اس کو نہ بخشا۔ مگر اتنی ساری حقیقتوں کے باوجود ہم اپنی آنکھیں بند کیے کیوں بیٹھے ہیں ہم حقیقتوں کا ادراک کیوں نہیں کرتے۔ 1971ء میں داخلی انتشار اور خارجی یلغار کی وجہ سے ملک دو لخت ہوا پھر اس کے بعد ہم پائوں پر کھڑے نہ ہو سکے اور جرنیلی طالع آزمائوں اور عاقبت نااندیش حکمرانوں کی بدولت آج اس وطن عزیز کی سالمیت شدید خطرات سے دوچار ہے۔ اس درمیان 2005ء کا زلزلہ ہو یا کوئی دیگر قدرتی آفات قوم ہر دفعہ متحد ہو کر ایک قوم کا ثبوت دیتی رہی مگر اس ملک کی قیادت کو ادراک نہ ہوا کہ ہمیں کونسی سمت چلنا ہے۔ قیادت صحیح رخ کا ہی انتخاب نہ کر پائی۔ آج ایک طرف طالبان کا آسیب دوسری طرف سو سال میں سب سے بڑے سیلاب کی تباہ کاریاں مگر ہم ہیں کہ حقائق سے چشم پوشی کو وطیرہ بنا لیا ہے۔ اقتدار کی خواہش نے قوم کو تقسیم در تقسیم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور تقسیم کے اس عمل نے آج ہمیں تباہی کے جس دہانے پر لاکھڑا کیا ہے اس کے آگے اب کسی مضبوط بند باندھنے کی ضرورت ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بکھرنے کے قریب اس قوم کو ایک دفعہ پھر سنبھالا دیا گیا مگر شاید اب بھی قیادتوں کوآنے والے طوفان کا علم نہیں۔ میثاق جمہوریت کے بعد عوام کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہ اب دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ذمہ داریوں کا احساس کریں گی۔ میثاق جمہوریت اس ملک کے عوام کے لیے جبروستم کے روزے رکھنے کے بعد ایک میثاق عید کا سا مژدہ لے کر آیا۔2008ء کے الیکشن کے بعد جب ایک قومی گورنمنٹ تشکیل دی گئی جس میں قریب قریب ہر بڑی سیاسی پارٹی کا کردار ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سمیت قائدحزب اختلاف ہو یا وزیراعظم کا انتخاب ایک نیشنل ریکنسیلیشن موجود تھا اور ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ ایوان کے نمائندگان کا انتخاب بلامقابلہ ہونا اس پارلیمنٹ کی کوئی چھوٹی کامیابی نہ تھی۔ ایک سال پہلے جب 2007ء مارچ میں عدلیہ بچائو تحریک کا آغاز وکلا اور سیاسی جماعتوں نے کیا تو یقین نہیں آتا تھا کہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہوگا قوم ایک دفعہ پھر متحد ہوئی تو 18اگست 2008ء کو آمر کو بالآخر بوریا بستر گول کرنا پڑا۔ لیکن پھر دشمنان وطن کی نظر لگ گئی اور آج اس ملک کا حساس دانشور طبقہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا اس ملک کی سیاسی پارٹیاں اور قیادت صرف اس وقت تک مخلص مخلص کا کھیل کھیلتے ہیں جب تک عنان اقتدار پر قابض نہیں ہو جاتے؟ آج ملک بھر میں 140سے زائد سیاسی و نیم مذہبی اور سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور بعض سیاسی جماعتوں کے پاس تانگے کی سواریاں بھی موجود نہیں اور اکثر سیاسی جماعتوں کی حیثیت کسی بھی این جی او سے زیادہ نہیں۔ اعتماد،یقین اورتسلیم کر لینے کی برداشت کا فقدان ہے۔ ہر سیاسی لیڈر اپنے ہی پارٹی کے پلیٹ فارم پر جدوجہد کرنے کی بجائے فٹافٹ نئی سیاسی پارٹی بنا لیتا ہے اس پریشر گروپ کو سیاسی جماعتوں کا نام دینا کسی بھی طریقے جائز نہیں مگر کیا کیا جائے اس وقت وطن عزیز میں ایک محتاط اندازے کے مطابق دو درجن امیدوار وزارتِ عظمیٰ کے ہیں جو سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں جن کو ملکی استحکام ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ جن سیاسی جماعتوں اور دوستوں نے 2008ء میں الیکشن کی ٹرین مِس کی تھی آج وہ ضمنی انتخابات میں مہم جوئی کر رہے ہیں انہیں یہ گوارا نہیں کہ صوبائی یا قومی حکومت اپنی مدت پوری کرے۔ وہ ہر روز ایک نیا شوشہ چھوڑتے اور ایک نئی بریکنگ نیوز کے انتظار میں رہتے ہیں کہ ملک کسی قدرتی و سیاسی آفت کا شکار ہو تو وہ مڈٹرم الیکشن میں حصہ لے کر کسی بڑی سیاسی جماعت کو بلیک میل کرکے اپنے حصے کی سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ بالکل یہی حالت اس ملک کی مذہبی و مسلکی جماعتوں کی ہے جو اپنی اپنی دکان داری چمکانے کے لیے کسی بھی حد کو جانے یا کسی بھی قوت کا آلہ کار بننے کو تیار ہیں۔ ہمارے کم از کم دوبرادر پڑوسی اسلامی ملک پاکستان کی سرزمین کو اپنے مذموم کھیل کا میدان بنا کر ہماری نسلوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں اور ہم معمولی سی معاشی عیاشی کے لیے ان کے آلہ کار بن کر سینوں پر بارود کی جیکٹیں باندھ کر اس ملک کے نظریاتی و اساسی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں اور اس وقت پاکستان کے اندر ہر شخص دوسرے شخص سے دست و گریبان ہے اور اس وجہ سے سامراجی قوتوں یورپین ممالک اور علاقائی ٹھیکے داروں کو حوصلہ مل رہا ہے کہ وہ ہماری پاک سرزمین کو اپنی خواہشوں کا قبرستان بنائیں۔ مگر انتشار کا شکار یہ قوم جب تک اپنے اصل دشمن کو نہیں پہچانے گی، تب تک یہ ہمارے دوست و بھائی نما دشمن ہمارے وطن کو کھوکھلا کرتے رہیں گے۔ جب تک سنی،شیعہ،وہابی،دیوبندی دست و گریبان رہیں گے،جب تک پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، جمعیت العلمائے اسلام، جماعت اسلامی، اے این پی، تحریک انصاف جیسی پارٹیاں اپنے اپنے گلے سے غلامی و غداری کے طوق اتار کر نہ پھینکیں گی، جب تک ہم گروہوں سے قوم میں تبدیل نہیں ہو جاتے، جب تک بلوچستان کے سردار اردو زبان کا بائیکاٹ ختم نہیں کرتے، جب تک اے این پی کے راہنما کابل کی بجائے پاکستان کی سرزمین پردفن ہونا پسند نہیں کریں گے تب تک اس قوم کی حالت نہ بدلے گی اور اغیار ہمارے انتشار کو کیش کرواتے رہیں گے اور ہمارا حال بقول شاعر: دیوار کیا گری مرے کچے مکان کی لوگوں نے مرے صحن میں راستہ بنا لیا
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus