×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ریاست کے چار ستون اور پاکستان چاروں شانے چت
Dated: 15-Aug-2010
پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے 63سال ہو گئے ہیں اب تک اسے پختہ کار ہو جانا چاہیے تھا مگر جب ہم پاکستان کے معروضی حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں کہیں بھی پختہ کاری کا شائبہ نظر آنا تو درکنار بلکہ بچگانہ حرکات کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد یقینا ایک تاثر تھا کہ فوج اور سیاست دان ریاست کے دو ستون ہیں پھر رفتہ رفتہ جب بیگم نصرت بھٹو کیس،جسٹس حمود الرحمن کیس ایسے چند واقعات رونماہوئے تو ریاست کے ستونوں میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا اور عدلیہ کو بھی ریاست کا تیسرا ستون تسلیم کر لیا گیا اور جب ججوں کے ایک ٹولے نے مشرف آمریت کو قانونی قرار دیتے ہوئے اسے آئین میں ترامیم تک کا حق عطا کر دیا تو اس ستون کی مسلمہ حیثیت کو چیلنج کرنا ناممکن بنا دیا گیا اور پھر جب پرنٹ میڈیا کے عروج کے بعد آئی ٹی انفرمیشن ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہوا اور اکیسویں صدی کے آغاز میں دنیا الیکٹرانک میڈیا کے چنگل میں پھنسی تو پاکستان بھی گلوبل ویلج کا حصہ بن کر اس سے محفوظ نہ رہ سکا اور الیکٹرانک میڈیا کی پرائیوٹائزیشن نے اپنے قدم جمائے تو پاکستان کے سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی حلقے اور عسکری وجوڈیشری اس کے اثر سے ثمر آور ہوئے تو میڈیا ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے اپنے آپ کو متعارف نہ صرف کروا چکا تھا بلکہ کنگ میکر کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ہم آج یہاں ان چاروں ستونوں کے کردارکے بارے میں ایک تجزیاتی بات کریں گے۔ 1906ء میں جب سرسلیم اللہ خان نے اور دوسرے دو ستوں نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تو دراصل دو قومی نظریئے کا ہی نہیں یہ قیام پاکستان کی بنیاد تھی اس دوران نواب وقارالملک، سید امیر علی، مولانا محمد علی جوہر، محسن الملک اور دوسرے لوگوں نے جب مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تو ہندوستان انگریزوں کے زیر اثر اور ہندوئوں کے عدولی برتری کے زیر تسلط تھا مسلمانوں اور مغل حکمرانوں کے پانچ سو سالہ اقتدار کے بعد برصغیر کے مسلمان ایک ڈوبتی نیّا میں بیٹھے تھے وہ نیّا جو حالات کے رحم و کرم مسلمانوں کے شکست در شکست کے ہچکولے کھا رہی تھی۔دوسری طرف سلطنت عثمانیہ اپنے زوال کی طرف تیزی سے گامزن تھی۔ ریشمی رومال جیسی خلافت بچائو تحریکیں زوروں پر تھیں اور برصغیر کے مسلمان جن کی طرف عالم اسلام کی نظریں اٹھ رہی تھیں کہ وہ اپنا کردار ادا کریں ان حالات میںجبکہ مسلمانان برصغیر خود مصائب میں تھے پھر بھی برصغیر کی سیاسی اور مذہبی قیادت نے ان تحریکوں میں اپنا حصہ ڈالا لیکن اس ایک بات کا ادراک ہمیں ضرور کرنا ہوگا کہ یہ تحریکیں مضبوط ضرور تھیں مگر ڈسپلن کے فقدان کے باعث اور نظریاتی اختلافات کی وجہ سے حضرت علامہ اقبال اور حضرت قائداعظم کو بھی مجبور کر دیا کہ ایک موقع پر وہ ان سے کنارہ کشی کر لیں مگر مسلمانوں کے زمینی حقائق و حالات کی وجہ سے انہوں نے نہ صرف کم بیک کیا بلکہ شب و روز کی محنت سے اپنے مقاصد کی طرف بڑھتے رہے۔ دو قومی نظریہ کی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے حضرت علامہ اقبال نے مسلمانوں کو ایک نئے ملک اور علیحدہ قوم ہونے کا احساس دلوایا۔ یہ فلسفہ ایک شاعر کا نہیں ایک حقیقی سیاست دان کا تھا جس کے ویژن نے دیکھ لیا تھا کہ اب مسلمانوں کو ایک علیحدہ مملکت چاہیے۔ پھر 1940ء کو علامہ اقبال کی وفات کے تھوڑے عرصہ بعد مسلمانوں نے اپنے الگ وطن کی بنیاد رکھ دی۔ مٹو پارک میں ہونے والے اس اجتماع نے دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھ دی اور ہندوئوں اور انگریزیوں کو مجبور کر دیا کہ وہ مسلمانوں کی اس حقیقی خواہش کا احترام کریں۔ یقینا 1906ء میں شروع ہونے ولی اس تحریک میں علماء، طلباء اور تمام مکتبہ ہائے فکر کے لوگ شامل تھے مگر حقیقی نظر سے دیکھا جائے تو یہ تحریک دراصل سیاست دانوں کی تحریک تھی جس کی وجہ سے ہمیں 14اگست کا متبرک دن دیکھنا نصیب ہوا لیکن وطن حاصل کر لینے کے بعد اس نوزائیدہ مملکت کو جس سیاسی اور حکومتی تربیت کی ضرورت تھی قیام پاکستان کے بعد بدشومئی قسمت ہم وہ معراج حاصل نہ کر سکے اور پھر عالم نے دیکھا کہ حضرت قائداعظم جو کہ اس نئے مملکت کے پہلے گورنر جنرل تھے ایئرپورٹ سے گورنر جنرل ہائوس تک کے راستے میں سڑک پر بے یارومددگار پڑے تھے ایمبولینس کا ٹائر پنکچر تھا اور پاکستان کے لیے اپنی جان تک کی پرواہ نہ کرنے والا نازک اندام شخص سڑکوں پر بکھر گیا۔ پھر چند ماہ بعد پاکستان کے پہلے وزیراعظم جناب لیاقت علی خان جنہوں نے تحریک پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا تھا کہ راولپنڈی کے ایک جلسہ میں شہید کر دیا گیا اس طرح حسین شہید سہروردی،خواجہ ناظم الدین کو بھی ان قوتوں نے چین سے بیٹھنے نہ دیا۔1970ء کی جنگ زدہ حالات میں ذوالفقار علی بھٹو ایک دفعہ پھر قوم کا درد لے کر آگے بڑھے عالمی قوتوں کو پاکستان ہی نہیں اسلامی ممالک کی ضروریات کا احساس دلایا۔ اسلامی بنک قائم کیا، سائنس و ٹیکنالوجی میںپاکستان کو معتبر بنایا، ٹیکسلا ہیوی کمپلیکس ہو یا سٹیل مل ایک نوزائیدہ مملکت کو جس کو روٹی اور بنیادی ضروریات اصل مسئلہ تھا نیوکلیئر ملک بنا دیا۔ طلبا کو حقوق دیئے،کسانوں کو زمینیں دیں، عوام کو زبان دی، اس جرم عظیم کی وجہ ہی تھی کہ اس عوامی لیڈر کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا گیا۔ پھر آمریت کی کالی رات میں آدھا تیتر آدھا بٹیر جمہوریت میں محمد خان جونیجو آئے جنہوں نے آمریت کو چھیڑا تو ایسے منظر سے غائب ہوئے کہ بہت کم لوگوں کو خبر ہے کہ وہ اب منوں مٹی تلے دبے ہوئے ہیں۔ پھر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قیادت میں ساڑھے گیارہ سال بعد پیپلز پارٹی ایک دفعہ پھر اقتدار میں آئی جسے صرف اٹھارہ ماہ میں چلتا کر دیا گیا اور ایجنسیوں کی پروردہ آئی جے آئی نے اقتدار سنبھال لیا۔ میاں محمد نواز شریف پہلے وزیراعظم بنے جو انہی ایجنسیویوں کی سازشوں کا شکار صرف تین سال سے بھی کم عرصہ اقتدار میں رہے۔1993ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی ایک دفعہ پھر اقتدار میں آئے تو 36ماہ بعد انہیں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا اور پھر اپنی شہادت تک وہ آمریت سے نبردآزما رہیں۔ 1997ء میں میاں نوازشریف کو دوبارہ اقتدار منتقل ہوا تو ان قوتوں نے جن کو سیاست دانوں کو عوام کی نظروںمیں بس گرانا مقصود تھا ایک دفعہ پھر اقتدار سے علیحدہ کر دیا پھر آٹھ سال تک سیاست کو شجرہ ممنوعہ قرار دیا گیا اور اپنی مرضی کی طرز پر ایک نیام برائے نام جمہوری سیٹ اپ تشکیل دیا جس میں کرپشن کے پروردہ برائے نام سیاست دانوں کو مہرہ بنا کر پیش کیا گیا پھر 2008ء کے الیکشن کے بعد جب جمہوری قوتوں نے اتحاد بنا کر کامیابی حاصل کی تو اس جمہوریت کو خطرات کے سمندر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ بے شک اس میں پاکستان کی جمہوری قوتوں کا بھی قصور ہے کہ وہ ہمیشہ آمروں اور طالع آزمائوں کے ہاتھوں کھیلتی رہی اور اپنے پائوں پر خود کلہاڑی مارتی رہی۔ اس طرح یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر سیاست دان بھی اپنے فرائض اور ذاتی پسند و ناپسند کے خول سے باہر آ جاتے تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتے۔ اب ہم آتے ہیں ریاست کے دوسرے ستون فوج کی طرف تو قیام پاکستان کے بعد پچھلے 63سالوں میں ایوب خان پھر یحییٰ خان اور ضیائی و مشرف آمریت نے پاکستان کی اساس کو نہ صرف کھوکھلا کیا بلکہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ سکندر مرزا نے پہلا مارشل لاء لگا کر فوج کو دعوت دی تو ایوب خان نے گیارہ سال میں اس ملک عظیم کی نظریاتی سرحدوں کو کمزور کیا۔ اپیڈو کے کالے قانون بنا کر سیاست دانوں کو سیاست سے ہی آئوٹ کر دیا۔ 65کی جیتی ہوئی جنگ کو تاشقند کی مذاکرات کی میز پر ہار دیا۔ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے فیلڈ مارشل لاء کا خود ہی خطاب حاصل کیا اور بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی پہچان ڈکٹیٹر زدہ قوم کی حیثیت سے ہوئی۔ یہی نہیں جب عوامی غضب انتہا کو پہنچا تو اقتدار عوام کے حوالے کرنے کی بجائے ایک نشئی جرنیل یحییٰ خان کے حوالے کیا جس نے ہزاروں سال جنگ کے دعووں میں آدھا پاکستان گنوا دیا رقص و سرود اور طبلے کی تھاپ پر حکمرانی کرنے والے اس محمد شاہ رنگیلے ثانی نے قیام پاکستان کے صرف 23سال بعد اس کا آدھا حصہ مفلوج بنا دیا اور کبھی نہ مٹنے والے زخم لگا کر ہمیں ہمیشہ کے لیے داغ دار کر گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس نیم مردہ قوم کے دل میں پھر سے جینے کی امنگ ڈالی مگر اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ہوئے نشتر سے بھٹو جان کی بازی ہار گیا۔ جنرل ضیاء نے1977ء میں اقتدار پر قبضہ کیا اور پھر اسلام کے نام کو ڈھال بنا کر قومی اتحاد کی جماعتوں اور پاکستان کے کروڑوں عوام کے جذبات سے نہ صرف کھیلتا رہا بلکہ سینکڑوں کو پھانسی، ہزاروں کو کوڑے، لاکھوں کو قیدوقلع کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی اور یہ قوم ذہنی طور پر معذور ہو گئی۔ دو قومی نظریہ کا فلسفہ زمین بوس ہو گیا اور قوم کی نسوں میں غلامی اور خوف بھر دیا گیا۔ کلاشنکوف لسانی تحریکیں ہیروئن اس دور کا بڑا تحفہ تھا جس کے اثر سے پاکستان آج بھی باہر نکل نہیں پایا۔ پھر جب 12اکتوبر1999ء کو جنرل مشرف نے جمہوریت پر شب خون مارا اور دو تہائی اکثریت والی عوامی حکومت کو چلتا کیا ملک کے دونوں سابق وزراء اعظم کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی اور اپنی مرضی کی نام نہاد جمہوریت متعارف کروائی گئی اس دوران 9/11 کا سانحہ ہوا تو بھیگی بلی کے مترادف بش حکومت کو سلیوٹ کیا۔ عوامی و اسلامی امنگوں کا احترام کرنے کی بجائے پاکستان کو پستی کے راستے پر ڈال دیا گیا ہمسایہ ملک جس کے بارڈر پر صرف ایف سی کے اہلکار تعینات تھے وہاں کشمیر سے افواج اٹھا کر بٹھا دی گئی۔ پاکستان کے جنت نظیر علاقے سوات،کلام، وزیرستان، وانا بارود کی فضا سے بھر گئے۔ ہزاروں سویلین و عسکری جوان اس دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھینٹ چڑھے اور ایک غریب ملک جس کے پاس شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی قیادت تھی جس کا عالمی تناظر میں مقابلہ کریں تو اس جیسی قیادت ان حالات میں شاید ہی کسی ملک کے پاس ہو اس عالمی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اس طرح ملک کی63سالہ دور میں 40سال سے زائد عرصہ تک آمریت مسلط رہی اور نواب زادہ نصراللہ مرحوم کہا کرتے تھے کہ کہتے ہیں جمہوریت جڑھیں نہیں پکڑتی۔ بھائی جب اس ملک کے طالع آزما جمہوریت کے گملے میں لگے پودے کو ہر چند روز بعد اوپر سے پکڑ کر اٹھا لیں گے تو یہ پودا جڑ کیسے پکڑے گا۔ اب اس وطن عزیز کے تیسرے ستون کی طرف آتے ہیں جس نے قیام پاکستان کے بعد جو کردار ادا کیا ہے اس پر تجزیاتی نظر ڈالی جائے۔ قیامِ پاکستان کے بعد جہاں ہم نے سیاستدانوں اور جرنیلوں کے کردار پر روشنی ڈالی ہے اس دور میںہماری معزز عدلیہ کے جج صاحبان بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔ نظریہ ضرورت کے خالق اور بانی جسٹس منیر نے حاکم وطن کو خوش کرنے کے لیے تمام اصول و ضوابط اور انصاف کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ دیا۔ اس طرح جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب جسٹس یعقوب نے ذوالفقار علی بھٹو کی ضمانت لی تو جنرل ضیاء الحق نے جسٹس یعقوب کو ہٹا کر بھٹو سے ذاتی مخاصمت رکھنے والے مولوی مشتاق کو لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا۔ جس نے عدالتی کٹہرے میں دورانِ سماعت بھٹو کو کبھی بیٹھنے کی اجازت تک نہ دی اور آمر کے ایما پر پھانسی کا حکم سنایا۔ یہ وہ دور تھا جب ضیاء الحق کے گرد جالندھر گروپ سرگرداں تھا۔ جن میں جسٹس انوارالحق،جنرل چشتی اور جنرل مجیب الرحمن قابل ذکر ہیں۔ ایک ٹی وی پروگرام میں کچھ عرصہ قبل جسٹس نسیم حسن شاہ نے یہ اعتراف کیا کہ بھٹو کو غلط سزا سنائی گئی تھی اور جب اینکر نے پوچھا کہ آپ نے بھٹو کی سزائے موت پر کیوں دستخط کیے تو نسیم حسن کا جواب تھا جب دوسروں نے کردیئے تو میں نے بھی کر دیئے۔ قدرت کا انتقام دیکھئے بھٹو کو پھانسی لگانے میں پیش پیش ہر کردار کا عبرت نام انجام ہوا وہ خواہ ضیاء الحق تھا،مولوی مشتاق یا جسٹس انوارالحق۔۔ پھر جب پیپلز پارٹی کے صدر فاروق لغاری نے محترمہ شہید کی دوسری حکومت اٹھائی تو جسٹس سجاد علی شاہ نے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدمہ لٹکائے رکھا اور الیکشن سے دو تین روز قبل لغاری کے اقدام کو جائز قرار دے دیا۔ پھر دیکھیے فاروق لغاری اور سجاد علی شاہ نوازشریف کے انتقام کا نشانہ بنے۔ سجاد علی شاہ کی عدالت پر حملہ کیا گیا اور حملہ آور آج بھی پاکستان میں سیاست کا کھیل کنارے پر کھڑے ہو کر کھیل رہے ہیں۔ ان کا دل سیاست میں حصہ لینے کو مچل رہا ہے۔لیکن مجبور ہیں حصہ نہیں لے سکتے۔ پھر 12اکتوبر 1999ء کو میاں نوازشریف کی دوتہائی اکثریت اور ہیوی مینڈیٹ کی حامل حکومت کا تختہ الٹا گیا تو ایک مرتبہ پھر عدلیہ نے اپنا کردار اس طرح ادا کیاکہ فوجی آمر نے تین سال میں ملکی حالات درست کرنے کی مہلت مانگی۔ عدلیہ نے کمال مہربانی کرتے ہوئے آئین میں ترمیم کا بھی اختیار دے دیا آج کے بڑے ناموں والے جج بھی اس پینل کے رکن تھے۔ پھر جب عدلیہ پر سخت وقت آیا تو وکلا اور سیاسی کارکن سب کچھ بھلا کر اسی عدلیہ کے کندھے سے کندھا ملا کر سینکڑوں جانوں کے نذرنے دے کر ججوں کو بحال کرانے کے لیے گھروں سے نکل پڑے۔ قیام پاکستان سے لے کر اگر ہم تجزیہ کریں تو عدلیہ کا کردار بھی کوئی قابل فخر نہیں ہے۔ اب ہم ریاست کے چوتھے ستون میڈیا کی بات کرتے ہیں۔ ایک وہ وقت تھا جب صحافت کو عبادت سمجھا جاتا تھا۔ وہ پرنٹ میڈیا کا دور تھا۔ تب آج کے فارم ہائوس کے مالکان صحافی سائیکلوں اور پرانی موٹر سائیکلوں پر ایک جذبہ لے کر گھروں سے نکلتے تھے۔ رفتہ رفتہ وقت کے ساتھ جیسا میڈیا کی طاقت کا ادراک ہوا تو نام نہاد سیاستدانوں اور آمر جرنیلوں نے میڈیا کے اس میدان میں اپنے مطلب کے دوست تلاش کر لیے۔ زرد صحافت اور لفافہ صحافت کا آغاز یہیں سے ہوا۔ آمر جرنیلوں اور نام نہاد سیاستدانوں کے ہاتھوں نوازنے جانے والے اس زرد گروپ کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔ پھر جب 21ویں صدی کے آغاز میں پاکستان میں الیکٹرانکس میڈیا نے پائوں جمانے شروع کیے جنہوں نے خود کو کنگ میکر کہلوانا شروع کر دیا اور امن کی آشا کے نام پر ہنودویہود نصاری سے دولت اکٹھی کرنے کو اپنا مقصد حیات بنا لیا۔ اور میڈیا میں موجود ایسے گروپس نے خبر بتانے کی بجائے خبر بنانے کو صحافت کا شیوا بنا لیایہی وجہ ہے کہ یہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے کبھی آمروں سے مل جاتے ہیں اور کبھی اپنی ہی تراشیدہ بتوں سے مہم جوئی شروع کر لیتے ہیں لیکن اس دور میں ایک مردِ مجاہد ایسا ہے جس نے سالہا سرکاری اشتہاروں کی پابندیاں تو برداشت کر لیں لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی اصل صحافت ہے اور نظریہ پاکستان کے محافظ جناب مجید نظامی اور ان کے میڈیا گروپ نے ہمیشہ اسلام کی بات کی، پاکستان کی بات کی، نظریے کی بات کی،اصولوں کی بات کی اور پاکستان کو بہت آگے لے جانے کی بات کی۔ افسوس کہ آج 63سال بعد بھی پاکستان جن ستونوں پر کھڑا ہے وہ مضبوط نہیں ہیں۔ موجودہ پارلیمنٹ میں دیکھ لیجئے اس میں اکثریت مخدوموں، لغاریوں، مزاریوں،کھوسوں اور چودھریوں کی ہے۔ جو اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کا صرف 2فیصد بنتے ہیں۔ جب تک باقی ماندہ پاکستان کے 18کروڑ عوام کو ریاست کا پانچواں ستون تسلیم نہیں کیا جاتا تب تک باقی چاروں ستون عضوئے معطل کی طرح چاروں شانے چت پڑے رہیں گے۔ بقول شاعر: ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار کچھ لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لا دوں
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus