×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جہانگیر بدر کی بریت۔۔۔ این آر او زدگان کے لیے مشعل راہ
Dated: 30-Sep-2010
وسط 98ء کی ایک شام جب میں سوئٹزرلینڈ میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا تو مجھے ایک فون کال موصول ہوئی۔ یہ کال جرمنی سے تھی اور نقوی صاحب جو کہ پیپلز پارٹی جرمنی کے عہدے دار تھے لائن پر موجود تھے انہوں نے بتایا کہ پیپلزپارٹی اوورسیز کے صدر جناب جہانگیر بدر صاحب مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ جہانگیر بدر صاحب نے بڑے پرجوش لہجے میں مجھ سے ملنے کے لیے کہا اور ریفرنس دیا کہ میاں کلیم اللہ جو کہ میرے بچپن کے لنگوٹیے ہیں اور ان دنوں نیویارک میں ہٹن میںہیں بھی ابھی تھوڑی دیر بعد مجھے فون کریں گے۔ تھوڑی دیر بعد مجھے نیویارک سے میاں کلیم اللہ کا فون آیا کہ میں جہانگیر بدر صاحب کو جو صرف مجھ سے ملنے یورپ آئے ہیں ان سے ملاقات کروں چونکہ بدر صاحب کے پاس سوئٹزرلینڈ کا ویزا نہ تھا اس لیے مجھے جرمن کے شہر بادن بادن جانا ہوگا اسی روز میں اپنے ساتھیوں شاکر اقبال اور عدنان سید کے ہمراہ جرمنی چلا گیا۔ نقوی صاحب کے ریسٹورنٹ میں جرمنی میں مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی تھی وہیں جہانگیر بدر صاحب سے خصوصی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے مجھے جناب سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کا پیغام دیا کہ مجھے پاکستان جا کر ان سے ملنا ہوگا میں نے بدر صاحب سے پاکستان آنے کا وعدہ کر لیا پھر چند ہفتوں بعد میں پاکستان چلا آیا۔ لاہور میں میرااور میری بیگم بدرالنساء اوربچوں کا قیام جہانگیر بدر صاحب کی رہائش گاہ پر تھا۔ دوسرے ہی روز سینیٹر بدر صاحب مجھے لے کر اسلام آباد چلے گئے وہاں اڈیالہ جیل سے سینٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے سینیٹر آصف علی زرداری صاحب لائے جاتے تھے وہیں قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں میری ان سے ملاقات طے تھی جب میں چیمبر میں بدر صاحب کے ہمراہ داخل ہوا تو سینیٹر آصف زرداری صاحب مجھے دیکھ کر میری طرف بڑھے اپنے بازو پھیلا دیئے اور یہ تاریخی کلمات کہے۔ ’’مطلوب خدا نے تجھے میرے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا ہے مجھے یقین ہے کہ تم اب مجھے بچا لوگے۔‘‘اس موقع پر محترمہ فہمیدہ مرزا اور امروہی صاحب بھی موجود تھے۔ اس کے بعد سینیٹر بدر صاحب نے میرے لیے ایک ظہرانے کا اہتمام کیا تھا جس میں میری طرف سے سوئس ایمبیسی کے ڈپلومیٹس اور پی پی پی کی طرف سے راجہ پرویز اشرف،ناصر بیگ اور چند سینئر اخبار نویس مدعو تھے۔ اس دن سے لے کر 18اگست 2008ء تک جب تک سینیٹر آصف علی صدر مملکت کا حلف نہ اٹھا چکے تھے ان کے لیے میری کاوشیں بین الاقوامی سطح پر امریکہ سے لے کر یورپ کے ہر سرکاری و غیرسرکاری پلیٹ فارم پر میں نے اس کیس کو یہ سمجھ کر لڑا کہ آصف زرداری کے کہے ہوئے الفاظ کی حرمت برقرار رہے۔ جس کے لیے مجھے خود بھی صعوبتوں، ابتلا کا شکار اور سینیٹر آصف علی زرداری کے ساتھ پابند سلاسل بھی ہونا پڑا۔ یہ میری شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے کمٹ منٹ، آصف علی زرداری سے وچن اور جہانگیر بدر سے وعدہ تھا جس کو پورا کرنے کے لیے میں نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ پھر جب 2001ء میں سینیٹر جہانگیر بدر کو گرفتار کر لیاگیا اور دوران تفتیش ان کے ایک قریبی دوست ارشد بٹ کی نیب کے ہاتھوں ہلاکت بھی آہنی اعصاب کے مالک جہانگیر بدر کو پارٹی وفاداری سے متزلزل نہ کر سکی۔ اسی دوران جہانگیر بدر کے وکیل سپریم کورٹ کے سینئر رکن اکرم شیخ کو سینیٹر جہانگیر بدر نے میرے پاس جینوا بھیجا تاکہ عالمی عدالت انصاف میں اس کیس کو شامل کیا جا سکے جہاں میں اور اکرم شیخ صاحب نے عالمی عدالت انصاف کے ممبران کے سامنے اس کیس کو پیش کیا۔ مجھے آج بھی فخر ہے کہ جہانگیر بدر صاحب کے کیس کو عالمی عدالت کے سامنے پیش کرنے اور دلائل دینے میں میں بھی شامل تھا۔ پھر 2002ء میں میں جلاوطنی کے بعد وطن واپس آیا تو سینیٹر جہانگیر بدر اس وقت نیب عدالت میں روزانہ کی سطح پر پیشیوں پر آتے تھے۔ جہاں میری ان سے ملاقات ہوتی تھی اس دوران افنان بٹ،امتیاز فاروقی،ملک شکیل اٹاری،فضل شاہ، وحید احمد،تنویر شاہ اور ڈھیروں کارکنان ہر پیشی پر موجود ہوتے تھے یہ کسی بھی سیاسی راہنما کے لیے باعث تقویت تھا کہ اس کے پیچھے سیاسی کارکنوں کی ایک فوج موجود ہے۔جبکہ جہانگیر بدر کے برادر جمیل بدر اور فیملی کے بچوں نے دس سال تک کرب اور اذیت میں دن گزارے۔ جہانگیر بدر نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1967-68ء سے پنجاب یونیورسٹی سے شروع کیا جہاں وہ ترقی پسند طلباء میں طالب علم لیڈر کے طور پر ابھرے۔ اور کالج یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ جہانگیر بدر نے بی کام (آنرز) ایم کام اور ایم اے سیاسیات کیا ایل ایل بی بھی پنجاب یونیورسٹی سے کیا اور پانچ سال تک لیکچرار کے فرائض انجام دیئے۔ سینیٹر جہانگیر بدر 85ء سے 95ء کے عرصہ میں آٹھ سال پی پی پی پنجاب کے صدر رہے اور مجموعی طور پر سات سال پنجاب کی مختلف جیلوں میں اور شاہی قلعہ میں پابندِ سلاسل رہے اور کوڑے کھانے کا اعزاز حاصل کیا۔ قومی و صوبائی اسمبلی کے رکن رہے اور 97ء سے 2003ء تک سینیٹر رہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں 88 ء سے 90ء میں ہائوسنگ اینڈورکس پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے بھی وزیر رہے۔ 93ء میں نگران وزیراعظم بلخ شیر مزاری کے دورِ حکومت میں خوراک وزراعت کے بھی وزیر رہے۔ 1996ء میں محترمہ کے دوسرے دورِ حکومت میں سیاسی و مذہبی امور کی وزارت سنبھالی۔ اور اب بھی سینیٹر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں۔ میں نے 2007ء میں سینیٹر جہانگیر بدر کے کالموں اور آرٹیکلز پر ایک کتاب ’’گرینڈ ایجنڈا اور پاکستان‘‘ مرتب کی جس کو ان کی رفیق حیات محترمہ رخشندہ بدر صاحبہ کے نام پر ڈیڈیکیٹ کیا۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں وہ لکھتے ہیں۔ رخشندہ بیگم میری والدہ مرحومہ کے نقش قدم پر گھریلو خاتون ہونے کے باوجود ویسی ہی بہادر ہیں کیونکہ جس طرح میری والدہ نے آمریت کی چیرہ دستیوں کا مقابلہ کیا ویسے ہی میری بیگم رخشندہ اور میرے بچوں نے کیا۔ آگے جا کر سینیٹر جہانگیر بدر لکھتے ہیں کہ میری دیرینہ خواہش تھی کہ کوئی شخص میری طالب علمی کے زمانے کے کالم یونیورسٹی رونڈاپ جو 1972-77کے دوران سے تسلسل کے ساتھ ہر ہفتہ لکھے ان کو اکٹھا کرکے چھپوائے۔ میں اپنے ساتھی، پیپلز پارٹی کے راہنما اور بھائیوں جیسے شاگرد مطلوب احمد وڑائچ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے میرے 1998ء تک اور بعد کے کالم اکٹھے کیے اور ان کو کتابی شکل دی۔ سینیٹر جہانگیر بدر کی بیگم بھابھی رخشندہ بدر نے بڑے حوصلے سے اپنے کم سن بچوں کے ساتھ یہ جنگ لڑی بلکہ جن دنوں میں جلاوطنی پر تھا رخشندہ بھابھی میرے بچوں ماہ نور وڑائچ محمد عبداللہ وڑائچ اور امراء احمد اور جلال احمد وڑائچ کو عیدین کے روز ملنے ہمارے گھر آتیں اور میرے بچوں اور میری بیگم بدرالنساء وڑائچ کو زبردستی اپنے گھر لے جاتی کہ آپ لوگ ہمارے ساتھ عید کرو۔ چند دفعہ ایسے بھی ہوا کہ عید کے روز جب بہن، بھائی اور عزیزواقارب عید ملنے کے لیے آنا چاہتے تو بھابھی اور بدر صاحب کہہ دیتے کہ آج عید کے پہلے دن مطلوب وڑائچ کی بیگم اور بچے ہمارے بچوں علی بدر، جہانزیب بدر اور بیٹی مریم جہانگیر کے ساتھ عید منائیں گے آپ کل آیئے گا۔ رخشندہ بھابھی اور بدر صاحب اپنے بچوں کے ساتھ میرے بچوں کو بھی برابر کی عیدی تقسیم کرتے۔ 2008ء میں میں نے ذوالفقار علی بھٹو شہید کی برسی سے واپسی پر جہانگیر بدر سے سیاسی راستے جدا تو نہیں مگر الگ کر لیے کہ بحیثیت ممبر فیڈرل کونسل مجھے اپنی سیاست کی راہیں اب خود طے کرنی ہیں۔ مگر ہمارے سوشل تعلقات پہلے سے بھی مضبوط ہو گئے ہیں۔ سینیٹر جہانگیر بدر نے پچھلے دس سالوں میں قیدوبند اور نیب کے مقدمات کی پیروی کرتے ہوئے اذیت سے مگر حوصلہ مندی سے وقت گزارا، اس دوران متعدد بار غیرملکی سفر کے لیے انہیں ہمیشہ ایئرپورٹ پر اکثر اجازت ملی یا کبھی نہ ملی۔ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد جب این آر او کے کیسوں کو معاف کیا گیا تو سینیٹر جہانگیر بدر کو بڑی کوفت ہوئی کہ ٹی وی سکرینوں اور اخبارات کی شہ سرخوں میں ان کا نام دیگر غیرسیاسی قوتوں کے ساتھ دیکھ کر انہیں دُکھ ہوتا تھا۔ اس لیے انہوں نے عدالت عالیہ سے بریت کی راہ کو چنا اور آج قریباً تمام کیسوں سے بری ہو کر وہ اپنے اور کارکنان اور قیادت کی نظروں میں سرخرو ہوئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور سیاسی راہنمائوں کے لیے یہ ایک مشعل راہ ہے کہ دس سال کا طویل عرصہ بھی انصاف کے لیے لڑتے لڑتے اگر لگ جائے مگر جمہوریت اور انصاف کی بقاء کے لیے یہ ضروری ہے۔کیونکہ سونے کو اگر بٹھی میں ڈالا جائے تو وہ کندن بن کر نکلتا ہے۔اس لیے میری پاکستان پیپلز پارٹی کی تمام قیادت سے التماس ہے کہ وہ اپنے آپ کو بلیک میل کرنے والی قوتوں کے ہاتھوں سے آزاد کرکے عدالتوں کا رخ کریں یقینا ابھی انصاف پاکستان کی عدالتوں میں زندہ ہے۔’’گرینڈ ایجنڈا اور پاکستان ‘‘میں سینیٹر جہانگیر بدر کے پیش لفظ کے چند شعر جو کہ انہوں نے استا ددامن کے کلام سے منتخب کیے۔ توں شکاری، تے میں ہاں پنچھی وے پنجرے جیکر بولن نئیں دیندا پھڑکن تے دے جیہڑے تیر توں مارے نیں وچ سینے جیکر کڈھن نئیں دیندا، رَڑکن تے دے ہو سکدا اے ہلچل مچا دیوے میرے دل دی دھڑکن نوں، دھڑکن تے دے
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus