×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا سیاسی پارٹیاں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں بن جائیں گی؟
Dated: 28-Oct-2010
ابا جی میری انگلی پکڑے مجھے سکول چھوڑنے جا رہے تھے، میں اس وقت دوسری کلاس میں پڑھتا تھا۔ گھر سے سکول کا فاصلہ چند سو میٹر تھا۔ سکول کے راستے میں ایک قلفی فروش ہر روز ریڑھی لگائے کھڑا ہوتا تھا۔اس دن میں نے کہا ابا جی مجھے قلفی لے کر دیں’’ راہوالی‘‘طرز کی یہ قلفی لمبے سے تیلے کے ساتھ ملتی تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ابا جی نے مجھے دو آنے یعنی بارہ پیسے کی قلفی لے کر دی۔ میں نے دیکھا قلفی فروش کے پاس مجھے دی جانے والی قلفی سے بھی بڑے سائز کی قلفیاں موجود تھیں۔ سب سے موٹی قلفی آٹھ آنے یعنی پچاس پیسے کی تھی۔ میں نے اپنے ابا جی سے سوال کیا ابا جی ہمارے ملک کا صدر تو پانچ روپے والی قلفی کھاتا ہوگا؟ میرے اس معصومانہ مگر معنی خیز سوال پر میرے ابا جی نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عظیم شفقت پدری سے جواب دیا۔ ’’بیٹا اگر آپ نے بھی پانچ روپے والی قلفی کھانی ہے تو پھر پڑھو محنت کرو اور ملک کا صدر بن جائو۔‘‘باپ کی یہ بات میرے دل میں اتر گئی اور میں نے اپنا objective طے کر لیا کہ مجھے اس ملک کا صدر بننا ہے۔ میرا باپ ہمارے گائوں کا ایک مڈل کلاس کسان تھا ہماری چند ایکڑ زمین تھی جو ہماری سفید پوش زندگی کے لیے کافی تھی، پھر میں نے محنت سے آگے بڑھنا سیکھا۔ میں ابھی سکول کی ہائی کلاسز میں ہی تھا کہ ایک طلباء تنظیم کا ناظم بنا۔ پھر کالج گیا تو پی ایس ایف کا صدر بنا اور کالج یونین الیکشن میں کالج کا صدر منتخب ہوا۔اسی سال ضیاء الحق نے طلباء یونین پر پابندی لگائی تو میں اپنے ڈویژن کی سٹوڈنٹ ایکشن کونسل کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ میرے خلاف ریاستی انتقام عروج پر پہنچا تومیری فیملی نے مجھے ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا چونکہ میرے گھر والے روز روز کے پولیس چھاپوں سے تنگ آ گئے تھے۔ میں نے رخت سفر باندھا اور سوئٹزرلینڈ پہنچ کر سیاسی پناہ کی درخواست دے دی۔ میں نے تعلیم اور جاب بیک وقت جاری رکھے اور مینجمنٹ ڈپلومہ مکمل کیا۔ ساتھ وہاں ایک حساس ادارے میں تربیت لی اور 20 سال تک اس حساس ادارے میں نہ صرف جاب کیا بلکہ ادارے کے ٹاپ پوزیشن پر پہنچا۔ اور بین الاقوامی رابطوں میں ماں کی دعائوں سے اپنے ملک کا نام روشن کیا۔ بزنس کیا توہوٹل مینجمنٹ میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔پھر جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو دوسری بار ختم کیا گیا تو اس وقت میں پیپلز پارٹی سوئٹزرلینڈ کا صدر تھا۔ یورپ بھر میں پیپلز پارٹی کی بکھری ہوئی قوتوں کو آمر کے خلاف سنہ 80 کی دہائی میں پھر سے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔یہی وجہ تھی کہ 98کی دہائی کے اواخر میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھے پیپلز پارٹی انٹرنیشنل افیئرز یورپ سیکٹر کا انچارج بنا دیا۔ اس دوران سینیٹر آصف علی زرداری پابند سلاسل تھے۔ دیگر بے شمار مقدمات کے علاوہ منشیات کے کیس بھی ان پر بنائے گئے تھے۔ سینیٹر جہانگیر بدر یورپ آئے مجھے محترمہ اور آصف زرداری صاحب کا پیغام دیا وہ اس کیس کی بین الاقوامی ادارے سے غیرجانبدارانہ تحقیقات چاہتے تھے۔ میں نے اپنے ادارے کو اس عظیم مقصد کے لیے قائل کر لیا اور پارٹی اور محترمہ شہید کی دعوت پر ادارے کی ٹیم کو پاکستان لے کر آیا۔ جس نے پورے ملک کا دورہ کیا اور تحقیقات کیں اور اسلام آباد کے ایک فائیوسٹار ہوٹل میں پرہجوم پریس کانفرنس کرکے سینیٹر آصف علی زرداری کے متعلق غیرجانبدارانہ رپورٹ میڈیا کے سامنے پیش کی کہ سینیٹر آصف علی زرداری کو سیاسی مخاصمت کی بنا پر منشیات کیس میں ملوث کیا گیا ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ملک کا وزیراعظم میاں نوازشریف اور پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف تھے جو کہ دوتہائی اکثریت سے مرکز اور صوبے میں عنان اقتدار تھامے ہوئے تھے۔اور حکومت اس قدر مضبوط خیال کی جاتی تھی کہ سیاسی خاموشی کے اس دور میں طاقت کا توازن یکسر میاں برادران کے ہاتھ میں تھا اور حال یہ تھا کہ مری روڈ راولپنڈی کو سنوارنے اور کشادہ کرنے کے لیے مسجدیں تک گرا دی گئیں تھیں مگر کوئی معمولی سی آہٹ بھی نہ ہوئی تھی۔ غیرملکی انویسٹی گیشن ادارے کی جانب سے آنے والی رپورٹ طاقت کے اس تالاب میں پڑنے والا پہلا پتھرتھا پھر جس کے چند مہینوں بعد دوتہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کو رخصت ہونا پڑا۔مگر اس دوران مجھ پر بے بنیاد مقدمات وزیراعظم سیکرٹریٹ میں بنوائے گئے اور مجھے سینیٹر آصف علی زرداری کے ساتھ پابند سلاسل کر دیا گیا۔ سینیٹر آصف علی زرداری نے جیل میں میری کافی خدمت اور سیاسی تربیت کی۔ یہ وہ دن تھے جب سینیٹر آصف علی زرداری نے پارٹی لیڈرشپ کی موجودگی میں کہا کہ مطلوب وڑائچ خدا نے تجھے میرے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا ہے اور مجھے امید ہے کہ تمہاری کاوشوں کی وجہ سے میری رہائی ممکن ہو سکے گی۔ سینیٹر آصف علی زرداری صاحب نے میرے لیے بابراعوان کی خدمات حاصل کیں اور پھر جب رہائی کے بعد میں سوئٹزرلینڈ واپس پہنچا تو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھے پیپلز پارٹی کے انتہائی اہم کمیٹی فیڈرل کونسل کا رکن بنا دیا۔ اس وقت فیڈرل کونسل سنٹرایگزیکٹو کمیٹی کا میں سب سے کم عمر رکن بنا۔ پھر 2003ء میں اے آر ڈی کے چیئرمین نواب زادہ نصراللہ خان نے میری اوورسیز خدمات کے اعتراف میں مجھے اے آرڈی عالمی امور کا انچارج بنا دیا جو کہ یقینا ایک اعزاز تھا۔ میں اپنے بین الاقوامی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو امریکن پینٹاگون، امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ کی اعلیٰ شخصیات سے باعزت طریقے سے میٹنگز ارینج کروائیں اور ملک میں جمہوریت کی بحالی اور سینیٹر آصف علی زرداری کی رہائی کی کوششوں کے دوران پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر مخدوم امین فہیم اور سیکرٹری جنرل راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر عہدے داروں کو ان دنوں جب امریکہ بہادر مکمل طور پر مشرف کی پشت پر تھا امریکن پینٹاگون اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سمیت اقوام متحدہ کے وزٹ کروائے اور سینیٹر آصف علی زرداری کی رہائی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کیں اور امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ جو اس وقت بات سننے کو تیار نہ تھا اور مکمل طور پر اپنے اتحادی آمر مشرف کی پشت پناہی کر رہا تھاایسے اقدامات کیے اور امریکن کو باورکرایا کہ اس ملک کی اصل قوتوں کے بغیر علاقے کا استحکام ناممکن ہے۔ مگر بدشومئی قسمت 2007ء میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی ناگہانی شہادت سے جہاں ملک ایک عظیم لیڈر،بلاول ایک عظیم ماں، سینیٹر آصف علی زرداری ایک وفاشعار بیوی سے محروم ہوا وہیں ہم بھی سیاسی یتیم بن گئے اور وہیں میری کامیابیوں کے سلسلے کو بھی بریک لگ گئی۔ شاید میں ملک چھوڑ کر واپس چلا جاتا کہ میرے ایک قریبی دوست ایکسینئن نعیم وڑائچ نے مجھے جدوجہد جاری رکھنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اخبارات میں کالم لکھو کیونکہ اس ملک کو اس عوام کو ابھی تمہاری ضرورت ہے۔ محترمہ کی شہادت سے میری پانچ روپے والی قلفی کھانے اور صدر بننے کی خواہش کو پہلا دھچکہ لگا۔ مگر جناب مجید نظامی صاحب نے اس ملک کے سب سے بڑے اخبار میں مجھے کالم لکھنے کی اجازت مرحمت فرما کر میرے حوصلے اور میرے عزم کو متزلزل ہونے سے بچا لیا۔ میں نے ڈیڑھ درجن کے قریب کتب تو تصنیف کیں مگر میرے نوائے وقت کے کالموں نے اس ملک کے دانشور حلقوں میں میری ایک الگ پہچان کروا کر میرے حوصلے بلند کیے۔ مگر میرے حوصلے اس وقت ایک دفعہ پھر پست ہوئے جب اس ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹیوں نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے یہ بل پاس کیا کہ سیاسی پارٹیوں میں آئندہ الیکشن نہیں ہوں گے اور سیاسی پارٹی کے سربراہ کو کسی بھی رکن کو غیرفعال اور معطل کرنے کا اختیار ہوگا یعنی سیاسی پارٹیوں میں لیڈرشپ پیدا کرنے والی سیاسی نرسریوں کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا جبکہ اس کے برعکس شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اکثر مواقع پر پارٹی کے اندر الیکشن کروا کر جمہوری روایات کو بلند رکھا۔میری بیٹی ماہ نور وڑائچ جب ہائی کلاسز پہنچی تو آگے فیصلہ کرنا تھا کہ وہ کونسے مضامین چنے تاکہ مستقبل کو نظر میں رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جا سکے۔ میں اور میری اہلیہ نے بیٹی سے مشاورت کی تو میں نے بیٹی کو کہا دیکھو بیٹا یقینا اس ملک کو ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدانوں اور آئی ٹی کے میدان میں ہنرمندوں کی ضرورت ہے مگر بیٹاہمارے وطن عزیز کو اچھے راہبروں، اچھے سیاست دانوں کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اٹھارہ کروڑ عوام کے اس دنیا کے چھٹے بڑے ملک کو اچھی لیڈرشپ کی بھی ضرورت ہے آپ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی راہ کو اپنا لو۔ میری بیٹی نے اس مشورہ کو پسند کیا اور مستقبل کی سیاسی قیادت بننے کا فیصلہ کر لیا یہی وجہ تھی کہ جب مجھے ایک دہشت گرد تنظیم کی طرف سے مجھے اور میرے بچوں کو دھمکیاں ملیں اورمیری اہلیہ نے بچوں سمیت جلاوطنی کا فیصلہ کیا۔ جس روز میری بیٹی کو اے لیول کی کلاس میں بحالت مجبوری Expel کیا گیا اس روز کالج میں ہونے والے ہیڈ گرل کے الیکشن میں میری بیٹی وننگ کینیڈیٹ تھی(یہ الفاظ کالج کی پرنسپل کے ایک غیرملکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹریوو کے ہیں) میں سوچ رہا ہوں کہ کیا اس ملک میں صرف مٹھی بھر لوگوں کو سیاست کا حق ہے؟ کیا مخدوموں، نوابوں، لغاریوں، مزاریوں،وٹوئوں، چوہدریوں، سیدوں کی اولاد ہی صرف سیاست اور اقتدار کا حق رکھتی ہیں؟ ایوب خان کے دور سے لے کر یحییٰ، ضیاء، بے نظیر بھٹوشہید، میاں نوازشریف اور مشرف کے ادوار میں ایک جیسے چہرے مسند اقتدار پر براجمان کیوں ہیں؟ کیا اس ملک کے 17کروڑ 99لاکھ 99ہزار لوگ غلامانہ زندگی بسر کرتے رہیں گے؟ کیا مخدومین اور نوابین کا سیاسی کوٹہ ختم نہ ہوگا؟ کیا اس ملک کے مزدور اور کسانوں کی اولادوں کے ہاتھوں پر نصیب مقدر کی لکیریں اس طرح مٹائی جاتی رہیں گی؟ کیا اس ملک کی نام نہاد اشرافیہ ہمارے بچوں کے مستقبل کو پامال کرکے اپنی اولادوں کے اقتدار کے محل تعمیر کرتی رہیں گی؟ کیا اس ملک کی سیاسی پارٹیاں تک بھی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں بن جائیں گی؟اور دولت کی طرح اقتدار بھی وراثتی ہوتا چلا جائے گا؟ کیا اس ملک کے ایک ہزار بادشاہ گر اٹھارہ کروڑ عوام کو محکوم بنانے کے مذموم چکر سے باز نہ آئیں گے؟آخر کب تک اس ملک کے حکمران پولیٹکل پارٹی ایکٹ1962 ء سیکشن 3B کلاز 4 کی دھجیاں اڑاتے رہیں گے؟اور آخر کب تک اس ملک کے سیاسی بنیئے اور سیاسی کھتریوں کارول ادا کرکے اس ملک کے عوام کا خون چوستے اور گوشت نوچتے رہیں؟میرے حکمران دوستو سن لو حکمرانی کا اول و آخر حق صرف خدائے برتر کی ذات کو ہے حکمرانی صرف اسی کی غیرفانی ذات کو ہے۔ یورپ کی تقلید کرنے والوں سے التما س ہے کہ وہ یورپ کے انداز سیاست و حکمرانی بھی اپنائیں وہ یورپ جہاں پارٹی کے دس ڈالر فنڈ خرچ کرنے کے لیے بھی سیاسی پارٹی کے اندر ووٹنگ ہوتی ہے۔ میرے پیارے حکمرانوں اگر ہم رعایاہی نہ رہے تو آپ کس پر حکمرانی کرو گے؟اور کب تک اس ملک کی ماہ نوروں کو بے نور کرتے رہو گے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus