×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بکھرتی ہوئی پیپلز پارٹی۔۔ زرداری رہائی کمیٹی کے قیام کی ضرورت
Dated: 04-Nov-2010
نومبر1968ء میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو وطن عزیز کے کچلے ہوئے طبقے نے سکھ کا سانس لیا۔ قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہید جو کہ خود سندھ کے سب سے بڑے جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے والد سرشاہنواز بھٹو متحدہ ریاست کے وزیراعظم تھے۔ ان دوحقیقتوں کے بعدکسی ایسے شخص سے یہ توقع رکھنا کہ وہ غریبوں کی بات کرے گا قرین قیاس نہ تھی مگر جوان ذوالفقار علی بھٹو نے ان تمام قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کیا اور پاکستان کے ہاریوں، کسانوں، مزدوروں، طالب علموں کی بات کی، ان کے لیے ہزاروں سال لڑنے کی بات کی، گھاس کھا کر ملک کو عظمت دینے کی بات کی۔ جاگیرداروں،سرمایہ داروں کو بتایا کہ اپنی عوام کو بھول کر انہیں لوٹ کھسوٹ کی اجازت اس ملک کے عوام نہ دیں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابینہ چھوڑ کر لاہور آئے ہوئے تھے۔ مردِ صحافت جناب مجید نظامی صاحب کی ان سے ملاقات ہوئی۔ مجید نظامی صاحب نے بھٹو صاحب کو کہا کہ وہ سیاست میں آگے بڑھیں اور عوام ان کا انتظار کر رہی ہے۔ عوام کو ایسے ہی جوان قیادت کی ضرورت ہے جس پر شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جواب دیا کہ نظامی صاحب کون میرا ساتھ دے گا مجھے کون صحافت میں کوریج دے گاتو جناب مجید نظامی صاحب نے بھٹو صاحب کو جواب دیا تو پھر میں شروع کرتا ہوں۔ پھر مجید نظامی صاحب نے ڈاکٹر مبشر حسن کو جو بعد میں پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے اور وزیر خزانہ بھی بنے۔ ان کو پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے لیے بھٹو صاحب کے نام سفارشی خط بھی دیا۔ اور بعدازاں نظامی صاحب نے YMCA کے ہال میں بھٹو صاحب کے لیے جلسہ کا اہتمام کیا جو تاریخ کے ریکارڈ پھر ہے۔ 1970ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی مغربی پاکستان میں کلین سویپ کرکے غریبوں کی بڑی نمائندہ جماعت بن کر ابھری۔ پھر 73ء کا آئین بنا۔74ء میں پاکستان کو پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کے میزبان ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ٹیکسلا ہیوی کمپلیکس اور سٹیل ملیں لگیں۔ ملک نیوکلیئر پاکستان بننے کی شاہراہ پر گامزن ہوا مگر اس دوران بڑی بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لے لیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے بانی اراکین نے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادر بننے کی دوڑ میں فاش غلطیاں کی جن کی متحمل یہ نوزائیدہ جمہوریت اور مملکت نہ ہو سکتی تھی۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو شہید کو پاکستان کے محبت کے جرم میں امریکی سامراج اور ان کے پروردہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سنگین دھمکیاں دی گئی اور نشان عبرت بنا دینے کا عندیہ دیا گیا۔ بھٹو اپنے عوام کے زور پر اڑ گئے اور جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ڈٹ گئے۔ جس پر ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ بھٹو کی پیپلز پارٹی الیکشن جیت چکی تھی مگر ابھی قومی اتحاد کی تحریک جاری تھی کہ تحریک کے ابتدائی دنوں میں بیرسٹراعتزاز احسن نے سب سے پہلے استعفیٰ دیا پھر پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے 95فیصد اراکین یا تو ضیائی آمریت سے مل گئے یا پھر چپ سادھ لی۔ اس طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو کو بھیڑیوں کے سامنے ڈال دیا گیا۔ جنہوں نے اس قائد کو نشان عبرت بھی بنایا اور بھٹو کے دو بیٹوں اور بیٹی کو بھی قتل کیا۔ اور پیپلز پارٹی سے قیادت چھین لی گئی۔ 1988ء تک جب پیپلز پارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے تک ساڑھے گیارہ سال پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنان اور جیالے پھانسیوں کے پھندے،کوڑے اور قلعوں کی سزائیں بھگتے رہے۔ 1988ء سے 96ء نومبر تک پیپلزپارٹی کی حکومت کو دو دفعہ اقتدار سے زبردستی الگ کیا گیا اس دوران پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کی ایک نئی کھیپ سامنے آئی تھی جس کو شہید بی بی نے جدید تقاضوں کے تحت منظم کیا۔ 2002کے الیکشن میں جب پیپلز پارٹی ایک دفعہ پھر الیکشن کے بعد بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔ لیکن ایک بین الاقوامی سازش کے تحت پیپلزپارٹی کے 22اراکین قومی اسمبلی کو لوٹا بنا کر اقتدار کے لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا گیا، اس میں سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کے درجن بھر اراکین بھی شامل تھے۔ اپنے قیام کے بعد یہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پر دوسرا بڑا شب خون تھا۔ 99ء میں جلاوطنی کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو پارٹی کی فیڈرل کونسل و ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس ملک سے باہر کبھی دوبئی، کبھی برطانیہ میں منعقد کرتی رہیں۔ اس طرح پیپلز پارٹی کی قوت مجتمع رہی۔ پھر 2007ء کو جب محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا تو پارٹی ایک دفعہ پھر بکھرنے کے چوراہے پر کھڑی تھی کہ پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل نے کمال دانشمندی سے اس ڈوبتی کشتی کو بچایا اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی وصیت کی روشنی میں جناب بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی کا نیا چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ چونکہ محترم بلاول بھٹو کم عمر ی اور بوجہ تعلیم ابھی پریکٹیکل پالیٹکس نہ کر سکتے تھے۔ اس لیے جناب آصف علی زرداری کو شریک چیئرمین بنا کریہ ذمہ داری ان کے کاندھے پر ڈال دی گئی۔ 2008ء کے الیکشن کے بعد جب یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنایا گیا تو اس وقت ایک دفعہ پھر پارٹی کے اندر داڑھیں پڑیں کہ مخدوم امین فہیم اور پارٹی کا ایک بڑا ٹولہ اس فیصلے سے ناخوش تھے مگر اس پر بھی پارٹی قیادت نے کمپرومائز کیا۔ بی بی شہید کی پولیٹکل سیکرٹری ناہید خان اور ان کے شوہر صفدر عباسی بھی اس جنگ میں پیش پیش تھے۔ دیگر کئی ممبران فیڈرل کونسل و ایگزیکٹو کمیٹی ایک نئی کھیپ کے پارٹی میں گھس آنے سے پریشان تھے۔ جنہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو بقول ناراض ممبران یرغمال بنا لیا ہوا تھا۔ پارٹی کی حکومت کے تقریباً ایک سال بعد ہی رضاربانی جو کہ پارٹی میں ایک الگ پہچان رکھتے ہیں اور سامراج مخالف لابی کی نمائندگی کرتے ہیں نے خود کو کابینہ سے الگ کر لیا اسی طرح مرکزی سیکرٹری اطلاعت اور نشرواشاعت کی وزیر شیری رحمان نے بھی خود کو اقتدار اور پارٹی سے علیحدہ کر لیا یہ وہ موقع تھا جب ایک دفعہ پھر ملک کے اندر اور باہر بیٹھی قوتوں نے پیپلزپارٹی کو توڑنے اور بکھیرنے کی سازشیں شروع کر دیں۔ جیسے تیسے کرکے وقت گزر گیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کو درپیش چیلنجز اپنا دائرہ بڑھاتے چلے گئے۔ ججوں کی بحالی کی تحریک میں بیرسٹراعتزاز احسن پارٹی ڈسپلن سے باہر رہے اسی لیے ان کی رکنیت بھی معطل کی گئی۔ اب گذشتہ روز پیپلز پارٹی میں ایک نئی جنگ کا انکشاف اس وقت ہوا جب پارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ جنگ اور جیو کا بائیکاٹ کیا جائے۔ میرے سمیت فیڈرل کونسل اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کو اخبارات سے پتہ چلا مگر اس دوران کافی دوست انٹرویو ٹاک شوز میں جا چکے تھے لیکن ابھی تک بذریعہ ای میل یا خط ہمیں باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے۔ اب کی بار صفدر عباسی کو معطل کیا گیا جب کے اسلام کے دھماکے میں اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہو جانے والے ڈاکٹر اسرار شاہ جن کو 2008ء میں جناب آصف علی زرداری نے ایگزیکٹو کونسل کارکن بنایا تھا کو بھی بعدازاں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر معطل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر اسرار شاہ صاحب کی طرف سے لکھے ہوئے خطوط ممبران کو تواتر سے ملتے رہے چونکہ یہ پارٹی کا اندرونی مسئلہ تھا لہٰذا میڈیا اس میں کوئی خاص ’’سن‘‘ نہ لگا سکا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندرونی معاملات کو باہر ڈسکس کیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ تو ڈاکٹر اسرار شاہ کے بقول متعدد خطوط انہوں نے جواب کی صورت میں پارٹی کے سیکرٹری جنرل کو لکھے مگر جواب ندارد؟ ان حالات میں ایک سیاسی ورکر کے لیے یا سیاسی لیڈرشپ کے لیے خود کو صورت اعتکاف گھر بیٹھ جانا چاہیے؟یہ سیاست اور سیاسی پارٹیاں کسی کی ذاتی جاگیر نہیںہوتیں ہر شخص اپنی عزت اور رتبے کے لیے، کیریئر کے لیے سیاست میں آتا ہے۔ جب آپ اس پر قدغن لگا دیں تو وہ ایک قیدی کی صورت ہو جاتا ہے اور ایک قیدی کی صورت کیا ہوتی ہے؟ اس کا حال کیا ہوتا ہے؟ اس کو صدر مملکت جناب آصف علی زرداری سے بہتر کون جانتا ہے جنہوں نے اپنی 20 سالہ ازدواجی زندگی میں سے 11سال جیلوں اور عقوبت خانوں میں گزارے۔آج پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے جو لوگ انتہائی متحرک ہیں ان کا حدود اربعہ اور لنکس کئی رجعت پسند پارٹیوں سے جا ملتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر خوشیاں منانے والے اور مٹھائیاں بانٹنے والے اورڈھول کی دھاپ پر بھنگڑا ڈالنے والے اس گروہ کو پارٹی کی نظریاتی قیادت و کارکنان پسند نہیں کرتے۔ اور یہ کلیش ایک ایسا گیپ ہے جس کو پُر کرنا مشکل بھی ہے اور ناممکن بھی۔ جب پارٹی کی لیڈرشپ کو سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و فیڈرل کونسل اراکین کو پارٹی کا پلیٹ فارم ہی مہیا نہ کیا جائے گا، پارٹی کی ان کمیٹیوں کے مہینوں اجلاس نہیں ہوتے اور ’’کور‘‘ کمیٹی کے نام پرپارٹی منشور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و فیڈرل کونسل کو غیر فعال کر دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے سینئر اراکین کو اپنی پولیٹکل ’’سروائیول ‘‘ کے لیے نیا پلیٹ فارم وہ چاہے میڈیا کا ہو ضرور ڈھونڈ نکالیں گے۔میرے پاس آئے ہوئے جیالوں کے ایک وفد نے ایک احتجاجی مراسلہ میرے حوالے کیا اور کہاکہ اب ہمیں ایک دفعہ پھر صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کی رہائی کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے۔کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کو اس ٹولے نے یرغمال بنا لیا ہوا ہے۔ اس لیے ایک نئی زرداری رہائی کمیٹی کا قیام ضروری ہے جو صدر آصف علی زرداری کو اس مراعات یافتہ طبقے کی چنگل سے رہائی دلائے۔ ایک دوست کہہ رہے تھے کہ آج پھر پارٹی کو ایک (ظہیر شہید)کی ضرورت ہے جس نے آصف علی زرداری کی رہائی کی تحریک چلائی تھی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus