×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
میرے بچو! جلاوطنی کی پہلی سالگرہ مبارک ہو
Dated: 04-Mar-2011
میرے سامنے انٹرنیٹ پہ میرے بچوں کا لکھا میرے نام وہ خط ہے جو انہوں مجھ سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر تحریر کیا ہے جسے پڑھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ میں یہ خط اپنے نوائے وقت کے قارئین کے ساتھ شیئر کرتا ہوں تاکہ نوائے وقت کے قارئین اور اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام گواہ راہیں۔ پیارے بابا! خدا کرے کہ آپ ایمان اور صحت کی سب سے بہتر حالت میں ہوں۔ ثم آمین۔ اسلام علیکم! پیارے بابا یوں تو وقتاً فوقتاً آپ سے ٹیلی فون پر بات ہو جاتی ہے مگر ہم سب بہن بھائی آپ کو بہت مِس کر رہے ہیں آج تقریباً ہم کو آپ سے بچھڑے ایک سال ہو گیا ہے یہ ایک سال کسی طور پر بھی چین اور سکون کا سال ہرگز نہ تھا ہر پل، ہر کھانے کے وقت ہم آپ کو یاد کرتے ہیں کہ ہمارے بابا نے شاید ابھی کھانا کھایا ہے کہ نہیں پھر جب ہم کبھی زیادہ اداس ہوتے ہیں تو ’’مما‘‘ کی آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑیاں بہنے لگتی ہیں جس سے ہم مزید پریشان ہو جاتے ہیں اور پھر ہم سب مما کو اور مما ہمیں تسلیاں دینے لگ جاتی ہیں۔ پیارے بابا مجھے یاد ہے کہ خصوصی طور پر میں نے مما کو راضی کیا تھا کہ ہمیں پاکستان رہنا چاہیے وہاں ہمارے اقرباء اور بہت سے پیارے موجود ہیںجس پر آپ نے ہماری خواہش پر فیصلہ کیا کہ ہم سب کو امریکہ سے پاکستان شفٹ ہو جانا چاہیے تاکہ ہم اپنے پیارے وطن پاکستان اور اس کی مٹی سے محبت کر سکیں اور جب میں نے اپنے سکول ٹیچر جو جرسی سٹی کے مسٹر انجیلو کو بتایا کہ میں اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان جا رہی ہوں تو مسٹر انجیلو نے شدید حیران ہو کر کہا تھا کہ یہاں پہ آپ کو کسی چیز کی کمی ہے۔ ماہ نور آپ 14ٹائم سٹوڈنٹ آف دی منتھ کا ایوارڈلے چکی ہو کیا پاکستان میں تم یہ سٹینڈرڈبرقرار رکھ پائو گی؟ تو میں نے مسٹر انجیلو کو جواب دیا تھا کہ میرا سٹینڈرڈ اور میرا مان میرا پاکستان ہے ایک معصوم بچی کی زبان سے یہ الفاظ سن کر مسٹر انجیلو حیرانہوئے اور دعا دی آپ جہاں جائو خوش رہو۔ میرے پیارے بابا ہم آپ کی اور مما کی زبان سے ہر وقت شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا نام سنتے تھے۔ ہمیں ان سے ملنے کی بہت خواہش تھی کہ وہ کونسی عورت ہے، ہستی ہے جو ہمارے بابا جس کے گرویدہ ہیں پھر جب محترمہ بے نظیر بھٹو ہمارے گھر پہلی دفعہ آئیں تو گھر کی دہلیز پر میں نے انہیں پھولوں کاگلدستہ پیش کیا اور پوچھا آر یو سپُر گرل؟ جس پر محترمہ نے جواب دیا۔ یس آئی ایم۔ تو میں نے برجستہ سوال کیا تو پھر آپ اُڑ بھی سکتی ہیں؟ تو شہید محترمہ نے جواب دیا ہاں بچی میں اپنے خیالوں کے زور پر اڑ سکتی ہوں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جب بھی جرسی سٹی میں ہمارے گھر آتیں ہمارے لیے تحائف لاتیں اور ہم مل کر اٹالین ڈشز تیار کرتے تو اسی وقت میں نے یہ طے کر لیا تھا کہ میں پاکستان جائوں گی اپنے ملک میں پڑھوں گی اور اپنے بابا اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے سیاست سیکھ کر اپنے وطن کو امریکہ سے خوبصورت اور مضبوط ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کروں گی۔ پھر ہم سب لاہور آ گئے اپنا پیارا سا گھر بنایا تب پھر آپ بھی اپنا زیادہ وقت پاکستان گزارنے لگے۔ سوئٹزرلینڈ میں اور یورپ میں اپنے بزنس سے توجہ ہٹا کر ہمہ وقت پاکستان پیپلزپارٹی کی سیاست کو آپ نے مقصد حیات بنا لیا ہم پھر بھی خوش تھے کبھی آپ نہ ہوتے تھے مگر ہمارے دیگر احباب تو وہیں موجود تھے جس کی وجہ سے ہمیں اکثر آپ کی غیرموجودگی اورزیادہ وقت سیاسی سرگرمیوں اور جمہوریت کی آزادی کے لیے وقف کرنا کچھ محسوس نہ ہوتا ہم آپ کی بُکس دیکھ کر خوش ہوتے آپ کوٹی وی چینلز پر جمہوریت کا دفاع کرتے دیکھ کر ہمارا سینہ فخر سے تن جاتا تھا۔ آپ نے اپنا وقت اور دھیان جمہوریت کی آزادی جناب آصف علی زرداری کی رہائی اور محترمہ کے ساتھ ایک سے دوسرے ملک اور براعظموں تک سفر کی صورت میں مختص کر دیا تھا پھر جب دسمبر2007ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا تو ہم نے آپ کو بلک بلک کر روتے دیکھا ہم خود بھی رو رہے تھے ایسے لگ رہا تھا جیسے بابا آج یتیم ہو گئے ہیں۔ زندگی پھر آگے بڑھنے لگی آپ نے ہمت نہ ہاری اور پاکستان کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہم پھر بھی خوش تھے کہ ہمارے بابا اس وطن عزیز کو جمہوریت کی راہ میں ڈالنے کے لیے مصروف ہیں۔ بابا پھر آپ کو دہشت گردوں کی طرف سے دھمکیاں ملنے لگیں آپ نے ہمیں اور مما کو نہ بتایا اور آخرکار ان دہشت گردوں نے میرے اور میرے بھائیوں کے سکولز کو بھی دھمکیاں دینا شروع کر دیں پھر جب ہمارے کالج کی پرنسپل صاحبہ نے مجھے ایکسپل لیٹر دیا تو مجھے پتہ چلا کہ میرے بابا اور مما کچھ دنوں سے پریشان کیوں ہیں جس وطن میں واپس آنے کے لیے ہم نے آپ کو مجبور کیا تھا اس وطن کو چھوڑنے پر ہمیں مجبور کیا جا رہا تھا اور آخر ہمیں یہ ملک یہ وطن عزیز چھوڑنا پڑا۔ مگر بابا آپ کو یاد ہے میں نے آپ سے کہا تھا بابا کچھ بھی حالات ہوں ہم ڈریں گے نہیں۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں مگر آپ نے جواب دیا تھا میرے بچو تمہاری وجہ سے کہیں میرے ارادے کمزور نہ پڑھ جائیں اس لیے تم لوگوں کو جلاوطنی کا یہ طوق گلے میں ڈالنا ہوگا۔ پیارے بابا ہمیں آپ پر ناز ہے ہمیں خود پر فخر ہے کہ ہم آپ کی اولاد ہیں یہاں ہزاروں میل دور بھی پبلک لائبریریوں میں آپ کی کتب دیکھ کر میں خوشی سے سرشار ہو جاتی ہوں اور چیخ چیخ کر اپنی دوستوں کو بتاتی ہوں وہ دیکھو میرے بابا کی تصانیف۔ پیارے بابا ہم ڈرنے والے نہیں ہیں ہم بہادر باپ کے بچے ہیں اور ہم آپ کے ساتھ ہیں، مما آپ کے ساتھ ہیں، اس وطن عزیز پاکستان کے لاکھوں لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مشن کی تکمیل تک ہم اپ سے جدائی کا صدمہ خوش دلی اور ہمت سے برداشت کر رہے ہیں۔ پیارے بابا آگے بڑھیئے بڑھتے رہیے اور کبھی بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی پارٹی کو نہ چھوڑیئے گا۔ شاید یہ آپ کے اور ہمارے امتحان کا دور ہے۔ پیارے باب ہمیں یہ امتحان پاس کرنا ہے اچھے نمبروں کے ساتھ، اعزاز کے ساتھ، ہم آپ کی طاقت ہیں،میرے بھائی آپ کی طاقت ہیں، ہمارے قدم کبھی لڑکھڑائیں گے نہیں۔ آپ پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت، اس کے چیئرمین سے وفا کرنے کا وچن نبھائیں۔ بس یہ ہی ایک تقاضا ہے مما کا اور ہم سب بہن بھائیوں کا۔ بابا ایک دفعہ آپ مجھے احتساب عدالت راولپنڈی انکل آصف زرداری سے ملانے لے گئے تھے میں نے انہیں کلائی گھڑی تحفہ دی تھی اور وہ مجھے سینے سے لگا کر بہت روئے تھے اور کہا تھا مطلوب آئندہ بچوں کو ساتھ نہ لانا میں کمزور پڑتا ہوں۔انشاء اللہ جلد ملاقات ہو گی ہم بہت اداس ہیں۔ ڈھیروں پیار عقیدت اور خلوص کے ساتھ ماہ نور وڑائچ، محمد عبداللہ وڑائچ، امراء احمد وڑائچ، جلال احمد وڑائچ،بشریٰ وڑائچ بچوں کی یہ تحریر پڑھ کر میں اداس بھی ہوا مگر خوشی ہوئی کہ میرے بچے ماشاء اللہ سمجھ دار ہو گئے ہیں۔ قارئین اب میں نے بچوں کو جو جوابی خط لکھا وہ بھی آپ کی نذر ہے۔ یہ میرا میرے بچوں میری اولاد کے لیے پہلا خط ہے۔ میرے پیارے بچو! خداتعالیٰ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین۔ مجھے آپ سب کا محبت نامہ ملا، مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ میرے بچے بڑے ہو گئے ہیں اور ان کی سوچیں اس کم عمری میں کتنی پختہ ہو گئی ہیں مجھے یقین نہیں آ رہا کہ گیم بوائے اور ننٹینڈوکے لیے مجھ سے جھگڑ کر پیسے بٹورنے والے میرے بچے ماشاء اللہ میرے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر میرا سہارا بن چکے ہیں، وقت کتنی تیزی سے گزر رہا ہے۔ اس کا احساس مجھے آپ کی تحریر سے ہوا۔ میرے پیارے بچوں کچھ واقعات و حالات ہیں جو میں آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں ہو سکتا ہے کہ آپ کی ماں نے آپ سے یہ باتیں میری امانت سمجھ کر آپ سے تذکر ہ نہ کیا ہو۔ میرے بچو! میں نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز سکول اور کالج دور سے شروع کیا۔ میرا باپ ایک کسان تھا میں نے دیہی سکولز اور کالجز سے تعلیم مکمل کی۔ کالج یونین کا صدر بنا میں جو ایوب آمریت میں پیدا ہوا، یحییٰ کی آمریت کے خلاف بچپن میں نعرے لگائے پھر جب جنرل ضیاء نے سٹوڈنٹ یونین پر پابندی لگائی تو سٹوڈنٹ تحریک کے ہراول دستے میں کام کیا جس کی پاداش میں جلاوطنی اختیار کی اور یورپ بھر میں پیپلزپارٹی کے بکھرے ہوئے کارکنوں کو جمع کرکے ایک پلیٹ فارم پر لائے۔ آمر ضیاء کی حادثاتی موت کے 5سال بعد واپس وطن آیا اس دوران شہید بی بی نے مجھے پیپلزپارٹی سوئٹزرلینڈ کا صدر بنایا پھر بعد میں پیپلزپارٹی یورپین آفیئر کا انچارج بھی بنایا۔ 96ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو دوسری دفعہ فارغ کیا گیا تو اس کے بعد پارٹی کارکنوں اور قیادت کے لیے مصائب شروع ہوئے۔ بے بنیاد مقدمات کی زد سے میں بھی محفوظ نہ رہا۔ 98ء کے اوائل میں سینیٹر جہانگیر بدر نے مجھے جرمنی بلوایا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور سینیٹر آصف علی زرداری کا پیغام دیا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں میں جہانگیر بدر کے وطن واپس کے چند دنوں بعد پہنچ گیا اور قومی اسمبلی کے قائد حز ب اختلاف کے دفت رمیں میری سینیٹر آصف علی زرداری صاحب سے ملاقات کروائی گئی جنہوں نے دیکھتے ہی کہا مطلوب تمہیں خدا نے میرے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا ہے اب باقی میری رہائی کا سارا کام تم نے سرانجام دینا ہے۔ اس وقع پر موجودہ سپیکر فہمیدہ مرزا بھی موجود تھیں پھر مجھے پارٹی کی طرف سے سوئس کیسوں کی پیروی کے لیے لیٹر آف اتھارٹی جاری کیا گیا۔ اس کے بعد میری جدوجہد شروع ہو گئیں میں نے اپنے یورپی و امریکن تعلقات کو بروئے کار لا کر بعدازاں امریکن پینٹاگون اور امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں محترمہ کی ملاقاتوں کا اہتمام کیا جن میں خود بھی موجود رہا۔ بعدازاں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش پر پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر محترم امین فہیم اور جنرل سیکرٹری راجہ پرویز اشرف کے لیے بھی ملاقاتوں کا اہتمام کیا اور بذات خود بھی ان ملاقاتوں کا حصہ بنا۔ میں نے پارٹی کی قیادت کے لیے امریکن پینٹاگون،سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ کے وزٹ بھی کروائے جب کہ 99میں مجھے سینیٹر آصف علی زرداری کے کیسوں کی پیروی کرنے کی وجہ سے مختلف کیسز بنا کر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا جہاں سینٹر آصف علی زرداری صاحب نے مجھے اپنے ساتھ رکھا۔ میری سیاسی تربیت کے لیے یہ نادر موقع تھا بعدازاں رہائی کے بعد پوری دنیا میں سینیٹر آصف علی زرداری، جناب یوسف رضا گیلانی اور سینیٹر جہانگیر بدر کی رہائی کے لیے مہم چلائی۔ یہی وجہ تھی کے مشرف کے دور میں کم از کم تین دفعہ وفاقی وزارت کی پیشکش کو پائوں کی ٹھوکر پر رکھا جبکہ 2002میں شہید محترمہ نے میری بیوی اور آپ کی ماں بدرالنساء وڑائچ کو قومی اسمبلی کاٹکٹ ایوارڈ کیا(جبکہ آج چیخنے چلانے والے ٹولے نے جواس وقت ان تمام معاملات کے انچارج تھے بدرالنساء وڑائچ کا ساتویں نمبر سے گیارواں نمبر پرکر دیاگیاشہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے علم میں لائے بغیر)۔ پھر میری زندگی زیورخ، دبئی، لاہور اور نیویارک واشنگٹن کے درمیان سفر کرتے گزرنے لگی۔ محترمہ کی شہادت تک اوورسیز میں شاید ہی ایسا کوئی ایونٹ ہوگا جہاں میری موجودگی نہ ہو۔ اس دوران محترمہ وطن واپس آئیں اور پھر سانحہ دسمبر ہوا میں نے اپنی وفائوں میں پھر بھی کمی نہ آنے دی۔ پارٹی فیصلوں کی پابندی کی، قیادت کے اعتماد کو آج تک کبھی ٹھیس نہ پہنچائی۔ اپنی بارہ سال کی مسلسل جدوجہد کے دوران بزنس کا بُرا حال ہوا،میری صحت جیل میں خراب ہوئی اور اس دوران کی لگی بیماریوں کو آج بھی بھگت رہا ہوں۔ پارٹی کے صحافتی ونگ کو مضبوط بنایا مختلف خدمات سرانجام دیں۔ دو درجن سے زائد انگلش اور اردو میں تصانیف لکھیں۔ ذاتی روزنامہ شروع کیا اس ملک کے سب سے موقر روزنامہ نوائے وقت کے صفحات اس بات کے گواہ ہیں کہ پچھلے تین سال سے باقاعدہ غیرجانبدارانہ کالم نگاری کی۔ میرے بچو موجودہ حکمران سیٹ اپ میں اپنی خودداری اور قیادت کے گرد مکڑیوں نے جو جال بن رکھا ہے اس کی وجہ سے بیک فٹ پر رہ کر اپنا وعدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور صدر مملکت آصف علی زرداری کو دیا ہوا وچن نبھا رہا ہوں۔ میں سمجھتاہوں آج بھی صدر مملکت آصف علی زرداری جنہوں نے مجھے اپنا بھائی بنایا تھا انہیں میری ضرورت ہے ابھی بھی صدر مملکت رہا نہیں ہو سکے۔ میرے بچومیں پارٹی میں گروپنگ کا حامی نہیں اس لیے خود کو ایسے تمام گروپس سے بھی دور رکھا یہی وجہ ہے کہ میری اپنی قیادت نے آنکھیں پھیر لی ہیں۔ مگر میرے پیارے بچو میں اپنی خودداری بیچ کر اپنی انا کا سودا کرکے شاید کچھ دنیاوی مفادات تو حاصل کر لوں مگر تاریخ اور میرا ضمیر مجھے کبھی معاف نہ کرے گا،میں مرکر تو اپنے لاکھوں قارئین اور تمہارے دلوں میں زندہ رہوں گا مگر میرا ضمیر مر گیا تو میں اپنی اور تمہاری نظروں سے ایسے گِروں گا کہ پھر کبھی اٹھ نہ سکوں گا۔ میرے بچوں آج تمہیں مجھ سے جدا ہوئے ایک سال ہو گیا ہے میرے بچوں تمہیں جلاوطنی کا یہ پہلا سال مکمل ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ تمہاری جرأت اور بہادری اور ہمت نے میرے ارادوں کو جلا بخشی وگرنہ میں بھی عام انسان ہوں ان لہروں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو چکا ہوتا۔ میرے پیارے بچو! جس طرح آپ کو دہشت گردوں کی دھمکیوں کی وجہ سے ملک چھوڑنا پڑا اسی طرح آج کچھ غیرسیاسی دہشت گرد میری پارٹی میں گھس آئے ہیں میں کم از کم آدھ درجن ایسے وزراء اور اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اکثر پبلک فورم پر صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کے متعلق مغلوضات بکیں اور ایک ایسے فیڈرل منسٹر صاحب جنہوں نے آصف علی زرداری صاحب کی رہائی کے لیے جانے والے مشن کے دوران ایئرپورٹ پر سفر کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ اکانومی کلاس میں سفر نہیں کریں گے جس پر ان کی ہنگامی طور پر سیٹ اپ گریڈ کروائی گئی۔اس صورت احوال میں کیا میں نے اچھا نہیں کیا کہ میں ایسے کسی کابینہ میں نہیں ہوں مگر میری وفاداری آج بھی ایک مثال کی طور پر دی جا سکتی ہے۔میرے بچومیںنے اپنی زندگی کے دس قیمتی سال پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کے لیے قیدوبند اور صعوبتوں کی صورت میں کاٹے ہیں۔میں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغازبھٹو کے فلسفہ سے شروع کیا تھااور میری میرے رب سے دعا ہے کہ جب میں مروں تو میرا جسدپیپلزپارٹی اور پاکستان کے پرچم میں لپیٹا ہو۔اس سے بڑا وچن میں آپ کو اور پاکستان اٹھارہ کروڑ عوام نہیں دے سکتا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus