×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امن کا چھکا یا منافقت کا جھٹکا!
Dated: 12-Mar-2011
ہمارے یہاں ایک محاورہ مشہور ہے کہ ’’تند نئیں تانی وگھری اے‘‘ یعنی ہر طرف انارکی پھیلی ہوئی ہے ہر پارٹی،تنظیم،آرگنائزیشن، این جی اوز اپنی اپنی سُر میںا پنے ’’ڈونرز‘‘ کے گیت گا رہے ہیں۔ وطن عزیز کو قائم ہوئے 63سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے عمر کے اعتبار سے تو اب تک ہمیں بہت میچور ہو جانا چاہیے تھا مگر ہماری سیاسی،سماجی، معاشی، معاشرتی، تعلیمی،تمدنی نابالغی اس امر کی گواہ ہے کہ ہم ابھی بھی سن بلوغت کو نہیں پہنچے۔ ملک کے اندربہت سے گروہ اپنے آقائوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اس حد تک آگے چلے گئے ہیں کہ ابھی محبت کے دیپ جلانے کی نہیں عقل سلیم کے لیے چلے کاٹنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک کے ایک میڈیا گروپ اور اس کے حواری اپنے آقائوں کو خوش کرنے کے لیے کبھی امن کی آشا اور اب امن کے چھکے لگانے کی بات کرتے ہیں ہمارے اس دوست گروپ کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ امن کی آشا کے ’’پر‘‘ ہر دفعہ ان کے اپنے ہی دوست کاٹ دیتے ہیں اور امن کی یہ فاختہ سڑکوں پر تڑپ تڑپ کر ان کی اپنی آنکھوں کے سامنے لب جاں ہے۔ ہمارے فنکاروں کی متعدد دفعہ بھارت یاترا کے دوران ایسی درگت بنائی گئی ہے کہ کوئی بھی اہل عزت و شرم اس کے بعد اس مہم جوئی کی جرأت نہ کرے گا ہمارے اس میڈیا گروپ کے جنون کا یہ عالم ہے کہ کبھی تو وہ اپنی محبت اپنی چاہت اپنے احساس کو عالم و اسلام کے دشمن نمبر1اسرائیل کی گود میں تلاش کرتا ہے اور کروڑوں ڈالر کے ٹیکس فری مفادات حاصل کرکے اس یہودی گروپ کے افکار کا پاکستان کے اندر پرچار کرتا ہے۔ کبھی پاکستان کے دشمن نمبر1بھارت کے میڈیا گروپس کے ساتھ مل کر وطن عزیز کے اٹھارہ کروڑ عوام کے مستقبل سے کھیلنے اور انہیں بے وقوف بنانے کی معاہدوں کا اہتمام کرتا ہے۔ پیسے کی ہوس اور پاور شیئرنگ کے لیے لالچ کی حد تک ملوث اس جنونی گروپ کو اس ملک کے مسائل کا علم نہیں؟ یہاں اس ملک میں آٹا، چینی، گندم، چال، سیمنٹ،زرعی ادویات، کھاد، بیج کے ایسے مسائل ہیں جو امن کی فاختہ اڑانے سے حل نہیں ہوں گے۔ اس ملک کے عوام بجلی، پانی، گیس کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ لاکھوں مزدور سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں اور دور یہ آ گیا ہے کہ آج مزدور اور مالک، آجر اور آجیر دونوں کارخانے، فیکٹریاں بند ہونے کی وجہ سے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک دوسرے کے کندھوں پر سر رکھ کر اپنے نصیبوں کو رو رہے ہیں اور دوسری طرف ہمارے جنونی گروپ مستانہ وار گا گا کر امن کے چھکے لگا رہے ہیں۔ جیسے کرکٹ ہی اس ملک کے تمام مسائل کا حل ہے؟ جمہوریت کے لیے مشرف حکومت سے نبردآزما ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہمارے بھائیوں کو اب جمہوریت اور میثاق جمہوریت میں کیڑے نکالنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ پوری دنیا میں ریاستی مشنری اور نظام عدلیہ مقننہ اور انتظامیہ کے بین قوانین پر قائم ہوتا ہے مگر ہمارے ملک میں اقتدار کے لالچی سیاست دانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایسے بے شمار عوامل برسرپیکار ہیں جو اقتدار کی رہداریوں میں ریاست کے چوتھے ستون کے طور پر اپنے آپ کو متعارف کروا رہے ہیں جبکہ پوری دنیا میں میڈیا کے اپنے بین کردار سے منہ موڑنا ناممکن ہے اور ریاستی قوانین میں میڈیا کا اپنا ایک طے شدہ کردار ہوتا ہے اسی طرح عدلیہ کا بھی اپنا ایک کردار ہوتا ہے۔ جدید معاشرے کی مثال دی جائے تو یورپ اور امریکہ سمیت اکثر ممالک میں جب الیکشن میں ایک پارٹی ہارجاتی ہے تو جب وہ ایوان اقتدار چھوڑتی ہے تواس کے ساتھ تقریبا ًپچاس ہزار وہ لوگ جو اس کی فرسٹ ٹیم کے طور پر اس کے ساتھ ہوتے ہیں کو بھی اپنے اپنے عہدے اور تعیناتی چھوڑنی پڑتی ہیں جبکہ جیتنے والی پارٹی ایوان اقتدا رمیں داخل ہو کر اپنی نئی ٹیم کے ساتھ ان کی جگہ پُر کرتی ہے تاکہ وہ اپنے الیکشن کے منشور پر عمل پیرا ہو سکیں۔ جبکہ گذشتہ در میں چلنے والی ہماری عدلیہ کی تحریک جو موجودہ دورحکومت میں بحال ہوئی۔ حکومت اور عدلیہ کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ قائم نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں کیس سماعت کے منتظر ہیں جبکہ ہزاروں لاکھوں سائل تقریباً مایوس ہو کر سوچ رہے ہیں کہ وہ دن کب آئے گا جب ان کی شنوائی ہو گی۔جب اس ملک کے اہل علم و دانش و فکر اور صاحب اقتدار طبقہ آپس کی سردو گرم جنگ چھوڑ کر اس ملک کے پسے ہوئے اٹھارہ کروڑ عوام کے مسائل کی طرف توجہ دیں ہمارے روزمرہ کے احوال ایسے ہیں کہ امن کی آشا کی پھرپھراہٹ کا تماشہ دیکھ رہے ہیں جبکہ اس ملک کے حقیقی عوامی مسائل ہمارا منہ چڑچڑا رہے ہیں۔ عوامی ذہنی ابتری کا یہ عالم ہے کہ ہمارے بے شمار نوجوانون حصول رزق کے لیے دشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ کیا ہمارے ملک کے اہل دانش و قلم کو بلوچستان کے حالات دیکھنے کے لیے کسی خصوصی عینک کی تلاش ہے ؟کیا قیام پاکستان کے حق میں سب سے پہلے ووٹ ڈالنے والے ہمارے بلوچی بھائیوں کی محرومیوں کا ازالہ کیا گیا ہے؟ کیا امن کی آشا نے اپنے گھنائونے پنجے ہمارے سینے پر نہیں گاڑ رکھے؟ کیا ہمارے عرب دوستوں خصوصاً متحدہ عرب امارات اور بھارت سمیت افغانستان کی حکومتوں نے بلوچستان میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے دراندازی شروع نہیں کر رکھی؟ اور یہ قوتیں اپنے مقاصد میں اس حد تک آگے چلی گئی ہیں کہ اب بلوچستان میں کئی ایک عسکری تنظیمیں ہمہ وقت بلوچستان کی قسمت سے کھیلتی ہوئی نظر آتی ہیں اور ان عسکری قوتوں کے سرے کابل،دوبئی اور دہلی سے جا ملتے ہیں اور ہر روز بلوچستان سے درجن بھر پنجابیوں کی لاشیں جب پنجاب آتی ہیں تو پنجاب کے لوگ پوچھتے ہیں کہ اس میں پنجاب کا کیا قصور ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے ہمارے دوستوں نے ہمارے وطن عزیز کو اپنی مذہبی جنون کے لیے میدان جنگ بنایا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ آج وطن عزیز میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی ناپید ہے۔ ہر مذہبی فرقہ دوسرے کو کافر قرار دے کر اس وطن عزیز کی اینٹ سے اینٹ بجا رہا ہے۔ اس ملک کی سیاسی پارٹیاں میثاق جمہوریت کا جنازہ نکال کر اب اپنے اپنے راگ اس قوم کو سنا رہے ہیں۔ ہماری اس طفل سیاست کو ابھی پنپنے کا موقع نہیں ملا اور پھر ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہماری پاک فوج جو داخلی اور خارجی محاذوں پر برسرپیکار ہے گھسیٹ کر اپنے سیاسی معاملات میں ملوث کر لیںاور جس دن خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو پھر ایک دفعہ جمہوریت کی بحالی کے نام پر ایک نئے فراڈ کا بندوبست کیا جائے گا، پھر عوام کو سڑکوں پر گھسیٹا جائے گا،پھر نئے نئے نعرے ایجاد ہوں گے، پھر اس ملک کو سینکڑوں سال پیچھے دھکیل دیا جائے گا۔کیا ریمنڈ ڈیوس کیس ہمارے سیاسی و مذہبی زعما کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں؟ امریکہ برسرعام ہماری قومی غیرت کو للکار رہا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس سے اس کے ذاتی24مختلف شناختی کارڈ برآمد ہوئے جن میں اکثر تصویروں والے کارڈز پر اس کے نام بھی اسی طرح مختلف ہیں۔ کیا امریکہ میں کسی پاکستانی سفارتی اہلکار یا فرد سے یہ کارڈز برآمد ہوتے تو اسے بلگرام یا گوانتابے کے جزیروں پر بھجوانے کا خصوصی انتظام کر دیا جاتا۔ جہاں انسانی تذلیل کی عبرت ناک مثال بنا کر پھر اپنی تسکین کا سامان پیدا کیا جاتا۔ امریکی سرکار ہر روز ہماری غیرت کو للکار رہی ہے کہ وہ امداد بند کر دیں گے،ہم سے نوالہ چھین لیں گے، ہمیں ریگستان بنا دیں گے، ہمیں مثال عبرت بنا دیں گے جبکہ ہم خاموش تماشائی کی طرح یہ سب کچھ کسی فلم کی مانند دیکھ اور برداشت کر رہے ہیں مگر ہماری عقلوں پر پڑے جہالت کے دبیز پردے ہم سے ہماری سمجھ بوجھ چھین چکے ہیں۔ کیا آج کوئی بھٹو پھر پیدا ہو سکتا ہے؟ کیا آج کوئی بے نظیر پھر پیدا ہو سکتی ہے؟ جو موت کے پھندے کو چوم کر اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کی رہبری کر سکے؟ کیا نظریہ پاکستان کا مذاق اڑانے والے مٹھی بھربے خبرے سوچ رہے ہیں کہ حضرت قائداعظم، حضرت علامہ اقبال کے پاکستان کے نظریہ کے داعی جناب مجید نظامی صاحب جیسے لوگوں کی موجودگی میں اس دو قومی نظریہ پر آنچ آ سکتی ہے؟ قربانیوں کی تاریخ رقم کرنے والی اس قوم نے نہ صرف سورما پیدا کیے بلکہ بھٹوز ایسے لیڈر بھی پیدا کیے جو اس نظریہ کی حفاظت کے لیے پھانسی کے پھندے کو جیت کا ہار سمجھ کر اپنے گلوں میں سجا لیتے ہیں۔ جب تک ایک بھی مجید نظامی زندہ ہے تب تک امن کی آشا اور امن کے چھکوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکیں گے۔کیا امن کی آشا کا چھکا کی رٹ لگانے والے ہمیں بتانا پسند کریں گے کہ پاکستان کے مجموعی قومی بجٹ کے برابر انڈیا کا صرف دفاعی بجٹ ہے کیا انڈیا کھربوں ڈالر کا یہ بجٹ امن کی فاختہ کے انڈے خریدنے کے لیے استعمال میں لائے گا یا سری لنکا،نیپال، مالدیپ،بھوٹان جیسے چھوٹے چھوٹے ہمسایہ ممالک کو ڈرانے کے لیے استعمال کرے گایا پھر پاکستان جیسی ایٹمی و نیوکلیئر قوت کے خلاف تو استعمال نہیں کرے گا؟ قوم کو ہر موقع پر گمراہ کیا جاتا رہا ہے، قوم کو ایک کھلونا سمجھ کر کھیلا جاتا رہا ہے، قوم کو بس ووٹ ڈالنے والی مشین سمجھ کر قوم کے جذبات سے کھیلنے والے قوم کو غلط راستوں اور غلط سنگ میل کی طرف لے جانے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارا ہمسایہ بھارت عالم اسلام کے ازلی دشمن اسرائیل کے ساتھ مل کر جو ڈرامہ رچا رہا ہے ہماری پوری قوم اس کو مسترد کرتی ہے۔ اے نام نہاد امن کے ’’چھکو‘‘ تمہیں یاد ہے کہ نہیں مگر ہم جانتے ہیں امن کے چھکے کے نام پر منافقت کا ایک ایسا جھٹکا ہے جو سرآب کی مانند اس قوم کو دکھایا جا رہا ہے اور اس بین الاقوامی سازش کونظریہ پاکستان کے کارکن اپنے خون کا نذرانہ دے کر پاش پاش کر دیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus