×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
منموہن سنگھ۔ اپنی زبان کو لگام دو
Dated: 10-Jul-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ہر روز آپس میں لڑنے والے بھائیوں کو ایک دن بوڑھے باپ نے ایک جگہ اکٹھے بٹھایا۔ ان کے سامنے جیب سے ماچس نکالی پھر سب بیٹوں کو ماچس کی ایک ایک تیلی دی اور کہا اسے توڑو۔ سب بھائیوں نے اپنی اپنی تیلیوں کو توڑا ۔پھر بوڑھے باپ نے ایک بیٹے کو پوری ماچس کی تیلیاں نکال کر تھما دیں اور بولا اب ان سب کو اکٹھا توڑو۔ بیٹے نے زور لگایا مگر ان کو نہ توڑ سکا۔ پھر باپ نے باقی بیٹوں کو بھی ایسا کرنے کو کہا وہ بھی تیلیوں کا گھچا توڑنے میں ناکام رہے ،تو بوڑھے باپ نے اپنے بیٹوں کو سمجھایا کہ دیکھو اگر تم آپس میں تقسیم ہو کر ایک تیلی کی مانند ہو جائو گے تو تمہیں تمہارے دشمن ایک ایک کرکے ختم کر دیں گے مگر اگر تم پوری ماچس کی تیلیوں کی طرح گچھابن جائو گے تو تمہیں توڑنا ،تم پر غالب آنا آسان نہ ہوگا۔ بچپن میں سنی ہوئی اس حکایت کو یاد کرکے سمجھ آتی ہے کہ ہماری آپس کی کھینچا تانیوں، اندرونی خلفشار اور نفاق کی بدولت آج ہم اٹھارہ کروڑ پاکستانی شکست و ریخت کی طرف گامزن ہیں۔وگرنہ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کو یہ جرأت نہ ہوتی کہ وہ کشمیر کے موضوع پر اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کے دل جلانے کی باتیں کرتا۔ قیام پاکستان کے بعد پچھلے 63سالوں میں بھارتی حکمرانوں نے کوئی ایسا موقع جانے نہیں دیا جب بھی موقع ہاتھ آیا انہوں نے روایتی دشمنی کی آگ کو مزید ہوا دی۔ پاکستان ابھی اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہوا تھا کہ ہم پرصرف ایک سال بعد ہی جنگ مسلط کر دی گئی اور اب تک مکار دشمن ہم پر 5جنگیں مسلط کر چکا ہے۔ جس میں سے اکثر میں اسے ہزیمت اٹھانا پڑی مگر بھارت پھر بھی اپنی حرکتوں ،کرتوتوں اور سازشوں سے نہ باز آیا ہے اور نہ باز آئے گا۔ پاکستان نے نائن الیون کے بعد بین الاقوامی برادری یورپین یونین اور امریکی کانگریس اور عوام کی درخواست پر اتحادی افواج کا فرنٹ مین ہراول دستے کا کردار کیا۔تو دوسری طرف امن مخالف قوتوں نے اتحادیوں کے ساتھ الحاق پر ہم سے ناطقہ کر دیااور نتیجہ یہ نکلا کہ دس سال کی جہد مسلسل کے بعد 34ہزار سویلین 5ہزار عسکری جوان 70بلین ڈالرز کا انفراسٹکچر تباہ ہوا او رپچھلے دس سالوں میں اگر4فیصد بھی سالہ ترقی ہوتی تو 50بلین ڈالرز کا یہ نقصان معاشی طور پر پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو اٹھانا پڑاجبکہ اس جنگ کے براہ راست اور فطری عرب ممالک کوئی نقصان اٹھائے بغیر آج امریکہ کی گود میں کھیل رہے ہیں ۔ نائن الیون کی تاریخ گواہ ہے کہ سانحہ 9/11میں ایک بھی پاکستانی یا افواج پاکستان کا ایک بھی فرد ملوث نہیں تھا۔ القاعدہ سعودیوں، مصریوں، یمنیوں اور دیگر عرب اقوام پر مشتمل نوجوانوں کی تنظیم تھی جس کو آپریٹ عرب سرمایہ دار کرتے تھے۔ بھارت جس نے پچھلے دس سالوں میں دہشت گردی کے خلاف اس عالمی جنگ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا اور اب تک اس کا ایک بھی فرد یا فوجی جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاں بحق نہیں ہوا۔ جبکہ دوسری طرف القاعدہ اور طالبان کے سبھی گروپس پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے بیقرار ہیں جبکہ طالبان اور القاعدہ کا اگر کوئی مسئلہ ہے، جھگڑا ہے، جنگ ہے تو وہ براہ راست امریکہ اور یورپی اتحادیوں سے ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ ان کی جنگ’’ڈیگا کھوتے توں تے غصّہ کمیارتے‘‘یعنی گدھے سے گِر کر اپنا غصہ کمہار پر اتارنے کے مترادف ہے۔ کیا دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں دنیا بھر میں کہیں اور بھی القاعدہ اور طالبان نے امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ؟کیا دنیا بھر میں موجود ملٹی نیشنل امریکی کمپنیاں اور مالیاتی ادارے کو کہیں بھی نقصان پہنچا؟ عرب ممالک اور دنیا بھر میں امریکن کمپنیوں کے ہزاروں دفاتر ’’آوٹ لٹ‘‘ موجود ہیں جو القاعدہ اور طالبان سے محفوظ ہے مگر طارق روڈ، لکشمی، بھاٹی چوک، سرگودھا، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی،اسلام آباد، کراچی، ملتان، بہاولپور کے غریبوں کی دکانیں، روزی کمانے کے یہ چھوٹے چھوٹے کاروبار تباہ ہوتے رہے۔ دس سالہ اس خانہ جنگی کی تاریخ گواہ ہے کہ کسی چرچ، کسی مندر، کسی گردوارے پر حملہ ہوا نہ دھماکہ؟ جبکہ مسلمانوں کی ہی مساجد اور ان میں موجود نمازیوں کی ہزاروں کی تعداد میں شہادتیں اور مساجد کو کھنڈروں میں تبدیل ہوتے یہ قوم دیکھ رہی ہے۔ کبھی ہم نے سوچا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ گزشتہ ہفتے میں سوئٹزرلینڈ میں تھا وہاں ایک دوست کے ہاں شام کی ایک تقریب تھی۔ چند دوست مدعو تھے جن میں پاکستانی، بھارتی ، سری لنکن، اور مقامی سوئس شہری بھی تھے۔ تقریب کے اختتام سے کچھ پہلے جب برصغیر کے سائوتھ ایشیا کے مسئلہ پر بات ہو رہی تھی مسٹر منوج کمہار نے تقریباً نشے کی حالت میں یہ بک ہی دیا کہ اب ہمیں پاکستان سے جنگ کی ضرورت نہیں۔ اب ہماری جنگ پاکستانی ہی لڑ رہے ۔ منوج کمہار نے مزید کہا کہ اس جدید دور میں عالمی سُپر طاقتوں سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خرید کر اسے چلانا اور پھر نتائج کا کوئی علم نہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ چند ارب روپوں سے کچھ پاکستانی سیاست دان، صحافی اور سول سوسائٹی کے لوگ خریدلو۔ آپ کا باقی کا ایجنڈا وہ خود پورا کر یں گے۔ میں اس سابقہ بھارتی سفارت کار کی گفتگو سن کر سَکتے میں آ گیا مجھ پر بند دروازے وا ہونے لگے کہ پچھلے دس سالوں میں ایک مخصوص طریقے سے پاکستان کی اکانومی کو ہٹ کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر سے ایک بھی سرمایہ کار ایسا تلاش نہیں کیا جا سکتا جو موجودہ معروضی حالات میں اپنا ایک ڈالر بھی پاکستان میں انویسٹ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اس طرح مکار بھارتی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے کہ پاکستان کو اتنا لاغر کر دو کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑا ہی نہ ہو سکے۔ اور جب ایک ملک کو اپنے اندرونی خلفشار جھگڑوں سے ہی فرصت نہیں ہو گی، جب اس ملک میں وہابی،سنی، شیعہ، دیوبندی مسلکوں کی لڑائی میں فائدہ صرف ایک تیسرے فریق کو ہوگا تو یقینا آپ جانتے ہوں گے کہ وہ تیسرا فریق کون ہے؟ وہ تیسرا فریق امریکہ ،اسرائیل اور بھارت ہے مگرمیں سوچ رہا ہوں کہ منموہن سنگھ کو یکدم ایسی کیا سوجھی؟ کہ اس نے پاکستان کو اتنا کمزور جان لیا اور فوراًایک بیان کشمیر جیسے حساس مسئلے پر داغ دیا؟ دراصل پاکستان کے وزیر دفاع صاحب نے چند روز پہلے ایک غیرملکی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیت اتنی بھی نہیں کہ ہم پینتالیس دن کی جنگ بھی نہیں لڑ سکتے۔ موصوف نے تقریباً تمام شعبوں کو ڈسکس کیا۔ اور عسکری ناکامیوں اور کمزوریوں کی وہ دِل ہلا دینے والی تفصیلات میڈیا کو جاری کیں کہ عزت اور وقار سے جینے والے کروڑوں پاکستانی سراٹھانے کے قابل نہیں رہے۔ ہمارے یہ موصوف وزیر دفاع جب بھی بولتے ہیں چھپڑپھاڑ کر بولتے ہیں اور موصوف کو اس ملک کے سب سے اہم عہدے یعنی وزیر دفاع بنایا گیا ہے۔ یعنی تمام افواج بری،بحری، فضائی اور اہم انٹیلی جنس ادارے موصوف کے براہ راست کنٹرول میں ہیں۔ موصوف وزیر کو اگر بولنا ہی تھا تو پہلے اپنے ملٹری سیکرٹری یا جی ایچ کیو سے بریفنگ لے لیتے۔ میں حیران ہوں کہ جب ملٹری میں ڈسپلن کی بات آتی ہے تو کیا یہ صرف فوجی جوان ،کیپٹن،میجر تک کے لیے ہوتی ہے کیا ملک کا وزیر دفاع اس ڈسپلن سے مبرا ہے؟ کیا ہماری برسوں کی بنائی ہوئی ہیبت جو ہمارے دشمن پر طاری ہے جس کی وجہ سے ہی ہم دس گنا مضبوط دشمن کے دانت کٹھے کیے۔ جب تک ایک بھی مجید نظامی جو نظریہ پاکستان کا محافظ ہے زندہ ہے تب تک مکار دشمن اپنی تمام تر خباثتوں کے باوجود ہم پر غالب نہیں آ سکتا۔ وزیر دفاع بھول گئے ہیں کہ ہم نے یہ نیوکلیئر بم شوکیسوں میں سجانے کے لیے نہیں رکھے ۔یہی بم بنانے کے لیے ایسے ہی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کا پھندہ نہیں چوم لیا تھا۔ اور یہ بم بنانے کے لیے قوم پچھلے چالیس سال سے تقریباً گھاس کھا کر پانی، بجلی، گیس جیسی ابتدائی سہولتوں سے نابلد ہے۔ وزیر دفاع صاحب پاک فوج اس دنیا کی چند پہلی افواج میں شامل ہے جس کا ریکارڈ پوری دنیا کو معلوم ہے اور جنگیں بموں سے بھی نہیںجذبوں سے لڑی جاتی ہیں۔ اس پاک فوج کو آپ ہر سال کروڑں اربوں روپے کی یونیفارم، جوتے اور ٹائر سپلائی کرتے ہو۔ کاش کہ فوج میں ایسے ہوتا کہ قو م کے مورال کو ڈی مورال لائز کرنے کے جرم کی پاداش میں وزیر دفاع کا کورٹ مارشل ہوتا۔تاکہ آئندہ کسی ایسے طالع آزما کو دشمن کی پچ پر کھیلنے کی جرأت نہ ہوتی۔ اور پھر نہ ہی منموہن سنگھ کو جرأت ہوتی کہ وہ کشمیر اور پاکستان کے متعلق ایسے خیالات کا اظہار کرتا۔ منموہن سنگھ جب تک ایک بھی سچا پاکستانی زندہ ہے نظریہ پاکستان کا محافظ زندہ ہے وہ تمہاری ناپاک زبان کھینچے کی ہمت رکھتا ہے۔ اپنی زبان کو لگام دو منموہن سنگھ۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus