×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا آئی ایس پی آرخواب غفلت سے جاگ رہاہے؟
Dated: 18-Jul-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں جبکہ شاپنگ بھی آئن لائن ہونے کی سہولیات میسر ہے اور دنیا بھر کے مالیاتی ادارے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں روزمرہ اور فوڈ پراڈکٹس کی تشہیر کے لیے سالانہ کھربوں ڈالرز صرف کرتے ہیں تو یہ سب بے وجہ نہیں ہورہا۔ آج آپ کی کتنی بھی اچھی پراڈکٹ ہو جب تک اس کو کمرشل طریقے سے لانچ نہیں کریں گے ،آپ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔بالکل اسی طرح دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں مختلف سیاسی جماعتیں، مذہبی جماعتیں، این جی اوز نے اپنے اپنے ٹارگٹس حاصل کرنے کے لیے ایسے اداروں کی خدمات حاصل کر رکھی ہوتی ہیں جو ان کے لیے راہیں ہموار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں سیاسی جماعتوں، سیاسی شخصیتوں نے اپنی کامیابی اور منزل کے حصول کے لیے Lobbyist, Consultation Firms اداروں کو ہائر کرتے ہیں۔ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت نے بھی موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق واشنگٹن اور لندن میں ایسے اداروں کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ حتیٰ کہ تقریباً تمام ہی امریکن ممبران کانگریس اور کمیٹیوں کے سربراہان کی انکم کا بڑا حصہ بھی کسی ملک یا سیاسی شخصیت یا سرمایہ دار ادارے کے لیے خدمات سرنجام دے کر حاصل کی جاتی ہیں۔ہمارے ملک کے موجودہ صاحب اقتدار اور اپوزیشن نے بھی امریکی رکن کانگریس اور سینٹ کے ممبران کو اپنی لابی کے لیے ان کی خدمات حاصل کی ہوئیں ہیں۔ جبکہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے ایک محتاط اندازے کے مطابق کم از کم 200سے زائد ممبران کانگریس پر مشتمل ایک ایسے ادارے کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جن کا باس ایک مشہور اسرائیلی جبوش ہے جس کے پاس 70سے زائد سینٹ کے اراکین بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی امریکن کانگریس کی کمیٹی میں کوئی بل بھارتی مفاد میں پیش کروایا جاتا ہے تو وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو جاتا ہے جبکہ ہمارے اخبارات اور میڈیا شور مچاتے رہ جاتے ہیں کہ امریکہ نے فلاں ٹھیکہ بھارت کو دے دیا، امریکہ نے فلاں پراجیکٹس بھارت کو دے دیئے، امریکہ نے ایٹمی معاہدہ بھارت سے کر لیا، جبکہ فرنٹ لائن اتحادی پاکستان کے ساتھ اس موضوع پر ڈائیلاگ بھی کرنے کو تیار نہیں ۔ تو وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنے کنسلٹنٹ کے ذریعے، اپنی لائبسٹ فرم کے ذریعے نہ صرف امریکہ ،برطانیہ ، روس، فرانس، جرمن جیسے ممالک سے اپنے مفاد کے فیصلے کرواتے ہیں بلکہ اپنے مخالفین کے حق میں ہونے والے کسی بھی فیصلے کو نہ صرف رکوا سکتے ہیں بلکہ ایسے منصوبے فائلوں کے ڈھیر کا حصہ بن کر بھول بھلیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے مفاد میں ہر منصوبے کو امریکہ جان بوجھ کر تسلیم کر لیتا ہے یا بھارت امریکہ کی پھوپھی کا پوتر ہے تو یہ واقعی ہماری کم علمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان خوشگوار تعلقات کی وجہ وہ کنسلٹنٹس فرمیں ہیں جو اسرائیل اور بھارتی مفادات کا تحفظ امریکی کانگریس اور امریکن سینٹ میں کرتی ہیں بلکہ ہر ممبر امریکی کانگریس ایک ہی وقت میں مختلف ممالک اور اداروں کے تحفظات کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے۔ آج بھی بھارتی فضائیہ، بھارتی آرمی، بھارتی بحریہ جو چیز امریکہ ،روس،برطانیہ، فرانس سے چاہ رہی ہوتی ہے وہ اس لیے مل جاتی ہے کہ بھارتی حقوق کے لیے لڑنے والی لائبسٹ فرمیں اپنا فرض ایمان داری سے ادا کر رہی ہوتی ہیں جبکہ پاکستان کے وزارت دفاع اور یہاں سے جانے والے وفود امریکن لائبسٹ کی خدمات حاصل کرنے کی بجائے امریکن اور برطانیہ روس سے اُلٹا خریداری پر اپنا کمیشن وصول کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں، اس لیے پاکستان اپنی ضروریات کا اسلحہ تک خرید نہیں پاتا۔ جبکہ امریکہ، برطانیہ، روس اور ترقی یافتہ ممالک کی لائبسٹ فرمیں پاکستان کے اندر اندھا دھند کام کر رہی ہیں۔ سارے تو نہیں مگر بہت سارے ہمارے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور ممبران سینٹ مخصوص یا غیر مخصوص طریقے سے غیرملکی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جن کے عوض انہیں امریکہ، برطانیہ یا جرمن ،فرانس کا گرین کارڈ یا پرمنٹس ریذیڈنٹ کارڈ مل جاتاہے۔ ان کے بیٹے بیٹیوں کے لیے ان ترقی یافتہ مملک کی یونیورسٹیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ جب ہم عسکری معاملات کی بات کرتے ہیں تو ہر پڑھالکھا پاکستانی یہ جانتا ہے کہ ہالی ووڈ میں بننے والی ہر تیسری امریکن فلم امریکن مفاد کے لیے بنتی ہے جو لڑائی کے موضوع پر بنتی ہے۔ خاص طور پر کچھ امریکی فلمی ہیروز نے تو فوجی موضوع پر بننے والی فلموں سے شہرت حاصل کی۔ جن میں سلوسٹر سٹلون عرف ریمبو،آرنلڈ شوارس نیگر، ٹام کروس، ڈیلٹا فورس کے چکنورس اور برطانیہ کے مشہور زمانہ فلمی کردار جیمز بانڈ زیرو زیرو سیون۔ ان میں کوئی شک نہیں اسرائیلی مفادات اور غلبے کے لیے کام کرنے والی فلمیں جن کے پروڈیوسرز اسرائیلی ہوتے ہیں جیسے سٹیفن شپیل برگ جنہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو اپنے مخالفین پر سرد جنگوں میں فتح دلوائی۔ اسی ہی فلسفے پر عمل کرتے ہوئے بھارت نے بھی جو پاکستان کے خلاف شاید میدانوں میں جنگ نہیں جیت سکتا تھا، ثقافتی یلغار کرکے عسکری موضوع پر بے شمار فلمیں بنائیں۔ خاص طور پر دھرمیندر کے بیٹے سنی دیول نے تو اپنے آپ کو پاکستان کے خلاف بننے والی عسکری فلموں کے لیے وقف کر دیا ہے۔ اسی طرح بھارتی ثقافتی یلغار نے بھارتی فوج کے امیج کو بڑھانے میں بھی کردارادا کیا اور آج ہمارا ازل کا دشمن بھارت ایک خود سر ہمسائیہ کے روپ میں ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ وہ دنیا کی سب سے بڑی فوج کا مالک ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ بھارت کے مقابلے میں پاک فوج کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا احاطہ ان مختصر الفاظ میں ممکن نہیں۔ خود قیام پاکستان کے بعد فوج کا کردار ہمیشہ ’’ولن‘‘ کا سا بنا دیا گیا۔ انہی کرپٹ زدہ سیاست دانوں کی ایما اور خواہشات کی تکمیل کے لیے پاک فوج کو سیاست میں گھسیٹ کر لایا جاتا رہا۔ سکندر مرزا اور ایوب خان ،یحییٰ خان، ضیاء الحق اور جنرل مشرف نے سیاست دانوں کے ہی ایک اقتدار زدہ طبقے کے بہلانے پھسلانے پر اقتدار پر قبضہ کرکے پاک فوج کے امیج کو خراب کیا۔ سرحدوں پر جانیں دینے والے ستارہ جرأت و نشان حیدر کے تمغے سینوں پر سجانے والے سردیوں کی یخ راتوں ،گرمیوں کے جہنم کی آگ برسانے جیسے دنوں اور موسلادھار بارشوں اور آندھیوں میں برفوں سے ڈھکی پہاڑیوں پر جرأتوں کے باب رقم کرنے والی پاک فوج جس کے صرف ایک ادارے آئی ایس آئی نے روس جیسی سُپرپاور کے دانت کھٹے کر دیئے اور روس ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ جس آئی ایس آئی نے اپنے سے دس گنا بڑے دشمن بھارت کو ہمیشہ تگنی کا ناچ نچوایا۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں اقوام متحدہ کو جنوبی افریقہ، جنوبی امریکہ اور نارتھ افریقہ اور سنٹرل افریقہ میں فوجی خدمات کی ضرورت پڑی ۔ پاک فوج نے اپنا رول خوبصورت اور بہادری سے ادا کیا۔ ہمارے عرب دوستوں کو جب کبھی ہماری ضرورت پڑی ہم نے اپنی عسکری طاقت انہیں مستعار دی۔ سعودی عرب، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات اور اردن سمیت تمام گلف میں پاکستانی فوج ان ممالک کی حفاظت کی ضامن تصور کی جاتی ہے۔ پاکستان کا ایٹم بم اسلامی ایٹم بم کہلواتا ہے اور پاکستان کی عسکری قوت اسلامی عسکری قوت تصور کی جاتی ہے۔ مگر نائن الیون کے بعد جب یہی پاک فوج دہشت گردی کے خلاف محاذ پر فرنٹ لائن اتحادی بن کر 5000سے زائد شہادتیں رقم کرتی ہے۔ مگر پھر بھی آج عالمی دنیا میں ہماری اس فورس کو ایک تخریبی آرگنائزیشن سمجھ لیا گیا ہے۔ پاک فوج کے جوانوں اور جرنیلوں کو پوری دنیا میں اسرائیلی اور بھارتی سازشوں کا شکار ربنایا جا رہا ہے اور ملک کے اندر چھپے بھارت و اسرائیل کے ایجنٹ جو کہیں سیاسی پارٹیوں کا حصہ ہیں اور کہیں سول سوسائٹی کا نقاب پہن کر ہماری صفوں میں گھس آئے ہیں۔ آج پاک فوج کو پھر بنگلہ دیش سابقہ مشرقی پاکستان جیسے حالات درپیش ہیں۔ جب پاک فوج کو محاذوں پر، سرحدوں پر بھارتی فوج کا سامنا تھاجبکہ مشرقی پاکستان کے اندر مکتی باہنی کی صورت میں بھارتی ایجنٹ حملے کرتے تھے، جس سے پاک آرمی ایک سینڈوچ کی صورت اختیار کر گئی اور پھر ہمیں دنیا کی سب سے بدترین ہتھیار ڈالنے اور شکست کو قبول کرنا پڑا۔حالات آج پھر اسی مقام پر ہیں، فوج کو ملک کے اندر سے سپورٹ کی ضرورت ہے۔ پاک فوج کو بس وطن کے اندر چھپے غداروں کی نشاندہی کرنی ہو گی۔ پاک فوج کو اپنے امیج کے لیے بہتر اقدامات کرنا ہوں گے۔ کمرشل اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ پاک فوج کے لیے لابی کرنا ہو گی، پاک فوج کو دنیا بھر میں لائبسٹ کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح کی اس فوج کو، اس ادارے کو عالمی سطح پر اپنے بہتر امیج کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ وطن اور وطن سے باہر ایسی قوتوں کو بتانا ہوگا کہ پاک فوج نے عالمی دنیا کے لیے اب تک جو خدمات سرانجام دیں ہیں وہ کسی دیومالائی کہانیوں سے کم نہیں۔ کیاوطن عزیزپاکستان میں کوئی ایک بھی فلم پچھلے دس سالوں میں ایسی بنی ہے جس نے ملک کے اندر پاک فوج کے امیج اور بہادری کے تاثر کو ابھارا ہو۔ کیا پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ، بھنگ پی کر سو گیا ہے۔کیا پاک فوج کے آئی ایس پی آئی کے شعبے کو جدید تقاضوں کا احساس نہیں؟ کیا آئی ایس پی آر کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جا سکتا؟کیا فوج کی بہتری اور بہادری کا امیج تیار کرنا صرف پاک فوج کا کام ہے؟ کیا پاک فوج کے بہتر امیج اور عالمی اور ملکی سطح پر تشخص کو ابھارنے کے لیے دنیا بھر میں موجود محب وطن مگر قابل پاکستانیوں کی خدمات حاصل نہیں کی جا سکتی؟ اگر آئی ایس پی آر یہ سمجھتی ہے کہ صرف چند اخبار نویسوں کو لفافے دے کر وہ آج کے اس جدید دور میں اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ آئی ایس پی آر کو جنگی بنیادوں پر منسٹری آف کلچر اور اس جیسے دیگر سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے افراد کو Motivation کرنا ہوگا۔ اب سالوں کا کام مہینوں میں نہیں منٹوں میں کرنا ہوگا کیونکہ ملک کے بچانے کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ ہمارا مکار دشمن کسی گِدھ کی طرح منڈلا رہا ہے۔آج ہمیں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ کی اس جدید دنیا کے اصولوں کے مطابق اپنے نظام کو چلانا ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus