×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کڑوہ سچ۔اور زنجیر ٹوٹ گئی
Dated: 28-Aug-2008
میثاقِ جمہوریت کی بنیاد نوابزہ نصراللہ خان (مرحوم) اور شہید محترمہ بے نظیربھٹونے رکھی۔ میثاقِ جمہوریت پر دستخط ہوئے تو وہ اس تاریخی موقع پر موجود نہ تھے لیکن ان کی روح یقینا شاداں و فرحاں ہو گی۔ آج جب میاں نواز شریف اتحاد سے الگ ہوئے ہیں تو یقینا نوابزادہ مرحوم کی روح بے چین اور مضطرب ہو گی۔ آج معاہدوں کی ماں میثاقِ جمہوریت کا خون اپنوں کے ہاتھوں سے ہی ہو گیا۔ سیاست میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔ آج کے حلیف کل حریف اور حریف حلیف ہو سکتے ہیں لیکن کاٹنا وہی پڑتا ہے جو بویا جاتا ہے۔ ببول بو کر گندم نہیں کاٹی جا سکتی۔ میں نے اپنے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ دوستی کرنے سے پہلے فریقین کو کلو کلو نمک کھا لینا چاہیے تاکہ اتنے کڑوے ہو جائیں کہ ایک دوسرے کی کسیلی بات بھی آسانی سے ہضم ہو جائے۔ جماعتوں کے اتحاد کی بات ہو تو دل اور گردہ بہت بڑا رکھنا ہوتا ہے۔ آج ملک بے شمار بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ کون سی مشکل ہے جس کا قوم و ملک کو سامنا نہیں؟ ایسی صورتحال میں قومی اتحاد، یکجہتی اور برداشت کی انتہائی زیادہ ضرورت ہے۔ لیکن اس نازک مرحلے پر مسلم لیگ ن نے اپنی راہیں اتحادی حکومت سے الگ کر لی ہیں۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے اٹھایا گیا یہ اقدام انتہائی افسوس ناک ہے۔ میں نوائے وقت اور مدیرا علیٰ جناب مجید نظامی کی کوشش اور خواہش کا بے حد احترام کرتا ہوں اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں وہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر اپنے اداریوں اور انٹرویوز کے ذریعے اتحاد پر زور دیتے رہے اور دریا کے ان دو پاٹوں کو ملانے میں اپنا مثبت اور کلیدی کردار ادا کیا۔ میاں نوازشریف معزول ججوں کی بحالی کے حوالے سے کمیٹڈ تھے پیپلز پارٹی نے بھی کبھی انکار نہیں کیا دونوں پارٹنرز میں بحالی کے طریقہ کار پر اختلاف تھا جلد یا بدیر ان کو بحال ہونا ہے۔ آگے چلنے سے پہلے میں قارئین کے سامنے میثاق جمہوریت کے آرٹیکل 3کی شق الف رکھنا چاہتا ہوں۔ اعلیٰ عدالتوں کے لیے ججوں کی تعیناتی کے لیے سفارشات حاصل کرنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے جو درِ ذیل افراد پر مشتمل ہو۔ (i)اس کمیشن کا چیئرمین لازمی طور پر چیف جسٹس ہو جس نے کبھی پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا ہو۔(ii)کمیشن ممبروں میں صوبائی ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس ہوں جنہوں نے پی سی او کے تحت عہدے کا حلف نہ اٹھایا ہو۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج کو ممبر بنایا جا سکتا ہے جس نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا ہو۔ ہر معاملے میں صبر اور برداشت اولین شرط ہے۔ ڈیڈ لائنیں مسائل کا حل نہیں۔ پاکستان میں عدلیہ کے ساتھ کیا ہوا اور کس نے کیا تاریخ کے طالب علم کو تاریخ کے زیادہ اوراق الٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سعید الزمان صدیقی صاحب کو میاں نواز شریف نے صدارتی امیدوار بنا کر آصف علی زرداری کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ (یہ وہی جسٹس صدیقی ہیں جب میاں نوازشریف کے دورِ حکومت میں ان کے ساتھیوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا تو ایک یہی جج نوازشریف کے طرفدار تھے)جسٹس صدیقی کی بطور صدر نامزدگی اتحاد کے خاتمے کے ساتھ ہی مفاہمت کا گلا دبا دینے کا بھی سگنل ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ میاں صاحب ایک ایک کرکے تمام دروازے یکطرفہ طور پر بند کرتے جا رہے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اچھا سیاستدان وہ ہوتا ہے جو جس دروازے سے گزرے اس کو بند نہ کرے کہ شاید اس واپس اسی دروازے سے گزرنا پڑے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ فیئر پلے کیا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے قیام میں بھرپور تعاون ہے۔ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کو فری ہینڈ دیا جس کی وجہ سے آزاد ارکان مسلم لیگ ن کا حصہ بنتے رہے۔ پیپلز پارٹی کو مرکز کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی حکومت بنانے کی پیشکش تھی لیکن مسلم لیگ ن سے کمٹمنٹ کے باعث ایسی کسی بھی پیشکش کو ٹھکرا دیا اور سینئر آصف علی زرداری نے پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت بنوا دی۔اب جبکہ پیپلز پارٹی کو صدارت کے لیے ووٹوں کی ضرورت پڑی ہے تو ن لیگ الگ جا کھڑی ہوئی ہے جہاں ان کو رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ صدر متفقہ ہونا چاہیے تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ن لیگ مسلسل ق لیگ کے ساتھ راطبوں میں ہے کیا ہمارے اتحادی اپنے ہی اتحاد کی بنیادوں سے اینٹیں نکال رہے ہیں۔ ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کہاں گئے اصول اور رواداری۔قاضی حسین احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نوازشریف نے کبھی وعدوں کا پاس نہیں کیا اور وہ بھی ماضی میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مختلف مواقعوں پر مختلف پلیٹ فامز سے اپنے اتحادیوں کے ساتھ بے وفائی کرتے چلے آ رہے ہیں لہٰذا اب انہیں چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ اے پی ڈی ایم کے زخم خوردہ سیاستدان جو اپنی ہی غلطیوں سے پارلیمنٹ سے باہر ہو گئے آج باہر بیٹھ کر اپنا مذموم کھیل کھیل رہے ہیں وہ شریف خاندان کی شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے میاں برادران کو ایموشنل بلیک میل کرکے کچھ ایسے فیصلے کروانا چاہتے ہیں جس سے جمہوریت اور جمہوری ادارے ایک دفعہ پھر جڑوں سے اکھڑ جائیں اور اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ یہ لوگ جو انتخابی سیاست پر نہیں بلکہ درمیانی راستے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک دفعہ پھر اقتدار میں آ جائیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان کی خواہش، میثاقِ جمہوریت کا ایجنڈ اور عوام کی خواہش، پرویز مشرف کے اقتدار سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا۔ پرویز مشرف نے سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ ن خصوصی طور پر شریف برادران کو پہنچایا پورے خاندان کو جلاوطن کیا۔ دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے پرویز مشرف کی رسوائی کا سامان ان کو بے وردی کرکے کیا اور باقی کسر آصف علی زرداری نے صدارت سے الگ کرکے پوری کر دی یہ دراصل مسلم لیگ ن کی قیادت پر کیے گئے ظلم کا انتقام تھا جو جمہوری طریقے سے لیا گیا اس پر مسلم لیگ ن کو تو پیپلز پارٹی کے تعاون کا ممنون ہونا چاہیے تھا نہ کہ اس کے خلاف کمربستہ ہو جاتے۔ آج دونوں اتحادی پھر اس منزل کی طرف رواں نظر آتے ہیں جہاں سے کھینچ کر نوابزادہ نصراللہ خان انہیں مذاکرات کی میز پر لے کر آئے تھے۔ انہوں نے 83سال کی عمر میں بعدالمشرفین کے فاصلے پاٹ کر دونوں کو ایک کر دیا تھا۔ وہ اس بڑھاپے میں میثاق جمہوریت کی بنیاد رکھنے کے لیے جدہ اور لندن کے چکر لگاتے تھے آج پھر فاصلے بڑھ رہے ہیں اور اب تو ہمارے پاس شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان جیسے لوگ بھی موجود نہیں۔کل کے پارٹنر کیا یہ جواب دینا پسند کریں گے کہ ان دونوں عظیم ہستیوں کی غیرموجودگی میں جمہوریت کا سفر آبلہ پہ کرنے کی سکت اس قوم میں ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus